1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اصول تفسیر-ابن تیمیہ رحمہ اللہ

'اصول تفسیر' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏مارچ 11، 2014۔

  1. ‏مارچ 11، 2014 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,378
    موصول شکریہ جات:
    6,597
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْ‌آنَهُ
    ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ


    اصول تفسیر


    تصنیف​

    شیخ الاسلام احمد بن عبدالحلیم ابن تیمیہ رحمہ اللہ​
    ۶۶۱ھ ۔ ۷۲۸ھ​

    ترجمہ​
    مولانا عبدالرزاق صاحب ملیح آبادی رحمہ اللہ​

    تحقیق و تعلیق​
    مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ​

    ناشر​
    المکتبۃ السلفیۃ​
    ۴۔ شیش محل روڈ۔ لاہور​
    کمپوزنگ …… دی کیلی گرافر۔ سینٹرل پلازہ ، برکت مارکیٹ۔ لاہور​
    طبع جدید …… فروری ۲۰۱۴ء​
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 11، 2014 #2
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,378
    موصول شکریہ جات:
    6,597
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    بسم اللہ الرحمن الرحیم​

    الحمد للہ و سلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ


    ساتویں صدی ہجری کے نامور مجدد اسلام شیخ اسلام امام احمد بن عبدالحلیم ابن تیمیہ (المتوفی ۷۲۸ھ) قدس اللہ روحہ و نور ضریحہ، کے تجدیدی کارناموں میں سب سے اہم کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے علمی اور اصلاحی حلقوں کی توجہ قرآن حکیم اور حدیث پاک کے مطالعہ کی طرف براہِ راست موڑ دی۔ آپ کا یہ ایسا امتیازی وصف ہے جو ان پانچ سات صدیوں میں بہت ہی کم کسی کے حصہ میں آیا ہو گا۔
    جہاں تک اندازہ ہو سکا ہے آپ نے اس کے لئے تین طریقے اختیار فرمائے: ایک یہ کہ اپنے عہد کے جملہ مسائل (کلامی ہوں یا فقہی، معاشرتی ہوں یا اقتصادی و سیاسی) پر جو مباحث لکھے، اس میں آیاتِ قرآنی اور احادیثِ نبوی کو اس کثرت سے مدارِ استدلال بنایا ہے کہ دوسرے مروجہ طریقہ ہائے استدلال سب ہیچ ہو گئے اور شاید پہلی دفعہ یہ حقیقت نکھر کر سامنے آئی ہے کہ سب ہی شعبہ ہائے زندگی میں قرآن و حدیث کی راہنمائی موجود ہے۔ دوسرا یہ کہ قرآن حکیم کے فہم میں جہاں جہاں متکلمین، فقہاء اور بدعتی فرقوں نے ٹھوکریں کھائیں، ان مقامات کی خود تفسیر فرمائی، جس میں سب علمی و عقلی مغالطوں کے پردے چاک کر دیئے۔ یہ تفسیری حصے آپ کی تصانیف میں بعض مباحث کے ضمن میں بھی آگئے ہیں جو نہایت اہم ہیں، لیکن بعض حصوں کو الگ بھی تحریر فرمایا ہے، مثلاً تفسیر سورہ اخلاص وغیرہ۔ تیسرا یہ کہ سلف کے طریقِ تفسیر کی وضاحت فرمائی۔ مخالف سلف صالحین تفسیروں کے منشاہائے غلط اُمور کی نشان دہی ایسے انداز سے کی ہے جس سے صحیح و غلط تفسیرمیں امتیاز واضح ہو جاتا ہے۔ اس بحث کو بھی اپنی تحریروں میں خوب خوب پھیلایا ہے۔ مستقل طور سے زیرِ نظر رسالہ‘‘مقدمہ اصول تفسیر’’ اسی سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہے۔
    بدعتی فرقوں کو… پرانی طرز کے اہلِ بدعت ہوں یا ‘‘نئی روشنی’’ کے بدعتی … قرآن حکیم کو اپنے حسب منشاء استعمال کرنے میں سب سے زیادہ جو دقت پیش آتی ہے وہ حدیث شریف کا وجود ہے۔ اس لئے ان کے پرانے اور نئے ‘‘محقق’’ ہمیشہ حدیث پاک ہی میں شک پیدا کرنے پر زورِ قلم صرف کرتے رہے اور نت نئے طریقے حدیث پاک پر حملے کے پیدا کرتے اور پھیلاتے رہے۔ حضرت امام رحمہ اللہ نے اپنے اس مختصر لیکن بےنظیر رسالے میں اس موضوع پر بہت عمدہ اور مدلل بحث فرمائی ہے اورصحیح حدیث میں شک پیدا کرنے والے باریک سے باریک شبہات کو کریدا اور نہایت کامیاب طریقہ پر ان کا حل کیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی ہر طبقہ کے اصحاب ِتفسیر کو اصول تفسیر میں جو الجھنیں پیش آتی رہی ہیں، ان کو نہایت عمدگی سے سلجھا دیا ہے۔
    اس رسالے کے مختلف اجزاء متفرق طور پر کتابوںمیں ملتے تھے[1] لیکن مستقل تألیف کا پتہ نہ چلتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے دمشق کے ایک حنبلی عالم استاد محمد جمیل کو ۷۱۲ھ کا لکھا ہوا ایک مخطوطہ ملا جسے انہوں نے ۱۳۵۵ھ میں شائع کر دیا۔
    آئندہ صفحات میں جو ترجمہ ہے، وہ اسی مطبوعہ رسالے کا ہے، ترجمہ کے لئے مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی کا نام نامی کافی ضمانت ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت امام کی تصانیف کے تراجم کا جو سلیقہ عطا فرمایا تھا، وہ انہی کا حصہ تھا۔ اور پھر خوبی یہ کہ آپ کے تراجم کو برصغیر میں حسن قبول حاصل ہے۔
    احقر نے اس پر مزید یہ کام کیا ہے کہ:

    [1] مثلاً:’’تفسير ابن کثير‘‘ (ص۳۔ ۵)۔ ’’الاتقان‘‘، ص:۷۶-۱۷۸، ۱۸۹۔ ج۲۔ اور ’’توجيہ النظر‘‘ از طاہر جزائري ص:۱۳۳۔۔۱۳۵، ۱۳۵۔
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏مارچ 11، 2014 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,378
    موصول شکریہ جات:
    6,597
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    (۱) آیاتِ قرآنی کے اعراب لگائے، ان کے تراجم لکھے اور حوالے درج کئے۔
    (۲) احادیث کے بھی حوالے لکھے۔
    (۳) حضرت امام رحمہ اللہ نےاس رسالے کے بعض مباحث میں اختصار سے کام لیا ہے جب کہ اپنی دوسری تصانیف میں اس کی تفصیل فرما دی ہے۔ از بس کہ بعض اجمال غلط فہمیوں کے پیدا ہونے کا سبب ہو سکتے ہیں اس لئے اور بعض دیگر وجوہ سے احقر نے ضروری مقامات پر حاشیہ میں تفصیل درج کر دی ہے۔
    (۴) تابعین، تبع تابعین، ائمہ، فقہاء،محدثین، متکلمین اور معتزلہ وغیرہ فرقوں کے جہاں نام آئے ہیں، ان کا بہت ہی مختصر سا تعارف حاشیہ پر کرا دیا گیا ہے، تاکہ اردو دان طبقہ کے لئے مفید ہو سکے۔
    (۵) اس ضمن میں استطرادی فوائد بھی زبان ِقلم پر آگئے ہیں، جو موقعہ کی مناسبت سے فائدہ سے خالی نہیں ہیں۔ امید ہے کہ اصحابِ ذوق انہیں پسند فرمائیں گے۔
    (۶) سہولت کے لئےہر بحث پر عنوان قائم کر دیا گیا ہے۔
    قارئین کرام کی خدمت میں گذارش ہے کہ اگر کسی جگہ کوئی غلطی معلوم ہو تو اس سے مطلع فرمائیں تاکہ آئندہ طبع میں اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
    دعا ہے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ قرآن و حدیث کے صحیح فہم اور ان پر عمل کی توفیق ارزانی فرمائے۔ و علیک التکلان۔
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏مارچ 11، 2014 #4
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,378
    موصول شکریہ جات:
    6,597
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    بسم اللہ الرحن الرحیم​
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے ان گنت احسانوں میں سے یہ رسالہ بہت بڑا احسان ہے۔گنتی کے ان چند صفحوں میںعلوم کے خزانے سمیٹ دیئے ہیں اور امت کو بتا دیا ہے کہ کتاب اللہ کو کس طرح سمجھنا چاہیئے، اور کتاب اللہ کی کس طرح تفسیر کرنا چاہیئے۔
    مسلمانوں کی ایک بدنصیبی یہ بھی ہوئی کہ کتاب اللہ کو ہدایت نامہ سمجھنے کی جگہ اسے بحث و جدل، علمی ورزش اور اظہارِ قابلیت کاذریعہ بنایا گیا ۔ تفسیروں کے انبار لگ گئے اور ان تفسیروں نے کتاب اللہ پر پردے ڈال دیئے۔
    پرانے وقتوں میں یونانی فلسفے، ایرانی اوہام اور ہندی تصوف کے جال پھیلے ہوئے تھے۔ موجودہ زمانے میں یورپ کی ذہنی غلامی نے عقلوں پر قبضہ کررکھا ہے اور یورپ کی خرافات کو بھی حقائق سمجھ لیاگیا ہے۔ کتاب اللہ کوتوڑ مروڑ کر یورپین نظریوں پر منطبق کرنے کاایک جنون پھیلا ہواہے۔ کوئی ڈارون کی تھیوری ، قرآن سے ثابت کرتا ہے اور کوئی انٹشائن کے نظریے کو قرآن پر چسپاں کرتا ہے، حالاں کہ کتاب اللہ کامقام اس سے کہیں ارفع و اعلیٰ ہےکہ اسے انسانی تخیلات کاتابع بنایا جائے۔ کتاب اللہ نہ عقلیات کی کتاب ہے، نہ سائنس میں دخل دیتی ہے۔ وہ تو انسانی ہدایت کے لئے آئی ہے اور اس سے کھیلنا نہیں بلکہ ہدایت حاصل کرناچاہئے تھا ۔ قرآن عقل ِسلیم کے عین مطابق ہے، لیکن اس کامطلب یہ تو نہیں کہ علماء یورپ کے جملہ نظریات و اوہام کی کسوٹی پربھی پورا اترے۔
    تفسیر میں گمراہی کااصلی سبب اس بنیادی حقیقت کوبھول جانا ہے کہ قرآن کے مطالب وہی ہیں، جو ا سکے مخاطب اول نے سمجھے اور سمجھائے ہیں ۔ قرآن ، محمد ﷺ پر نازل ہوا، اور قرآن بس وہی ہے جو محمد ﷺ نے سمجھا اور سمجھایا ہے۔ اسکے سوا جوکچھ ہے، یاتو علمی ، روحانی نکتے ہیں، جو قلبِ مومن پر القا ہوں اور یا پھر اقوال و آراء ہیں ۔ اٹکل پچو باتیں ہیں، جن کے محتمل قرآنی لفظ کبھی ہوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے۔ لیکن یہ یقینی ہے کہ وہ باتیں قرآن سے مقصود نہیں ہیں۔ قرآنی مقصود صرف وہی ہے، جو رسول ﷺ نے سمجھا اور سمجھایا ہے۔ دوسری کسی بات کو مقصود قرآنی کہنا ، ظلم و زیادتی ہے اور افتراء علی اللہ ۔
    بے شک قرآن، عربی زبان میں اترا ہے، مگر کیاہر وہ شخص تفسیر کرسکتا ہے، جو عربی زبان کا عالم ہے، اس طرح کی بات کوئی مجنون یا جاہل ہی کہہ سکتا ہے۔ تفسیر کے لئے محض عربی لغت کاعلم کافی نہیں، ضروری ہےکہ وہ ماحول بھی سامنے ہو، جس میں قرآن اترتا تھا، کیونکہ ماحول کی تبدیلی سے لفظوں کے مدلول و منشاء میں بڑی بڑی تبدیلیاں ہوجاتی ہیں۔ اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہےکہ اسلامی اصطلاحوں پر عبور ہو، اسلامی روح سے کماحقہ واقفیت ہو، لیکن اس سب کے بعد بھی تفسیر صحیح نہیں ہو سکتی ، جب تک رسولِ خدا ﷺ کی جناب سے حاصل نہ کی جائے، کیونکہ قرآن کے تنہا شارح اور مفسر رسول خدا ہی ہیں۔ کوئی دوسرا نہیں ۔
    شیخ الاسلام نے یہ بھولی ہوئی بنیادی حقیقت بڑی خوبی سے یاد دلادی ہے، اور وہ تمام اصول بیان کردیئے ہیں جو کتاب اللہ کی تفسیر کے لئے ضروری ہیں ۔
    فجزاہ اللہ عن المسلمین خیر الجزاء

    عبدالرزاق ملیح آبادی
    جنوری ۱۹۵۲ء
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏مارچ 11، 2014 #5
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,378
    موصول شکریہ جات:
    6,597
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    بسم اللہ الرحمن الرحیم​
    رب یسر و أعن برحمتک
    پروردگار ! آسانی بخش اور اپنی رحمت سے اعانت فرما۔
    خطبہ​
    الحمد للہ نحمدہ و نستعینہ و نستغفرہ و نعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضلل فلا ھادی لہ و اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و اشھد ان محمداً عبدہ ورسولہ صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما۔
    ’’ تعریف خدا ہی کے لئے ہے، اسی سے ہم مدد چاہتے ہیں ، اسی سے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں ، اور خدا ہی سے مانگتے ہیں پناہ اپنے نفس کی شرارتوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے جسے خداہدایت بخشتا ہے‘ اسے گمراہ کرنے والا کوئی نہیں اور جس کے حق میں گمراہی مقدر ہوچکی ہے، اسے راہ ہدایت دکھانے والا کوئی نہیں۔ اور میں گواہی دیتاہوں کہ ایک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کاکوئی ساجھی شریک نہیں، اور گواہی دیتاہوں کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ اما بعد:
    وجہ تالیف:
    بعض احباب نے مجھ سے درخواست کی کہ ایک ایسا مقدمہ لکھ دوں ، جو قواعد کلیہ پر حاوی ہو، قرآن کے فہم اور اس کی تفسیر و معانی کی معرفت میں معین ہو، اس بارے میں منقول و معقول ، حق و باطل کی تمیز کرنے والا اور قیل و قال میں فیصلہ کن، دلیل کی راہ دکھانے والا ہو۔ یہ اس لئے ضروری ہے کہ کتب ِتفسیر میں رطب و یابس کی بھرمار ہے۔ کھلا ہوا باطل بھی موجود ہے اور روشن حق بھی۔
    علم صحیح کی دو قسمیں:
    علم دو ہی طرح کا ہے: یاتو نبی کی طرف سے سچی روایت کے ساتھ منقول ہو، یا دلیلِ معلوم اس کی پشت پناہی کررہی ہو ۔ ان دونوں قسموں کے علاوہ جو کچھ ہے، کھوٹا سکہ ہے اور پھینک دیے جانے کے لائق ، اور یاپھر ایسی چیز ہوگی جس کے کھرے کھوٹے ہونے کافیصلہ نہیں کیاجاسکتا۔
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  6. ‏مارچ 11، 2014 #6
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,378
    موصول شکریہ جات:
    6,597
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    قرآن کے فضائل اور اس کے سمجھنے کی ضرورت:
    امت کے لئے فہمِ قرآن از بس ضروری ہے کہ ’’ قرآن ہی خدا کی مضبوط رسی ہے۔ وہی ذکر حکیم اور صراط مستقیم ہے۔ اس میں نہ خواہشیں کچھ پیداکرسکتی ہیں نہ زبانیں شک ڈال سکتی ہیں ۔ بار بار دہرانے سے وہ پرانا نہیں ہوتا۔ اس کے عجائبات کبھی ختم ہونے کے نہیں۔ علماء کو اس سے کبھی سیری نہیں ہوسکتی۔ جوکوئی اس کے بموجب کہتاہے، سچ کہتا ہے۔ جوکوئی اس پر چلتا ہے، اجر پاتا ہے۔ جوکوئی اس کے مطابق فیصلہ کرتاہے، عدل برتتا ہے۔ جوکوئی اس کی طرف بلاتا ہے، صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتاہے۔ جوکوئی سرکشی سےاسے چھوڑ دیتاہے، خدا اسے ہلاک کرڈالتا ہے اورجو کوئی اس سے روگردانی کرکے ہدایت چاہتا ہے، خدا اسے گمراہی کے حوالے کر دیتا ہے[1] ‘‘ فرمایا :
    فَاِمَّا یاْتِینَّكُمْ مِّنِّی ہُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ ہُدَای فَلَا یضِلُّ وَلَا یشْقٰی وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِی فَاِنَّ لَہٗ مَعِیشَۃً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُہٗ یوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَعْمٰى قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیٓ اَعْمٰی وَقَدْ كُنْتُ بَصِیرًا قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیتَہَا وَكَذٰلِكَ الْیوْمَ تُنْسٰى
    ’’پھر اگر پہنچے تم کو میری طرف سے ہدایت، پھر جو چلا میری راہ بتلائی پر، نہ وہ بہکے گا، اور نہ نہ وہ تکلیف میں پڑے گا، اور جس نے منہ پھیرا میری یاد سے، تو اس کو ملتی ہے گذران

    [1] والدين کے درميان ايک حديث کا ترجمہ ہے جو مشکوٰۃ کتاب فضائل القرآن ميں ہے۔ اخرجہ الترمذی و فی سندہ الحارث الا عور و فیہ مقال مشہور۔ (ع۔ح)
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏مارچ 11، 2014 #7
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,378
    موصول شکریہ جات:
    6,597
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    تنگی کی، اور لائیں گے ہم اس کو قیامت کے دن اندھا۔ وہ کہے گا اے رب! کیوں اٹھایا تو نے مجھ کو اندھا، اور میں تو تھا دیکھنے والا، فرمائے گا، یوں ہی پہنچی تھی تجھ کو ہماری آیتیں، پھر تو نے ان کو بھلا دیا، اور اسی طرح آج تجھ کو (ہم) بھلائیں گے''۔
    اور فرمایا:
    قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا یـبَینُ لَكُمْ كَثِیرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَیعْفُوْا عَنْ كَثِیرٍقَدْ جَاۗءَكُمْ مِّنَ اللہِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِینٌ یہْدِی بِہِ اللہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہٗ سُـبُلَ السَّلٰمِ وَیخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِـاِذْنِہٖ وَیہْدِیہِمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیمٍ(المائدۃ:۱۵-۱۶)
    ''بےشک تمہارے پاس آئی ہے اللہ کی طرف سے روشنی اور کتاب ظاہر کرنے والی، جس سے اللہ دکھاتا ہے اس کو جو تابع ہوا اس کی رضا کا، سلامتی کی راہیں، اور ان کو نکالتا ہے اندھیروں سے روشنی میں، اپنے حکم سے اور ان کو چلاتا ہے سیدھی راہ پر''۔
    اور فرمایا:
    الۗرٰ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِبِـاِذْنِ رَبِّھِمْ اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیزِ الْحَمِیدِ اللہِ الَّذِی لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ(سورۃ ابراہیم:۱،۲)
    ''یہ ایک کتاب ہے، جسے ہم نے اتارا ہے تمہاری طرف، تاکہ تم نکالو لوگوں کو اندھیرے سے روشنی کی طرف ان کے رب کے حکم سے زبردست خوبیوں والے کی راہ کی طرف، وہ اللہ جس کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں''۔
    اور فرمایا:
    وَكَذٰلِكَ اَوْحَینَآ اِلَیكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا مَا كُنْتَ تَدْرِی مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْاِیمَانُ وَلٰكِنْ جَعَلْنٰہُ نُوْرًا نَّہْدِی بِہٖ مَنْ نَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِنَا وَاِنَّكَ لَـــتَہْدِیٓ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیمٍ صِرَاطِ اللہِ الَّذِی لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ اَلَآ اِلَى اللہِ تَصِیرُ الْاُمُوْرُ(الشوریٰ)
    ''اور اسی طرح بھیجا ہم نے تمہاری طرف ایک فرشتہ اپنے حکم سے تم نہ جانتے تھے کتاب کیا ہے اور نہ یہ کہ کیا ہے ایمان لیکن ہم نے رکھی ہے یہ روشنی اس سے راہ سجھا دیتے ہیں جس کوچاہیں اپنے بندوں سے اور بےشک تم سجھاتے ہو سیدھی راہ، راہ اللہ کی، اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں، دیکھو اللہ ہی تک پہنچتے ہیں سب کام''۔
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  8. ‏مارچ 11، 2014 #8
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,378
    موصول شکریہ جات:
    6,597
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    پس میں نے خدا کی بخشی ہوئی توفیق سے محض یادداشت پر یہ مختصر مقدمہ لکھ دیا ہے۔ واللہ الھادی الی سبیل الرشاد (اور خدا ہی راہِ راست کی طرف راہ دکھانے والا ہے
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  9. ‏مارچ 11، 2014 #9
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,378
    موصول شکریہ جات:
    6,597
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    آنحضرت ﷺ نے تفسیر بھی سکھائی:
    سب سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے اصحاب کو جس طرح قرآن کے لفظ بتائے، اسی طرح قرآن کے معنی بھی بتائے ہیں۔ کیونکہ آیت: ’’لِتُبَینَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیہِمْ[1]‘‘(النحل:۴۴) کے حکم میں یہ دونوں باتیں داخل ہیں۔
    ابوعبدالرحمن سلمی[2] کا قول ہے کہ جن لوگوں نے ہمیں قرآن پڑھایا، مثلاً: عثمان بن عفان اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما وغیرہ نے وہ ہم سے کہتے تھے کہ ’’جب ہم نبی ﷺ سے دس آیتوں کی تعلیم حاصل کر چکتے تھے، تو اس وقت تک آگے نہیں بڑھتے تھے، جب تک ان آیتوں کا علم و عمل مکمل نہ کر لیں۔ اسی طرح ہم نے علم و عمل، دونوں کی تعلیم حاصل کی[3]‘‘۔
    یہی وہ ہے کہ ایک ایک سورت کے حفظ میں ان بزرگوں کو ایک مدت لگ جایا کرتی تھی۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ’’ہمارا کوئی آدمی جب سورۃ بقرۃ اور سورۃ آل عمران پڑھ لیتا تھا تو ہماری نگاہوں میں بڑا بن جاتا تھا‘‘۔ (مسند احمد) اور یہی وجہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو سورۃ بقرۃ کے حفظ میں کئی سال لگ گئے تھے۔ امام مالک رحمہ اللہ کے موطا میں ہے کہ آٹھ سال لگے تھے۔
    نبی ﷺ کا صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو معانی قرآن کی تعلیم دینا ان آیات سے بھی ثابت ہے:
    كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیكَ مُبٰرَكٌ لِّیدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہٖ وَلِیتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ (سورۃص۲۹:۲۳)
    ’’یہ کتاب ہے مبارک جسے ہم نے تمہاری طرف اُتارا ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات کو سوچیں‘‘۔
    اور
    اَفَلَا یتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ( محمد۲۴:۳)
    ’’ یہ لوگ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟‘‘
    اور
    اَفَلَمْ یدَّبَّرُوا الْقَوْلَ (مومنون ۶۸:۴)
    ’’ کیاانہوں نے بات پر غور نہیں کیا؟‘‘
    اور ظاہر ہے کہ فہم و تدبر ہی نہیں جب تک بات کے معنی نہ سمجھے جائیں۔ اسی طرح فرمایا:
    اِنَّا جَعَلْنٰہُ قُرْءٰنًا عَرَبِیا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ(الزخرف۲:۱)
    ’’ہم نے یہ قرآن عربی زبان میں نازل کیا ہے تاکہ تم لوگ سمجھو!‘‘
    اور یہ بات عقل میں کیسے آ سکتی ہے، جب تک سمجھی نہ جائے۔
    پھر معلوم ہے کہ ہر گفتگو اسی لئے ہوتی ہے کہ اس کے معنی سمجھےجائیں نہ کہ محض لفظ سن لئے جائیں۔ اور قرآن کا معاملہ تو بدرجہ اولیٰ فہم و تدبر کا متقاضی ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ لوگ کسی فن کی کتاب پڑھیں، مثلاً طب کی یا حساب کی اور اسے سمجھنے کی کوشش نہ کریں۔ جب عام کتابوں کا یہ حال ہے تو کتاب اللہ کا فہم کس قدر ضروری ٹھہرتا ہے، وہ کتاب اللہ جو مسلمانوں کے لئے اصلی بچاؤ ہے۔ جس میں ان کی نجات و سعادت ہے۔ جس سے ان کے دین و دنیا کا قیام ہے۔

    [1] تاکہ بيان کرو تم اس کتاب کو جو لوگوں کے لئے نازل کي گئي ان کي طرف (ع۔ح)

    [2] ابوعبدالرحمن عبداللہ بن حبيب السلمي الکوفي۔ مشہور تابعي، ۴۰ سال تک مسجد ميں بيٹھ کر قرآن پڑھايا کئے۔ ثقہ ہيں (تہذيب التہذيب صفحہ ۱۸۴ جلد۵)۔ ايک صوفي ابوعبدالرحمن سلمي ہے جس کا ذکر آئندہ صفحہ پر آئے گا۔

    [3] تفسير ابن جرير، ص:۳۶۔ ج:۱۔ طبع مصطفيٰ البابي۔ مصر ۱۳۷۳ھ۔ ۱۹۵۴ء
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  10. ‏مارچ 11، 2014 #10
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,378
    موصول شکریہ جات:
    6,597
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    تفسیر میں صحابہ رضی اللہ عنہم کا اختلاف کم ہے
    یہی سبب ہے کہ تفسیر ِقرآن میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اختلاف بہت ہی کم ملتا ہے۔ تابعین میں اگرچہ صحابہ سے زیادہ اختلاف ہے لیکن بعد والوں کے مقابلے میں پھر بھی کہیں کم ہے۔ ہر بہتر زمانے میں اتفاق و ہم آہنگی اور علم و بیان زیادہ ہی پاؤ گے۔
    تفسیر میں حضرت مجاہد رحمہ اللہ کا پایہ
    تابعین میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے پوری تفسیر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے حاصل کی تھی۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے مصحف قرآنی، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کر دیا۔ ہر آیت پر انہیں ٹھہراتا اور ان سے مطلب سمجھتا۔ اسی لئے امام سفیان ثوری[1] رحمہ اللہ فرماتے کرتے تھے: جب تمہیں تفسیرمجاہد[2] رحمہ اللہ سے پہنچے تو بس بالکل کافی ہے[3]۔ اور یہی وجہ ہے کہ امام شافعی[4] رحمہ اللہ اور امام بخاری[5] رحمہ اللہ وغیرہ مجاہد رحمہ اللہ کی تفسیر پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اسی طرح امام احمد[6]رحمہ اللہ وغیرہ جنہوں نے تفسیریں مرتب کی ہیں، دوسروں کے مقابلے میں مجاہد رحمہ اللہ سے زیادہ روایت کرتے ہیں۔

    [1] سفيان بن سعيد ثوري (۹۷۔۱۶۱ھ) مشہور اور جليل القدر تابعی ہيں (تہذيب ص:۱۱۱۔۱۱۵ جلد۴)۔
    [2] مجاہدبن جبير المکی (۱۰۰ھ) مشہور تابعی اور ثقہ ہيں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو تيس مرتبہ قرآن سنايا۔ امام اعمش  سے منقول ہے کہ بعض لوگ ان کی تفسير سے اس بنا پر احتراز کرتے تھے کہ يہ اہل کتاب سے اخذ کرتے ہيں۔ (تہذيب۔ ص:۴۳۔ ج:۱۰) ليکن اس سے ان کے ثقہ ہونے پر اثر نہيں پڑتا نہ ان کے صدق ميں کسی کو شبہ ہے۔ (ع۔ح)
    [3] تفسير ابن جرير ص:۴۰۔ ج:۱
    [4] امام محمد بن ادريس الشافعی ، شافعی مکتبِ فکر کے مقتد ا،علم اصول فقہ کي تدوين کی ابتداء آپ ہی سے ہوئی۔ وفات:۱۵۰ھ۔
    [5] امام الفقہاء المحدثين ابوعبداللہ محمد بن اسماعيل البخاري ، قرآن حکيم کے بعد سب سے صحيح کتاب ''صحيح بخاری'' کے جامع جس ميں ايک حصہ تفسير کا بھی ہے، ايک بڑی تفسير بھی آپ نے لکھی۔ وفات:۲۵۶ھ۔
    [6] امام احمد بن محمد بن حنبل الشيبانی وفات:۲۴۱ھ۔
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں