1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اصول فقہ کا تعارف

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از ناصر رانا, ‏نومبر 17، 2011۔

  1. ‏نومبر 17، 2011 #1
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    اصول فقہ کا تعارف

    جان لیجئے کہ یقیناً ”اصول فقہ“ مضاف اور مضاف الیہ سے مرکب ہے، ’اصول‘ مضاف اور ’فقہ‘ مضاف الیہ ہے ، اس مرکب کا نام مرکب اضافی رکھا گیاہے، پھر اس مرکب اضافی کو لے کر علم معہود (مقررہ ومشہور علم) پر بطور عَلَم کے رکھ دیا گیا ہے۔ پس اس کی تعریف اس کے مرکب اضافی اور عَلَم دونوں اعتبار سے لائق بیان ہے۔

    1 مرکب اضافی ہونے کے اعتبار سے تعریف:

    چونکہ یہ مرکب دو کلموں سے مل کر بنا ہے ، لہٰذا دونوں کی علیحدہ علیحدہ وضاحت کی جاتی ہے۔

    لفظ اصول: اصول ، اصل کی جمع ہے اور لغت میں اصل اس کو کہتے ہیں جس پر کسی دوسرے کی بنیاد ہو جیسے کہ چھت اور دیوار کےلیے بنیاد اصل ہے ، اسی طرح درخت کی جڑیں جو زمین میں ثابت ہیں، درخت کےلیے اصل ہیں، جیسا کہ یہ بات خود اللہ تعالیٰ کے فرمان میں موجود ہے: ”﴿ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ ﴾ [إبراهيم:24] “

    ترجمہ: اس کی اصل (زمین میں ) ثابت ہے اور شاخ آسمان سے باتیں کرتی ہے۔

    اصطلاح میں اصل کا لفظ کئی معنوں کےلیے بولا جاتا ہے، ان میں سے چند یہ ہیں:

    ۱۔ عام قاعدہ: جیسے اصولیوں کی یہ بات ہے کہ ”امر وجو ب کا تقاضا کرتا ہے “

    اس قاعدہ کی وضاحت اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان کرتا ہے: ”﴿ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ ﴾ [الحشر:7]

    ترجمہ: جو کچھ بھی تمہیں اللہ کے رسولﷺ دے دیں اسے لے لو۔

    تو اس آیت میں دیا گیا یہ عام حکم ہے جو ہر اس چیز کو لینے کے وجوب کا تقاضا کرتا ہے جو اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں دی ہے بغیر اس کے کہ ہم ان احکام کے افراد میں سے کسی فرد کی ذات کے پیچھے پڑ جائیں جن احکام کی طرف اللہ کے رسولﷺ نے ہماری رہنمائی کی ہے۔

    ۲۔ دلیل: اصل کا لفظ دلیل کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسے آپ یہ کہتے ہیں کہ روزے کے فرض ہونے کی اصل اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ” ﴿ يا أََيهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيكُمُ الصِّيامُ ﴾ [البقرة:138]

    ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں۔

    یعنی روزوں کے فرض ہونے کی دلیل مندرجہ بالا فرمان ِ الہٰی ہے۔

    لفظ فقہ: لغت میں فقہ ’سمجھ‘کو کہتے ہیں ۔ اسی معنوں میں اللہ رب العالمین کا یہ فرمان گرامی بھی ہےجو موسیٰu کی زبانی نقل کیا گیا ہے: ” ﴿ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي (27) يفْقَهُوا قولي ﴾ [طه:28،27]“

    ترجمہ: اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے(تاکہ )وہ میری بات کو سمجھ لیں۔

    یعنی اس کا فہم حاصل کرلیں۔

    اصطلاح میں ان شرعی احکام کو جاننے کا نام فقہ ہے جن احکام کا ذریعہ اجتہاد ہوتا ہے۔

    تو اصول فقہ سے مراد ”وہ فقہ کے وہ قاعدے ہیں جن پر فقہ کی بنیاد ہے۔“

    فقہ کی تعریف کی شرح:

    علم سے مراد وہ چیز ہے جو غلبہ ظن پر مشتمل ہو ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں علم کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے: ”﴿ فَإنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ[الممتحنة:10]

    ترجمہ: تو اگر تم انہیں مؤمنہ عورتیں جان لو۔

    یعنی گمان کرلو۔

    احکام شرعیہ سے مراد وجوب،ندب ، حرمت،کراہت یا اباحت ہے۔تو شرعیہ کی قید لگانے سے علوم عقلیہ ، جیسے ایک دو کا نصف ہوتا ہے، علوم حسیہ، جیسے برف ٹھنڈی ہوتی ہے اور علوم عادیہ جیسے کڑک اور بجلی کے بعد بارش ہوتی ہے، نکل جاتے ہیں۔

    احکام شرعیہ ‘جن کا ذریعہ اجتہاد ہے ،سے ان احکام کو نکالنا مقصودہے جن میں اجتہاد نہیں ہوسکتا جیسے نماز اور روزے کے واجب اور زنا اور چوری کے حرام ہونے کے بارے میں جاننا ہے کیونکہ دین میں ان کی معرفت ضروری ہے ۔

    2 اصول فقہ کی بطور لقب تعریف:

    یہ ایسا علم ہے جو فقہ کی اجمالی دلیلوں کےحالات ‘ ان دلیلوں سے فائدہ حاصل کرنے کے طریقوں اور فائدہ حاصل کرنے والے کے حالات کے بارے میں بحث کرتا ہے۔

    اس تعریف کی وضاحت:

    فائدہ حاصل کرنے کے طریقوں سے مراد مثال کے طور پرتعارض کے وقت ترجیح کو پہنچاننا ہے ۔

    اور اجمالی دلیلوں سے مراد وہ دلائل ہیں جو تفصیلی نہ ہوں‘ جیسے کہ امر وجوب کا تقاضا کرتا ہے اور نہی تحریم کا اسی طرح مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا اور عام کی تخصیص خاص سے ہوگی اور اجماع اور قیاس حجت ہیں۔

    اس علم کا موضوع:

    اس علم کا موضوع وہ دلائل ہیں جو فقہ کی پہچان کی طرف لے جاتی ہیں اور ان دلائل سے احکام پر استدلال کرنے کی کیفیت ‘ استدلال کرنے والے کی حالت کی معرفت کے ساتھ۔

    اس علم کا فائدہ:


    اس علم کا فائدہ ان احکام کا علم حاصل کرنا ہے جو اپنے اندر دونوں جہانوں کی سعادت کے ساتھ کامیابیوں کو سموئے ہوئے ہیں۔

    اس علم کے ماخذ:

    اس علم کے تین ماخذ ہیں:

    اصول دین کا علم: یعنی توحیدکا علم‘ کیونکہ شرعی دلائل اللہ کی توحید اور نبیﷺ کی سچائی پر موقوف ہیں۔ اور ان دونوں کی اس علم میں وضاحت کی جاتی ہےان دونوں کا بیان اپنی جگہ پر موجود ہے۔

    عربی لغت کا علم: کیونکہ قرآن وسنت کا فہم اور ان دونوں سے استدلال ان کی معرفت اور پہچان پر موقوف ہے اور یہ دونوں (کتاب وسنت)عربی زبان میں ہیں۔

    احکام شرعیہ کاتصور: چونکہ اس علم کو حاصل کرنے کا مقصد شرعی احکام کو یا تو ثابت کرنا ہے یا ان کی نفی کرنی ہے اور یہ کام اسی وقت ممکن ہے جب ان کا تصور ذہن میں ہو کیونکہ کسی چیز پر حکم لگانااس کے تصور کی فرع میں سے ہے۔

    اس علم کو حاصل کرنے کا حکم:


    اصول فقہ کو سیکھنا اور سکھانا فرض کفایہ ہے۔


    ترجمہ کتاب تسہیل الوصول از محمد رفیق طاہر
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں