1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اغوا ءبرائے تاوان اور ٹرکوں کی لوٹ مار پاکستانی طالبان کی آمدنی کے اہم ذرائع ہیں

'خوارج' میں موضوعات آغاز کردہ از خوارجی کی حقیقت, ‏نومبر 11، 2013۔

  1. ‏نومبر 11، 2013 #1
    خوارجی کی حقیقت

    خوارجی کی حقیقت رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏نومبر 09، 2013
    پیغامات:
    329
    موصول شکریہ جات:
    132
    تمغے کے پوائنٹ:
    45

    پاکستان -- پاکستانی طالبان کے مالی وسائل کو ختم کرنا کوئی آسان کام نہیں لیکن بعض پاکستانی کم از کم ان ذرائع کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔​
    • 2009 کی اس فائل تصویر میں طالبان جنگجو خیبر ایجنسی سے اغوا کیے گئے ٹرکوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ شورش پسند اکثر ٹرکوں کے قافلوں پر حملہ کر کے ان کا سامان لوٹ لیتے ہیں اور اسے اپنی شورش پسندی کی رسد کی ضروریات اور مالی وسائل کے لئے استعمال کرنے کے علاوہ افغانستان جانے والی رسد کی راہ میں بھی رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ [محمود جان]
    پاکستانی طالبان کے ساتھ مبینہ روابط رکھنے والے اسلام آباد کے ایک صحافی طاہر خان کا کہنا ہے کہ طالبان کے مالی وسائل کے بہت سے ذرائع ہیں جن میں خاص طور پر ان سے ہمدردی رکھنے والے مقامی اور غیر ملکی افراد کے عطیات، نیٹو کے ٹرکوں کا اغوا اور لوٹ مار، معروف افراد کا اغوا برائے تاوان اور بیرون ملک مقیم یا پاکستان میں کاروبار کرنے والے جہاد پسند عناصر کی جانب سے دی جانے والی امداد شامل ہیں۔
    طالبان کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ اعلٰی سطحی شخصیات اور سرکاری حکام کا اغوا برائے تاوان ہے۔
    طاہر خان نے کہا کہ افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر طارق عزیز الدین کے اغوا میں ملوث افراد کے بارے میں سب کو پتا ہے۔
    لاہور کی یونیورسٹی آف منیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی میں درس و تدریس سے وابستہ ڈاکٹر الیاس انصاری نے کہا کہ اب یہ صرف مقامی مسئلہ نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں میں محض رقم سے زیادہ ترغیب اہم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دشمن، پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی کارکردگی سے متعلق عدم اعتماد پیدا کرنے کے سلسلے میں ایک فعال کردار ادا کر رہے ہیں اور وہ اس کے جوہری پروگرام کی سلامتی کے معاملے پر شک کے بیج بونا چاہتے ہیں۔
    پشاور کی ایک انتہائی امیر افغان کاروباری شخصیت عبد الرحمٰن زئی کو بھی اغوا کر لیا گیا تھا۔ ان کے اہل خانہ نے ڈالروں میں تاوان ادا کیا۔ رہا ہونے کے بعد عبد الرحمٰن زئی اور ان کے اہل خانہ فوری طور پر دبئی منتقل ہو گئے۔
    پشاور کے ممتاز تاجر حاجی لیاقت علی کی رہائی سے متعلق افواہیں اب بھی ماند نہیں پڑیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی رہائی کے عوض دبئی میں ایک بڑی رقم ادا کی گئی۔
    اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس طرح کے واقعات میں رقم حوالہ اور ہنڈی کے غیر ضابطہ ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے پشاور سے دبئی اور بعض اوقات ابوظہبی بھیجی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لوگ کسی قسم کی قانونی شرط پوری کیے بغیر پشاور میں حوالہ اور ہنڈی کا کاروبار کر نے والے مقامی افراد کے پاس رقم جمع کرا سکتے ہیں اور چند منٹوں میں ہی یہ رقم اپنی منزل پر پہنچ جاتی ہے۔
    حوالہ اور ہنڈی بیرون ملک مقیم خاندان کے افراد کو رقم کی منتقلی کا ایک مقبول ذریعہ ہیں۔ بیرون ملک مقیم مذہب سے زیادہ آگاہی نہ رکھنے والے مسلمانوں کا خیال ہے کہ اسلام میں بینکاری نظام کا استعمال حرام ہے لہٰذا وہ اسی نظام پر انحصار کرتے ہیں جس کا انہیں پتا ہے۔
    خان نے کہا کہ رقم کی منتقلی کے اس قسم کے بے ضابطہ نظام کی مقبولیت کے باعث مشتبہ افراد کے بینک اکاؤنٹوں کا کھوج لگانے کی کوششیں جزوی طور پر کامیابی سے ہمکنار ہو تی ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ مذہبی محرکات کے لئے دی جانے والی رقم باضابطہ طریقوں سے نہیں بھیجی جاتی۔
    پشاور کے ایک صحافی محمد علی نے کہا کہ حکام کے لئے حوالہ اور ہنڈی کو روکنا مشکل ہے۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد پاکستان میں منی لانڈرنگ کے خلاف ایک قانون متعارف کرایا گیا۔
    تاہم، انہوں نے کہا کہ رقم کی غیر قانونی منتقلیوں کو روکنے کی کوششوں سے ترسیلات زر پر بہت تھوڑا اثر پڑا ہے جن کا تخمینہ سالانہ 4 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ ان کے خیال میں، ترسیلات زر کے ذریعے سالانہ 15 ارب ڈالر منتقل کرنے کی گنجائش موجود ہے کیونکہ اس کے صارفین اب قانونی طریقوں کی جانب رجوع کر رہے ہیں۔
    تاہم، حکام کا کہنا ہے کہ وہ مسئلے پر قابو پا سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں ایف آئی اے کے ایک عہدیدار اسد علی نے بتایا کہ پاکستان رقم کے غیر قانونی اور مشکوک لین دین پر قابو پانے سے باخبر ہے اور اس مقصد کے لئے پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے میں ایک خصوصی تحقیقاتی گروپ قائم کیا گیا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ دس ہزار ڈالر سے زائد رقم کا لین دین کرنے والے کسی بھی شخص کو اس کا جواز پیش کرنا پڑے گا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں حکام اس کے خلاف مشکوک لین دین کی ایک رپورٹ تیار کریں گے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ منی لانڈرنگ کے خلاف نئے قانون کے تحت بینک ایف آئی اے کے مطالبے پر رقوم کے لین دین سے متعلق کسی بھی قسم کا ریکارڈ اس کے حوالے کر سکتے ہیں۔
    اتحادی فوج کی افغانستان جانے والی گاڑیوں کا اغوا اور ان سے بین الاقوامی سامان اور ہتھیاروں کی چوری عسکریت پسندوں کے مالی وسائل کا ایک اور اہم ذریعہ ہیں۔
    خیبر ایجنسی کے ایک قبائلی تاجر نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ وہ افغانستان جانے والے ان ٹرکوں پر حملہ کر کے سامان کو تہس نہس کر دیتے ہیں اور بچا کھچا سامان خیبر ایجنسی کی حدود میں واقع پاک افغان شاہراہ طورخم پر پھینک دیتے ہیں۔ لوٹی گئی اشیاء پاکستان اور افغانستان کے بازاروں میں سر عام فروخت ہو رہی ہیں۔
    اسلام آباد میں بی بی سی اردو سروس کے سینئر نمائندے ہارون رشید نے بتایا کہ انہیں تحریک طالبان پاکستان کے رہنما حکیم اللہ محسود کے الفاظ اب بھی یاد ہیں جب انہوں نے کہا تھا کہ ان کی تنظیم کو اس چیز کی کوئی پروا نہیں کہ ان کے مقصد میں کون انہیں وسائل فراہم کر رہا ہے۔
    ہارون نے حکیم اللہ محسود کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ طالبان کے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے کیونکہ جنوبی وزیرستان میں جب وہ کسی اسپیڈ بریکر کے پاس پہنچ کر گاڑی کی رفتار آہستہ کرتے ہیں تو لوگ ان کی گاڑی کے اندر رقم پھینک جاتے ہیں۔
    اس امداد کا ایک بڑا حصہ ان مقامی چندوں پر مشتمل ہے جو مدرسوں کے غریب طلباء کی مدد کرنے کی آڑ میں جمع کیے جاتے ہیں۔
    مردان کے ایک چھوٹے سے گاؤں تکر کے رہائشی ارشد حسین نے بتایا کہ دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگ ان عناصر کو رقم، گندم اور شکر فراہم کرتے ہیں اور اس مقصد کے لئے وہ گھر گھر جا کر غریب طلباء کے نام پر خیرات جمع کر تے ہیں۔
    تاہم، مقامی افراد بھولے ہیں اور وہ ان عناصر کے لئے اپنی امداد کے مضمرات سے آگاہ نہیں۔ ارشد نے کہا کہ ان کے پاس ارد گرد کے حالات پر روشنی ڈالنے کے لئے ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات موجود نہیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں