1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اعتکاف کب بیٹھیں؟

'روزہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالوفا محمد حماد اثری, ‏جون 18، 2017۔

  1. ‏جون 18، 2017 #1
    ابوالوفا محمد حماد اثری

    ابوالوفا محمد حماد اثری مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2017
    پیغامات:
    61
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    20

    اعتکاف گاہ میں کب داخل ہوں؟
    تحریر : شیخ الحدیث ، علامہ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے پہلے عشرے میں صحابہ کے ساتھ اعتکاف بیٹھے ، پہلا عشرہ گز ر گیا تو جبریل نے بتایا کہ لیلۃ القدر تو ابھی آگے ہے، نبی کریمﷺدوسرے عشرے میں بھی بیٹھ گئے، بیسیویں روزے کی صبح صحابہ اپنے گھروں میں چلے گئے، بخاری(813) میں ہے کہ:
    فقام النبي صلى الله عليه وسلم
    [ص:163] خطيبا صبيحة عشرين من رمضان فقال: «من كان اعتكف مع النبي صلى الله عليه وسلم، فليرجع، فإني أريت ليلة القدر، وإني نسيتها، وإنها في العشر الأواخر، في وتر۔۔۔

    ''نبی کریمﷺبیسیویں روزے کی صبح خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے، فرمایا: جنہوں نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے، وہ معتکف میں واپس آجائیں، مجھے لیلۃالقدر دکھائی گئی ، لیکن پھر بھلا دی گئی، لیلۃ القدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے۔۔۔''
    بخاری (2041) میں ہے کہ نبی کریمﷺ نماز فجر کے بعد اعتکاف گاہ میں جاتے تھے ۔
    ان دوروایات کو ملا کر بعض احباب نے یہ استدلال کیا کہ اعتکاف بیسیویں کی صبح کوبیٹھا جائے، نبی کریمﷺنے چوں کہ بیسیویں کی صبح کو اعلان کیا کہ اعتکاف کو لوٹ آئیں، پھر دوسری روایت میں ہے کہ آپ صبح کو اعتکاف گاہ میں داخل ہوتے لہذا اعتکاف بیسیویں روزے کی صبح ہی بیٹھ جانا چاہئے۔
    استدلال کی کمزوری:
    یہ استدلال کمزور ہے۔
    صحیح بخاری (2027)ہی کی روایت ہے کہ :

    حتى إذا كان ليلة إحدى وعشرين، وهي الليلة التي يخرج من صبيحتها من اعتكافه، قال: «من كان اعتكف معي، فليعتكف العشر الأواخر۔۔۔
    ''جب اکیسیویں رات ہوئی ،وہی رات جس کی صبح آپ نے اعتکاف ختم کیا تھا، آپﷺ نے فرمایا:
    جنہوں نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے، وہ آخری عشرے کو بھی اعتکاف کریں۔''
    معلوم ہوا کہ بیسیویں روزے کی رات کو آپﷺاعتکاف بیٹھے تھے۔
    روایات کا درست مفہوم :
    ان تینوں روایات کا معنی یہ ہوگا کہ نبی کریمﷺ نے خطبہ بیسیویں کی صبح کو دیا تھا اور اعتکاف میں بیٹھنے کا حکم بھی دیا تھا،اس حکم سے مراد ، رات کو بیٹھنا تھا ، کیوں کہ نبی کریمﷺرات ہی کو بیٹھے تھے۔
    جیسا کہ اس روایت میں ذکر ہے ، اعتکاف گاہ میں اگلی صبح یعنی اکیسیویں کی صبح داخل ہوئے۔
    دوسرے یہ کہ آخری عشرہ شروع بھی بیسیویں روزے کی رات یعنی اکیسیویں رات کو ہوتا ہے۔
    اکثر اہل علم یہی کہتے ہیں اور یہی راجح ہے ۔ واللہ اعلم
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں