1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

افطار کے وقت دعا ’’اللھم لک صمت ‘‘مستحب ہے ۔

'روزہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن عثمان, ‏جولائی 03، 2016۔

  1. ‏جولائی 03، 2016 #1
    ابن عثمان

    ابن عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 27، 2014
    پیغامات:
    221
    موصول شکریہ جات:
    59
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ:
    «اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ، وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ»
    نبی کریم ﷺ جب افطار کرتے تو فرماتے۔
    ’’ اےاللہ میں نے تیرے لئے روزہ رکھا اور تیرے رزق پر افطار کیا‘‘
    __________________________

    (الزهد والرقائق ۱۔۴۹۵۔۔۔امام ابن المباركؒ ۱۸۱ھ) (کتاب الدعاء ۱۔۲۳۷۔۔۔امام محمد بن فضيل الضبیؒ ۱۹۵ھ)
    (المصنف ۶۔ ۳۲۹۔۔۔ حافظ ابن ابی شیبہؒ ۲۳۵ھ) (السنن ۳۔۱۴۸۔۔۔ امام ابو داودؒ ۲۷۵ھ)
    (السنن الکبیر ۸۔۵۳۴۔۔۔ امام بیہقیؒ ۴۵۸ھ) (شرح السنۃ ۶۔۲۶۵۔۔۔ امام البغویؒ ۵۱۶ھ)

    __________________________
    یہ روایت مرسل حسن ہے ۔امام ابو داودؒ نے اس پر سکوت فرمایا ہے ۔جو کہ ان کے نزدیک قابل احتجاج ہوتا ہے ۔
    اورحافظ ابن ملقنؒ ۔۔۔
    تحفة المحتاج إلى أدلة المنهاج للنووي ۲۔۹۶ پہ فرماتے ہیں
    رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَلم يُضعفهُ وَهُوَ مُرْسل
    یعنی امام ابو داود نے اس کی تضعیف نہیں کی ۔
    دوسرے لفظوں میں وہ امام ابو داودؒ کے قاعدہ سے استدلال کر رہے ہیں ۔جو انہوں نے فرمایا ہے کہ جس حدیث پر وہ سکوت کریں گے وہ قابل احتجاج ہے ۔۔۔

    پھر ابن الملقنؒ ۸۰۴ھ نے ۔۔خود بھی اس کی سند کو۔۔۔۔۔بدر المنیرتخریج شرح الکبیر ٥-٧١٠ ۔۔۔میں۔۔ مرسل حسن قرار دیا ہے ۔ اسی طرح مختصر بد المنیر ۔رقم۱۱۲۶ پہ بھی مرسل حسن فرمایا ہے ۔
    اور شیخ الاسلام زکریا الانصاریؒ ۹۲۶ھ نے بھی
    فتح الوهاب شرح مختصر منهاج النووي ۱۔۱۴۲ پہ اس کو مرسل حسن فرمایا ہے ۔
    حافظ ابن حجر العسقلانیؒ نے

    هداية الرواة إلى تخريج احاديث المصابيح والمشكاة ۲۔۳۲۳ پہ سنن ابو داود کا حوالہ دے کر اس پر سکوت کیا ہے جو ان کے نزدیک حسن ہونے کی علامت ہے ۔
    کتاب کے مقدمہ ۱۔۵۸ میں اپنا منہج یوں بیان کرتے ہیں

    منہج الحکم علی الاحادیث :
    فا لتزمت فی ھذا التخریج ان ابین حال کل حدیث من الفصل الثانی ، من کونہ صحیحا ، او ضعیفا ، او منکرا ، او موضوعا ،
    وما سکت عن بیانہ فھو حسن۔
    ابن حجر الهيتمي ؒ ۔۔۔تحفۃ المحتاج فی شرح المنہاج ۳۔۴۲۵۔۔۔۔میں فرماتے ہیں۔
    وَلَا يَضُرُّ إرْسَالُهُ؛ لِأَنَّهُ فِي الْفَضَائِلِ عَلَى أَنَّهُ وَصْلٌ فِي رِوَايَةٍ

    اس کے علاوہ
    کئی ائمہ مثلاََ ۔۔۔ بیہقیؒ ، بغویؒ ، نوویؒ ، ابن قدامہؒ ،ابن تیمیہؒ ، ابن قیمؒ ، ابن کثیر ؒ نے بطور احتجاج نقل کیا ہے ۔
    اور اکثر علما ء ۔۔۔فقہاء مذاہب اربعہ وغیرہ ۔۔۔اس دعاکے پڑھنے کے استحباب کے قائل ہیں ۔اور اس پر تعامل امت ہے ۔

    اس لئے یہ دعا پڑھنا مستحب ہے ۔
    اور اس کے ساتھ ہی دوسری دعا ذهب الظمأ۔۔۔بھی مستحب ہے ۔
    دونوں دعاؤں میں کوئی تعارض نہیں ہے ۔دونوں پڑھنی مستحب ہیں ۔

    بلکہ اللھم لک صمت۔۔۔ افطار سے پہلے ۔۔۔۔۔۔اور ذھب الظما۔۔ پانی وغیرہ پینے کے بعد میں پڑھنی چاہیے۔


    یہ دعا کوئی واجب یا سنت موکدہ بھی نہیں ۔۔۔اگر کوئی نہ پڑھے تو کوئی حرج نہیں ۔ لیکن پڑھنا فضیلت کا باعث ہے ۔

    آج کل اس دعا کے بارے میں بعض علما نے سخت موقف اپنایا ہے اور اس پر اعتراض کیا ہے اور اس کو ناقابل عمل قرار دیا ہے ۔ معلوم نہیں اس معاملے میں کیوں اتنی سختی کی گئی ہے ۔ جبکہ افطار کے وقت مطلق دعا کرنے کے سب ہی قائل ہیں ۔ اس معاملے میں ان کے اسلوب سے محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ بھی کوئی صرف جاہل عوام میں ہی رائج کوئی چیز ہے ۔
    اور بعض نے تو اس کو بھی مسائل الخلافیات میں سے کوئی مسئلہ بنا کے رکھ دیاہے جیسے اس میں بھی کوئی دو فریق ہیں ۔
    چلیں آدمی اپنی تحقیق سے کوئی صحیح نیت سے ہی کوئی سخت مؤقف اختیار کرتا ہے تو ٹھیک ہے ۔لیکن یوں ظاہر کرنا کہ اس دعا کے پڑھنے کے کوئی قابل ذکر لوگ قائل نہیں ۔ اور ایسا تاثر کے جیسے یہ دعا صرف عوام میں مشہور ہے ۔ایسا مناسب نہیں۔
    اور جو پڑھنے کا قائلین ہیں وہ بھی کوئی اس کا وجوب یا سنت موکدۃ بھی ثابت نہیں کرتے ۔ بلکہ یہ دعا پڑھنی صرف مستحب ہے ۔
    اور جو نہ پڑھے اس میں کوئی حرج نہیں ۔


    اللھم لک صمت۔۔۔ دعا کے استحباب کے قائلین کا آگے ذکر کرتا ہوں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ دعا مرسل حسن سند سے مروی ہے ۔ اس کے کچھ مرفوع شواہد بھی ہیں ۔ لیکن وہ ضعیف ہیں ۔
    اعتراض کرنے والوں کا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ اس کے شواہد ضعیف نہیں بلکہ بہت زیادہ ضعیف ہیں اس لئے ان سے اس کو تقویت کوئی نہیں ملتی ۔
    لیکن ائمہ نے ان کو شواہد کے طور پر پیش کیا ہے ۔اور قبول کیا ہے ۔
    شیخ البانیؒ کو حافظ ابن حجرؒ ، حافظ ہیثمیؒ اور ان سے پہلے ائمہ سے یہ شکوہ ہے کو وہ اس کے شواہد کو صرف ضعیف کیوں کہتے ہیں ۔۔۔ضعیف جداََ کہنا چاہیے ۔ یہ تساہل ہے ۔اور ان کو صرف ضعیف کہنا اپنا یہ رجحان ظاہر کرنا ہے کہ بہت سے ضعیف مل کے قوت اختیار کر لیتے ہیں۔ چناچہ پہلے انہوں نے مشکاۃ کی تخریج میں اس مرسل کے بارے میں خود ہی فرمایا تھا کہ
    له شواهد يقوي بها.
    لیکن پھر بعد میں اس پر دوبارہ تعلیق میں موقف بدل کر لکھا کہ ان پر ظاہر ہوا ہے کہ اس کے شواہد زیادہ ضعیف ہیں ۔
    اورمیری ناقص معلومات کے مطابق ان سے پہلے یہ مسئلہ موجود نہیں تھا۔اور ان کے بعد چونکہ ان کی تحقیق پہ دور حاضر میں بہت اعتماد کیا جاتا ہے ۔اس لئے ان کے بعض تلامذہ نے یہ موقف اختیار کیا۔اور بعض نے اس میں بہت شدت اختیار کی ۔ عجیب بات ہے اس موقع پر ائمہ محدثین فقہا کی تحقیق اور امت میں رائج عمل کو بھی نہیں دیکھتے ۔
    البتہ دوسرے محقق عرب علماءکرام میں ۔۔۔ شیخ ابن عثیمینؒ ، شیخ صالح الفوزانؒ کے نزدیک یہ دعا پڑھنا مستحب ہے ۔۔
    اورشیخ ابن بازؒ بھی اس کی پڑھنے کی اجازت دیتے ہیں ۔

    شیخ ابن العثیمینؒ ۔۔۔۔۔نے ان دونوں دعاؤں ۔۔اللھم لک صمت ۔۔۔اور ۔۔ذھب الظمأ۔۔کو مستحب قرار دیا ہے۔۔
    س436: هل هناك دعاء مأثور عند الإفطار؟ .........
    الجواب: إن الدعاء عند الإفطار موطن إجابة للدعاء، ..........
    والدعاء المأثور: اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت،
    ومنه أيضاً قول النبي صلى الله عليه وسلم حين أفطر قال: ((ذهب الظمأ، وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله))
    . وهذان الحديثان وإن كان فيهما ضعف لكن بعض أهل العلم حسنهما،
    وعلى كل حال فإذا دعوت بذلك، أو دعوت بغيره مما يخطر على قلبك عند الإفطار فإنه موطن إجابة.

    يعنی ان میں اگرچہ ضعف ہے ۔۔۔لیکن بعض اہل علم نے انہیں حسن قرار دیا ہے ۔بہرحال آپ یہ دعائیں کریں یا دوسری دعائیں ، افطار کا وقت قبولیت دعا کا وقت ہے ۔
    فتاوی ارکان الاسلام ۔ ۔۔ص ۴۸۶
    شیخ کی بات بالکل صحیح ہے ۔ذہب الظما ۔۔کو دارقطنیؒ نے حسن قرار دیا ہے ۔۔
    اور اللہم لک صمت کو ۔۔ابن ملقنؒ ،زکریا انصاریؒ نے ۔۔مرسل حسن قرار دیا ہے ۔
    یہ حوالہ شیخ صالح المنجدؒ نے بھی دیا ہے ۔

    https://islamqa.info/ur/65955

    وكذلك ورد عن بعض الصحابة أنه كان يقول: (اللهم لك صمت، وعلى رزقك أفطرت) فأنت ادع الله بالدعاء المناسب الذي ترى أنك محتاج إليه.
    اللقاء الشهري.٨-٢٥

    یہ حوالہ بھی شیخ صالح المنجدؒ نے دیا ہے ۔
    https://islamqa.info/ur/14103

    شیخ صالح الفوزانؒ
    سؤال: ما هو الدعاء المأثور عن النبي صلى الله عليه وسلم عند الإفطار وعند السحور؟
    الجواب: قد ورد عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان إذا أفطر يقول: «ذهب الظمأ وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله» ،
    وورد عن بعض الصحابة أنه إذا أفطر قال: «اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت فاغفر لي إنك أنت الغفور الرحيم» .
    وأما السحور فلم يرد فيما أعلم دعاء مخصوص يقال عند ذلك، والله أعلم.

    (مجموع فتاوى فضيلة الشيخ صالح بن فوزان ۲۔۳۹۵)
    شیخ ابن بازؒ
    شیخ ؒ کے نزدیک یہ روایت اگرچہ ضعیف ہے لیکن دعا کے معنی صحیح ہیں اور اس کو افطار کے وقت کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
    کیونکہ افطاری کا وقت ہی دعا کا ہوتا ہے ۔

    وقال سماحة الامام ابن باز رحمه الله تعالى في شرحه لكتاب الصيام من بلوغ المرام عندما سئل عن
    حديث: (اللهم لك صمت، وعلى رزقك أفطرت) ، قال :
    الحديث ضعيف ، لكن معناه صحيح ولابأس أن يقال عند الإفطار من باب الدعاء

    (آڈیوبیان ۔۔۔بحوالہ ملتقي اهل الحديث)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بہرحال اس حدیث سے بڑے ائمہ نے حجت پکڑی ہے اور استحباب ثابت کیا ہے اس معاملے میں تو ائمہ کی بات ہی صحیح ہے ۔
    ان کی عبارات بعد میں نقل کرتا ہوں ۔
    پہلے ایک روایت جو شاہد کے طور پر پیش کی جاتی ہے اس کو دیکھیں۔

    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَسَّالُ الأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ, أَنَّ النَّبِيَّ صَلى الله عَلَيه وَسَلم كَانَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ: بِسْمِ اللهِ، اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ، وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ، تَقَبَّلْ مِنِّي, إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ.
    (الدعاء ۲۔۱۲۲۹۔۔۔الطبرانی ۳۶۰ھ)

    اس روایت میں دو راوی مجروح ہیں ۔ ایک اسماعیل بن عمرو
    دوسرے داود بن الزبرقان۔
    اعتراض یہ ہے کہ۔۔۔۔داود بن الزبرقان کے بارے میں متروک کی جرح ہے جس کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف جداََ ہونی چاہیے ۔۔۔
    لیکن اگر ان کے بارے میں بھی آرا ءپڑھیں تو ان کی بھی توثیق موجود ہے ۔
    یہ
    ترمذی اور ابن ماجہ کے راوی ہیں۔
    امام شعبہؒ نے باوجود ان کے شیخ ہونے کے ان سے روایت بھی کی
    (تہذیب الکمال ۸۔۳۹۴ ،تاریخ ابن عساکر ۱۷۔۱۴۲۔ترجمہ داود)
    اور شعبہؒ ثقہ سے ہی روایت کرتے تھے ۔

    امام احمدؒکی رائے بھی ان کے بارے میں اچھی تھی۔اگرچہ اعلی درجے کی توثیق نہیں۔
    و سئل عن داود بن الزبرقان؟

    قال: إنما كتبت عنه حديثا. وقال : ما أراه يكذب ولكن كان يدلس .
    (مسائل احمد . بروايت ابن هاني٢-٢٣٠)
    اور ابن حبانؒ نے نقل کیا ہے

    أما أَحْمَد فَحسن القَوْل فِيهِ ......
    ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودٍ النَّسَائِيُّ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ سَعِيدِ بْنِ جَرِيرٍ يَقُولُ سَمِعت أَحْمد بن حَنْبَل يَقُول دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ لَا أَتَّهِمُهُ فِي الْحَدِيثِ

    (
    المجروحین ۱-٢٩٢)
    اس سے الازدیؒ اور الجوزجانیؒ کی کذب کی جرح کا بھی جواب ہو گیا۔
    امام یحیی بن معینؒ
    ان کے شاگردوں الدوریؒ ، الدارمیؒ ، ابن محرزؒ ، الحضرمیؒ ، کی روایات میں ان سے ۔۔لیس بشیئ۔۔منقول ہے ۔
    اس جملہ کی تشریح میں اختلاف ہے بعض اوقات امام یحییؒ ۔۔قلیل الحدیث کے لئے بولتے ہیں ۔۔۔اور بعض کے خیال میں اس سے وہ جرح ہی کرتے ہیں۔
    بعض اوقات وہ لیس بشیئ کے ساتھ کچھ اور جرح کا جملہ بھی کہتے ہیں جس سے بات واضح ہوتی ہے ۔لیکن ان کے بارے میں کوئی اور جملہ ساتھ منقول نہیں کہ وضاحت ہو ۔ صرف الدوریؒ کی دوسری روایت میں
    ليس حديثُه بشيءٍمنقول ہے ۔
    اور ابن جنیدؒ کی روایت میں یحیی بن معین فرماتے ہیں ۔۔۔
    قد كتبتُ عنه۔۔۔
    اور بعض علما کا خیال ہے کہ یحیی بن معینؒ بھی ان ائمہ میں سے ہیں جو صرف ثقہ سے ہی لکھتے ہیں۔
    البتہ ابن حبانؒ نے اس سے یہی اخذ کیا ہے کہ۔۔۔
    ويَحيَى وهَّاه
    واللہ اعلم
    امام بخاریؒ
    نے مقارب الحدیث فرمایا ہے ۔۔۔جو کہ ان کے نزدیک الفاظ توثیق میں سے ہے ۔۔۔اگرچہ اعلیٰ الفاظ توثیق میں سے نہیں لیکن
    بہر حال الفاظ توثیق میں سے ہے ۔
    دیکھئے ۔۔فتح المغیث السخاوی ۲۔۱۱۹۔۔۔۔اور سنن الترمذی ۱۔۳۸۳ میں امام ترمذیؒ امام بخاریؒ کا ایک راوی کے بارے میں یہ طرز عمل بیان کرتے ہیں۔

    وَرَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يُقَوِّي أَمْرَهُ، وَيَقُولُ: «هُوَ مُقَارِبُ الحَدِيثِ

    امام ترمذیؒ نے السنن ۵۔۵۱۳ میں اس کی ایک حدیث کو حسن فرمایا ہے ۔
    ابن حبانؒ کے طرز سے بھی یہ مختلف فیہ ہی محسوس ہوتا ہے ۔۔۔البتہ منفرد ہو تو حجت نہیں
    دَاوُد بْن الزبْرِقَان ۔۔۔۔۔۔۔۔اخْتلف فِيهِ الشَّيْخَانِ أما أَحْمَد فَحسن القَوْل فِيهِ وَيَحْيَى وهاه
    قَالَ أَبُو حَاتِم
    كَانَ دَاوُد بْن الزبْرِقَان شَيخا صَالحا يحفظ الْحَدِيث ويذاكر بِهِ وَلكنه كَانَ يهم فِي المذاكرة ويغلط فِي الرِّوَايَة إِذَا حدث من حفظَة وَيَأْتِي عَن الثِّقَات بِمَا لَيْسَ من أَحَادِيثهم فَلَمَّا نظر يَحْيَى إِلَى تِلْكَ الْأَحَادِيث أنكرها وَأطلق عَلَيْهِ الْجرْح بِهَا وَأَمَّا أَحْمَد بْن حَنْبَل رَحمَه اللَّه فَإِنَّهُ علم مَا قُلْنَا أَنَّهُ لَمْ يكن بالمعتمد فِي شَيْء من ذَلِكَ فَلَا يسْتَحق الإِنْسَان الْجرْح بالْخَطَأ يخطىء أَو الْوَهم بهم مَا لَمْ يفحش ذَلِكَ حَتَّى يَكُون ذَلِكَ الْغَالِب عَلَى أمره فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ اسْتحق التّرْك
    وَ
    دَاوُد بْن الزبْرِقَان عِنْدِي صَدُوق فِيمَا وَافق الثِّقَات إِلَّا أَنَّهُ لَا يحْتَج بِهِ إِذَا انْفَرد وَإِنَّمَا يملي بَعْد هَذَا الْكتاب كتاب الْفضل من النقلَة وَنَذْكُر فِيهِ كُل شيخ اخْتلف فِيهِ أَئِمَّتنَا مِمَّن ضعفه بَعضهم وَوَثَّقَهُ الْبَعْض وَيذكر السَّبَب الدَّاعِي لَهُمْ إِلَى ذَلِكَ ونحتج لكل وَاحِد مِنْهُم وَنَذْكُر الصَّوَاب فِيهِ لِئَلَّا نطلق عَلَى مُسْلِم الْجرْح بِغَيْر علم وَلَا يُقَال فِيهِ أَكْثَر مِمَّا فِيهِ إِن قضى اللَّه ذَلِكَ وشاءه

    (المجروحین ۱۔۲۹۲)
    ابن عدیؒ
    ولداود بن الزبرقان حديث كثير غير ما ذكرته وعامة ما يرويه عن كل من روى عنه مما لا يتابعه أحد عليه، وَهو في جملة الضعفاء الذي يكتب حديثهم.

    (الکامل ۴۔۶۷۰)
    ابن عدیؒ کی رائے بھی ان کے بارے میں نرم ہے ۔ یعنی ان سے تائید ہوسکتی ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس بارے میں اور بھی بحث ہو سکتی ہے ۔لیکن بات طویل ہو جائے گی۔

    اب ان ائمہ کے اقوال کے بعد میری رائے کوئی اس راوی کی اعلی توثیق کی نہیں ہے ۔ کیونکہ دوسرے ائمہ نے ان پر جرح بھی کی ہے ۔ پس کمزور تو ہے لیکن ان کی روایت ضعیف جدا نہیں ہے ۔ اور اس کی متابعت سے تقویت ملتی ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اثر ۔امام الربیع بن خثیمؒ

    پھر ایک اور تابعی کبیر بلکہ مخضرم (یعنی جنہوں نے نبی اکرمﷺ کا زمانہ پایا لیکن زیارت نہیں کی )۔۔کی روایت بھی اس کی تائید میں ہے ۔کئی کتب میں معاذؒ کی مرسل کے ساتھ ہی ان کی روایت موجود ہے ۔
    قَالَ: أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ هِلالِ بْنِ يِسَافٍ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت.
    (طبقات ابن سعد ۶۔۲۲۵ العلمیہ۔۔۔۔ترجمہ الربيع بن خثيم)
    یہ سند حسن ہے ۔
    الربیع بن خثیمؒ سے اور ملتے جلتے الفاظ بھی مروی ہیں

    اللَّهُمَّ لَكَ صُمْنَا وَعَلَى رِزْقِكَ أفطرنا.
    (طبقات ابن سعد ۶۔۲۲۵ )
    الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَعَانَنِي فَصُمْت ، وَرَزَقَنِي فَأَفْطَرْت.
    (الزهد والرقائق لابن المبارك ۱۔۴۹۵)
    (
    الدعاء ، محمد بن فضيل الضبي ۱۔۲۳۷)
    (المصنف ابن ابی شیبہ۶۔۳۲۹)

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امام الربيع بن خثيمؒ ۶۵ھ
    انہوں نے نبی اکرم ﷺ کا زمانہ پایا ہے اور زیارت نہیں کی ۔یعنی مخضرم ہیں ۔
    یہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے بڑے شاگردوں میں سے ہیں ۔
    امام
    شَقِيْقُ بنُ سَلَمَةَ أَبُو وَائِلٍ ۸۰ھ ۔جو کہ خود بھی مُخَضْرَمٌ (أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ وَمَا رَآهُ)ہیں
    جن کے بارے میں یحیی بن معینؒ فرماتے ہیں لاَ يُسْأَلُ عَنْ مِثْلِهِ
    ان سے پوچھا گیا۔ أَنْتَ أَكْبَرُ أَوِ الرَّبِيْعُ بنُ خُثَيْمٍ؟
    قَالَ: أَنَا أَكْبَرُ مِنْهُ سِنّاً، وَهُوَ أَكْبَرُ مِنِّي عَقْلاً

    امام ذہبیؒ ۔۔۔امام الربیع بن خثیم ؒ کے بارے میں فرماتے ہیں۔
    الإِمَامُ، القُدْوَةُ۔۔۔۔۔
    أَدْرَكَ زَمَانَ النَّبِيِّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَأَرْسَلَ عَنْهُ۔۔۔۔
    قَالَ الشَّعْبِيُّ:
    مَا رَأَيْتُ قَوْماً قَطُّ أَكْثَرَ عِلْماً، وَلاَ أَعْظَمَ حِلْماً، وَلاَ أَكَفَّ عَنِ الدُّنْيَا مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ، وَلَوْلاَ مَا سَبَقَهُمْ بِهِ الصَّحَابَةُ، مَا قَدَّمْنَا عَلَيْهِمْ أَحَداً.

    پھران کی انتہائی فضیلت کے لئے عبد اللہ بن مسعود ؓ کا یہ فرمان کافی ہے ۔
    فَقَالَ لَهُ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: يَا أَبَا يَزِيْدَ، لَوْ رَآكَ رَسُوْلُ اللهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لأَحَبَّكَ، وَمَا رَأَيْتُكَ إِلاَّ ذَكَرْتُ المُخْبِتِيْنَ .
    امام ذہبی ؒ یہ نقل کر کے فرماتے ہیں۔
    فَهَذِهِ مَنْقَبَةٌ عَظِيْمَةٌ لِلرَّبِيْعِ،
    (سیر اعلام النبلا
    ۴۔۲۵۸)
    ایسے بڑی فضیلت والے مخضرم تابعی بالکل انہی اور ان جیسے الفاظ میں یہ دعا پڑھتے تھے ۔ اور یہ ہیں بھی کوفہ کے رہنے والے جو اکثر مرفوع روایات کو بھی مرفوع بیان نہیں کرتے تھےتاکہ اگر الفاظ میں کوئی کمی بیشی ہو جائے تو اس کا انتساب نبی اکرمﷺ سے نہ ہو ۔۔جس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ یہ روایت مرفوع بھی مروی ہے ۔۔۔ اس لئے تائید میں اچھا اثر ہے ۔
     
    Last edited: ‏جولائی 03، 2016
  2. ‏جولائی 03، 2016 #2
    ابن عثمان

    ابن عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 27، 2014
    پیغامات:
    221
    موصول شکریہ جات:
    59
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    جن ائمہ محدثین نے اس سے احتجاج کیا ہے اور استحباب ثابت کیا ہے ۔ ان میں سے بعض یہ ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امام بیہقیؒ ۴۵۸ھ
    امام بیہقیؒ بھی اس دعا کے استحباب کے قائل ہیں۔۔
    انہوں نے اپنی کئی کتب مثلاََ شعب الایمان ، دعوات الکبیر ، فضائل الاوقات ،السنن الکبری ، السنن الصغری ۔۔۔میں یہ روایت نقل کی ہے ۔
    امام بیہقیؒ کی عادت ہے کہ وہ ناقابل استدلال روایت پر خاموش نہیں رہتے ۔۔۔
    انہوں نے خود اپنا طرز عمل ۔۔۔۔دلائل النبوۃ ۔۱۔۴۷۔۔۔۔۔میں بتایا ہے ۔

    وعادتي- في كتبي المصنّفة في الأصول والفروع- الاقتصار من الأخبار على ما يصح منها دون ما لا يصح، أو التمييز بين ما يصح منها وما لا يصح، ليكون الناظر فيها من أهل السنة على بصيرة مما يقع الاعتماد عليه، لا يجد من زاغ قلبه من أهل البدع عن قبول الأخبار مغمزا فيما اعتمد عليه أهل السنة من الآثار.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اگرچہ اس قاعدہ پر وہ ہرجگہہ ۱۰۰ فیصد قائم نہ رہے ہوں ۔۔لیکن افطار کی دعا سے انہوں نے استحباب ہی ثابت کیا ہے ۔ وہ اس طرح کہ۔۔۔۔
    السنن کبری ۴۔۴۰۳میں انہوں نے اس روایت پر باب قائم کیا ہے ۔۔

    بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا أَفْطَرَ
    اور اس کے ضمن میں صرف یہی دو روایات نقل کی ہیں ۔۔
    ایک ۔۔۔ ذَهَبَ الظَّمَأُ ۔۔۔والی اور دوسری ۔۔۔اللہم لک صمت۔۔۔
    اور اس بارے میں زیادہ ضعیف روایات نقل نہیں کیں۔
    اور السنن الصغری جو کہ اس کے بعد کی تصنیف ہے ۔اور اس میں احادیث کا مزید احتیاط اور انتخاب کیا ہے ۔۔۔
    اس میں ۔۔ج۲ص۱۱۔۔پہ بھی یہی دونوں دعائیں ذکر کی ہیں ۔۔۔اور اس پر استحباب کا باب بھی قائم کیا ہے ۔۔

    بَابُ مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يُفْطِرَ عَلَيْهِ وَمَا يَقُولُ
    اسی طرح فضائل الاوقات ۱۔۳۰۰ میں بھی استحباب کا باب ہے ۔
    بَابُ اسْتِحْبَابِ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْفِطْرِ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    امام بغویؒ ۵۱۶ھ
    مصابیح السنۃ ۲۔۷۶ ۔۔کتاب الصوم میں ۔۔۔احادیث من الحِسان ۔۔کے تحت روزہ افطار کی دونوں دعاؤں کی احادیث لکھی ہیں ۔یعنی ذھب الظما۔۔۔اور اللھم لک صمت۔۔
    مصابیح السنۃ کے مقدمہ ۱۔۱۱۰ میں انہوں نے اپنا منہج بھی بتایا ہے کہ من الحسان سے کیا مراد ہے ۔

    وأعني بـ (الحِسان) ما أورده أبو داود ۔۔۔ و۔۔الترمذي وغيرهما من الأئمة في تصانيفهم رحمهم اللَّه
    وأكثرها صحاح بنقل العدل عن العدل غير أنها لم تبلغ غاية شرط الشيخين في علو الدرجة من صحة الإسناد إذ أكثر الأحكام ثبوتها بطريق حسن.

    وما كان فيها من ضعيف أو غريب أشرت إليه وأعرضت عن ذكر ما كان منكرًا أو موضوعًا ۔۔۔

    یعنی منکر اور موضوع سے تو وہ اعراض کریں گے اور جو ضعیف ہے اس کو بیان کر دیں گے ۔
    اور اس روایت پر انہوں نے سکوت فرمایا ہے ۔
    اور اسی طرح دوسری مشہور کتاب
    شرح السنۃ ۶۔۲۶۵ میں
    بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ الْفِطْرِ
    کے تحت صرف یہی دونوں دعاؤں کی احادیث پوری سند سے بیان کی ہیں۔
    اور اپنی تیسری کتاب التھذیب فی الفقہ الامام الشافعی ۳۔۱۸۳ میں واضح اس کا استحباب بیان کیا ہے ۔

    ويستحب أن يقول عند الفطر ما روي عن معاذ: قال: كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إذا أفطر قال: "اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت"
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    امام نوویؒ۶۷۶ھ
    المجموع شرح المهذب۶۔۳۶۲ میں جمہور شوافع سے اس کا استحباب نقل کرتے ہیں ۔
    الشیرازیؒ صاحب المھذب ۔۔۔کی عبارت

    والمستحب أن يقول عِنْدَ إفْطَارِهِ اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ۔۔۔۔۔
    کی شرح میں فرماتے ہیں۔
    ۔۔
    ۔رَوَاهُ أَبُو دَاوُد عَنْ مُعَاذِ بْنِ زُهْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا
    وَرَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ مُسْنَدًا مُتَّصِلًا بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ
    ۔۔۔
    ۔۔۔ قال المصنف وسائر الاصحاب يستحب ان يدعوا عِنْدَ إفْطَارِهِ اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ
    وَفِي سُنَنِ أَبِي دَاوُد وَالنَّسَائِيِّ عَنْ ابْنِ عُمَرَ " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إذَا أَفْطَرَ قَالَ ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتْ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى "
    وَفِي كِتَابِ ابْنِ مَاجَهْ عَنْ ابْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ إنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ " إنَّ لِلصَّائِمِ عِنْدَ فِطْرِهِ دَعْوَةً ما ترد "
    وكان ابْنُ عَمْرٍو إذَا أَفْطَرَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ بِرَحْمَتِكَ التي وسعت كل شئ اغْفِرْ لِي "
    (الثَّالِثَةُ) يُسْتَحَبُّ أَنْ يَدْعُوَ الصَّائِمَ وَيُفَطِّرَهُ فِي وَقْتِ الْفِطْرِ وَهَذَا لَا خِلَافَ فِي اسْتِحْبَابِهِ لِلْحَدِيثِ

    اسی طرح دوسری کتاب منہاج الطالبین میں بھی اس کا استحباب بیان کیا ہے ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امام ابن قدامہؒ ۶۲۰ھ
    انہوں نے اگرچہ المغنی میں اس کا ذکر نہیں کیا لیکن دوسری کتاب ۔۔۔
    كتاب الهادي أو عمدة الحازم في الزوائد على مختصر الخرقی
    ص۔۱۷۲ ۔۔
    میں اس کا استحباب بیان کیا ہے ۔
    ایک اور تصنیف۔۔۔

    المقنع في فقه الإمام أحمد بن حنبل الشيباني ص ۱۰۴،۱۰۵ پہ بھی اس دعا کے استحباب کا ذکر کیا ہے ۔
    و يستحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔أن يقول عند فطره: اللهم لك صمت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امام مجد الدین ابن تيمية ؒ ۶۵۲ھ
    یہ بڑے محدث اور فقیہ ہیں ۔شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کے دادا ہیں
    امام ذہبیؒ ان کو الشیخ الامام العلامہ فقیہ العصر ۔۔کے القاب سے یاد کرتے ہیں۔
    ان کی احادیث احکام پر ایک کتاب مشہور ہے ۔۔یعنی منتقی الاخبار۔۔جس کی علامہ شوکانیؒ نے مشہور شرح نیل الاوطار لکھی۔
    اس میں صفحہ ۳۹۴ (ط دار ابن الجوزی) پہ ۔۔۔
    بَابُ آدَابِ الْإِفْطَارِ وَالسُّحُورِ کے تحت صرف اللھم لک صمت والی دعا کی۔۔سنن ابوداود کی روایت نقل کی ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    حافظ ضیاء المقدسی ؒ ۶۴۳ھ۔(صاحب المختارہ)
    انہوں نے اپنی احادیث احکام پر مشتمل کتاب ۔۔ السنن والأحكام عن المصطفى۳۔۴۳۵۔۔۔پہ
    باب ما یقال عند الافطار و فضل الدعاء عندہ۔۔۔کے تحت یہ روایت بیان کی ہے ۔اور سکوت کیاہے ۔
    اس کتاب میں ان کا منہج یہی ہے کہ وہ ضعیف اور ناقابل استدلال روایت پر خاموش نہیں رہتے ۔ ایسا ہی اس کتاب پر مقدمہ التحقیق لکھنے والے عالم کے اسلوب سے ظاہر ہے جنہوں نے ان کے منہج کا تفصیلی تجزیہ کیا ہے ۔مقدمہ ص ۱۶۷
    اور اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ انہوں نے اس بارے میں جو دوسری مرفوع روایت ہے اس کا ضعف بیان کیا ہے ۔
    لیکن ابو داود والی روایت پر سکوت۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    العز بن عبد السلام سلطان العلماء ۶۶۰ھ
    مقاصد الصوم ص ۲۰ ۔۔۔ روزہ کے آداب میں اس دعا کا بھی ذکر کیا ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ ۷۲۸ھ
    انہوں نے شرح عمدۃ الفقہ ۔کتاب الصیام ص۵۱۲ میں استحباب کا باب قائم کیا ہے ۔
    ويستحب أن يدعو عند فطره
    اور اس میں تمام دعائیں نقل کی ہیں ۔
    پہلے
    ذهب الظمأ والی روایت
    پھر سنن ابو داودکی روایت اللھم لک صمت۔۔
    پھر اس کے دونوں شاہد ابن عباسؓ اور انسؓ کی روایات
    پھر الربیع بن خثیمؒ کا اثر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    حافظ ابن قیم ؒ ۷۵۱ھ
    زاد المعاد ۲۔۴۹ پہ باب قائم کیا ہے ۔۔ [فصل في هديه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في الفطر]
    اس میں یہ روایت نقل کی ہے ۔
    ایک صاحب فرماتے ہیں کہ ابن قیمؒ نے اس کی تضعیف کی ہے ۔
    حالانکہ انہوں نے ابوداود والی روایت پر کوئی جرح نہیں کی ۔ بلکہ وہ دوسری روایت ہے ۔
    وَيُذْكَرُ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ «كَانَ يَقُولُ عِنْدَ فِطْرِهِ: (اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ، وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ، فَتَقَبَّلْ مِنَّا، إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» ) . وَلَا يَثْبُتُ.
    وَرُوِيَ عَنْهُ أَيْضًا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: ( «اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ، وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ» ) .
    ذَكَرَهُ أبو داود عَنْ معاذ بن زهرة أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ.
    وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ «كَانَ يَقُولُ إِذَا أَفْطَرَ: (ذَهَبَ الظَّمَأُ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    امام ابن کثیرؒ ۷۷۶ھ
    انہوں نے الشیرازیؒ کی کتاب التنبیہ کی تخریج کی ہے ۔۔اور اس میں ان کی عبارت
    ويستحب أن يدعو على الافطار بدعاء رسول الله صلى الله عليه وسلم "اللهم لك صمت ۔۔۔۔۔۔
    کی تخریج میں روایت بیان کی ہے ۔
    عن أبي زُهْرةَ : مُعاذِ بنِ زُهْرَةَ ، أنهُ بلَغَهُ : " أنَّ النبيَّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلّمَ كانَ إذا أفطَرَ قالَ : " اللهُمَّ لكَ صُمْتُ ، وعلى رزقِكَ أَفطرتُ " (66) ، رواهُ أبو داود هكذا ، وهو مُرْسَلٌ .

    ورَوى الدارَقُطنيُّ من حديثِ ابنِ عباس نحوَهُ ، ولا يَصحُّ سنَدُهُ .

    (إرشاد الفقيه إلى معرفة أدلة التنبيه ۱۔۲۸۹)
    انہوں نے مقدمہ میں اپنے منہج کی یوں وضاحت کی ہے ۔

    وشَرَطْتُ فيهِ أنّي أذْكُرُ دَليلَ المَسأَلةِ مِن حَديثٍ أو أثَرٍ يُحْتَجُّ بِهِ ،
    وأعْزو ذلك إلى الكُتُبِ السِّتِّةِ ، كالبُخارِيِّ ، ومُسْلِم ٍ ، وأَبي داودَ ، والنَّسائِيِّ ، والتِّرْمِذِيِّ ، وابنِ ماجَةَ ، أَو غيرِها ، فإنْ كانَ الحَديثُ في الصَّحيحينِ ، أو أحَدِهِما ، اكتَفَيْتُ بعَزْوِهِ إلَيْهِما ، أو إلى أحَدِهِما ،
    وإلاّ ذكَرْتُ مَنْ رواهُ مِن أهْل ِ الكُتُبِ المَشهورَةِ ،
    وبيَّنْتُ صِحَّتَهُ مِن سقَمِهِ ،
    ولَسْتُ أَذْكُرُ جَميعَ ما وَرَدَ في المَسْأَلَةِ مِن الأحاديثِ خَشْيَةَ الإطالَةِ ،

    بَلْ إن كانَ الحَديثُ أَو الأَثَرُ وافياً بالدِّلالَةِ عَلى المَسْأَلَةِ ، اكْتَفَيْتُ بِهِ ،
    عَمّا عَداهُ ، وإلاّ عَطَفْتُ عَلَيْهِ ما يُقوّي سَنَدَهُ أَو مَعْناهُ ،
    ان کی عبارت سے واضح ہے کہ وہ ان کے نزدیک قابل احتجاج ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ابن الملقن۸۰۴ھ
    انہوں نے ۔بدر المنیر-٥-٧١٠ ۔۔۔میں۔۔۔ اللَّهُمَّ لَك صمت۔۔والی روایت کی تخریج میں ابن عباسؓ کی متصل روایت کاضعف بیان کیا ہے ۔۔
    لیکن ابوداود والی روایت کو مرسل حسن قرار دیا ہے ۔
    اسی طرح مختصر بد المنیر ۔رقم۱۱۲۶ پہ بھی مرسل حسن فرمایا ہے ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شیخ الاسلام زکریا انصاریؒ ۹۲۶ھ
    یہ حافظ ابن حجرؒ کے مشہور شاگرد ہیں اور حافظ حدیث ہیں۔ آج کل اکثر کتب احادیث کی حافظ ابن حجر عسقلانیؒ سے متصل مشہور عالی سند انہی کے ذریعے سے ہے ۔
    انہوں نے امام نوویؒ کی کتاب منہاج الطالبین کا اختصار کیا ہے
    منهج الطلاب في فقه الإمام الشافعي کے نام سے پھر خود ہی اس کی شرح فتح الوهاب بشرح منهج الطلاب کے نام سے کی ہے۔
    اس میں روزہ سے متعلق سنتوں میں اس دعا کا ذکر کیا ہے

    وسن تسحر وتأخيره وتعجيل فطر ۔۔۔۔۔۔۔ ويقول عقب فطره: اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت
    (منهج الطلاب في فقه الإمام الشافعي ۱۔۴۰)
    اس کی شرح میں فرمایا ہے ۔

    وَ " أَنْ " يقول عقب " هُوَ أَوْلَى مِنْ قَوْلِهِ عِنْدَ " فِطْرِهِ اللَّهُمَّ لَك صُمْت وَعَلَى رِزْقِك أَفْطَرْت "
    لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو دَاوُد بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ لَكِنَّهُ مُرْسَلٌ

    (فتح الوهاب بشرح منهج الطلاب ۱۔۱۴۲)
    یعنی ان نے نزدیک اس روایت کی سند مرسل حسن ہے ۔۔اور یہ پڑھنا مسنون ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    الشوکانیؒ ۱۲۵۰ھ
    انہوں نے نیل الاوطار ۴۔۲۶۲ میں اس سے دلیل پکڑی ہے ۔

    وَحَدِيثُ مُعَاذٍ مُرْسَلٌ لِأَنَّهُ لَمْ يُدْرِكْ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالدَّارَقُطْنِيّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِسَنَدٍ ضَعِيفٍ. وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارَقُطْنِيّ وَالْحَاكِمُ وَغَيْرُهُمْ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، وَزَادَ: «ذَهَبَ
    الظَّمَأُ وَابْتَلَّتْ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إنْ شَاءَ اللَّهُ» قَالَ الدَّارَقُطْنِيّ: إسْنَادُهُ حَسَنٌ. وَعِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إذَا أَفْطَرَ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ» وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ لِأَنَّهُ فِيهِ دَاوُد بْنُ الزِّبْرِقَانِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَلِابْنِ مَاجَهْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مَرْفُوعًا: «إنَّ لِلصَّائِمِ دَعْوَةً لَا تُرَدُّ» وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إذَا أَفْطَرَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    وَحَدِيثُ مُعَاذِ بْنِ زُهْرَةَ فِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ يُشْرَعُ لِلصَّائِمِ أَنْ يَدْعُوَ عِنْدَ إفْطَارِهِ بِمَا اشْتَمَلَ عَلَيْهِ مِنْ الدُّعَاءِ،

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان ائمہ کے اقوال کے بعد یہ بات کہنا ضروری ہے کہ اس دعا سے متعلق احادیث میں جو بھی باتیں ہیں ۔مثلا یہ مرسل ہے ، معاذؒ تابعی ہیں ، اوراس کے دوسرے مرفوع شاہد ضعیف ہیں ۔ ۔وغیرہ
    ان سب باتوں سے یہ ائمہ واقف ہیں ۔۔آج کوئی نیا انکشاف نہیں ہوا جو ان ائمہ پر مخفی تھا اور وہ آج کے علما پر واضح ہو گیاہے۔ایسا بالکل نہیں ہے۔
     
  3. ‏جولائی 04، 2016 #3
    ابن عثمان

    ابن عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 27، 2014
    پیغامات:
    221
    موصول شکریہ جات:
    59
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    آگے ہر دور کے علما اور فقہا کی کتب کے صرف حوالے دینے پر اکتفا کرتا ہوں جن میں اللھم لک صمت۔۔۔کے استحباب کا ذکر ہے ۔
    ہر صدی اور ہر دور کے علما کی کتب میں اس کے ذکر سے تعامل امت کا پتا چلتا ہے ۔
    اس میں یہ تو ہے کہ کسی نے اس مسئلہ سے بحث نہ کی ہو۔۔۔ مثلاََ احناف اور مالکی فقہا کی کتب کے حوالے کم ہیں ۔
    اس کی وجہ کوئی اس کا انکار نہیں بلکہ یہ بات ہے کہ ہر مستحب کا انہوں نے استیعاب نہیں کیا۔
    البتہ جو اس دعا کی حدیث سے گزرا ،یا افطار کے وقت دعاپڑھنے کے مسئلہ سے بحث کی اس نے اس کا ذکر ضرور کیا۔
    یعنی اس کا انکار منقول نہیں ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ذھب الظما۔۔۔والی روایت جو معترضین کے نزدیک بھی صحیح ہے ۔۔۔انہوں نے وہ بھی بیان نہیں کی ۔ یعنی عدم ذکر ہے عدم شئے نہیں۔
    البتہ حنابلہ اور شوافع جو مدرسہ اصحاب الحدیث میں سے ہیں اور مرسل حدیث کے بارے میں ان کا رویہ احناف و مالکیہ سے زیادہ سخت ہے ۔ان کی ہر دور کی اکثر کتب میں اس کا واضح ذکر بھی ہے اور استحباب کا بیان بھی۔ اس لئے پہلے انہی کے حوالے پیش ہیں ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فقہ حنبلی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    القاضي محمد أبو يعلى ابن الفراء الحنبليؒ
    ۴۵۸ھ
    ان سے شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے شرح عمدہ ۔کتاب الصیام۱۔۵۱۳میں استحباب نقل کیا ہے ۔
    التبصرہ ۲۔۷۵۔۔۔ حافظ ابن الجوزیؒ ۵۹۷ھ
    الهداية على مذهب الإمام أحمد ۱۔۱۶۱۔۔۔ أبو الخطاب الكلوذانيؒ ۵۱۰ھ
    الغنية لطالبين ۱۔۲۴۔۔۔ شیخ عبد القادر جیلانیؒ ۵۶۱ھ
    المذهب الاحمد في مذهب الامام احمد ص۵۴۔۔۔ يوسف بن عبد الرحمنؒ ۶۵۶ھ (یہ ابن الجوزیؒ کے بیٹے ہیں)
    الشرح الكبير على متن المقنع ۳۔۷۶،۷۸ ۔۔۔ شمس الدين ابن قدامة المقدسيؒ ۶۸۲ھ
    الإنصاف في معرفة الراجح من الخلاف ۳۔۳۳۲۔۔۔علي بن سليمان المرداوي الحنبليؒ ۸۸۵ھ
    دليل الطالب لنيل المطالب ۱۔۹۳۔۔۔ مرعي بن يوسف الكرمى المقدسي الحنبلىؒ۱۰۳۳ھ
    نيل المآرب بشرح دليل الطالب ۱۔۲۷۵۔۔۔ عبد القادر التغلبي الشیبانیؒ۱۱۳۵ھ
    مطالب أولي النهى في شرح غاية المنتهى ۲۔۲۰۷۔۔۔ مصطفى الرحيبانى الدمشقي الحنبليؒ ۱۲۴۳ھ
    منار السبیل شرح الدلیل ۱۔۲۲۱ ۔۔۔ابن ضويان، إبراهيم بن محمد بن سالمؒ۱۳۵۳ھ
    اور بہت سےحوالے طوالت کا باعث ہوں گے۔

    لیکن ہر صدی کے حوالہ سے ظاہر ہے کہ حنابلہ میں اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔
    سارے ہی دعا اللھم لک صمت۔۔۔کے استحباب کے قائل ہیں ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فقہ شافعی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بعض مشہور کتب شافعیہ کے حوالے یہ ہیں ۔جن میں اس کا استحباب بیان کیا گیا ہے ۔
    المهذب في فقة الإمام الشافعي ۲-۶۲۳۔۔۔۔۔۔أبو اسحاق الشيرازي ۴۷۶ھ
    التنبية في الفقه الشافعي ۱۔۶۷۔۔۔۔۔۔ أبو اسحاق الشيرازي ۴۷۶ھ
    بحر المذهب في فروع المذهب الشافعي ۳۔۲۷۱۔۔۔ الرویانی ۵۰۲ھ
    الوسيط في المذهب
    ۲۔۵۳۶۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الغزاليؒ ۵۰۵ھ
    البيان في مذهب الإمام الشافعي ۳۔۵۳۹۔۔۔۔۔ يحيى العمراني اليمني الشافعي۵۵۸ھ
    فتح العزيز بشرح الوجيز = الشرح الكبير
    ۶۔۴۲۵۔۔۔ عبد الكريم الرافعي القزوينيؒ۶۲۳ھ
    الابتهاج في شرح المنهاج ص۔۲۲۶( الصيام والاعتكاف۔ ماجستیر ۔ام القری) ۔۔۔تقي الدين السبكي ۷۵۶ھ
    النجم الوهاج في شرح المنهاج
    ۳۔۳۲۴۔۔۔ كمال الدين الدميري ٨٠٨ھ ۔
    (صاحب حیاۃ الحیوان)
    كنز الراغبين شرح منهاج الطالبين ۱۔۴۶۱،۴۶۲۔۔۔جلال الدین المحلی ؒ ۸۶۴ھ (صاحب جلالین)
    انہوں نے بھی اس کا استحباب بیان کر کے اس کی تخریج میں ابوداود والی روایت کی سند کو مرسل حسن کہا ہے ۔


    تحفة المحتاج في شرح المنهاج
    ۳۔۴۲۵۔۔۔۔ أبن حجر الهيتميؒ ۹۷۴ھ
    الفتوحات الربانية شرح الاذكار النواوية ۴۔۲۳۴،۲۳۵۔۔۔ابن علانؒ ۱۰۵۷ھ

    امام نوویؒ نے اپنی کتب میں اس کا استحباب بیان کیا ہے ۔جس کا ذکر ہوچکا ہے ۔
    انہوں نے اپنی مشہور کتاب ریاض الصالحین میں باب قائم کیا۔

    باب في فضل تعجيل الفطر وَمَا يفطر عَلَيْهِ، وَمَا يقوله بعد إفطاره
    اس میں تین باتیں ہیں ۔ تیسری بات یعنی وما یقولہ بعد افطارہ کا ذکر بھول سے ان سے رہ گیا۔
    اس پر
    ابن علانؒ ۱۰۵۷ھ ؒ نے دلیل الفالحین لطرق ریاض الصالحین ۷۔۴۹ میں فرمایا
    " تنبيه " عقد المصنف الترجمة لفضل التعجيل، وما يفطر عليه، وما يقوله عند الفطر،
    وترك ما يتعلق بالثالث نسياناً، فحاء عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: "كان النبي - صلى الله عليه وسلم - إذا أفطر قال: ذهب الظمأ وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله تعالى" رواه أبو داود
    وعن معاذ بن زهرة قال: "إن النبي - صلى الله عليه وسلم - كان إذا أفطر قال: اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت رواه أبو داود مرسلاً.

    اس کے علاوہ بھی بہت سے حوالے مل سکتے ہیں ۔

    اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امام نوویؒ نے جو فرمایا ہے کہ تمام شوافع اس کے استحباب کے قائل ہیں ۔وہ بالکل صحیح ہے ۔
     
  4. ‏جولائی 09، 2016 #4
    ابن عثمان

    ابن عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 27، 2014
    پیغامات:
    221
    موصول شکریہ جات:
    59
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    مضمون كا كچھ حصہ رہ گیا تھا۔۔

    مالکی ،حنفی، اہلحدیث علماء وغیرہ کے بعض حوالہ جات۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    الجامع لأحكام القرآن
    (ت التركي)
    ج۳ص۲۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔القرطبی ۶۷۱ھ

    شرح القرطبية
    (بحوالہ مواھب الجلیل ۲۔۳۹۸)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔أحمد زروق البرنسي الفاسي ۸۹۹ھ
    مواهب الجليل في شرح مختصر خليل ۲۔۳۹۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔الحطاب الرُّعيني المالكي ۹۵۴ھ
    كفاية الطالب الرباني على رسالة القيرواني
    ۲۔۲۸۲۔۔۔ أبي الحسن علي المنوفي المصري ۹۳۹ھ
    شرح مختصر خليل ۲۔۳۵۰۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الزرقاني ۱۰۹۹ھ
    الفواكه الدواني على رسالة القيرواني
    ۱۔۳۰۵۔۔۔۔۔أحمد بن غانم النفراوي الأزهري ۱۱۲۶ھ
    حاشية على شرح كفاية الطالب الرباني
    ۱۔۴۴۳۔۔۔۔ أبو الحسن الصعيدي العدوي ۱۱۸۹ھ

    الشرح الكبير
    ۱۔۵۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔احمد الدردیر ۱۲۰۱ھ
    بلغة السالك لأقرب المسالك
    ج۱ص۶۸۹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الصاوي المالكي ۱۲۴۱ھ
    منح الجليل شرح مختصر خليل
    ۲۔۱۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عليش المالكي ۱۲۹۹ھ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    المفاتيح في شرح المصابيح ۳۔۲۴۔۔۔ مظهر الدين الزيداني الحَنَفيُّ المشهورُ بالمُظْهِري ۷۲۷ھ
    معراج الدراية شرح الهداية۔خ (بحواله فتاوي هنديه
    ١۔٢٠٠)۔۔۔۔۔ قوام الدين محمد الكاكي الحنفي ٧٤٩ھ
    شرح مصابیح السنہ ۲۔۵۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابن الملک الرومی ۸۵۴ھ
    مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ۴۔۱۳۸۷۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملا علی قاری ١٠١٤ھ
    الحاشية علی تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق ، الزیلعی ۱۔۳۴۲۔۔۔۔۔ أحمد الشلبی ۱۰۲۱ھ

    اشعۃ اللمعات (اردو) ج۳ص ۱۸۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی ۱۰۵۲ھ
    مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر ۱۔۳۶۵۔۔۔عبد الرحمن الکلیوبی ، شیخی زادہ حنفی، داماد افندی ۱۰۷۸ھ
    الدرر المنتقي في شرح الملتقي ۱۔۳۶۵ ۔۔۔۔العلاء الحصكفي ۱۰۸۸ھ (صاحب الدر المختار)

    الفتاوى الهندية ۱۔۲۰۰۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علماء الهند
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    - شاه ولی الله دہلویؒ ۱۱۷۶ھ
    ان کی کتاب حجۃ اللہ البالغۃ ۔۔۔جو کہ اسرار شریعت سے متعلق ہے ۔۔۔اور علماء کا کوئی طبقہ ایسا نہیں جس میں مشہور نہ ہو۔اس میں انہوں نے افطار کے وقت کی مشہور دونوں دعاؤں کی حکمت بیان فرمائی ہے ۔
    وَمن أذكار الْإِفْطَار: ذهب الظمأ، وابتلت الْعُرُوق، وَثَبت الْأجر إِن شَاءَ الله،
    وَفِيه بَيَان الشُّكْر على الْحَالَات الَّتِي يستطيبها الْإِنْسَان بطبيعته أَو عقله مَعًا،
    وَمِنْهَا اللَّهُمَّ لَك صمت، وعَلى رزقك أفطرت،
    وَفِيه تَأْكِيد الْإِخْلَاص فِي الْعَمَل وَالشُّكْر على النِّعْمَة.

    [حجة الله البالغة ٢۔٨١(ط دار الجليل) ،حجۃ اللہ البالغہ مع اردو شرح رحمۃ اللہ الواسعۃ
    ج٤ص ١٤٣ ، ١٤٤]
    - التنوير شرح الجامع الصغير ج۸ص۳۴۳،۳۴۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الصنعانيؒ ۱۱۸۲ھ (صاحب سبل السلام)
    - عون المعبود شرح سنن ابو داود مع شرح ابن قيم السلفية)ج٦ص٤٨٣۔۔۔شمس الحق عظيم آباديؒ ۱۳۲۹ھ
    - فتاوی اہلحدیث ۲۔۵۵۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حافظ عبداللہ روپڑی ۱۳۸۴ؒھ
    - فتاوی ثنائیہ ج۱ص ۶۵۰۔۔۔ فتوی مولانا محمد یونسؒ مدرس مدرسہ سید نذیر حسینؒ۔۔ دہلی۔
    - مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ۶۔۴۷۵۔۔۔مولانا عبید اللہ مبارکپوریؒ ۱۴۱۴ھ

    انہوں نے سنن ابوداود کی حدیث کی شرح کرتے ہوئے سند اور متن پر مکمل بحث کی ہے ، اور تمام شارحین مشکاۃ و مصابیح۔۔۔۔۔ ابن الملکؒ ، المظہرؒ ، الطیبیؒ ، ابن حجرؒ ، ملا علی القاریؒ کی تائیدات نقل کی ہیں ۔اور آخر میں خود فرمایا ہے ۔۔۔
    وفي الباب عن أنس أخرجه الطبراني في الأوسط، وهو أيضاً ضعيف. ويكون هو وحديث ابن عباس شاهداً لحديث معاذ يقوى بهما.
    - الفقه على المذاهب الأربعة ۱۔۵۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔عبد الرحمن الجزيريؒ ۱۳۶۰ھ
    - فقه السنة ۱۔۴۵۸۔۔۔۔۔۔۔ سيد سابقؒ۱۴۲۰ھ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس کے علاوہ بہت سے حوالے جمع کئے جاسکتے ہیں ۔
    بہرحال جس طرح افطار کے وقت دعا ذھب الظما ۔۔۔پڑھنی مستحب ہے اسی طرح ۔۔دعا اللھم لک صمت ۔۔۔ بھی مستحب ہے ۔۔اس سے زیادہ نہیں ہے
    اور اس پر تعامل امت ہے ۔
    اور اس بارے میں اختلاف کا مجھے علم نہیں ہوسکا۔
    اس مضمون میں کوئی غلطی ہو ۔کوئی زیادتی ہو ۔ کوئی خود رائی ہو تو ضرور آگاہ کریں ۔جزاکم اللہ خیرا
    اللہ تعالیٰ کوئی کمی کوتاہی ہوئی ہو تو معاف فرمائے۔اور دین کا صحیح فہم عطا فرمائے۔آمین
     
  5. ‏جولائی 10، 2016 #5
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,396
    موصول شکریہ جات:
    715
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    اہل علم اپنی رائے دیں ۔ مجہے ساری تحریر شفاف اور علمی معلوم ہوئی ۔ معلوماتی ان معنوں میں کہ بعض حوالے میں نے پہلی بار پڑهے ۔
    آپکی دعاء کے جواب میں پر زور آمین.
    جزاک اللہ خیرا
     
  6. ‏مئی 17، 2019 #6
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    السلام علیکم شیخ محترم @اسحاق سلفی بھائی
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں