1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اس تضاد کی وجہ کیا ہے؟

'امت مسلمہ کے فکری مسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از Dua, ‏جولائی 21، 2013۔

  1. ‏جولائی 21، 2013 #1
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    السلام علیکم و ر حمتہ اللہ و برکاتہ،
    ہمارے مذہب نے مرد کو 4 شادیوں کا اختیار دیا ہے۔جس کا واضح حکم قرآن کریم میں موجود ہے اور آپ ﷺ کے عمل سے بھی ثابت ہے۔یوں تو اس کے بہت سے فوائد ہیں۔جس کا اہم ترین فائدہ عورت کاتحفظ ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ موجودہ وقت میں ایک شادی کے بعد دوسری شادی کیوں بری تصور کی جاتی ہے؟ ہم میں یہ سوچ کہاں سے آگئی کہ مرد صرف ایک عورت کا بن کر رہے؟ آج کیوں دوسری شادی کی خواہش کرنے والے کو عیاش کہا جاتا ہے؟ اور پہلی بیوی مختلف طریقوں سے ملامت کرتی ہے اور زبردستی شوہر کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ایسے فعل سے باز رہے، خاندان کے بزرگ مرد کو قائل کرنے میں لگ جاتے ہیں کہ دوسری شادی سے بچوں پر اثر آئے گا ، خاندان کی ساکھ متاثر ہو گی وغیرہ وغیرہ
    مائیں بیٹیوں کو گھر بٹھانے پر رضامند ہیں مگر شادی شدہ مرد سے بیاہنے پر نہیں۔اگر کسی لڑکی کی ایسی شادی ہو بھی جائے تو بھی اسے بے چاری یا مظلوم کا نام دیا جاتا ہے۔۔۔ہم مسلمان ہیں تو پھر ہمیں یہ سنت نبوی ﷺ کیوں کھٹکتی ہے؟؟؟
    آخر کیوں اس کو عورت کے حقوق کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے؟ اس کی کیا وجوہات اور ہیں ، اس پر آراء کا اظہار کریں۔
     
    • زبردست زبردست x 10
    • پسند پسند x 5
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 21، 2013 #2
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
    مجھے لگتا ہے اس میں اعتراض صرف عورتوں کو ہوتا ہے، ورنہ مرد حضرات تو دوسری شادی کر لے، ابتسامہ
    یہ تو ہوا مذاق اصل وجہ دین شریعت کی کمی ہے، اگر ہم سب مرد اور عورتیں دین کو سمجھیں تو یہ وبال ہی ختم ہو جاتا ہے، لیکن ہمارے نفس میں دین سے زیادہ دنیا بسی ہے اسی لئے نفس دنیا کو سمجھنے پر زور دیتا ہے، عورتیں سوچتی ہے کہ دوسری بیوی کے آنے سے اس پر دھیان کم دیا جائے گا تو مرد حضرات کا یہاں سچ میں دوسری بیوی پر زور زیادہ دیتے ہیں اور کبھی کبھی تو پہلی بیوی کو ہی طلاق دے دی جاتی ہے یا نوکروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے، اسی لئے شاید ہمارے ملکوں میں یہ سنت ختم ہی ہو گئی ہے
     
    • پسند پسند x 6
    • شکریہ شکریہ x 4
    • لسٹ
  3. ‏جولائی 21، 2013 #3
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

  4. ‏جولائی 21، 2013 #4
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏جولائی 21، 2013 #5
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  6. ‏جولائی 21، 2013 #6
    حسن شبیر

    حسن شبیر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 18، 2013
    پیغامات:
    802
    موصول شکریہ جات:
    1,817
    تمغے کے پوائنٹ:
    196

    پہلی بات تو یہ ہے کیا آپ واقعہ عورت ہیں اگر عورت ہیں تو پھر اتنا بڑا دل ہاہاہاہاہاہا
    خیراصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ہم دوسری شادی کو برا کیوں تصور کرتے ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ یہی ہے، کہ ہم شروع سے ہی ہندو معاشرے کے ساتھ رہے ہیں۔ جہاں پر ایک شادی وہ بھی اگر بدقسمتی سے خاوند مرجائے تو اسی کے ساتھ ہی ستی کر دیتے تھے۔ تو آج بھی ہم میں ہندوانہ رسمیں زیادہ اور اسلامی افکار کم پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہم میں سے کوئی دوسری شادی کر بھی لے تو اتنا ہنگامہ کھڑا کیا جاتا ہے کہ بندہ سمجھتا ہے کہ میں نے اچھا کام کیا ہے یا برا۔
     
    • متفق متفق x 4
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏جولائی 21، 2013 #7
    بابر تنویر

    بابر تنویر مشہور رکن
    جگہ:
    الریاض ، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 02، 2011
    پیغامات:
    223
    موصول شکریہ جات:
    684
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    سسٹر دعا دراصل ہمارا معاشرہ ہندوانہ رسم و رواج سے متاثر ہے۔ جہاں آج کے زمانے میں دوسری شادی کا تصور ہی نہیں ہے۔ لیکن جب ہم ان کی مذہبی کتابوں میں ایک مرد کی ایک دو نہین ہزاروں شادیوں کا تذکرہ ملتا ہے۔ اسی طرح فلپائن وغیرہ میں صرف ایک ہی شادی کا تصور ہے۔ طلاق کا نہیں۔ شادی کے بعد طلاق نہیں بلکہ علیحدگی ہو سکتی ہے۔ اور پھر اس کے بعد مرد اور عورت جہاں چاہے اور جس کے ساتھ بغیر شادی کے رہ سکتے ہیں۔ اور چونکہ اس معاشرے میں عورتوں کی تعداد مردوں سے کہیں زیادہ ہے اس لیۓ مرد جب چاہتا ہے ایک عورت کو چھوڑ دیتا ہے ۔
    جہاں تک مسلمان معاشرے کی بات ہے تو مرد کو صرف اسی صورت میں دوسری شادی کی اجازت دی گئ ہے کہ وہ ایک سے زیادہ بیویوں کے ساتھ انصاف کر سکے سورہ نساء کی آیت نمبر 3 میں ارشاد باری تعالی ہے۔
    ترجمہ: اور اگر تم یتیم لڑکیوں سے بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہوتوجوعورتیں تمہیں پسند آئیں ان میں سے دو دو تین تین چار چار سے نکاح کر لو اگر تمہیں خطرہ ہو کہ انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی سے نکاح کرو جو لونڈی تمہارے ملک میں ہو وہی سہی یہ طریقہ بے انصافی سے بچنے کے لیے زیادہ قریب ہے (3)
    ہمارے معاشرے میں دوسری شادی کے معیوب سمجھے جانے کا ایک سبب جہیز بھی ہے۔ اسلام میں جہیز کا کوئ تصور نہیں ہے۔ عورت کو رہنے کے لیۓ گھر اور زندگی کی دوسری تمام سہولیات دینا ایک مرد کی ذمہ داری ہے۔ اور پھر حق مہر بھی عورت کا حق ہے۔ یہاں سعودی عرب میں نکاح کے وقت قاضی لڑکی سے پوچھتا ہے کہ اگر تمہاری کوئ شرط ہو تو بتاۓ اور حق مہر بھی عموما قاضی کے سامنے ہی ادا کیا جاتا ہے۔
    لیکن ہمارے ہاں معاملہ اس کے برعکس ہے یہان شادی کے لیۓ عام طور پر لڑکی والے ہی جہیز کی شکل میں تمام ضروریات زندگی فراہم کرتے ہیں۔ دوسرے معنوں میں لڑکی ہی اپنا مال خرچ کرتی ہے۔ تو جب لڑکی ہی اپنا مال خرچ کرتی ہے تو مرد کو دوسری شادی کی اجازت دینا یہ نہ دینا بھی اس کا حق ہونا چاہیۓ۔
    جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم شادی کے معاملے میں اسلامی اقدار کو اپنا لیں ؛ـ
    1- مرد لڑکی کو گھر اور رہنے سہنے کے لیۓ تمام ضروریات فراہم کرے۔
    2- اس کا حق مہر معاف کرنے کے بجاۓ اسے شادی کے موقع پر ہی ادا کرے۔
    3- جہیز لینا اور اس کا مطالبہ کرنا چھوڑ دے۔
    4- دوسری شادی کے صورت میں تمام ازواج سے انصاف کرے۔
    5- اور عورت بھی مرد کی دوسری شادی کو قبول کرے کہ یہ حق اسے دین اسلام نے دیا ہے۔

    تو پھر میرا خیال ہے کہ ہمارے معاشرے مین دوسری شادی کرنا معیوب نہیں سمجھا جاۓ گا۔
    آخر مین سسٹر دعا کا شکریہ جنہوں نے اس نہایت ہی اہم امر کی جانب توجہ دلائ وگرنہ عام طور پر ایک عورت مرد کی دوسری شادی کا ذکر کرنا بھی پسند نہین کرتی
     
    • پسند پسند x 6
    • شکریہ شکریہ x 3
    • زبردست زبردست x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏جولائی 21، 2013 #8
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
    جزاکم اللہ خیرا

    معیاری سوچ ہے،ماشاءاللہ۔۔ اسلام میں مرد کو چار شادیوں کے حکم پر اعتراضات غیر مسلم قوم کا طریقہ ہے، اور جس طرح غیر مسلموں کی دیگر عادات و اطوار مسلمانوں میں در آئے ہیں اسی طرح اس حکم پر بھی اعتراضات اور تنقید دیکھنے میں سامنے آتی ہے۔ لیکن ایک بات یہاں یاد رکھنے کی ہے کہ مرد کو اگرچہ چار شادیوں کی اجازت ضرور ہے اس کے ساتھ ساتھ ایک چیز ازواج کے درمیان عدل کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔
    وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا۟ فِى ٱلْيَتَـٰمَىٰ فَٱنكِحُوا۟ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ مَثْنَىٰ وَثُلَـٰثَ وَرُ‌بَـٰعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا۟ فَوَ‌ٰحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُكُمْ ۚ ذَ‌ٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَلَّا تَعُولُوا۟ ﴿٣﴾۔۔سورۃ النساء
    تو جو مرد اپنی تمام ازواج کے حقوق میں مساوات کا خیال رکھے وہ تو چار شادیاں کرے لیکن جس کی یہ پوزیشن نہ ہو وہ ایک شادی ہی کرے۔
     
    • پسند پسند x 5
    • شکریہ شکریہ x 4
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  9. ‏جولائی 21، 2013 #9
    حسن شبیر

    حسن شبیر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 18، 2013
    پیغامات:
    802
    موصول شکریہ جات:
    1,817
    تمغے کے پوائنٹ:
    196

    ویسے ایک بات ہے، جو بھی اس فورم پر بھائی رہ گئے ہیں جن کی ابھی تک شادی نہیں ہوئی، وہ جلد سے جلد شادی ضرور کرلیں، ایک کریں یا چار کریں بہرکیف کریں ضرور۔ کیا کہتے ہیں ، ابتسامہ
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  10. ‏جولائی 21، 2013 #10
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    ہم یہ کہتے ہیں
    متفق۔۔۔۔ متفق۔۔۔۔ متفق۔۔۔۔ متفق۔۔۔۔ متفق۔۔۔۔ متفق۔۔۔۔ متفق۔۔۔۔ متفق
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • متفق متفق x 3
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں