1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اس روایت کا درجہ؟ اہل علم سے جواب کی گزارش

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از وہم, ‏جنوری 03، 2017۔

  1. ‏جنوری 03، 2017 #1
    وہم

    وہم رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 22، 2014
    پیغامات:
    127
    موصول شکریہ جات:
    38
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    كنتُ في الأسرَى يومَ بدرٍ فقال رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم استوصوا بالأسارَى خيرًا وكنتُ في نفرٍ من الأنصارِ فكانوا إذا قدموا غداءَهموعشاءَهم أكلوا التمرَ وأطعموني البرَّلوصيةِ رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم
    (أبو عزيز بن عمير رضی اللہ عنہ)
     
  2. ‏جنوری 04، 2017 #2
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    قال الطبراني: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَطَّارُ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا شَبَابٌ الْعُصْفُرِيُّ، ثنا بَكْرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نُبَيْهُ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي عَزِيزِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَخِي مُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: كُنْتُ فِي الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَوْصُوا بِالْأَسَارَى خَيْرًا» وَكُنْتُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكَانُوا إِذَا قَدَّمُوا غَدَاءَهُمْ وَعَشَاءَهُمْ أَكَلُوا التَّمْرَ وَأَطْعَمُونِي الْخُبْزَ بِوَصِيَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُمْ»

    ۩تخريج: مسند خليفة بن خياط (٦٨) (المتوفى: ٢٤٠هـ)؛ المعجم الكبير (٩٧٧) و الصغير (٤٠٩) للطبراني (المتوفى: ٣٦٠هـ)؛ معرفة الصحابة لأبي نعيم الأصبهاني (عَنْ نَبِيهِ بْنِ وَهْب مرسلًا) (المتوفى: ٤٣٠هـ)؛ تاريخ دمشق لابن عساكر (عن الزهري مرسلًا فيه محمد بن عمر الواقدي كذاب) (المتوفى: ٥٧١هـ)

    شیخ البانی رحمہ اللّٰہ نے ضعیف الجامع الصغیر (حدیث نمبر: ٨٣٢) میں ضعیف کہا ہے لیکن صرف طبرانی کی معجم کبیر طرف منسوب کیا ہے.

    اگر کسی بھائی کو معلوم ہو کہ شیخ البانی رحمہ اللّٰہ نے اس کی علت کیا بتائی ہے تو بتائیں۔
     
  3. ‏جنوری 04، 2017 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    یہ روایت امام ابوالقاسم الطبرانی نے المعجم الصغیر اور المعجم الکبیر ۹۷۷ میں روایت کی ہے :
    حدثنا الحسين بن علي العطار المصيصي، حدثنا شباب العصفري، حدثنا بكر بن سليمان، صاحب المغازي , عن محمد بن إسحاق، حدثني نبيه بن وهب , عن أبي عزيز بن عمير ابن أخي مصعب بن عمير قال: كنت في الأسارى يوم بدر , فقال: رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:
    «استوصوا بالأسارى خيرا» , وكنت في نفر من الأنصار , فكانوا إذا قدموا غداءهم أو عشاءهم أكلوا التمر وأطعموني الخبز بوصية وآله رسول الله صلى الله عليه وسلم إياهم ‘‘
    لا يروى عن أبي عزيز بن عمير إلا بهذا الإسناد تفرد به محمد بن إسحاق

    ابو عزیر بن عمیر جو مصعب بن عمیر صحابی کے بھتیجے تھے ، فرماتے ہیں کہ میں بھی بدر کے قیدیوں میں شامل تھا ، تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو قیدیوں سے اچھے سلوک کی نصیحت فرمائی تھی ، میرا شمار انصار کی جماعت میں تھا ، تو جب قیدیوں کو صبح یا شام کا کھانا دیتے ،تو صحابہ کرام خود خشک کھجوریں کھالیتے ، اور مجھے روٹی کھلاتے کیونکہ انہیں قیدیوں سے اچھے سلوک کا حکم دیا ہوا تھا ‘‘
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور امام ھیثمی مجمع الزوائد میں اسے نقل کرکے فرماتے ہیں :
    «وعن أبي عزيز بن عمير أخي مصعب بن عمير قال: كنت في الأسرى يوم بدر، فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: " استوصوا بالأسارى خيرا ". وكنت في نفر من الأنصار، فكانوا إذا قدموا غداءهم وعشاءهم أكلوا التمر، وأطعموني البر لوصية رسول الله - صلى الله عليه وسلم» -
    رواه الطبراني في الصغير والكبير، وإسناده حسن »

    یعنی اس کی اسناد حسن ہے ؛
     
  4. ‏جنوری 04، 2017 #4
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109


    السلام عليكم و رحمة الله و بركاته

    شیخ! ہیثمی رحمہ اللّٰہ نے معجم کبیر و صغیر کی سند کو حسن کیسے کہا ہے پتہ نہيں ؟ اگر آپ کے پاس رواۃ کے تراجم ہوں تو بتائیں ۔ جزاك الله خيرا

    معجم کبیر کے محقق حمدي بن عبد المجيد السلفي نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے۔اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی ہے کہ ابن حجر رحمہ اللّٰہ نے اپنی کتاب اصابہ میں اس سند میں نُبَيْهُ بْنُ وَهْب اور أَبِو عَزِيزِ بْنِ عُمَيْر کے درمیان ایک مجہول راوی کا ذکر کیا ہے۔

    اور معجم صغیر کے محقق محمد شكور محمود الحاج أمرير نے ہیثمی رحمہ اللّٰہ کا قول نقل کیا ہے۔
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏جنوری 04، 2017 #5
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    البتہ مسند خليفة بن خياط (٦٨) (المتوفى: ٢٤٠هـ) کی سند حسن ہو سکتی ہے۔
     
  6. ‏جنوری 05، 2017 #6
    وہم

    وہم رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 22، 2014
    پیغامات:
    127
    موصول شکریہ جات:
    38
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    بہت مشکور ہوں ، اللہ تعالی آپ بھائیوں کو جزائے خیر سے نوازے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں