1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اصولوں کا نفاق اور حواریان مرزا فلاں

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالوفا محمد حماد اثری, ‏مئی 29، 2018۔

  1. ‏مئی 29، 2018 #1
    ابوالوفا محمد حماد اثری

    ابوالوفا محمد حماد اثری مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2017
    پیغامات:
    61
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    20

    اصولی نفاق اور حواریاں مرزا فلاں جہلمی

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ
    اسلام کی طرف انتساب کرنے والےگمراہ فرقے، اسلا م کے واضح دشمنوں سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں، کیوں کہ دشمن براہ راست انسان کے دین اور دل پر حملہ آور نہیں ہوتا، اور یہ فرقے براہ انسان کے دین و دل کو خراب کرتے ہیں۔
    اسی طرح امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ گمراہ لوگوں کے متعلق گفتگو کو دیگر نفلی عبادات سے ایک درجہ افضل گردانتے تھے، ان کا ماننا تھا کہ گمراہ لوگوں کی گمراہی سامنے لانے میں امت کا فائدہ پنہاں ہے، اور نماز و اعتکاف وغیرہ عبادات میں کسی بھی آدمی کی ذات کا فائدہ ہے۔

    تقریبا ایک مہینہ گزرتاہے، جب مجھے مرزا فلاں جہلمی کے ساتھیوں نے اپنے ایک واٹس ایپ گروپ میں ایڈ کر لیا، اس گروپ کا نام علم و عرفان تھا، اور اس میں انتہائی عمیق علم کوڑیوں کے دام بانٹا جارہا تھا۔
    ایک ہفتہ تو میں اس گروپ کو خاص وقت نہیں دے پایا، کیوں کہ ہم ان دنوں ہفتہ مدح اہل بیت میں مصروف تھے، لیکن اس گروپ کی حرکت ملاحظہ کرتا رہا۔
    ایک سادہ دل غالبا دیوبندی دوست تھا، یہ لوگ اس سے بحث مباحثہ جمائے بیٹھے تھے، وہ کہتا تھا کہ صحابہ پر تنقید کی اجازت نہیں اور حضرات ٹھٹھ اڑاتے تھے ، کھی کھی ٹھی ٹھی، فلاں محدث بھی کافر، اس نے تنقید کی، فلاں صحابی بھی کافر اس نے تنقید کی، ہاہا ، شا شا، ٹھا ٹھا،
    واہ کیا کمال نکتہ ہے، آج تو اکابر پرستوں کی ایسی تیسی کردی۔
    انجمن ستائش باہمی، سبھوں جو ایک ہی لائن کے مل بیٹھے ہوں، تو کوئی بھی اکیلا آدمی کیا کرسکتا ہے بھلا، پھر ایک دن وہی گھسا پٹا استدلال انڈیل دیا، ایک مناظر صاحب اپنا گلا کھنکھارتے ، بری سی آواز کے ساتھ تشریف لائے اور آتے ہی گویا ہوئے کہ صحابہ پر تنقید کرنا تو خود سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی سنت ہے۔نعوذ باللہ من ذالک
    اور ہم صحابہ ہی کی سنت پر عمل پیرا ہو کر صحابہ پر تنقید کرتے ہیں،
    اور ساتھ ہی فرمایا گیا کہ اصول سب کے لئے یکساں ہوتے ہیں، شخصیات کے لئے اصول بدل دینا یہود کا طریقہ کار ہے۔
    یہ ہفتہ مدح اہل بیت کا آخری دن تھا، ہم بھی فارغ تھے، تو حاضر ہوگئے
    اور ان سے عرض کیا کہ والا جناب! آپ کا یہ اصول مجھے بڑا خوش آیا ہے؟
    احباب کرام ! یاد رکھئے کہ کسی صحابی کی خطا کو اس کی سنت بتانا مرزا فلاں یا اس کے کسی ساتھی کی ایجاد کردہ بدعت ہے۔ اور یہ بدعت شاید روافض سے مستعار لی گئی ہے۔
    خیر، ہم نے سوچا کہ اگر تو ان سے یہ بحث کی جائے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے تنقید کرنا ثابت نہیں ہے، تب بات لمبی ہوجائے گی اور لمبی بات کا وقت ہے نا موقع۔
    سو، ان مناظر صاحبان اور اہلیان گروپ سے عرض گزا ر دی کہ فی الوقت ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے تنقید کی یا نہیں، بلکہ ہم تھوڑی دیر کے لئے آپ لوگوں کا بنایا ہوا اصول اور ضابطہ مان لیتے ہیں۔
    یعنی کسی بھی صحابی سے ہو جانے والی کوئی بھی خطا اس کی سنت قرار پاتی ہے؟
    اب صرف اس کو لاگو کرنا ہے، اور اگر آپ اس کو لاگو کرنے میں مخلص نظر آئے تو ہم سمجھیں گے واقعتا آپ شخصیات کو دیکھ کر اصول نہیں بدلتے، بلکہ آپ سچے ہیں اور اپنے اصول سب پر لاگو کرتے ہیں۔
    اب آپ کے اصول کو میں مزید پھیلانے لگا ہوں :
    سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خائن کہا ، جیسا کہ بخار ی وغیرہ کی روایت سے ثابت ہے۔
    کیا آپ کے اصول کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خائن کہنا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی سنت سمجھ لیا جائے؟ اور اہل بیت کی سنت پر عمل پیرا ہو کر جنت تلاش کر لی جائے؟
    یہاں تھوڑی دیر کے لئے طعنوں اور گالیوں کا وقفہ آتا ہے، لیکن اس کو لاگو کرنے کو کوئی تیار نہیں ہوتا۔ولے حیرت! کیا دو منٹ میں یہودی بن گئے یہ لوگ؟
    پھر ایک صاحب بزعم خویش نیا استدلال اٹھاتے ہیں، علی رضی اللہ سے مخالفت کرنے والا تو منافق ہے؟ تو یہ بات کیسے درست ہووے گی؟ تم حدیث کا انکار کر رہے ہو؟ حدیث کا نام لیتے ہو ، مانتے نہیں ہو؟
    اچھا جی! تو جو حدیث کو سن کر نہ مانے، اس پر کیا فتوی ہے؟ قرآن کے مطابق کافر ہوا نا؟
    یہاں بجائے ہاں یا نہ کے، ایک صاحب کئی روایات اٹھا لائے اور کئی اپنے جیسوں کے اقوال کہ دیکھو جی معاویہ رضی اللہ عنہ نے فلاں فلاں حدیث کی مخالفت کی؟ ان کے گروہ نے بغاوت کر کے ایسی احادیث کی مخالفت کری، جن کے مطابق بغاوت کرنے والا کفر کی موت مرتا ہے۔
    عرض کیا کہ میں ایک بار پھر اس پر بحث نہیں کروں گا کہ مخالفت کا معنی کیا ہوتا ہے؟ آپ کو تاویل اور انکار کا مطلب نہیں سمجھاؤں گا، آپ کو اختلاف فہم کی بحث میں نہیں الجھاؤں گا۔ یہ تک نہیں بتاؤں گا کہ حدیث کے معنی کو سمجھنے میں دو انسانوں کا ختلاف ہوجاتا ہے، حدیث کے مصداق کے معاملے میں بھی اختلافات ممکن ہیں، اور ایسی صورت میں فتوی نہیں لگتا،بلکہ دونوں فریق اجر کے مستحق قرار پاتے ہیں ۔
    میں تو آپ جناب کے اس قاعدے کو بھی مان لوں گا، اور چاہوں گا کہ آپ بھی اس کو صحیح طرح سے مان لیں۔ تو کیا آپ اپنے اس قاعدے کو مانتے ہیں؟
    چلئے پھر ! سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مشہور زمانہ واقعہ ہے اور اہل سنت و رافضیت میں نزدیک محل نزاع چلا آتا ہے۔
    وہ یوں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فدک کا حصہ لینے جاتی ہیں، آپ ان کو حدیث سناتے ہیں اور وہ ناراض ہو کر واپس آجاتی ہیں۔
    سنن الترمذی 1609، اور صحیح مسلم : 1757
    آپ کے قاعدے کو لاگو کر کے، اسس ورایت سے دو طرح استدلال ہوسکتا ہے ،:
    1 سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سنائی ہوئی حدیث صحیح تھی، اور سیدہ صحیح حدیث سن کر ناراض ہو گئیں؟
    تو اس سے یہ کلیہ مستنبط ہوگا کہ حدیث سن کر ناراض ہوجانا نعوذ باللہ سیدہ فاطمہ کی سنت ہے؟ حدیث کو ٹھکرانا سیدہ کی سنت قرار پائے گی؟ کیا فرماتے ہیں؟ ایک صاحب تو اتنی سی بات پر ہتھے سے اکھڑ گئے؟ فرمایا: حدیث ٹھکرانا معاویہ کی عادت ہے ؟ نعوذ باللہ
    عرض کیا: دھیرج رکھئے مہاراج! اگر مان لیجئے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی ٹھکرائی ہوگی حالاں کہ ایسا کبھو نہ ہوا، تو انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کی سنت پر عمل کر کے ٹھکرائی ہوگی اور سیدہ کی سنت پر عمل کے سیدھے جنت میں جائیں گے؟
    2 اگر آپ کہیں کہ وہ حدیث صحیح نہ تھی، تو اس سے یہ استدلال کیا جائے گا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نعوذباللہ حدیث گھڑ لی؟
    کھل کر سامنے آو ظالمو! صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں، نیز کیا اس سے یہ کلیہ استنباط کر لیا جائے کہ '' حدیث گھڑنا سیدنا ابوبکر ر وعمر رضی اللہ عنہما کی سنت ہے؟

    یہ سوال مگر الگ سے کہ پھر آپ کو کیسے پتہ چلا انہوں نے حدیث گھڑی تھی، وحی آئی تھی آپ پر؟ بولو اب! کیا خیال ہیں آپ کے؟ دیکھئے، اب یہود والی خصلت نہ اپنائیے گا۔
    اوراس کے بعد پورا دن تک چپ لگی رہی، کچھ سمجھ نہیں آتی تھی کہ اب اس کا کیا کریں، اصول لاگو کریں، نہ کریں، لاگو نہیں کرتے تو اگلا کہتا ہے کہ یہود کی خصلت، لاگو کرتے ہیں تو مقدمہ مر جاتا ہے۔ مناظر اسلام پورا دن صم بکم رہے۔
    اب ممکن ہے وہ کوئی مصروفیت کی تاویل کردیں، بہر طور اس وقفے میں دیگر لوگ اپنی اپنی آوازوں اور اپنے اپنے سروں میں بے سرے راگ الاپتے رہے، کچھ گالیاں ارشاد فرماتے رہے، کچھ کافر فرماتے رہے اور کچھ پر انکشاف ہوا کہ ہم بے دین ہیں اور کچھ نے بتایا کہ ہم ناصبی ہیں ۔
    اگلے دن مناظر صاحب کو جانے کیا یاد آیا، پھر آگئے، آتے ہی گویا ہوئے، لو جی حماد بھائی نے ہمارا مقدمہ مان لیا ، یہ تو کہتے تھے کہ صحابہ کی غلطی بیان کرنا درست نہیں، اور خود ہی صحابہ کی غلطیاں ڈھونڈ کر لاتے ہیں، ہم جیت گئے۔
    انجمن ستائش باہمی کے کارکنان جمع ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کو شاباشیاں دی جاتی ہیں۔
    ہم نے گروپ میں شور شرابا دیکھا تو پھر حاضر ہوئے، اور مناظر صاحب کا استدلال دیکھ کر دیوار میں سر ٹکرانے کا ارادہ باندھ لیا، پھر سوچا کہ ابھی نہیں، دیوار تو قریب ہی ہے، کسی بھی وقت سر دے ماریں گے، پہلے ان کو وضاحت کردیں کہ جناب من!
    یہ اصول اور یہ ضابطہ تو آپ ہی کا بنایا ہوا ہے، ہم نے محض اس پر آپ سے عمل درآمد کروانا چاہا ہے، آپ وہ بھی نہیں کر رہے اور الٹا بانس بریلی کو؟ حد ہے اور بے حد ہے۔
    بس اتنا ہی کہنا تھا کہ ہم کو درجن عدد گالیاں، ایک عد د کفر کا فتوی اور چند عدد ناصبیت کے فتوے تھما کر گروپ سے بھگا دیا گیا۔ اور ہم قائد محترم کی طرح مجھے کیوں نکالا کا ورد کرتے رہ گئے۔

    ابوالوفا محمد حماد اثری
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں