1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اصول فقہ کا تجزیاتی مطالعہ

'اصول فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از کیلانی, ‏اگست 29، 2013۔

  1. ‏اگست 29، 2013 #1
    کیلانی

    کیلانی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2013
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    1,101
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    اصول فقہ کو اصول استدلال بھی کہتے کیونکہ یہ ایسے اصول ہیں جنہیں لاگو کر شریعت سے مسائل نکالے جاتے ہیں۔ ان اصولوں کو اصول اجتہاد بھی کہتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعے شریعت کی وسعتوں کو تلاش کر کے جدید پیش آمدہ مسائل حل کیے جاتے ہیں۔ یہ اصول درحقیقت ایک طرزاستدلال بھی ہیں۔ یعنی ان کا علم حاصل کرنے سے پتا چلتا ہے کہ شریعت سے استدلال یا بالفاظ دیگر شریعت سے مسائل کیسے نکالے جاتے ہیں۔مسلمانوں میں اہل حدیث، اہل ظاہر اور اہل رائے کے نام سے تین مختلف فقہی رجحانات پائے جاتے ہیں۔یہ تینوں حقیقت میں مختلف طرزہائے استدلال ہیں۔ ان میں سے اہل حدیث اور اہل رائے کے حوالے سے چند ایک معروضات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ یہ دونوں زمانہء قدیم یعنی چوتھی صدی ہجری کے دور سے ہی دو نمایاں فکری دھارے ہیں۔ دونوں کا جدگانہ طرز استدلال ہے۔یعنی دونوں کی الگ الگ اصول فقہ ہے۔احناف کے اصول کی روح یہ ہے کہ امام صاحب کی رائے کو ہر طرح دلائل کے ساتھ ثابت کیا جائے جبکہ اہل حدیث کا ہاں یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کا آزادانہ مطالعہ کیا جائے جو براہ راست طور پر شریعت سے سمجھ آئے اسے ہی شرع قرار دیا جائے
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 29، 2013 #2
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    حوالہ اوردلیل ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏اگست 31، 2013 #3
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    فورم پر موجود آپ کے دھاگے اور پوسٹس۔۔ابتسامہ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  4. ‏اگست 31، 2013 #4
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    شاعر نے توکہاتھا
    "کفرٹوٹاخداخداکرکے"
    ویسے آپ حضرات کے نزدیک میری پوسٹیں اوردھاگے دلیل بن گئی ہیں یہی بہت بڑی بات ہے۔
    شکر خداکے آپ یہاں تک توپہنچے
    "اورکھل جائیں گے دوچارملاقاتوں میں"
    مجھے لگتاہے کہ مجھے اپنے پوسٹس اوردھاگوں کی رفتار مزید تیز کردینی چاہئے شاید مزید کچھ لوگوں کی اصلاح ہوجائے (ابتسامہ)
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  5. ‏اگست 31، 2013 #5
    کیلانی

    کیلانی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2013
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    1,101
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    تفصیلات کو چھوڑ دیں صرف تصور استحسان ہی دیکھ لیں۔احناف کے ہاں یہ ہے کہ امام جس طرح چاہے فتویٰ دے اس سے دلیل دریافت نہ کی جائے اگر وہ دے دے تو بہتر وگرنہ ہو سکتا ہے دلیل امام کے ذہن میں ہو۔بس یہی کافی ہے۔ جبکہ اسی تصور استحسان کے پیش نظر امام شافعی  کو فرمانا پڑا کہ جس نے استحسان کیا اس نے شریعت سازی کی۔
    اس کے برعکس اہل حدیث کا مؤقف یہ ہے کہ امام جہاں بھی استحسان کرے اس کے لئے شریعت سے دلیل بھی لے کر آئے۔ بس امام کے ذہن میں ہونا کافی نہیں۔ احناف کو استحسان کے بارے میں یہ بات کیوں کہنا پڑی بس اس لئے کہ اگر کبھی امام صاحب کی رائے کی دلیل نہ مل سکے تو کم ازکم استحسان کا سہارا لیا جاسکے۔ امید کرتا ہوں میں اپنی بات کی سمجھا سکا ہوں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏اگست 31، 2013 #6
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    استحسان کے بارے میں امام مالکؒ اور امام شافعیؒ اور امام ابوحنیفہ ؒ کا موقف ایک ہی ہے۔
    دیگر برائے کرم استحسان کی تعریف بھی فرمادیں
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  7. ‏اگست 31، 2013 #7
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    آپ جیسے "لکھے پڑھے"افراد سے یہ پوچھناتویقیناگستاخی ہوگی کہ آپ نےجودعوی کیاہے اس کی تفصیلی اورمکمل دلیل پیش کریں ۔لیکن حالیہ مراسلہ میں ایک مزید عدد دعوی جوپیش کردیاہے اس کی دلیل تویقیناپیش کریں۔
    امام شافعی کا جملہ یقیناہمارے پیش نظر ہے اوربہت پہلے سے ہے۔ لیکن آپ جیسے "لکھے پڑھے"حضرات کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ کسی جملہ کاپس منظر اورپیش منظرجاننے کی کوشش نہیں کرتے۔
    ویسے قطع نظراس کے کہ میں آپ کو بتائوں کہ اس جملہ کا پس منظر کیاہے۔آپ سے یہ پوچھنے کی جسارت کررہاہوں کہ اگراحناف اہل حدیث کے تعلق سے ہم کوئی دعوی کریں اوردلیل میں کسی حنفی عالم کی کتاب کا حوالہ دیں توآپ حضرات آسمان سرپراٹھالیتے ہیں۔
    جب آپ نے احناف کے تصور استحسان کے تعلق سے گفتگو کرنے کی زحمت گواراکرہی لی ہے تواس کو احناف کی کتابوں سے ہی مبرہن اورمدلل کرنے کی کوشش کریں۔
    امام شافعی نے احناف کے تصور استحسان کانتیجہ نکال کر من استحسن کا جملہ کہاہے۔لیکن ان کایہ نتیجہ نکالناکتناصحیح اورکتناغلط تھااس کو دیکھناہوتوامام ابوزہرہ کی امام ابوحنیفہ اورامام شافعی پر لکھی گئی کتابوں کا مطالعہ کریں۔ویسے احناف کے تصور استحسان کو جانناہواورادھرادھر کے بجائے صحیح معلومات چاہئے توپھر امام جصاص رازی کی الفصول فی الاصول کا باب الاستحسان مطالعہ کرنے کی زحمت کریں۔

    دوبارہ گزارش کررہاہوں کہ جونیادعوی کیاہے اس کی دلیل بیان کریں اوراحناف کی کتابوں سے ہی دلیل بیان کریں۔ والسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  8. ‏اگست 31، 2013 #8
    کیلانی

    کیلانی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2013
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    1,101
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    بات احناف کی ہو رہی ہے امام ابو حنیفہ کی نہیں۔
    تعریف استحسان:
    کسی بھی مسلہ میں مجتہد قیاس جلی کو چھوڑ کر قیاس خفی کو اپنائے لیکن یہ کسی کسی قوی تر دلیل کی بنیا د پر ہونا چاہیے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  9. ‏اگست 31، 2013 #9
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    گیلانی صاحب آپ کے ساتھ شایدکچھ مسئلہ ہے کیا؟
    جوکچھ لکھاکریں دلیل اورحوالہ کے ساتھ لکھاکریں۔ محض ایک سطراوردوسطریں گھیسٹ کرلکھ دینے سے یہ مت سمجھ لیں کہ میری ذمہ داری پوری ہوگئی ہے۔
    آپ نے اولااحناف کے تصوراستحسان کے تعلق سے جوماقبل میں لکھاہے اس پر نگاہ کریں۔ پھر احناف کی کتابوں سے اس کوثابت کریں اورابھی جو استحسان کی تعریف کی ہے توکس کتاب سے یہ تعریف کی ہے اس کا حوالہ دیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  10. ‏اگست 31، 2013 #10
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    آپ کے جواب سے تشفی نہیں ہوئی بلکہ تشنگی اور بڑھ گئی
    میرے خیال سے تعریف کے لئے امثلہ ،دلائل،قرائن ،اورماہرین کی آراء اور اقوال بھی ضروری ہوتے ہیں
    جب کسی چیز کو سمجھانا ہی مقصود ہےتو اس کو مکمل طور سمجھانا چاہئے تاکہ ذہن میں خلجان ہی باقی نہ رہے
    اور یہاں آپ کا یہ فرمان:
    کیا اس میں امام صاحب سے مراد کوئی اور امام ہیں یا امام ابوحنیفہؒ ہی ہیں
    اور پھر آپ نے بھی مثال میں امام شافعی ؒ کا قول نقل کیا ہےشوافع کا نہیں
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں