1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اس حدیث کی تحقیق کیا یہ حدیث صحیح ہیں؟ والدین کی نا فرمانی پر دنیاوی عذاب !!!

'والدین کے حقوق' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏مارچ 10، 2014۔

  1. ‏مارچ 10، 2014 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,950
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    والدین کی نا فرمانی پر دنیاوی عذاب !!!
    عن أبي بكرةرضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " كل الذنوب يغفرالله منهاماشاءإلاعقوق الوالدين فإنه يعجل لصاحبه في الحياةقبل الممات
    "(مشکاۃالمصابیح:4945)
    1008579_368776689927265_1367388674_o (1).jpg
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 10، 2014 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,950
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    b.jpg
     
  3. ‏مارچ 10، 2014 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,950
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    28 jan 2013 (24).jpg
     
  4. ‏مارچ 11، 2014 #4
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    اس میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے ہمارے اس گناہ کی سزا ہمیں دنیا میں بھی مل سکتی ہے، اس معنی دیگر بہت ساری روایات ہیں جن کو علما نے مستند قرار دیا ہے:
    " بابان معجلان عقوبتهما في الدنيا : البغي و العقوق "
    یعنی دو سزاوں کے دروازے اس دنیا میں کھلے ہیں ایک سرکشی اور دوسری ماں باپ کی نافرمانی
    اسی طرح دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں؛
    ما من ذنب أجدر أن يعجل لصاحبه العقوبة مع ما يدخر له، من البغي وقطيعة الرحم
    دو گناہوں کی سزا جلد سامنے آجا تی ہے ایک ماں باپ کی نا فرمانی اور قطع رحمی
    اور یہ دونوں گناہ ہمارے اندر موجود ہیں
     
  5. ‏مارچ 17، 2014 #5
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344


    1120 - " بابان معجلان عقوبتهما في الدنيا: البغي والعقوق ".
    أخرجه الحاكم (4 / 177) من طريق محمد بن عبد العزيز الراسبي عن أبي بكر بنعبيد الله عن أنس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:فذكره، وزاد في أوله:." من عال جاريتين حتى تدركا دخلت الجنة أنا وهوكهاتين وأشار بإصبعيه السبابة والوسطى، وبابان.... ". وقال: " صحيحالإسناد ". ووافقه الذهبي، وهو كما قالا ولكن فاتهما أنه على شرط مسلم،فقد أخرج في " صحيحه " هذه الزيادة فقط من هذا الوجه إلا أنه قال: " عبيد اللهابن أبي بكر بن أنس " على القلب. وكذلك أخرجه الترمذي كما تقدم برقم (297)وفي رواية أخرى له: أبي بكر بن عبيد الله " كما في رواية الحاكم هذه، ثمقال عقبها: " والصحيح الأول ".(تنبيه) عزى المناوي الزيادة المذكورة إلى البخاري ولم أرها عنده وما أراهإلا واهما، فلم يعزها إليه أحد غيره فيما علمت كالمنذري في " الترغيب " (3 /83) والصغاني في " المشارق " (1 / 62 - بشرح المبارق) . والحديث أخرجهأحمد (5 / 36) والحسن بن عرفة في " جزئه " (8 / 1) وأبو عبد الله بن نظيفالفراء في " حديثه عن أبي الفوارس الصابوني " (ق 81 / 2) من طريق وكيع وغيرهعن محمد بن عبد العزيز الراسبي عن مولى لأبي بكرة عن أبي بكرة مرفوعا. ورجالهثقات غير مولى أبي بكرة فلم أعرفه.
    لكن الحديث صحيح
    ، فإنه مختصر من الحديث
    المتقدم من طريق أخرى عن أبي بكرة مرفوعا. فراجعه برقم (918) . ومثله ما في" الجامع الصغير " من رواية البخاري في " التاريخ " والطبراني في " المعجمالكبير " عن أبي بكرة بلفظ: " اثنان يعجلهما الله في الدنيا: البغي وعقوقالوالدين ". ثم رأيته في " أخبار أصبهان " (2 / 99) من طريق الطبرانيبإسناده عن سعد مولى أبي بكرة حدثنا عبيد الله بن أبي بكرة عن أبيه مرفوعا به.وعبيد الله هذا لم أجد من ترجمه، وقد ذكروه في الرواة عن أبيه.



    شیخ کفایت اللہ صاحب میری دانست کے مطابق علامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا اگرچہ الفاظ میں فر ق ہے ،مگر معنی ایک ہی ہے، لیکن میرے فہم میں غلطی بھی ہو سکتی لہذا نظر ثانی کی گزارش ہے، جزاک اللہ خیرا
    کفایت اللہ
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  6. ‏جنوری 03، 2015 #6
    انجم ملک

    انجم ملک رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 11، 2014
    پیغامات:
    211
    موصول شکریہ جات:
    104
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    جزاک ﷲ خیرا
     
  7. ‏جنوری 03، 2015 #7
    انجم ملک

    انجم ملک رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 11، 2014
    پیغامات:
    211
    موصول شکریہ جات:
    104
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    ﷲ سبحانہ و تعالی ہم سب کو والدین کا فرمانبردار بنائے

    اللھم آمین
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏جنوری 03، 2015 #8
    بلال 243

    بلال 243 رکن
    جگہ:
    گوجرانوالہ
    شمولیت:
    ‏دسمبر 30، 2014
    پیغامات:
    116
    موصول شکریہ جات:
    36
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    zaeef rwayat ha ye
    dekhye mishkat batahqeeq hafiz zuber ra.
    h 4945
     
  9. ‏جنوری 03، 2015 #9
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,950
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

  10. ‏جنوری 03، 2015 #10
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    محمد عامر یونس نے کہا ہے:
    عن أبي بكرةرضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " كل الذنوب يغفرالله منهاماشاءإلاعقوق الوالدين فإنه يعجل لصاحبه في الحياةقبل الممات
    "(مشکاۃالمصابیح:4945)
    پیارے بھائی ۔۔۔اس حدیث میں سنداً کچھ ضعف ہے ۔اس کے ایک راوی ’‘ بکار بن عبد العزیز ’‘ کو محدثین نے کمزور راوی قرار دیا ۔لیکن اس اتنی سخت جرح نہیں کہ اس کی حدیث کو رد کیا جائے۔۔
    عقوق3.jpg
    اور یہ حدیث مستدرک حاکم میں درج ذیل الفاظ سے موجود ہے ۔
    حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، الْعَدْلُ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، ثَنَا بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُلُّ الذُّنُوبِ يُؤَخِّرُ اللَّهُ مَا شَاءَ مِنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا عُقُوقَ الْوَالِدَيْنِ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُعَجِّلُهُ لِصَاحِبِهِ فِي الْحَيَاةِ قَبْلَ الْمَمَاتِ»
    وَقَال الذهبي: بکار فيه لين"وَقَال ابن حجر: صدوق يهم.
    مفہوم اس کا وہی ہے کہ( محدثین نے کمزور راوی قرار دیا ۔لیکن اس اتنی سخت جرح نہیں کہ اس کی حدیث کو رد کیا جائے۔
    پھر یہی حدیث بالفاظ دیگراسی مفہوم سے صحیح سند کے ساتھ مسند احمد میں موجود ہے؛
    عقوق الوالدين 222.jpg
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. محمد عبد الرحمن الكاشفي
    جوابات:
    0
    مناظر:
    105
  2. ابو حسن
    جوابات:
    1
    مناظر:
    172
  3. محمد عامر یونس
    جوابات:
    2
    مناظر:
    170
  4. Rahil
    جوابات:
    1
    مناظر:
    218
  5. محمد عامر یونس
    جوابات:
    0
    مناظر:
    322

اس صفحے کو مشتہر کریں