1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اس تعارض کا حل مطلوب ھے.

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از انور شاہ راشدی, ‏مئی 07، 2014۔

  1. ‏مئی 07، 2014 #1
    انور شاہ راشدی

    انور شاہ راشدی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    257
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    صحیح بخاری میں شریک بن عبداللہ بن ابی نمر کی روایت میں الفاظ ہیں "ثم دناالجباررب العزة "....الخ
    جبكہ صحیح مسلم میں واضح نصوص اسکے خلاف ھیں کہ جبریل علیہ السلام آپکے قریب ھوئے تھے نا کہ اللہ تعالی.
    واقعہ بھی یہی ھے. سیاق بھی اسی پر دلالت کرتا ھے .بعض علماء نے اسکا یہ جواب دیا ھے کہ یہ الفاظ شریک کے تفردات میں میں سے ھیں. لیکن ابن حجر اسکا تعاقب کرتے ھوئے فرماتے ھیں: وفی دعوی التفرد نظرفقد وافقہ کثیر بن خنیس .....عن انس کما اخرجہ سعید بن یحی بن سعید الاموی فی کتاب المغازی من طریقہ.....الفتح ۱۳/
    ۴۸۰
    میں کہتاھوں(ابوالمحبوب) کثیر بن خنیس کی یہی روایت تفسیر طبری میں بھی ھے.
    علماء کرام سے التماس ھے کہ اس سلسلے میں میری راہنمائی فرمائیں.
    جزاکم اللہ خیرا.
     
  2. ‏مئی 07، 2014 #2
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310




    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے جس مضمون کے تحت یہ بات(وفی دعوی التفرد نظرفقد وافقہ۔۔۔۔۔۔) کی اس میں یہ الفاظ تو حافظ صاحب نے اس سیاق کے ساتھ لائے ہیں۔۔۔۔
    وَقَعَ فِي رِوَايَةِ شَرِيكٍ يَعْنِي هَذِهِ أَوْهَامٌ أَنْكَرَهَا الْعُلَمَاءُ أَحَدُهَا قَوْلُهُ قَبْلَ أَنْ يُوحَى إِلَيْهِ وَهُوَ غَلَطٌ لَمْ يُوَافَقْ عَلَيْهِ وَأَجْمَعَ الْعُلَمَاءُ أَنَّ فَرْضَ الصَّلَاةِ كَانَ لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ فَكَيْفَ يَكُونُ قَبْلَ الْوَحْيِ انْتَهَى وَصَرَّحَ الْمَذْكُورُونَ بِأَنَّ شَرِيكًا تَفَرَّدَ بِذَلِكَ وَفِي دَعْوَى التَّفَرُّدِ نَظَرٌ فَقَدْ وَافَقَهُ كَثِيرُ بْنُ خُنَيْسٍ بِمُعْجَمَةٍ وَنُونٍ مُصَغَّرٌ عَنْ أَنَسٍ كَمَا أَخْرَجَهُ سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ فِي كِتَابِ الْمَغَازِي مِنْ طَرِيقِهِ قَوْلُهُ وَهُوَ نَائِمٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَدْ أَكَّدَ هَذَا بِقَوْلِهِ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ

    جو کہ نیند اور بیداری کا مسئلہ ہے ۔۔۔۔۔۔
    بات واضح کیجئے جزاکم اللہ خیرا
     
  3. ‏مئی 08، 2014 #3
    انور شاہ راشدی

    انور شاہ راشدی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    257
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    محترمی آپ فتح الباری میں ملاحظہ فرمائیں ان الفاظ کو بھی تفردات میں شمار کیا گیا ھے.
    اور کثیر بن خیس کا جو ابن حجر نے حوالہ دیا ھے.اسمیں یہ الفاظ موجود ھیں.ملاحظہ فرمائیں.
    عن کثیر عن انس قال ....قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم "لما عرج بی...........فدنا ربک فتدلی فکان قاب قوسین اوادنی....الخ.
    تفسیر طبری.سورہ النجم.
     
  4. ‏مئی 09، 2014 #4
    انور شاہ راشدی

    انور شاہ راشدی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    257
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    جی محترمی ومکرمی.
    کیا فرمانا چاہیںگے آپ.
     
  5. ‏مئی 09، 2014 #5
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310


    میں نے انکار نہیں کیا کہ یہ الفاظ انکے تفردات میں نہیں ہیں۔۔۔ لیکن جن الفاظ کے ساتھ آپ نے انکو جوڑا ہے انکے ساتھ یہ مذکور نہیں ہیں جیسا کہ میں نے اوپر کہا ہے،،،
    اور طبری میں بھی صحیح بخاری والے الفاظ ہیں
    حدثنا الربيع، قال: ثنا ابن وهب، عن سليمان بن بلال، عن شريك بن أبي نمر، قال: سمعت أنس بن مالك يحدثنا عن ليلة المسرى برسول الله صلى الله عليه وسلم "أنه عرج جبرائيل برسول الله صلى الله عليه وسلم إلى السماء السابعة، ثم علا به بما لا يعلمه إلا الله، حتى جاء سدرة المنتهى، ودنا الجبار ربّ العزة فتدلى حتى كان منه قاب قوسين أو أدنى، فأوحى الله إليه ما شاء، فأوحى الله إليه فيما أوحى خمسين صلاة على أمته كلّ يوم وليلة،۔۔

    وہ الگ بات ہے کہ امام طبری نے تفسیر میں جبریل علیہ السلام کی وضاحت کی ہے
     
  6. ‏مئی 09، 2014 #6
    انور شاہ راشدی

    انور شاہ راشدی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    257
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    محترم ھوسکتا ھے مجھ سے تسامح ھوگیا ھو.
    لیکن تعارض کا ازالہ کیسے ھوگا؟
     
  7. ‏مئی 09، 2014 #7
    انور شاہ راشدی

    انور شاہ راشدی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    257
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    اور تفسیر طبری میں کثیر ھیں سورہ نجم میں. آپنے جو سند پیش کی ھے وھ کس سورہ میں ھے؟
     
  8. ‏مئی 09، 2014 #8
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310


    شيخ میں نے سورہ نجم سے ہی حوالہ دیا ہے۔۔۔

    آپ ایسے کریں کہ آپ کو جس جس جگہ میں اشکال ہے وہ پوری سند ذکر کر دیں تا کہ مسئلہ واضح ہو جائے۔۔۔ صحیح بخاری کی بھی مکمل حدیث اور صحیح مسلم اور طبری کی بھی مکمل حدیث اور سند ذکر کر دیں تا کہ مسئلہ مکمل واضح ہو اور اشکال کو رفع کیا جا سکے۔۔۔جزاک اللہ خیرا
     
  9. ‏مئی 10، 2014 #9
    انور شاہ راشدی

    انور شاہ راشدی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    257
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    محترم آپنے جو روایت نقل کی ھے وہ پہلے ھے
    میری ذکر کردہ روایت بعد والی ھے۔
    سند ملاحظہ فرمائیں۔
    حدثنا خلاد بن اسلم قال: اخبرنا النضر قال : اخبرنا محمد بن عمروبن علقمة بن وقاص الليثي عن كثير عن انس بن مالك۔۔۔۔الخ۔
     
  10. ‏مئی 11، 2014 #10
    انور شاہ راشدی

    انور شاہ راشدی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    257
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    جی محترمی ومکرمی
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں