1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

افغانستان – داعش کا بچوں کی تنظيم پر حملہ

'انتہا پسندی' میں موضوعات آغاز کردہ از فواد, ‏جنوری 25، 2018۔

  1. ‏جنوری 25، 2018 #1
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    434
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    74


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    https://www.urduvoa.com/a/ngo-office-attacked-in-jalalabad-24jan2018/4221582.html

    ايک بار پھر دہشت گردوں کی جانب سے معاشرے کے غير محفوظ طبقے کو دانستہ نشانہ بنايا گيا۔

    داعش کی جانب سے بچوں کی بہبود کے ليے کوشاں "سيو دا چلڈرن" جيسی معروف عالمی تنظيم پر ظالمانہ حملے نے ان کے اس لغو دعوے کی حقيقت بے نقاب کر دی ہے کہ وہ معاشرے کے پسے ہوۓ طبقے کی حفاظت کے ليے اپنی نام نہاد خلافت کی راہ ہموار کر رہے ہيں۔

    اس حوالے سے کوئ ابہام نہيں ہونا چاہيے۔ بچوں اور ان افراد پر حملہ جو بے يارومددگار بچوں کی مدد کے ليے کوشاں ہیں، کوئ مقدس لڑائ يا آزادی کی جدوجہد نہيں بلکہ بزدلی اور بدترين دہشت گردی کے زمرے ميں آتا ہے۔

    "سيو دا چلڈرن" ايک ايسی تنظيم ہے جس نے کافی عرصے سے انتہائ شفاف انداز ميں دنيا بھر ميں مقامی حکومتوں اور متعلقہ عہديداروں کے ساتھ مکمل تعاون سے فرائض سرانجام ديے ہيں۔

    يہ بے سروپا دليل اور توجيہہ کہ اس قسم کے حملے کسی بھی طور جائز قرار ديے جا سکتے ہيں کيونکہ يہ امريکی يا مغربی مفادات کو نقصان پہنچانے کے ليے ہيں – بالکل لغو ہيں۔ حقيقت يہ ہے کہ سيو دا چلڈرن نامی يہ تنظيم سال 1976 سے افغانستان ميں سرگرم عمل ہے جس دوران صحت، تعليم اور غذائ تحفظ سے متعلق منصوبوں پر عمل کيا گيا اور اس کے مثبت اثرات لاکھوں بچوں اور ان کے خاندانوں تک پہنچے۔

    يہ تصور کہ چند گنے چنے غيرملکی کارکن اور رضاکار جو مقامی افغان اہلکاروں اور ملازمين کے مکمل تعاون، حمايت اور افغان حکومت کی اجازت اور علم کے ساتھ اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہيں، ان پر حملوں سے داعش کے يہ دہشت گرد "مقدس جنگجو" کا درجہ حاصل کر ليں گے صرف ايک مضحکہ خيال کہانی ہی تصور کيا جا سکتا ہے۔

    "سيو دا چلڈرن" نے 120 سے زائد ممالک ميں اپنی خدمات سرانجام ديں اور اس دوران امريکہ اور ديگر ممالک ميں لاکھوں بچوں کی مدد کی گئ۔

    انسانی بنيادوں پر اس تنظيم کی عالمی کاوشوں سے متعلق رپورٹ کا لنک پيش ہے۔

    https://campaigns.savethechildren.net/report

     
  2. ‏جنوری 26، 2018 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    خبر یوں ہونی چاہیے : امریکہ کا داعش کے ذریعے سے بچوں کی تنظیم پر حملہ ۔
     
  3. ‏جنوری 30، 2018 #3
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    434
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    74


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    ستم ظريفی ديکھيں کہ جب ايک دوسرے تھريڈ ميں کابل کے ہوٹل ميں غير ملکی شہريوں پر حملے کی خبر اجاگر کی گئ تو ايک راۓ دہندہ نے يہ تاثر دينے کی کوشش کی کہ جيسے افغانستان ميں کسی بھی غير ملکی شہری کی موجودگی کا مطلب يہ ہے کہ وہ مغربی يا امريکی ايجنٹ ہے۔ اور يہاں پر آپ يہ تاويل دے رہے ہيں کہ سيو دا چلڈرن جيسی مشہور بين الاقوامی تنظيم پر حملہ امريکہ نے مبينہ طور پر داعش کے ذريعے ہی کروا يا ہے۔ سادہ سا سوال يہ ہے کہ ہم کيونکر اپنے ہی مبينہ اثاثے کو استعمال کر کے اپنے ہی مبينہ ايجنڈوں پر حملے کروائيں گے؟ يہ دونوں متضاد تاويليں بيک وقت تو درست نہيں ہو سکتی ہيں۔

    کيا آپ نہيں سمجھتے کہ يہ ستم ظريفی اور حيران کن امر ہے کہ ايک جانب تو امريکی فوج عراق، افغانستان اور شام ميں داعش کے اہم ترين خفيہ ٹھکانوں پر تاک تاک کے حملے کر رہی ہے اور دوسری جانب يہ سرکاری طور پر دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظيم اپنے پيروکاروں کو دنيا بھر ميں امريکہ سميت کئ ممالک ميں عام شہريوں پر حملے کرنے کی ترغيب دے رہی ہے، ليکن ان ناقابل ترديد زمينی حقائق کے باوجود ابھی بھی ايسے ناقدین اور تجزيے نگار موجود ہيں جو بدستور اپنی اس سوچ کی تشہير پر بضد ہيں کہ جن دہشت گردوں کو ہم نشانہ بنا رہے ہيں وہ ہمارے ہی "قيمتی اثاثے" ہيں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
     
  4. ‏جنوری 30، 2018 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    امریکہ پالیسی انہیں تضادات کا مجموعہ ہے ۔
     
  5. ‏فروری 10، 2018 #5
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    434
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    74


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ​

    ميرے نزديک يہ بات خاصی دلچسپ ہے کہ وہی راۓ دہندگان جو اس بات پر متفق ہيں کہ عراق اور افغانستان ميں فوجی کاروائياں تيل کے ذخائر پر قبضے کی امريکی سازش ہے، وہی لوگ امريکہ کے اقتصادی بحران کی وجہ بھی انھی کاروائيوں کو قرار ديتے ہيں۔ اگر ان کی پہلی دليل درست تھی تو پھر تو امريکہ کو معاشی طور پر ان تيل کے ذخائر کی بدولت پہلے سے بھی زيادہ مستحکم ہونا چاہيے تھا کيونکہ انھی تجزيہ نگاروں کے بقول ان فوجی کاروائيوں کا واحد مقصد امريکہ کو معاشی طور پو مضبوط کرنا تھا۔

    حقيقت يہ ہے کہ کچھ تجزيہ نگاروں کے ليے امريکہ ايک ايسا "ورسٹائل ولن" ہے جو ہر کہانی، ہر بحث اور ہر دليل ميں بالکل فٹ بيٹھتا ہے۔ کبھی کبھار تو اس ولن کو بحث سے متعلقہ متضاد راۓ زنی ميں دونوں طرف کے دلائل ميں استعمال کيا جاتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر امريکہ ايک ايسا ولن ہے جس کے بارے ميں کہا جاتا ہے کہ

    "امريکی حکومت کے نزديک صرف اپنے شہريوں کی حفاظت اور آئينی حقوق کا تحفظ مقدم ہے"۔

    مگر جب 11 ستمبر 2001 کے حادثے يا سابق صدر جرنل ضياالحق کے حوالے سے سازش کے ضمن ميں دليل کی ضرورت پڑے تو پھر يہ کہا جاتا ہے کہ

    "امريکی حکومت فائدے کے ليے اپنے ہی ہزاروں شہريوں يا اعلی عہدوں پر فائز سفارتی اہلکاروں کو ہلاک کرنے ميں کوئ عار محسوس نہيں کرتی"۔

    کبھی يہ ولن ايک ايسے عيار منصوبہ ساز کے طور پر پيش کيا جاتا ہے جس کے بارے ميں دعوی کيا جاتا ہے کہ

    "امريکی تھنک ٹينک اور فيصلہ ساز ادارے دنيا کے کسی خطے ميں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے ليے بڑی طويل منصوبہ بندی کرتے ہيں"۔ اس ضمن ميں سازشی نقشوں کو دليل کے طور پر پيش کيا جاتا ہے۔

    کبھی يہ چالاک ولن ايک ايسے غير ذمہ دار اور "بدمست ہاتھی" کے طور پر استعمال کيا جاتا ہے جس کے بارے ميں کہا جاتا ہے کہ

    "امريکہ زمينی حقائق کا تدارک کيے بغير گولی پہلے چلاتا ہے اور نشانہ بعد ميں ليتا ہے۔"

    موقع کی مناسبت سے يہی ولن ايک اناڑی بزدل بن جاتا ہے جس کے بارے ميں کہا جاتا ہے کہ

    "چاکليٹ کھانے اور کوک پينے والے امريکی فوجی پہاڑی علاقوں کی مشکلات کا سامنا نہيں کر سکتے اور ان کے مقابلے ميں مقامی لوگ ان علاقوں ميں لڑائ کے ليے زيادہ بہتر، منظم اور مضبوط ہيں"۔

    مگر پھر يہی کمزور ولن ايک ايسا طاقتور "عفريت" بن جاتا ہے جس کے بارے ميں دليل دی جاتی ہے کہ

    "ہمارے پاس امريکی حملوں کو روکنے کے ليے وسائل نہيں ہيں"۔

    90 کی دہائ ميں دليل يہ تھی کہ امريکہ ايک ظالم حکمران کے تسلط کا شکارعراق کے مظلوم لوگوں کی داد رسی کے ليے کوئ کردار ادا نہيں کر رہا کيونکہ وہ مسلمان ہيں۔ اب دليل يہ ہے کہ امريکہ کو صدام حکومت کے خاتمے کا کوئ حق نہيں تھا اس بات سے قطع نظر کہ اس کے دور حکومت ميں کتنے مظالم ڈھاۓ گۓ۔

    اگر امريکہ پاکستان کو امداد ديتا ہے تو اسے پاکستان کے حکومتی اداروں پر امريکی اثرورسوخ بڑھانے کی سازش قرار ديا جاتا ہے۔ اگر امريکہ امداد نہ دے تو دليل يہ بن جاتی ہے کہ امريکہ کا جھکاؤ بھارت کی طرف ہے۔

    کبھی امريکہ ايک ايسا ولن ہے جو سب کچھ جانتا ہے اور کبھی ايک ايسا دشمن جسے مقامی حالات کا صحيح تدارک نہيں ہے۔ بعض اوقات يہ دونوں متضاد دلائل ايک ہی موضوع پر جاری بحث ميں استعمال کيے جاتے ہيں۔ کبھی امريکہ ايک ايسی سلطنت ہے جو تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے اور کبھی اتنی مضبوط کہ دنيا کے کسے بھی دوردراز ملک کی حکومت تبديل کرنے کی صلاحيت رکھتی ہے۔

    ليکن ان دلائل کا حتمی نتيجہ صرف يہی نکلتا ہے کہ بحث کوئ بھی ہو، ذمہ داری کا بوجھ بہرحال امريکہ پر ڈالنا جائز ہے۔ ملک کے اندر کسی تبديلی، بہتر قيادت کے ليے شعور اجاگر کرنے اور عوام کے معيار زندگی کو بہتر بنانے کے کسی منصوبے کی کوئ ضرورت نہيں ہے کيونکہ تمام تر مسائل کی وجہ اور انکا حل ايک "بيرونی ہاتھ" کے پاس ہے۔

    کوئ بھی باشعور شخص يہ بات جانتا ہے امريکہ سے متعلق دلائل غير مستقل اور منطقی اعتبار سے متضاد ہوتے ہيں جو موضوع کی مناسبت سے اپنی نوعيت تبديل کرتے رہتے ہيں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ​

    digitaloutreach@state.gov​


    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں