1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اصول فقہ اور چودہویں صدی ہجری کے علماء

'تاریخ وتدوین اصول فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد فیض الابرار, ‏جنوری 11، 2015۔

  1. ‏جنوری 11، 2015 #11
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    عام اصول فقہ
    · دین کے احکام "البیان" ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اپنے اولین مخاطبین پر بالکل واضح تھے۔
    · اللہ تعالی نے اپنے بعض احکام کو اپنی کتاب کے متن میں واضح الفاظ میں بیان کیا ہے اور ان کا مطلب بالکل واضح ہے۔بعض احکامات قرآن مجید میں بیان تو کیے گئے ہیں لیکن ان کی تفصیلات رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ذریعے واضح کیا گیا ہے۔
    · بعض احکامات قرآن میں بیان نہیں کیے گئے بلکہ ان کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے دیا ہے۔ قرآن میں ان کے لئے اجمالاً یہ کہہ دیا ہے کہ رسول کی اطاعت و اتباع کی جائے۔
    · بعض ایسے احکامات بھی ہیں جن میں اجتہاد کرنے اور عقل استعمال کرنے کا حکم دے کر ان کے تعین کو امت پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
    · اجتہاد، قیاس کے ذریعے کیا جائے گا۔ اس میں علماء کے درمیان اختلاف رائے ہونا ممکن ہے۔ اگر ان میں اجتہاد کرتے ہوئے اتفاق رائے ہو جائے تو اسے "اجماع" کہتے ہیں۔
    · دینی علم کے دو حصے ہیں۔
    1.
    ایک تو وہ دینی علم ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے سے عام لوگوں سے عام لوگوں کو تواتر سے منتقل ہوتا آ رہا ہے۔ اسے حاصل کرنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔ جو ایسا نہ کرے گا وہ گناہ گار ہو گا۔
    2.
    دینی علم کا دوسرا حصہ وہ ہے جو خاص ذرائع سے حاصل ہوتا ہے۔ اسے حاصل کرنا علماء کی ذمہ داری ہے۔ اگر وہ اپنی ذمہ داری ادا کر دیتے ہیں تو باقی لوگ گناہ گار نہیں ہوتے۔
     
  2. ‏جنوری 11، 2015 #12
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    قرآن مجید سے متعلق اصول
    · قرآن مجید خالصتاً عربی زبان میں نازل ہوا۔ یہ زبان اپنے ابتدائی مخاطبین کے لئے بالکل واضح تھی۔
    · جو شخص قرآن کو براہ راست سمجھنا چاہے، اس کے لئے لازم ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے دور میں آپ کی قوم یعنی اہل مکہ (قریش) کی زبان سیکھے کیونکہ زمانے اور علاقے کے فرق سے زبانوں میں تبدیلیاں واقع ہو جاتی ہیں۔ یہ مخصوص عربی زبان سیکھے بغیر قرآن کو براہ راست سمجھنا درست نہیں۔
    · قرآن میں بعض احکام عمومی اور ابدی نوعیت کے ہیں جن پر عمل کرنا تمام مسلمانوں کے لئے لازم ہے اور بعض احکام خصوصی نوعیت کے ہیں جن پر عمل کرنا مخصوص صورتحال ہی میں لازم ہے۔ ان دونوں میں فرق کرنا بہت ضروری ہے۔ بعض احکام ایسے ہوتے ہیں جو عمومی الفاظ میں بیان کیے جاتے ہیں لیکن ان سے مراد کوئی خصوصی صورتحال ہوتی ہے۔ اسی طرح بعض احکام خصوصی ہوتے ہیں اور اس کی وضاحت سنت سے ہوتی ہے۔
    · قرآن کے ناسخ و منسوخ احکام کا تعین کرنا بہت ضروری ہے۔
    · سنت سے قرآن کے کسی حکم کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ سنت قرآن کے تابع رہ کر اس کی وضاحت کرتی ہے۔
     
  3. ‏جنوری 11، 2015 #13
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    سنت سے متعلق اصول
    · اللہ کے دین کا معیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی ذات ہے۔ رسول کی حیثیت سے جو احکام آپ نے دیے انہیں قبول کرنا ہر مسلمان کے لئے لازم ہے۔
    · رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے جن کاموں سے منع فرمایا، ان سے رکنا ضروری ہے۔
    · آپ نے بعض ایسی چیزوں سے منع فرمایا جو ہمیشہ کے لئے حرام ہیں اور بسا اوقات بعض کاموں سے آپ نے کسی مخصوص صورت حال ہی میں منع فرمایا۔ ابدی حرام کاموں سے اجتناب کرنا ہمیشہ ضروری ہے لیکن مخصوص حالات کی ممانعتوں سے رکنا صرف انہی مخصوص حالات ہی میں ضروری ہے۔ پہلی قسم کی مثال چوری یا شراب ہے۔ دوسری قسم کی مثال روزے کی حالت میں ازدواجی تعلقات قائم کرنا ہے۔
    · احادیث کی روایت میں بسا اوقات کچھ مسائل پیدا ہو جاتے ہیں جس کے باعث روایتوں میں تضاد نظر آتا ہے۔ کبھی یہ تضاد محض راویوں کی غلط فہمی کے باعث پیدا ہوتا ہے اور کبھی ایک حدیث دوسری سے منسوخ ہوا کرتی ہے۔
    · حدیث کبھی بھی قرآن کے مخالف نہیں ہو سکتی۔ حدیث صرف اور صرف قرآن کی وضاحت کرتی ہے۔
    · بعض اوقات روایتوں میں ایک بات جزوی طور پر بیان کی گئی ہوتی ہے جس کی وجہ سے بظاہر احادیث میں اختلاف محسوس ہوتا ہے۔ اگر اس موضوع سے متعلق تمام روایتوں کو اکٹھا کیا جائے تو پھر پوری بات درست طور سمجھ میں آ جاتی ہے۔
    · احادیث میں بھی کچھ احادیث کا حکم عمومی نوعیت کا (عام) ہوتا ہے اور کچھ کا تعلق کسی مخصوص صورت حال سے (خاص) ہوا کرتا ہے۔ اس بات کا تعین بہت ضروری ہے۔
    · اگر ایک حدیث دوسری حدیث سے منسوخ ہو تو ہم اس حکم کو قبول کر لیں گے جو بعد میں دیا گیا ہو۔
    · اگر دو احادیث ایک دوسرے کے متضاد پائی جائیں، ان میں سے کسی ایک کو ناسخ اور دوسری کو منسوخ قرار بھی نہ دیا جا سکے اور اس تضاد کو رفع کرنا ممکن نہ ہو تو پھر ایک حدیث کو چھوڑ کر دوسری زیادہ مستند حدیث کو قبول کیا جائے گا۔ اس ترجیح کے لئے قرآن، دیگر احادیث اور عقل عامہ کو بنیاد بنایا جائے گا۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے:

    · سب سے پہلے دونوں احادیث کو قرآن پر پیش کیا جائے گا اور جو حدیث بھی کتاب اللہ کے زیادہ موافق ہو گی اسے ترجیح دیتے ہوئے اسے اختیار کر لیا جائے گا۔
    · قابل ترجیح روایت وہی ہو گی جسے کے راوی زیادہ جانے پہچانے ہیں اور اپنے علم اور احادیث کو محفوظ کرنے کے معاملے میں زیادہ شہرت یافتہ ہیں۔
    · وہ حدیث قابل ترجیح ہو گی جو ایک کی بجائے دو یا زیادہ ذرائع سے ہم تک پہنچی ہو گی۔ اس کی وجہ ہے کہ احادیث کو محفوظ کرنے کا اہتمام زیادہ لوگ کم کی نسبت بہتر انداز میں کر سکتے ہیں۔
    · وہ حدیث قابل ترجیح ہو گی جو کتاب اللہ کے عمومی معانی سے بحیثیت مجموعی زیادہ قریب ہو گی یا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی دوسری سنتوں کے زیادہ قریب ہو گی۔
    · وہ حدیث قابل ترجیح ہو گی جو اہل علم میں زیادہ جانی پہچانی ہے۔
    · وہ حدیث قابل ترجیح ہو گی جو قیاس (اور عقل) کے زیادہ قریب ہو گی۔
    · وہ حدیث قابل ترجیح ہو گی جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اکثریت عمل کرتی ہوگی۔
    · بسا اوقات احادیث میں کوئی حقیقی تضاد نہیں ہوتا۔ یہ محض بات کو صحیح طور پر نہ سمجھنے کے باعث محسوس ہوتا ہے۔ احادیث کا مطالعہ اگر دقت نظر سے کیا جائے تو یہ تضاد دور ہو جاتا ہے۔
    · بعض اوقات ایک حدیث میں ایک حکم دیا گیا ہوتا ہے لیکن دوسری حدیث سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ حکم "لازمی یا واجب" نہیں ہے بلکہ ایک افضل عمل ہے۔ اس کی مثال جمعے کے دن غسل کرنا ہے۔
    · احادیث کو ان کے ظاہری اور عمومی مفہوم میں قبول کیا جائے گا۔ اگر کوئی دلیل موجود ہو جس سے یہ معلوم ہو کہ اس حدیث میں مجازی مفہوم مراد ہے یا پھر یہ حکم کسی مخصوص صورتحال کے لئے ہے تب اس حدیث کو مجازی یا خاص مفہوم میں قبول کیا جائے گا۔
    · اہل علم پر یہ لازم ہے کہ اگر انہیں کوئی دو ایسی احادیث مل جائیں تو ان میں مطابقت پیدا کرنے (Reconciliation) کی کوشش کریں، اگر انہیں اس مطابقت کی کوئی بنیاد مل جائے، نہ کہ انہیں (فوراً ہی) متضاد قرار دے دیں جبکہ ان کی تطبیق کا امکان موجود ہو۔
     
  4. ‏جنوری 11، 2015 #14
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    · اگر ان احادیث کو ایک دوسرے کے مطابق کرنا ممکن ہو یا ایسا کرنے کی کوئی بنیاد موجود ہو اور ایک حدیث دوسری کی نسبت زیادہ مضبوط نہ ہو تو ان احادیث کو متضاد قرار دینا درست نہیں۔ متضاد روایات وہ ہوتی ہیں جنہیں ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرنا ممکن ہی نہ ہو اور ان میں لازماً ایک کو ترک کر دینا پڑے۔
    · ایک شخص کسی ایک شخص سے اس طرح حدیث کو روایت کرے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم یا آپ کے کسی صحابی تک جا پہنچے تو یہ خبر واحد کہلاتی ہے۔ خبر واحد کو قبول کرنا ضروری ہے اگر اس میں یہ شرائط پائی جائیں۔

    · حدیث کو بیان کرنے والا راوی اپنے دین کے معاملے میں قابل اعتماد شخص ہو۔
    · حدیث کو منتقل کرنے میں اس کی شہرت ایک سچے انسان کی ہو۔
    · جو حدیث وہ بیان کر رہا ہو، اسے سمجھنے کی عقل رکھتا ہو۔
    · الفاظ کی ادائیگی کے نتیجے میں معانی کی جو تبدیلی ہو جاتی ہو، اس سے واقف ہو۔
    · جن الفاظ میں وہ حدیث کو سنے، انہی میں آگے بیان کرنے کی استطاعت رکھتا ہو نہ کہ جو سنے اپنے الفاظ میں بیان کر دے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب حدیث کا صرف مفہوم بیان کیا جائے گا اور بیان کرنے والے شخص کو یہ علم نہیں ہو گا کہ (حدیث کا محض مفہوم بیان کرنے سے) معنی کس طرح تبدیل ہو جایا کرتے ہیں تو یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کسی حلال حکم کو حرام میں تبدیل کر دے۔ اگر حدیث کو لفظ بہ لفظ منتقل کیا جائے گا تو اس میں تبدیلی کا کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔
    · اگر وہ حدیث کو اپنی یادداشت کے سہارے منتقل کر رہا ہے تو یہ بھی ضروری ہے کہ وہ حدیث کو اچھی طرح یاد کرنے والا ہو یعنی اس کی یادداشت کمزور نہ ہو۔
    · اگر وہ حدیث کو لکھ کر منتقل کر رہا ہو تو اس صورت میں یہ بھی ضروری ہے کہ اس نے جو کچھ لکھا ہو وہ خود اسے یاد رکھنے والا ہو۔
    · اگر اس حدیث کو دوسرے حفاظ بھی محفوظ کر رہے ہوں تو اس شخص کی بیان کردہ حدیث ان افراد کی بیان کردہ حدیث کے موافق ہونا ضروری ہے۔
    · راوی "تدلیس" کے الزام سے بری ہو۔ تدلیس یہ ہے کہ وہ یہ کہہ دے کہ میں نے حدیث کو فلاں سے سنا ہے جبکہ اس کی اس شخص سے ملاقات نہ ہوئی ہو اور اس نے اس سے حدیث کو اس سے سنا نہ ہو۔ تدلیس ایک دھوکا ہے۔ تدلیس کرنے والے کی روایت کو قبول نہ کیا جائے گا۔
    · راوی نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے ایسی بات منسوب کر دے جو کہ قابل اعتماد راویوں کی بیان کردہ حدیث کے خلاف ہو۔
    · یہی تمام خصوصیات اس راوی سے اوپر والے راویوں میں بھی پائی جانا ضروری ہے جن سے یہ شخص روایت کر رہا ہے یہاں تک کہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم یا آپ کے کسی صحابی تک پہنچ جائے جہاں روایت کا سلسلہ ختم ہو رہا ہے۔ چونکہ راویوں کی اس زنجیر میں موجود ہر شخص اس حدیث کو پیش کر رہا ہے اس وجہ سے اوپر بیان کردہ صفات کا ان میں سے ہر شخص میں موجود ہونا ضروری ہے۔
    · راوی تعصب کا شکار نہ ہو۔ اگر وہ کسی بات کے بارے میں متعصب ہے اور اس کے حق یا مخالفت میں حدیث پیش کر رہا ہے تو اس کی حدیث قبول کرنے میں احتیاط کی جائے گی۔
    · راوی اگر کسی ایسے معاملے میں حدیث پیش کر رہا ہے جسے سمجھنے کی اس میں اہلیت نہیں ہے تو اس کی حدیث کو قبول کرنے میں بھی احتیاط کی جائے گی۔
    · راوی حدیث بیان کرنے میں کثرت سے غلطیاں کرنے والا نہ ہو۔
    · اگر ایک راوی کی بیان کردہ حدیث (خبر واحد) ان شرائط پر پورا اترتی ہے تو اسے قبول کیا جائے گا اور یہ ہر اس شخص کے لئے حجت ہو گی جس تک یہ حدیث پہنچی ہے۔
    · کوئی شخص کتنا ہی بلند مرتبہ کیوں نہ ہو، اس کی رائے کو حدیث کے خلاف قبول نہ کیا جائے گا۔ اگر کوئی شخص حدیث کے خلاف عمل کر رہا ہو اور اس تک وہ حدیث پہنچ جائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنا عمل ترک کر کے حدیث پر عمل کرے۔
     
  5. ‏جنوری 11، 2015 #15
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    · اگر کوئی حدیث ایک سے زائد راویوں کے توسط سے پہنچی ہو تو اس کا ثبوت مزید مضبوط ہو جاتا ہے اور حدیث کے دیگر پہلوؤں کی وضاحت بھی ہو جایا کرتی ہے۔
    · حدیث سے اخذ کردہ احکام کو ترک کرنا درست نہیں ہے۔ یہ صرف اسی صورت میں جائز ہے اگر حدیث بیان کرنے والا کوئی راوی ناقابل اعتماد ہو، یا حدیث میں کوئی ایسی بات ہو جو دوسری صحیح احادیث کے خلاف ہو یا پھر حدیث کی ایک سے زیادہ توجیہات ممکن ہوں۔
    · منقطع حدیث ایسی حدیث کو کہتے ہیں جس کا سلسلہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تک ملا ہوا نہ ہو بلکہ اس میں سے ایک یا کئی راویوں کے نام نامعلوم ہوں۔ منقطع حدیث کو عام طور پر قبول نہیں کیا جاتا۔ اسے ان صورتوں میں قبول کیا جا سکتا ہے:

    · حدیث کے دیگر ذرائع پر غور کیا جائے گا۔ اگر اسی معنی کی ایک اور حدیث دوسرے سلسلہ سند میں حدیث کو محفوظ رکھنے والے راویوں نے روایت کی ہے اور اس کی سند رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تک پہنچ رہی ہے تو اس سے اس منقطع حدیث کے بارے میں بھی معلوم ہو جائے گا کہ یہ حدیث بھی قابل قبول اور صحیح ہے۔
    · یہ دیکھا جائے گا کہ اس منقطع حدیث کو کسی دوسرے ایسے شخص نے بھی روایت کیا ہے جس کی احادیث عام طور پر اہل علم کے نزدیک قابل قبول ہوتی ہیں۔ اگر ایسی بات ہو تو اس حدیث کو قبول کر لیا جائے گا اگرچہ یہ پہلے نکتے میں بیان کئے گئے طریقے سے ثابت شدہ حدیث کی نسبت کمزور درجے کی ہو گی۔
    · اگر ایسا بھی نہ ہو تو یہ دیکھا جائے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے کسی صحابی کا قول اس حدیث میں کی گئی بات کے مطابق ہے۔ اگر وہ قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب اس حدیث کے مطابق ہے تو اس سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ یہ ایک منقطع روایت ہے لیکن اپنی اصل میں درست ہے۔
    · اگر اہل علم کی اکثریت عام طور پر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب اس منقطع روایت سے ملتے جلتے مفہوم کے مطابق فتوی دیتے ہیں تو اس کا بھی یہی معاملہ ہے۔
    · ان صورتوں میں اس منقطع حدیث پر اعتبار کیا جائے گا اگر اس کے روایت کرنے والے حضرات گمنام نہ ہوں اور نہ ہی ان سے روایت کرنے پر کوئی اعتراض کیا گیا ہو۔ اس صورت میں ان کی روایت کے درست ہونے پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔
    · رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی کوئی ایسی حدیث نہیں ہے جس کے خلاف مسلمانوں کا اجماع ہو گیا ہو۔ ایک حدیث کے بارے میں اہل علم میں یہ اختلاف ہو سکتا ہے کہ وہ مستند حدیث ہے یا نہیں۔
     
  6. ‏جنوری 11، 2015 #16
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    اجماع، قیاس، اجتہاد اور اختلاف رائے سے متعلق اصول
    · مسلمانوں کے ہاں اگر قرآن و سنت کے کسی حکم سے متعلق اتفاق رائے پایا جائے گا کہ یہ حکم اللہ تعالی نے ہمیں دیا ہے تو اس اجماع کو قبول کیا جائے گا اور یہ پوری طرح حجت ہے۔
    · ہر عالم دین حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر اجتہاد اور قیاس کرنے کا مکلف ہے۔ جو معلومات اس سے پوشیدہ، وہ ان کی بنیاد پر اجتہاد اور قیاس کرنے کا مکلف نہیں ہے کیونکہ یہ اس کی استطاعت سے باہر ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ایک عالم کو اپنے علم میں اضافے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔
    · اجتہاد دینی احکام معلوم کرنے کے عمل کا نام ہے۔ اگر کسی بارے میں قرآن و سنت میں کوئی واضح حکم نہ پایا جائے تو پھر اجتہاد کیا جائے گا اور درست بات تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔
    · اجتہاد میں اختلاف رائے ہونا ممکن ہے۔ ہر مجتہد جب دستیاب معلومات کی بنیاد پر اجتہاد کرے گا تو اس کے نتائج دوسرے عالم کے نتائج سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے ہر عالم اپنے اجتہاد پر عمل کرنے کا مکلف ہو گا اور ان پر دوسرے کی رائے کے مطابق عمل کرنا ضروری نہ ہو گا۔
    · اجتہاد و قیاس صرف ایسے عالم کو کرنا چاہیے جو (کتاب و سنت کے) احکام سے اچھی طرح واقف ہو اور ان احکام سے مشابہت تلاش کرنے میں عقل سے کام لینا جانتا ہو۔
    · اس شخص کے سوا کسی اور کو قیاس نہیں کرنا چاہیے جو قیاس کی بنیادوں سے پوری طرح واقف ہے۔ قیاس کی بنیاد کتاب اللہ کے احکام، اس کے فرائض، اس میں سکھائے گئے آداب، اس کے ناسخ و منسوخ احکام، اس کے عمومی اور خصوصی احکام، اور اس کی دی ہوئی ہدایات ہیں۔
    · اجتہاد کرتے ہوئے کتاب اللہ کے کسی حکم کی اگر تاویل و توجیہ کی ضرورت ہو تو ایسا سنت رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی روشنی میں کیا جائے گا۔ اگر سنت نہ ملے تو مسلمانوں کے اجماع کی روشنی میں ورنہ قیاس کے ذریعے۔
    · کوئی شخص قیاس کرنے کا اہل اس وقت تک نہیں ہے جب تک کہ وہ سنت، اسلاف کے نقطہ ہائے نظر، لوگوں کے اجماع، ان کے اختلاف، اور عربی زبان سے پوری طرح واقف نہ ہو۔ قیاس کرنے والے کو صحیح العقل ہونا چاہیے اور ایسا اس وقت ہو گا جب وہ بظاہر مشابہ امور میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ وہ ثبوت کے بغیر جلد بازی میں رائے قائم کرنے والا نہ ہو۔ وہ اپنے سے مختلف آراء کو بغیر کسی تعصب کے سننے والا ہو۔
    · انسان کا جھکاؤ ایک رائے کی طرف زیادہ نہیں ہونا چاہیے یہاں تک کہ اسے یہ علم نہ ہو جائے کہ وہ جو رائے اختیار کرنے جا رہا ہے وہ کس وجہ سے دوسری رائے جسے وہ ترک کر رہا ہے سے زیادہ مضبوط ہے۔
    · اگر وہ کسی بات کو سمجھے بغیر محض یادداشت کے سہارے محفوظ کئے ہوئے ہے تو اسے بھی قیاس نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ معانی سے واقف نہیں ہے۔
    · اگر ایسا شخص جس کی یادداشت اچھی ہے لیکن اس کی عقل میں کمی ہے یا وہ عربی زبان سے اچھی طرح واقف نہیں تو اس کے لئے قیاس کا استعمال بھی درست نہیں کیونکہ وہ ان آلات (Tools) یعنی عقل اور عربی زبان کو صحیح طرح استعمال نہیں کر سکتا جن کی قیاس میں ضرورت پڑتی ہے۔
    · اگر اللہ تعالی نے کسی چھوٹی چیز سے منع فرمایا تو اس پر قیاس کرتے ہوئے اس سے بڑی چیز کو بھی حرام قرار دیا جائے گا۔ مثلاً بدگمانی پر قیاس کرتے ہوئے تہمت لگانے، عیب جوئی کرنے اور کسی عزت اچھالنے کو حرام قرار دیا جائے گا۔ یہ قیاس کی مضبوط ترین شکل ہے۔·اگر کوئی حکم استثنائی صورتحال کے لئے دیا گیا ہو تو اسے صرف اسی صورت تک محدود رکھا جائے گا اور اس پر قیاس نہیں کیا جائے گا۔
    · جو احکام کتاب و سنت میں واضح طور پر بیان فرما دیے گئے ہیں ان سے اختلاف کرنا کسی بھی شخص کے لئے جائز نہیں ہے۔ دوسری قسم کے معاملات وہ ہیں جس میں کسی آیت یا حدیث کی مختلف توجیہات ممکن ہوں، اس میں قیاس کیا جا سکتا ہو اور ایک توجیہ یا قیاس کرنے والا عالم ایک معنی کو اختیار کر لے اور دوسرا دوسرے معنی کو، تو ایسا اختلاف جائز ہے۔
    · اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے صحابہ میں کسی مسئلے پر مختلف نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہوں تو اس نقطہ نظر کو اختیار کیا جائے گا جو کتاب اللہ، یا سنت، یا اجماع کے زیادہ قریب ہے یا قیاس کی بنیاد پر جو زیادہ صحیح ہے۔
     
  7. ‏جنوری 11، 2015 #17
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    کتاب الرسالہ کے بعد
    کتاب الرسالہ کے بعد اصول فقہ کے فن کو مدون کرنے کا دروازہ کھل گیا۔ امام احمد بن حنبل (وفات 233ھ) نے "ناسخ و المنسوخ" اور "السنۃ" کے نام سے دو کتب لکھیں۔ داؤد ظاہری (وفات 270ھ) نے اس موضوع پر متعدد کتب تصنیف کیں۔ حنفی عالم عیسی بن ابان (وفات 220ھ) نے "خبر الواحد، اثبات القیاس" نے نام سے کتاب لکھی۔ اس کے بعد اصول فقہ پر تصانیف کا سلسلہ تیز ہو گیا۔ قدیم دور میں لکھی گئی کتب کی شروحات لکھی گئیں۔ مختلف نقطہ نظر رکھنے والے اہل علم نے ان پر تنقید لکھی۔ اصول فقہ پر کتب لکھنے کا یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ مختلف مسالک کے اہل علم میں اصولوں کی حد تک ایک عمومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے البتہ بعض تفصیلات میں ان کے ہاں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ان گذشتہ صدیوں میں اصولیوں کی ایک طویل فہرست نظر آتی ہے اور ان کی علمی جہود بھی اسی طرح ہیں جن کی تفصیلات علما تراجم کی کتب میں مل سکتی ہیں ۔
     
  8. ‏جنوری 11، 2015 #18
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    چودہویں صدی ھجری کے مشہور اصولی اور ان کی خدمات
    اس اعتبار سے ہم چودہویں صدی ہجری کے ان اہل علم اصولیوں کا تذکرہ کریں گے جنہوں نے اصول فقہ کے باب میں خدمات انجام دیں
    1.
    ابراہیم بن طاہر بن احمد العظم :
    مشہور شاعر اور دمشق میں قاضی بھی رہے ہیں مشہور شہر حماة میں 1321 ھجری میں پیدا ہوئے اور 1377 ھجری میں وفات پائی ۔ انہوں نے امام شاطبی کی مشہور زمانہ تالیف الموافقات کی تلخیص کی جو کہ دو اجزا میں مشتمل ہے اور یہ کتاب ابھی تک چھپی نہیں بلکہ مخطوط حالت میں موجود ہے
    2. الشیخ احمد ابراہیم بک الحسینی:
    جامعہ فواد میں شریعت اسلامیہ کے پروفیسر ہیں اور اسی طرح قاہرہ یونیورسٹی کی مجلس کے عضو بھی رہے اور اسی طرح مجمع اللغة العربیة قاہرہ کے بھی رکن تھے ۔قاہرہ میں 1291 ھجری میں پیدا ہوئے اور 1364ھجری میں وفات پائی ان کی اصول فقہ میں مشہور کتاب کا نام علم اصول فقه ہے جو کہ مصری جامعات میں طلبہ کے لیے لکھا گیا تھا اور 1357 ھجری میں چھپا تھااس کے 173 صفحات ہیں اور اس کے ساتھ تاریخ التشریع الاسلامی بھی شامل ہے اس طرح اس کی افادیت دو چند ہو اگئی ہے
    3. الشیخ احمد بن احمد یوسف الحسینی:
    شافعی مذہب کے ایک معروف اصولی ہیں اور 1271 ھجری میں پیدا ہوئے اور 1332ھجری میں وفات پائی ان کی اصول فقہ میں تالیف کا نام نهاية الأحكام في بيان ما للنيَّة من أحكام اور دليل المسافر في مسائل قصر الصلاة والمسافات اور بهجة المشتاق في بيان زكاة أموال الأوراق شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ ایک اور مشہور کتاب جو کہ تحفة الرأي السديد في الاجتهاد والتقليد کے نام سے لکھی اور عوام و خواص کی توجہ کا مرکز بنی۔ جو کہ قاہرہ میں 1326 ھجری میں چھپی تھی
    4. الشیخ احمد بن حسین ابو الفتح:
    قاہرہ کے لا کالج میں پروفیسر تھے 1283 ھجری میں پیدا ہوئے اور 1365ھجری میں فوت ہوئے اور ان کی اصول فقہ میں مشہور تالیف کا نام المختارات الفتحية في تاريخ التشريع الإسلامي وأصول الفقه ہے جو قاہرہ میں 1340 ھجری میں چھپی اور اس کے علاوہ ایک اور کتاب تاريخ التشريع الإسلامي کے نام سے لکھی جو قاہرہ سے ہی چھپی تھی

    5. الشيخ أحمد حمد الله بن إسماعيل حامد الأنقروي :
    مشہور حنفی فقہا میں شمار کیا جاتا ہے جو کہ مصر کی مذہبی مجلس کے رکن بھی رہے اور 1225 ھجری میں پیدا ہوئے تھے اور 1317 ھجری میں وفات پائی۔اور کی اصول فقہ میں معروف کتاب کا نام مضبطة الفنون حاشية على مرآة الأصول ہے
    6. الشيخ أحمد حمدي أفندي:
    ان کی وفات 1307 ھجری میں ہوئی ان کی فقہ میں علم فرائض پر لکھی ہوئی کتان بہت مشہور ہوئی جس کا نام "خلاصة الفرائض". تھا اور اس کے علاوہ انہوں نے اصول فقہ میں مختصر أصول الفقه کے نام سے ایک کتاب لکھی جو طلبا میں بہت مشہور ہوئی جس کی وجہ اس کتاب کا اسلوب کا عام ہونا تھا جو کہ استانبول میں 1301 میں چھپی ۔
    7. الشيخ أحمد الخطيب:
    شافعی مذہب کے مشہور عالم دین تھے جو کہ اپنی کثرت تالیفات کی وجہ سے مشہور ہوئے ان میں جسے شہرت عام ملی ان کے نام درج ذیل ہیں صلح الجماعتين اور بجواز تعدد الجمعتين إقناع النفوس بإلحاق أوراق الأنوات بعُملة الفلوس اور روضة الحساب شامل ہیں اس کے علاوہ اصول فقہ میں ان کی مشہور تالیف کا نام حاشية النغمات على شَرْح الورقات ہے جو قاہرہ میں 1323 ھجری میں چھپی اس کے 174 صفحات تھے اور دوبارہ ایک اور ادارہ نے شرح کے ساتھ چھاپی۔
    8. الشيخ أحمد عباس بن سليمان الأزهري:
    بیروت میں کلیہ الاسلامیہ کے بانی لیکن اس کے بعد انہیں قسطنطیہ بھیج دیا گیا تھا ۔آپ رحمہ اللہ بیروت میں 1270 ھجری میں پیدا ہوئے اور 1345 ھجری میں اس شہر می وفات پائی آپ کی مشہور تالیفات میں سے تاريخ آداب اللغة العربية اور ہے اور اصول فقہ میں ألف كتابًا مدرسيًّا في أصول الفقه کے نام سے مشہور ہوئی ۔
    9. الشيخ أحمد فهمي أبو سنة:
    الشیخ حنفی فقہ کے مشہور ماہرین میں سے تھے ۔ان کی اصول فقہ میں سب سے زیادہ مشہور و معروف کتاب جو علما اور طلبا کی توجہ کو مرکز بنی اس ک نام العرف والعادة في رأْيِ الفقهاء - عرض نظرية في التشريع الإسلامي تھا اصل میں یہ ان کا ڈاکٹریٹ کا رسالہ تھا جو جامعہ ازہر میں 1361 ھجری میں پیش کیا گیا تھا اور اس کے بعد کئی مرتبہ طباعت سے گزرا اور قاہرہ میں اس کی ایک طباعت بہت مشہور ہوئی جو 1367 ھجری میں ہوئی تھی ۔ اس کے علاوہ ان کی جس کتاب نے شہرت عام حاصل کی اس کا نام الوسيط في أصول فقه الحنفيَّة:تھا جو صدر الشریعہ کی مشہور کتاب التوضيح پر حواشی کی صورت میں تھی جو کہ قاہرہ میں 1374 ھجری میں چھپی۔
    10. ​
    الشيخ أحمد بن محجوب الفيومي الرفاعي:

    فقہ مالکی کے مشہور فقہیہ تھے اور مصر میں محدث کے طور بھی مشہور ہوئے اور جامعہ ازہر میں طویل عرصہ تک فریضہ تدریس انجام دیے اور ان کی وفات 1374ھجری میں ہوئی ان کی تالیفات کے نام حاشية على بحرق اليمني اور حاشية على منظومة الصبَّان اور تقريرات على المطول للسعد والأشموني ہیں اور اصول فقہ میں ان کی کتاب کا نام تقريرات على جمْع الجوامع ہے ۔
     
  9. ‏جنوری 11، 2015 #19
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402


    1. القاضي أحمد بن محمد درويش
    یہ مکة المکرمہ میں مفتی اعظم تھے اور شافعی المسلک تھے ان کی ایک تصنیف بہت مشہور ہوئی جس کا نام التسهيلات الإلهية في أصول فِقه الشافعيَّة والحنفيَّة ہے اور درحقیقت وہ مسلم الثبوت کی ایک جامع شرح ہے جو کہ قاہرہ میں 1340ھجری میں طبع ہوئی ۔
    12۔ الشيخ أحمد بن محمد الدمياطي
    ان کا اصول فقہ میں سب سے بڑا کارنامہ مشہور فقہیہ جلال الدین المحلی کی کتاب شرح الورقات پر حاشیہ لکھنا ہے جس کا نام انہوں نے حاشية على شرْح الورقات في أصول الفقه للجلال المحلِّي رکھا اور جو کہ دو مرتبہ طبع ہوئی پہلی مرتبہ 1314 ھجری میں اور دوسری مرتبہ 1331ھجری میں ۔ جو کہ 24 صفحات پر مشتمل ہے


    ۱۳۔ الشيخ أحمد بن محمد شاكر
    ابو الاشبال مشہور محدث مفسر اور مدرسہ ماہر میں بطور استاذ وہاں قاضی کی حیثیت سے بھی طویل عرصہ خدمات انجام دیں اور بے شمار کتب کی تحقیق کی 1309 ھجری میں قاہرہ میں پیدا ہوئے تھے اور 1377ھجری میں فوت ہوئے رحمہ اللہ ۔ان کی مشہور تصانیف میں سے نظام الطلاق في الإسلام اور الباعث الحثيث شرْح اختصار علوم الحديث لابن كثير اور أبحاث في أحكام اور اس کے علاوہ بعض کتب اصولیہ پر قیم تحقیق بھی شامل ہے جس میں امام شافعی کی معروف کتاب الرساله اور جماع العلم شامل ہے ان دونوں رسائل پر آپ نے انتہائی قیم اور خوبصورت حواشی اور تعلیقات تحریر کی ہیں ۔
    ۱۴۔ الشيخ أحمد بن محمد العبادي
    آپ 1300ھجری میں پیدا ہوئے اور آپ کی مشہور کتاب أرجوزة في الرد على الإباضية اور هداية المريد إلى سبيل الحق والتوحيد شامل ہیں لیکن جس کتاب نے شہرت عام حاصل کی وہ اصول فقہ سے تعلق رکھتی ہے جس کا نام هداية الوصول في علم الأصول ہے یہ کتاب درحقیقت اشعار پر مشتمل ہے جو 50 صفحات پر مشتمل ہے اور 1413 ھجری میں بیروت سے چھپی ہے اور اس میں مسائل اصول پر بحث کی گئی ہے۔


    15۔ الشيخ أحمد بن محمد معروف الحسيني
    ان کا تعلق سلیمانیہ سے تھا اور 1305 ھجری میں وفات پائی ان کی تالیفات میں سے مشہور "فتح الجواد في بيان فضائل الجهاد"، اور"رغبة الطالبين في فضيلة العِلم والعلماء العاملين"، اور"فتح الرؤوف في معاني الحروف". ہے لیکن اصول فقہ میں جو کتاب مشہور ہوئی اس کا نام فك القفول في شرْح سلم الوصول إلى علم الأصول ہے۔
    16۔ الشيخ أحمد بن مصطفى المراغي
    مصر کے مشہور مفسر اور فقہیہ مصر اور سودان کے مشہور کلیات میں بطور استاذ خدمات انجام دیں ۔ مصر میں 1300 ھجری میں پیدا ہوئے اور 1371 ھجری میں وفات پائی ۔ ان کی عمومی تصنیفات میں سے مشہور ترین کتاب ان کی تفسیر ہے جس کا نام "تفسير القرآن الكريم"، ہے اس کے علاوہ "علوم البلاغة"، اور"هداية الطالب في النحو"، اور"تهذيب التوضيح" في النحو أيضًا،اوركتاب "الموجز في الأدب العربي"، اور"الحسبة في الإسلام". شامل ہیں ۔
    ان کی اصول فقہ میں ایک ممتاز کتاب جس کا نام كتا ب الموجز في علم الأصول، أور(الوجيز في أصول الفقه) ہے اس کتاب میں انہوں نے بہت آسان اور سہل ترین اسلوب میں اس علم کے قواعد کا تذکرہ کیا ہے اور یہ کتاب 1358 ھجری میں قاہرہ سے چھپی ہے ۔ اسی طرح ایک اور کتاب اصول فقه کے نام سے 1353 میں قاہرہ ہی سے طبع ہوئی جو اہل علم میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے جس کی وجہ اس کتاب کا اسان اور سہل اور جامع ہونا ہے

    17۔ الشيخ أمين بن محمد بن خليل السفرجلاني
    مشہور حنفی فقہیہ اور محدث جو 1325 ھجری میں فوت ہوئے رحمہ اللہ ان کی مشہور تالیفات میں سے جو کتابیں مشہور ہوئی ان کے نام درج ذیل ہیں ان تصنیفات کا تعلق مختلف علوم سے ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ الشیخ ہمہ جہتی علوم کے ماہر تھے جیسا کہ کتابوں کے نام سے ہی اندازہ ہوتا ہے ۔ القطوف الدانية في العلوم الثمانية اور الكوكب الحثيث اور عقود الأسانيد اور العقد الوحيد في علم التوحيد اور علم اصول فقہ میں ان کی مایہ ناز تالیف کا نام المنظومة الزهية في الأصول الفقهية ہے ۔
    18۔ الشيخ أمين بن محمد السويد
    یہ شام کے ممتاز علما میں شمار ہوتے تھے اور ماہر لسانیات بھی اور فقہ کے استاذ تھے انہوں نے اپنی تعلیم فلسطین سے مکمل کی تھی اور اس کے بعد وہاں کی لجنة التالیف و الترجمة کے رکن کی حیثیت سے کام کرنے لگ گئے اور اس کے بعد دمشق کے معہد الحقوق میں علم اصول فقہ کے استاذ کی حیثیت سے تعین کیے گئے اور مشہور مدرسہ الفلاح کی مدیر کی حیثیت سے بھی کام کیا آپ دمشق میں 1273 ھجری میں پیدا ہوئے اور 1355 ھجری میں وہیں وفات پائی ان کی عمومی تالیفات میں سے علوم القرآن وأصوله اور رسالة في تاريخ القدس مشہور ہیں لیکن اصول فقہ میں جو کتاب آپ کی شہرت کا سبب بنی وہ کتاب تسهيل الحصول على قواعد الأصول ہے یہ کتاب علم اصول فقہ کے اصول و ضوابط کے قواعد پر مشتمل ہے جو کہ ایک مبتدی کے لیے بہت ضروری ہیں اور اس میں سات مقالات پائے جاتے ہیں جس کا اختتام عقائد پر ہوتا ہے اس کتاب کی طباعت دمشق میں 1412 ھجری میں اور اس کتاب کے 269 صفحا ت ہیں ۔
    19۔
    الشيخ أمين بن محمد بن سليمان البسيوني الشيخ
    جامعہ ازہر کے سابق استاذ اور شیخ الحدیث جو کہ حنفی فقہ کے مشہور عالم تھے اور وہاں کے ممتاز علما میں ان کا شمار کیا جاتا ہے مصر میں 1298 ھجری میں پیدا ہوئے اور 1362 ھجری میں مصر میں ہی وفات پائی ۔ ان کی عمومی تالیفات میں "الأسلوب الحديث في علوم الحديث"، و"زهْرة الفوائد على متْن العقائد". اور اصول فقہ میں ان کی ممتاز تالیف کا نام إزالة الالتباس عن مسائل القياس ہے جس میں انہوں نے قیاس کی شریعت کے بارے میں انتہائی خوبصورت انداز اختیار کیا اور بیان کیا کہ قیاس شرعی دلائل میں سے ہے اوراس کے بغیر فقہ کا وجود نامکمل ہے
    20۔
    الشيخ أبو بكر بن عبدالرحمن الحسيني الحضرمي
    حضرموت میں 1262 ھجری میں پیدا ہوئے اور فقہ شافعیہ کے مشہور عالم جنہوں نے اپنی زندگی حیدرآباد دکن میں گزاری تھی اور پھر 1341 ھجری میں یہاں وفات پائی ان کی عمومی تالیفات میں منظومة حدائق ذريعة الناهض إلى تعلُّم أحكام الفرائض"، اور"إسعاف الطلاب ببيان مساحة السطوح". شامل ہیں لیکن ان کی اصل شہرت ایک فقہیہ کی ہے اور انہوں اصول فقہ میں ایک کتاب بھی تحریر کی جس کا نام "الترياق النافع بإيضاح جمع الجوامع" ہے جو کے دو جلدوں پر مشتمل ہے اور حیدرآباد میں مجلس دائرة المعارف کے زیر انتظام 1317 ھجری میں چھپی۔
     
  10. ‏جنوری 11، 2015 #20
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402


    21۔
    الشيخ جاد المولى سليمان
    مشہور فقہیہ تھے جو مصر میں مساجد اور اوقاف کی کمیٹی کے اہم رکن کی حیثیت سے بھی ایک طویل عرصہ خدمات انجام دیتے رہے آپ کی اصول فقہ میں کتاب کا نام فصول في أصول التشريع الإسلامي ہے جو کہ مصر قاہرہ میں 1368 ھجری میں طباعت سے گزری۔
    22۔
    الشيخ جمال الدين بن سعيد القاسمي
    مشہور محدث اور فقہیہ اور اصولی جو کہ دمشق کی مشہور مرکزی جامع مسجد کی امامت کے فرائض پر بھی عائد رہے اور اس کے بعد جامعہ سنان میں مدرس کی حیثیت سے فرائض انجام دیے آپ کی عمومی تالیفات میں سے مشہور کے نام "إرشاد الخلق إلى العمل بخبر البرق"، و"الارتفاق بمسائل الطلاق"، و"إصلاح المساجد من البدع والعوائد"، و"تاريخ الجهميَّة والمعتزلة"، وغيرها ہیں اور اصول فقہ میں آپ کی مشہور تصنیف آپ کے وہ رسائل ہیں جووسائل أصوليهکے نام سے طبع ہوئے جو کہ 1324 ھجری میں طبع ہوئے اور اسی طرح اصول فقہ میں چار رسائل بھی اس کے علاوہ تحریر کیے اور چار دوسرے جو دمشق میں طبع ہوئے اور پھر تین رسائل اس طرح آپ نے اصول فقہ پرکل گیارہ رسائل تحریر کیے جس میں ہر رسالہ ایک مکمل مضمون پر حاوی تھا ۔ اور اس کے علاوہ آپ نے درج ذیل کتب اصول فقہ میں تحریر کیں
    · تعليقات على حصول المأمول لصدِّيق حسن خان
    · تعليقات على مختصر المنار لابن الحلبي جو کہ دمشق میں 1324 ھجری میں چھپی
    · تنبيه الطالب إلى معرفةِ الفرْض والواجب جو کہ مصر میں 1326 ھجری میں چھپی
    · شرح مختصر المستصفَى لابن رشيق
    · شرح لقطة العجلان جو کہ 1326 میں طبع ہوئے
    · الفتوى في الإسلام جو کہ دمشق میں 1329 ھجری میں طبع ہوئے اس میں ائمہ کرام کے فتاوی اور اس کی ابتدا میں فتوی اور اس کے آداب اور احکام کی صورت میں قیم بحث شامل ہے
    · شرح رسالة الطوفي جو کہ 1324 ھجری میں بیروت میں طبع ہوئے اوراس رسالہ میں آپ نے مصالح پر انتہائی قیم بحث تحریر کی ہے۔
    23۔ الشيخ حافظ بن أحمد الحكمي
    مشہور عالم جو تصنیف و تالیف کی وجہ سے مشہور ہوئے اور 1342 ھجری میں جیزان میں پیدا ہوئے اور 1377 ھجری میں مکة المکرمة میں وفات پائی آپ کی مشہور تالیفات میں سے درج ذیل ہیں
    · "سلم الوصول"،
    · "معارج القَبول"،
    · "أعلام السُّنة المنشورة"،
    · "الجوهرة الفريدة"؛
    · "الأصول في نهج الرسول"،
    · "السبل السوية".
    اور اصول فقہ میں تالیفات کا نام وسيلة الحصول إلى مهمَّات الأصول، جو کہ علم اصول کے اصول کے قواعد کو نظم یعنی اشعار میں بیان کیا گیا ہے جس میں 640 اشعار میں شائع کیا گیا ہے اور 1373 ھجری میں شائع کیا گیا
    شرْح الورقات لأبي المعالي الجويني جو کہ ابھی تک مخطوط کی صورت میں محفوظ ہے
    لامية المنسوخ یہ بھی اشعار کی صورت میں ہے اور مکہ المکرمہ میں 1 373 ۱ھجری میں طبع ہوا ۔
    24۔
    حافظ ضياء الدين أحمد أفندي بن أولياء القسطموني
    آپ کی علم اصول فقہ میں تصنیف کا نام خلاصة الأفكار شرْح مختصر المنار ہے جو کہ استنابول سے 1314ھجری میں طبع ہوئی۔
    25۔
    الشيخ حبيب أحمد الكيرانوي
    آپ 1306 ھجری میں فوت ہوئے اور آپ نے طلبا کے لیے ایک عام اور آسان زبان میں ایک کتاب تحریر کی جس کا نام قواعد في علوم الفقه ہے درحقیقت یہ کتاب الشیخ ظفر احمد تھانوی کی کتاب اعلا السنن کے مقدمہ کا تتمہ تھا اور اس کتاب میں ترک حدیث کے اسباب پر انتہائی قیم بحث کی گئی ہے اور اسی طرح اجتہاد اور تقلید کے مباحث پر بھی لکھا ہے اور خبر واحد کی حیثیت اور حجیت اور قیاس کی ۓحجیت اوراس میں ظاہریہ کے موقف پر خوبصورت اور جامع تبصرہ شامل ہے اس کے علاوہ اصول فقہ کے دیگر موضوعات پر بھی احاطہ شامل ہے اور مولف نے اس میں تذکرہ کیا ہے کہ یہ سب الشیخ اشرف علی تھانوی کےا ستفادات ہیں جو 1357 ھجری میں طبع ہوئے اور یہی کتاب 1409 ھجری میں بیروت سے طبع ہوئی اور یہ کتاب 351 صفحات پر مشتمل ہے ۔
    26۔
    الشيخ حسن حسني الفخري (قاضي زادة)
    مشہور مفسر جو کہ موصل میں قاضی بھی رہے اور تفتیش اوقاف کے مرکزی مسول بھی رہے 1274 ھجری میں پیدا ہوئے اور 1317 ھجری میں موصل میں وفات پائی ان کی عمومی تصنیفات میں سے "فتح الرحمن" جو کہ تفسیر ہے اور "تنوير البرهان" جو کہ علم منطق میں تحریر کی گئی اور ان کی علم اصول فقہ میں تحریر کی گئی کتاب کا نام منتخب الأصول لانتداب الوصول جو کہ إستانبول 1321ه میں طبع ہوئی ۔
    27۔
    الشيخ حسن بن محمد مشاط
    مشہور مالکی فقہیہ جو کہ مسجد الحرام میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے اور اسی طرح محاکم شرعیہ میں بھی خدمات انجام دیں اور مجلس شوری کے رکن بھی تھے اور پھر قاضی متعین کیے گئے ۔ 1317 ھجری میں پیدا ہوئے اور 1399 ھجری میں وفات پائی ۔
    آپ کی عمومی تالیفات درج ذیل ہیں

    · "الإرشاد بذكر بعض ما لي مِن الإجازة والإسناد"،
    · "إسعاف أهل الإسلام بوظائفِ الحج"،
    · "إسعاف أهل الإيمان بوظائف رمضان"،
    · "تقريرات على البيقونية"،
    · "الحدود البهية في القواعد المنطقية".
    اور اس کے علاوہ اصول فقہ میں جو کتب تصنیف کیں ان کے نام یہ ہیں

    · الجواهر الثمينة في أدلة عالِم المدينة یہ کتاب آپ نے 1341 ھجری میں تالیف کی
    · عَرَض فيه لأدلة الاستنباط عندَ الإمام مالك، یہ کتاب بیروت میں 1411 ھجری میں طبع ہوئی
    · تعليقات شريفة على لبِّ الأصول للأنصاري، سمَّاها (نيل المنى والمأمول على لبِّ الأصول).
    28۔
    الأستاذ حسين بن علي الأعظمي
    آپ 1325 ھجری میں پیدا ہوئے اور 1374 ھجری میں فوت ہوئے آپ کی عمومی تالیفات میں "أحكام الأوقاف"، و"أحكام الزواج"، و"الأحوال الشخصية"، و"علم الميراث". شامل ہیں اور اصول فقہ میں آپ کی جو کتاب مشہور ہوئی اس کا نام اصول فقه ہے اور اس کے علاوہ الوجيز في أصول الفقه وتاريخ التشريع ہے جو بغداد سے 1369 ھجری میں طبع ہوئی
    29۔ الشيخ حسين بن محمد سعيد بن عبدالغني
    آپ مکہ میں 21 سال قاضی رہے اور مفتی کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں آپ 1308 ھجری میں پیدا ہوئے اور 1366 ھجری میں فوت ہوئے آپ کی عمومی تالیفات میں جو کتب شامل ہیں ان کے نام درج ذیل ہیں
    · "فتح الوهَّاب شرْح تحفة الطلاب"،
    · "إرشاد الساري إلى مناسك ملا علي القاري"،
    · "رسالة في اللحية". شامل ہیں
    جبکہ اصول فقہ میں شرْح مختصر المنار في أصول الفِقه الحنفي جو کہ اصول فقہ حنفی پر انتہائی شاندار کتاب ہے۔
    30۔
    الشيخ حمدي بن عبدالله الأعظمي
    عراق کے مشہور فقہیہ جو کہ 1298 ھجری میں عراق میں پیدا ہوئے اور 1391ھجری میں فوت ہوئے وزارت عدل کے تحت تدوین قوانین کے منصب پر فائز رہے اور ان کی تالیفات میں سے عمومی کتب کے نام درج ذیل ہیں
    · "تاريخ الفقه الإسلامي"،
    · "علم العقائد"،
    · "وظائف مدراء القاصرين"،
    · "المحاضرات في الأحوال الشخصية".
    اور اصول فقہ میں ان کی تالیفات جن موضوعات پر رہی ان کے نام یہ ہیں
    · أصول الفقه.
    · مذكرات في أصول الفقه جو کہ بغداد میں 1357 میں طبع ہوئے
    · المرشد في علم أصول الفقه جو کہ بغداد میں 1368 ھجری میں طبع ہوئے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں