1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اصول فقہ کا تجزیاتی مطالعہ

'اصول فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از کیلانی, ‏اگست 29، 2013۔

  1. ‏اگست 31، 2013 #11
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    یہ روح بہت وسعت اختیار کرلے تو امام صاحب سے آگے بڑھ کر ائمہ احناف تک پہنچ جاتی ہے ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 31، 2013 #12
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    دلیل اصول کرخی کا یہ اصول:
    28-الْأَصْلُ: أَنَّ كُلَّ آيَةٍ تُخَالِفُ قَوْلَ أَصْحَابِنَا فَإِنَّهَُا تُحْمَلُ عَلَى النَّسْخِ أَوْ عَلَى التَّرْجِيْحِ.وَالْأَوْلَ ى أَنْ تُحْمَلَ عَلَى التَّأْوِيْلِ مِنْ جِهَةِ التَّوْفِِيْقِ.
     
  3. ‏اگست 31، 2013 #13
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

  4. ‏اگست 31، 2013 #14
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    مجھے تشفی نہیں ہوئی ۔
    اصل میں احناف کا رویہ اس اصول کی تائید کرتا ہے ۔ اس تائید کے مقابلہ میں آپ کی تاویل بہت کمزور ہے ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏ستمبر 01، 2013 #15
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    آپ جیسے پڑھے لکھے آدمی سے اس طرح کی بات پر بڑی حیرت ہے۔
    آپ نے تشفی نہ ہونے کی بات کہی ۔لیکن تشفی کیوں نہیں ہوئی۔ اس مضمون میں آپ کو کہاں کہاں جھول نظرآیا۔کہاں کہاں آپ کو لگاکہ مضمون نگار نے علمی خیانت کی ہے اورصحیح حوالے پیش نہیں کئے ہیں۔ صرف تشفی نہ ہونے کی بات کہنااصولی اورعلمی لحاظ سے ناقابل قبول ہے جب تک تشفی نہ ہونے کی مکمل وجوہات بھی ذکر نہ کی جائیں۔

    دوسری بات جو آپ نے کہی ہے وہ یہ ہے کہ
    سوال یہ ہے کہ کیاعلمی معاملات میں یہ رویہ اختیار کیاجاسکتاہے؟آپ علمی موضوعات پر بحث کرتے وقت دلیل کے بجائے لوگوں کے طرزعمل کو دلیل بنانے لگیں توپھر خداہی حافظ ہے۔اگریہی طرزعمل ہم آپ کے ساتھ بحث میں اختیار کرنے لگیں کہ اہل حدیث جن باتوں کا دعوی کرتے ہیں ان کو علمی اورنظریاتی طورپر جانچنے کے بجائے ان کے طرزعمل کو معیار بنانے لگیں توبتایئے کتنے فیصد اہل حدیث اس کسوٹی پر پورااتریں گے؟
    دوسری بات یہ ہے کہ آپ کا یہ دعوی ہی سرے سے غلط اوربے بنیادہے۔جتنے بھی مجتہدین حضرات گزرے ہیں۔ انہوں نے مختلف مسائل میں امام ابوحنیفہ اورائمہ ثلاثہ سے دلائل کی بنیاد پر اختلاف کیاہے۔اورپھربہت سارے مسائل ایسے ہیں جہاں دلائل کی بنیادپرامام ابوحنیفہ کی رائے پر صاحبین کی رائے کو ترجیح دی گئی ہے۔ تقریبا20مسائل ایسے ہیں جہاں امام زفر کی رائے کو ائمہ ثلاثہ کی رائے پر ترجیح دی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر امام ابوحنیفہ کی رائے پر صاحبین کی رائے کو ترجیح کیوں دی گئی؟
    صرف ائمہ متقدمین ہی نہیں بلکہ قرون متاخرہ کے مجتہدین حضرات نے بھی ائمہ متقدمین سے دلائل کی بنیادپراختلاف کیاہے جس کی تفصیلات کتب فقہ میں موجود ہیں۔ ان تمام کو چھوڑ کر صرف یہ کہنا
    بڑی زیادتی ہے۔
    میں یہی توجانناچاہتاہوں کہ تاویل کی کمزوری کہاں کہاں پر آپ کو محسوس ہوئی۔ان مقامات کی نشاندہی کریں۔

    ورنہ کہیں اس مصور کے ایساحال نہ ہو کہ جس نے ایک خوبصورت تصویر بنائی اوراسے شاہراہ پر رکھ کر اعلان کیاکہ جس کو اس میں کسی قسم کی خامی لگے اس مقام کی نشاندہی کرے۔شام کو جب اس نے تصویر دیکھی توپوری تصویر نشانوں سے بھری پڑی تھی۔ مصور بہت شکستہ دل ہوا اورایک واقف کار سے اپنے دل کی بات کہی۔اس نے مشورہ دیاکہ ویسی ہی تصویر دوبارہ بنائواس کو شاہراہ پر رکھواورسابقہ اعلان کے بجائے یہ اعلان کروکہ جس کو تصویر میں جس مقام پر خامی نظرارہی ہے توصرف نشاندہی نہ کرے بلکہ اس کی اصلاح بھی کردے۔شام کو مصور نے تصویر دیکھی تواس پر ایک بھی نشان لگاہوانہیں تھا۔

    مجھے نہیں لگتاکہ اس واقعہ میں جو پیغام ہے اسے کھول کر بیان کرنے کی ضرورت ہے۔والسلام
     
    • زبردست زبردست x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  6. ‏ستمبر 02، 2013 #16
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    میں نے احناف کے رویہ کی بات کہی ہے لوگوں کے طرز عمل کی نہیں ۔
    یہ روح بہت وسعت اختیار کرلے تو امام صاحب سے آگے بڑھ کر ائمہ احناف تک پہنچ جاتی ہے ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏ستمبر 02، 2013 #17
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    صاحبین کی رائے کو امام صاحب کی رائے پر ترجیح دینا ہی معاملے تو بہت زیادہ مشتبہ بنا دیتا ہے۔ اسے ایک مثال سے واضح کرنا چاہوں گا۔ لڑکی کا نکاح ولی کے بغیر ہوتا ہے یا نہیں، اس بارے فقہ حنفی میں سات اقوال مروی ہیں جیسا کہ شرح ہدایہ فتح القدیر میں یہ ساتوں روایات موجود ہیں۔ دو امام ابوحنیفہ سے ہیں۔ دو امام محمد سے اور تین قاضی ابو یوسف رحمہم اللہ اجمعین سے ہیں۔

    ایک روایت کے مطابق امام صاحب رحمہ اللہ کا موقف یہ ہے کہ باکرہ کا اپنے ولی کے بغیر نکاح کرنا مطلقا جائز ہے اور اسے ظاہر الروایہ نقل کیا جاتا ہے۔ ان سے مروی دوسری روایت کے مطابق امام صاحب کے بقول کفو میں جائز ہے جبکہ غیر کفو میں نہیں۔ امام محمد رحمہ اللہ سے ایک روایت ہے کہ ولی کی اجازت پر نکاح موقوف ہو جائے گا یعنی ولی اجازت دے گا تو منعقد ہو جائے گا اور اگر نہیں تو باطل ہو جائے گا۔ انہی سے مروی دوسری روایت ہے کہ انہوں نے ظاہر الروایہ کی طرف رجوع کر لیا تھا یعنی ولی کے بغیر نکاح مطلقا جائز ہے۔ قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ کے ایک قول کے مطابق ولی کے بغیر نکاح بہر صورت باطل ہے۔ دوسری روایت ہے کہ کفو میں جائز ہے اور غیر کفو میں نہیں۔ تیسری روایت ہے کہ مطلقا جائز ہے۔ اب یہ ساتوں روایات ائمہ احناف نے امام صاحب اور صاحبین سے کتب فقہ میں نقل کی ہیں۔

    اب مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ امام صاحب اور صاحبین کے متعدد اقوال میں سے پہلا کون سا ہے اور بعد والا کون سا ہے۔ اب اس کے لیے اصحاب ترجیح کی خدمات لی گئیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ تقرری کون کرے گا کہ فلاں اصحاب ترجیح میں سے ہے اور فلاں نہیں ہے؟ کیا عام حنفی مفتی عالم دین ان اقوال میں ترجیح کا حق نہیں رکھتا ہے اور صرف چند مخصوص لوگوں کو ترجیح دینے کا حق ہے؟ اور مزے کی بات یہ ہے کہ جن مسائل میں اہل ترجیح کوئی ترجیح قائم کر چکے ہیں وہاں اس ترجیح کا ریوائز کرنا بھی ممنوع ہے۔ بہر حال یہ ایک علیحدہ مسئلہ ہے کہ اصحاب ترجیح کا تعین کون کرے گا؟ محسوس یہی ہوتا ہے کہ اور اصل میں جو اصحاب ترجیح کا بھی تعین کرنے والے ہیں، ان کی فقہ کی اتباع ہو رہی ہے۔

    بہر حال اس مسئلے میں اہل ترجیح کا اختلاف ہو گیا کہ متقدم قول کون سا ہے اور متاخر کون سا ہے۔ مثلا قاضی ابو یوسف کے معاملہ میں امام طحاوی نے کہا کہ متقدم ترین قول ولی کے بغیر مطلقا نکاح کے جواز کا ہے جبکہ متاخر ترین قول ولی کے بغیر نکاح بہر صورت نہ ہونے کا ہے یعنی امام طحاوی کی ترجیح کے مطابق قاضی ابو یوسف اہل حدیث کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ امام سرخسی نے کہا کہ قاضی ابو یوسف کا متقدم قول ولی کہ بغیر بہر صورت نکاح نہ ہونے کا ہے جبکہ متاخر ترین قول ولی کے بغیر مطلقا نکاح کے جائز ہونے کا ہے۔ پس دونوں کی ترجیح متضاد ہے۔ راقم نے دونوں کی عبارتوں کا مطالعہ کیا ہے لیکن اس ترجیح کے قائم کرنے کے لیے دلائل دونوں کے پاس نہیں ہیں۔

    اب بات یہاں تک ختم نہیں ہو جاتی، اب ایک اور صاحب ترجیح آتے ہیں جو یہ بتلاتے ہیں کہ قاضی ابو یوسف سے مروی اقوال میں طحاوی اور سرخسی کی ترجیح میں سے سرخسی کی ترجیح کو ترجیح دی جائے گی۔ اس کی دلیل کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ اب سرخسی کی ترجیح کو ترجیح قرار دینے والے کی بات کو بنیاد بناتے ہوئے قاضی ابو یوسف کا موقف متعین ہوتا ہے اور مفتی بہ قول وجود میں آ جاتا ہے۔ اس سارے میکانزم میں اصل کون ہے؟ تفصیل سے اس پر پھر کسی وقت گفتگو ہو گی؟ یہ کچھ ایسی وجوہات ہیں کہ جن سے اہل حدیث کو اس سارے میکانزم سے رد عمل پیدا ہوا۔
    جزاکم اللہ
     
    • علمی علمی x 3
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  8. ‏ستمبر 03، 2013 #18
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    میں نے بھی اسی تناظر میں بات کہی ہے۔احناف سے آپ کیامراد لیتے ہیں اس کی بھی وضاحت کردیں۔
    اس جملہ سے کوئی مطلب اخذ کرنامیرے لئے تومشکل ہے ۔کیامطلب اورمعنی اس جملہ سے مراد ہیں خود ہی واضح کردیں تاکہ صحیح نتیجے تک پہنچنے میں ہمیں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔
     
  9. ‏ستمبر 04، 2013 #19
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    جمشید بھائی آپ کو اس بات پر کیا اعتراض ہے؟ اور کیوں اعتراض ہے؟
     
  10. ‏ستمبر 08، 2013 #20
    الباکستانی

    الباکستانی مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2013
    پیغامات:
    44
    موصول شکریہ جات:
    47
    تمغے کے پوائنٹ:
    20

    يہاں اور ہمارے برصغير کے دوسرے علمی حلقوں ميں بالعموم فقہ المقارن کی ابحاث ميں قديم متناضع مسائل پر بھی پچھلے ادوار کے عظيم آئمہ کا حوالہ بہت ہی کم ديا جاتا ہے- اور ايسا دونوں ہی فريق کررہے ہيں- جب کہ ان کے برمحل حوالاجات سے دونوں جانب کے استدلال ميں نکھار اور وزن آجائے گا-
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں