1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اعتراض کا جواب درکار ہے

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از وہم, ‏مارچ 22، 2017۔

  1. ‏مارچ 22، 2017 #1
    وہم

    وہم رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 22، 2014
    پیغامات:
    127
    موصول شکریہ جات:
    38
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ ، اٹیچ کی گئی حدیث اور اس کے نیچے موجود اعتراض کا اہل علم بھائیوں سے جواب درکار ہے
    2017-03-22_235149.jpg
     
  2. ‏مارچ 22، 2017 #2
    وہم

    وہم رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 22، 2014
    پیغامات:
    127
    موصول شکریہ جات:
    38
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

  3. ‏مارچ 22، 2017 #3
    وہم

    وہم رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 22، 2014
    پیغامات:
    127
    موصول شکریہ جات:
    38
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

  4. ‏مارچ 23، 2017 #4
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,649
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    تفصیل ان شاء اللہ شیخ اسحاق سلفی بھائی بیان کریں گے، میں بھی کچھ حصہ ڈالنے کی کوشش کروں گا ان شاء اللہ!
    فی الوقت اتنا عرض ہے کہ یہاں دنیاوی حیات و برزخی حیات کے فرق کو نہیں سمجھا گیا ہے، مزید کہ آیت کا کا اطلاق غلط کیا جارہا ہے، اور اسے مسلمانوں کے لئے خاص کرنے کی سعی کی ہے، جبکہ یہ آیت ایمان نہ لانے والوں کے متعلق ہے:
    وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى (124) قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَى وَقَدْ كُنْتُ بَصِيرًا (125) قَالَ كَذَلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنْسَى (126) وَكَذَلِكَ نَجْزِي مَنْ أَسْرَفَ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِآيَاتِ رَبِّهِ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَشَدُّ وَأَبْقَى (127) ﴿سورة طه﴾
    اور (ہاں) جو میری یاد سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی تنگی میں رہے گی، اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کر کے اٹھائیں گے (124) وه کہے گا کہ الٰہی! مجھے تو نے اندھا بنا کر کیوں اٹھایا؟ حالانکہ میں تو دیکھتا بھالتا تھا (125) (جواب ملے گا کہ) اسی طرح ہونا چاہئے تھا تو میری آئی ہوئی آیتوں کو بھول گیا تو آج تو بھی بھلا دیا جاتا ہے (126) ہم ایسا ہی بدلہ ہر اس شخص کو دیا کرتے ہیں جو حد سے گزر جائے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لائے، اور بیشک آخرت کا عذاب نہایت ہی سخت اور باقی رہنے ولاہے (127) ﴿سورة طه﴾
     
    Last edited: ‏مارچ 23، 2017
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏مارچ 23، 2017 #5
    وہم

    وہم رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 22، 2014
    پیغامات:
    127
    موصول شکریہ جات:
    38
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    -------------
    جزاک اللہ خیرا کثیرا ،
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏مارچ 24، 2017 #6
    وہم

    وہم رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 22، 2014
    پیغامات:
    127
    موصول شکریہ جات:
    38
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    اہل علم سے گزارش ہے کہ لفظ
    مَعِيشَةً
    کے حوالہ سے حدیث میں موجود متن و مفہوم کی وضاحت کی جائے تاکہ اعتراض کا مکمل جواب دیا جا سکے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں