1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الامر بالمعروف والنھی عن المنکر کا فریضہ

'امر بالمعروف و نھی عن المنکر' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏اگست 19، 2015۔

  1. ‏اگست 19، 2015 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    حسبہ کے ماتحت محکمہ جات
    الحمد ﷲ رب العالمین والصلوہ والسلام علی رسولہ الاٰمین وعلی الہ وصحبہ اجمعین وبعد

    الامر بالمعروف والنھی عن المنکر اسلام کے عظیم شعائر میں سے ایک نہایت اہم شعبہ اور اسلامی ریاست کی وزارتوں میں سے ایک اہم وزارت ہے۔ اگرچہ اسلامی ریاست کا مقصد اولین الامر بالمعروف والنھی عن المنکر ہے لیکن عملی طور پر خلافت راشدہ کے بعد عمر بن عبدالعزیز کی خلافت میں اس فریضے کا احیاء”وزارت مظالم“ کے عنوان سے ہوا تھا۔ زیر نظر مقالہ میں ہم وزارت حسبہ کو تفویض کئے جانے والے شعبہ ہائے جات پر روشنی ڈالیں گے اور اس بات کی وضاحت کرنے کی کوشش کریں گے کہ اسلامی ریاست کس طرح الامر بالمعروف والنھی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتی ہے کیونکہ یہ فریضہ اس امت کی خصوصیات میں سے ایک ایسی خصوصیت ہے جس کی وجہ سے اُمت محمدیہ کو بہترین اُمت کا لقب دیا گیا ہے۔ سورہ آل عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    ”اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت واصلاح کیلئے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو“۔
    اِس اہم فریضہ کو باحسن طریقے سے انجام دینے کیلئے اللہ تعالیٰ اسی سورہ کی آیت ١٠٤ میں ارشاد فرماتا ہے:
    ”تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی ہونے چاہئیں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں اور بُرائیوں سے روکتے رہیں۔ جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے“۔
    سورہ حج میں اسلامی ریاست کے فرائض، اقامت صلوہ اور نظام زکوٰت کے علاوہ جس تیسرے فریضہ کا حکم دیا گیا ہے وہ الامر بالمعروف والنھی عن المنکر ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے:
    ”یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوت دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور بُرائی سے منع کریں گے“۔ (سورہ حج: ٤١)
    فریضہ الامر بالمعروف والنھی عن المنکر کی اہمیت اور وجوب سے متعلق کتاب وسنت میں بے شمار نصوص ہیں جن کا استقصا کرنا ہمارے پیش نظر نہیں ہے۔ اس وقت ہمارے پیش نظر یہ امر ہے کہ مسلمان عملاً کس طرح ان نصوص مبارکہ سے عہدہ برآہوئے تھے۔ معاشرے کی سطح پر ان احکام کو کس طرح منطبق کیا گیا تھا، اسلامی ریاست کے پھیلائو اور اُس وقت کے تقاضوں کے مطابق اس فریضے کے نفاذ میں کیا کیا تبدیلی اور وسعت پیدا کی جاتی رہی تھی کہ جس سے ہر زمانے اور ہر معاشرے میں اس فریضہ پر عمل پیرا ہونا ممکن رہا تھا اور جس کی وجہ سے اُمت محمدیہ اجتماعی سطح پر خیر پر رہی تھی۔ یہاں تک کہ اس فریضہ کو ترک کرنے سے ایسا بُرا زمانہ آگیا ہے کہ جس سے آپ پوری طرح آگاہ ہیں۔ اجتماعی سطح پر الامر بالمعروف والنھی عن المنکر مکمل طور پر فراموش کردیا گیا ہے اور اس فریضے کے نافذ ہونے سے معاشرے میں جو برکات ہوا کرتی تھیں اب وہ قصہ پارینہ بن چکی ہیں اکثر اسلامی ملکوں میں سرے سے ’وزارت حسبہ‘ جو سرکاری سطح پر الامر بالمعروف والنھی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتی ہے سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ مملکت سعودی عرب میں .... بحمدللہ .... الامر بالمعروف والنھی عن المنکر کا شعبہ سرکاری سطح پرقائم ہے لیکن اس کے اختیارات محدود اور کارکردگی غیر تسلی بخش ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس محکمہ کو فعال کرکے اُس کے وہ تمام اختیارات بحال کئے جائیں جو تاریخ اسلامی میں وزارت حسبہ کے پاس ہوا کرتے تھے۔ ان اختیارات کی تفصیل ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔
     
  2. ‏اگست 19، 2015 #2
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    رسول اﷲ کے زمانہ مبارک میں حسبہ کی فعالیت:
    الامر بالمعروف والنھی عن المنکر کتاب عزیز کے موضوعات میں سے ایک بنیادی موضوع ہے اور چونکہ قرآن مجید رسول اللہ پر نازل ہوا تھا اس لئے آپ اپنی سیرت واخلاق میں الامر بالمعروف والنھی عن المنکر کا پیکر تھے۔ آپ پوری حیات طیبہ میں قرآن کے احکام اپنے قول وفعل سے واضح کرتے رہے، طیب اور پاک چیزوں کو حلال کرتے اور خبیث اور ناپاک چیزوںکو حرام کرتے تھے۔ آپ کی دعوت اول وآخر اس فریضے کے گردا گرد گھومتی تھی۔ آپ کے اخلاق قرآن کا نمونہ تھے اور قرآن کی دعوت یا تو ان فرامین پر مشتمل ہے جن پر عمل پیرا ہونا مطلوب ہے، ایسے فرامین الامر بالمعروف کہلاتے ہیں یا پھر ان فرامین پر مشتمل ہے جن سے رکنا اور دوسروں کو روکنا مقصود ہے، ایسے منہیات النھی عن المنکر کہلاتے ہیں۔ بنا بریں الامر بالمعروف اور النھی عن المنکر اس معنی میں ایک وسیع تر مفہوم کا حامل شعبہ ہے اور بلاشبہ سب سے بڑا معروف امر اللہ کی توحید اور سب سے بڑا منکر اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے جبکہ دیگر منہیات کے لئے ”اصول فقہ“ میں حرام اور مکروہ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ رسول اللہ بذات خود اور اپنے اصحاب کے ذریعے الامر بالمعروف والنھی عن المنکر کا فرض نبھاتے رہے جس کی وجہ سے اس فریضہ کیلئے الگ وزارت تشکیل نہیں دی گئی تھی بلکہ یہ فریضہ بلاواسطہ رسول اللہ خود انجام دیتے تھے یہی صورت آپ کے بعد خلافت راشدہ میں رہی، اور خلافت راشدہ میں بھی ہمیں وزارت حسبہ کا الگ محکمہ نہیں ملتا جس طرح وزارت دفاع اور دوسری وزارتیں خلفاءراشدین کے اختیار میں ہوا کرتی تھیں اسی طرح الامر بالمعروف والنھی عن المنکر کا فریضہ بھی رسول اللہ کی طرح خلفاءراشدین بھی خود انجام دیا کرتے تھے اور کوئی شہر یا قریہ، چھوٹا ہو یا بڑا، خلفائے راشدین کی نگرانی سے بچ نہیں پاتا تھا۔ یہاں تک کہ عمر بن عبدالعزیز کی خلافت کا زمانہ آجاتا ہے، خلافت پر متمکن ہونے کے بعد خلیفہ راشد عمر بن عبدالعزیز نے بنو امیہ کی ناانصافیوں کی تلافی کیلئے بذات خود الامر بالمعروف والنھی عن المنکر کا کام اپنے ہاتھ میں لے کر اسلام کے اس عظیم ترین شعار کا احیاءکیا، انہیں اس بات کا پورا ادراک تھا کہ حسبہ کا فریضہ خلیفہ وقت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے، عمر بن عبدالعزیز سرکاری عہدے داروں کی ناانصافیوں اور مظلوم کی داد رسی کیلئے خود تشریف فرما ہوا کرتے تھے اور مسلمانوں کی شکایات کا فوری تدارک فرمایا کرتے تھے آپ کے عہد مبارک میں سرکاری افسران کے خلاف شکایات سننے اور ان کی تلافی کرنے کیلئے تشکیل پانے والے نظام کا نام ”وزارت مظالم“ رکھا گیا تھا اور اسی وقت سے ”وزارت مظالم“ آنے والے ادوار میں ایک مستقل، یا وزارت حسبہ کے تحت بطور ایک شعبہ کے خلافت میں ایک فعال عنصر کے شامل رہی ہے۔
     
  3. ‏اگست 19، 2015 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    عباسی خلافت میں حکومت کے فرائض وزارتوں کے ذریعے پورے کرنے کا رواج ہو گیا جو ایک نئی تبدیلی تھی لیکن وزارت عدل وانصاف کے ساتھ ساتھ وزارت مظالم اور وزارت حسبہ جس کا فریضہ سرکاری سطح پر الامر بالمعروف والنھی عن المنکر تھا، الگ الگ وزارتوں کی شکل میں اپنے فرائض انجام دیا کرتے تھے، شیح الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ وزارت حسبہ کے اختیارات اور فعالیت مختلف صوبہ جات اور حکمرانوں کے لحاظ سے مختلف ہوا کرتی تھی، بعض اوقات وزارت حسبہ کے اختیارات محدود ہوا کرتے اور بعض اوقات وزارت حسبہ کو بڑی بڑی ذمہ داریاں سونپ دی جاتی تھیں، کبھی ایسا بھی ہو جاتا کہ حسبہ کامحکمہ بنا کر اسے وزارت عدل وانصاف یا وزارت مظالم یا پولیس کی سرپرستی میں دے دیا جاتا۔

    اگر ہم تاریخ اسلام کا بغور مطالعہ کریں تو ہم اسلامی ریاست میں چار مرکزی اور بنیادی وزارتیں پائیں گے، خواہ یہ چاروں وزارتیں خلیفہ کی اپنی ذات میں مرتکز ہوں جیسا کہ رسول اللہ کی ذات گرامی چاروں حیثیتوں سے مرقع تھی اور اسی طرح خلافت راشدہ، یا الگ الگ وزارتوں کی شکل میں خلیفہ کی سرپرستی میں کام کرتی ہوں، یہ چار وزارتیں وزارت عظمی، وزارت عدل وانصاف، وزارت مظالم اور وزارت حسبہ پر مشتمل ہوا کرتی تھیں۔

    ملاحظہ فرمائیں حکومت کے مرکزی ارکان میں سے چوتھا رکن وزارت حسبہ کا ہوا کرتا تھا۔ اسلامی تاریخ میں موجودہ زمانے کی طرح بیسیوں وزارتیں نہیں ہوا کرتی تھیں بلکہ چار مرکزی ارکان یا وزارتوں پر مشتمل ہوا کرتی تھی اور اِن وزارتوں کو ’دواوین‘ کہا جاتا تھا دواوین دیوان کی جمع ہے۔ عموماً اسلامی ریاست ان چار دواوین پر مشتمل ہوا کرتی تھی۔ یعنی (١) دیوان الوزارہ یا دیوان الحجابہ جس کیلئے ہم نے وزارت عظمیٰ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ (٢) دیوان القضاءاور اُس کے ذیلی محکمہ جات جسے ہم نے وزارت عدل وانصاف کہا ہے۔ (٣) دیوان مظالم سرکاری افسران اور حکومتی عہدے داروں کا محاسبہ کرنے والا محکمہ۔ (٤) دیوان حسبہ اور الامر بالمعروف والنھی عن المنکر۔
     
  4. ‏اگست 19، 2015 #4
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    مذکورہ بالا دواوین اپنے ذیلی شعبہ جات کے ساتھ جن اختیارات اور افعال کو انجام دیا کرتے تھے جنہیں ہم اگلی سطور میں بیان کریں گے، وہی اختیارات اور افعال اگر آج کے دور میں ان چار وزارتوں کو سونپ دیئے جائیں تو ہر دور میں ہر ہر زمانے میں یہ چاروں وزارتیں وہی نتائج لا سکتی ہیں جو اب صرف تاریخ کا حصہ بن کر رہ گئے ہیں، جب مسلمانوں کے پاس ایک تاریخ ساز نظام سیاست رہا ہے اور اب بھی اس کا احیاءکیا جا سکتا ہے تو ہمیں اغیار سے لے کر کسی قسم کے سیاسی نظام کی پیوند کاری کی ضرورت نہیں ہے۔

    اسلامی ریاست میں دواوین کی تقسیم کار سے پہلے ہم ایک بار پھر اس بات کو دہرانا چاہیں گے کہ اسلامی ریاست یا حکومت یا اسلامی ریاست میں تشکیل پانے والی وزارتیں یا دواوین کی اصل غرض وغایت کیا ہے۔ ہم یہاں اس ابہام کو بھی دور کر دیناچاہیں گے کہ اسلامی ریاست میں دیوان حسبہ کا کام الامر بالمعروف والنھی عن المنکر کرتا ہے اور باقی دواوین اس فریضہ سے غیر متعلق ہیں یا ان کا کام محض نظم وضبط کو قائم کرنا اور لاقانونیت کو ختم کرنا ہے۔
     
  5. ‏اگست 19، 2015 #5
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ کتاب ”قاعدہ فی الحسبہ“ میں اسلامی ریاست کی غرض وغایت ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: معلوم ہو کہ اسلام میں تمام وزارتوں کی ایک ہی غرض وغایت ہے کہ اَن یکون الدین کلہ ﷲ (دین پورے کا پورا اللہ کے لئے ہو جائے) اور اللہ کا کلمہ سربلند ہو جائے، اس مقصد کیلئے اُس نے مخلوقات کو پیدا کیا ہے، کتابیں اتاریں، نبی اور رسل بھیجے اور اللہ کے کلمہ کو سربلند کرنے کیلئے رسول اللہ اور آپ کے اصحاب برسرپیکار رہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون (ذاریات ٥٦)
    ”میں نے جن اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کیلئے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری بندگی کریں“۔

    انبیاءکرام کی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    ”ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیجا ہے اُس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو“۔

    قاعدہ فی الحسبہ میں شیخ الاسلام بتاتے ہیں کہ انسان اجتماعیت پسند ہے اور اس مقصد کیلئے اسے معاشرہ تشکیل دینا پڑتا ہے بنا بریں ہر زمانے اور ہر معاشرے کیلئے حکومت کی تشکیل ناگزیر ہے، حکومت قانون نافذ کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات قوانین کا مجموعہ ہیں جن میں کچھ باتوں کو کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کچھ باتوں سے رک جانے کا حکم دیا گیا ہے اور یہی اللہ کی شریعت ہے جسے معاشرے میں نافذ کرنا اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ان امور کی وضاحت کے بعد ابن تیمیہ لکھتے ہیں:
    وجمیع الولایات الاسلامیہ انما مقصودھا الامر بالمعروف والنھی عن المنکر
    اسلام میں تمام وزارتوں کا ایک ہی فریضہ ہے کہ وہ الامر بالمعروف والنھی عن المنکر پر عمل کریں سب کی سب وزارتیں، ان کے افسران، عہدے داران، شعبہ جات، سرکاری محکمے اپنی پوری صلاحیتیں اس فریضے کو انجام دینے میں استعمال کریں گی، جس طرح اسلام میں ہر شخص اس بات کا مخاطب ہے کہ وہ اپنی صلاحیت اور استطاعت کے مطابق الامر بالمعروف والنھی عن المنکر کا فریضہ انفرادی سطح پر انجام دے جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا:
    من راٰی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ وذلک اضعف الایمان
    ”تم میں سے جو منکر کو دیکھے تو اُسے چاہیے کہ وہ اپنی پوری قوت منکر کو تبدیل کرنے میں کھپا دے اگر اس کی استطاعت نہیں تو پھر زبان سے اگر زبان سے کہنے کی بھی استطاعت نہیں تو پھر اپنے دل میں اُسے بُرا سمجھے مگر یاد رکھو یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے“۔

    یہ حدیث جس طرح انفرادی سطح پر ہر شخص کو اس فریضہ کی ادائیگی کا پابند کرتی ہے اُسی طرح اسلامی حکومت، اس کی تمام وزارتیں اور تمام شعبہ جات قانوناً الامر بالمعروف والنھی عن المنکر کو بزور نافذ کرنے والے ہوتے ہیں۔
     
  6. ‏اگست 19، 2015 #6
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ابن تیمیہ کے زمانے میں وزارت دفاع سب سے بااختیار ادارہ تھا، اُس وقت اُسے ولایہ الحرب الکبری یا نیابہ السلطنہ کہا جاتا تھا، ہم اپنے لحاظ سے اسے چیف آف دی آرمی سٹاف کہہ سکتے ہیں۔ آگے چل کر وہ لکھتے ہیں کہ الامر بالمعروف والنھی عن المنکر کے فریضے کی ادائیگی میں نیابہ السلطنہ بھی اُسی طرح ذمہ دار ہے جس طرح وزارت حسبہ یا دوسرے ادارے ذمہ دار ہیں۔

    شیخ سفر الحوالی نیابہ السلطنہ کے اختیارات کیلئے صلاح الدین ایوبی کی مثال دیتے ہیں۔ صلاح الدین ایوبی خلیفہ عادل نور الدین کے سپاہ سالار تھے اور بعد ازاں نور الدین کے جانشین بنے۔ سلطان بننے کے باوجود وہ سپاہ سالار بھی خود تھے اور خود ہی جہاد کرتے تھے جیسے سابقہ خلفاءکا طرز حکومت تھا کبھی وہ خلافت کے ساتھ سپہ سالار کا عہدہ بھی اپنے پاس رکھتے اور کبھی کسی اور کو نامزد کر دیتے تھے لہٰذا وزارتیں خواہ کم ہوں یا زیادہ وہ دراصل خلافت یا وزارت کبری یعنی امام یا خلیفہ کی شاخیں ہوتی ہیں اور یہی بات امور سیاسیات پر کتب لکھنے والے تمام مؤلفین نے لکھی ہے جسے ماوردی، ابویعلی، ابن خلدون اور ازرقی، ابن حزم کی بھی اس موضوع پر ایک تصنیف ہے جس میں تمام وزارتوں کو خلافت کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ جب نیابہ السلطنہ کا یہی فریضہ ہے تو اس کی شاخیں خواہ بہت زیادہ بااختیار ہوں یا محدود اختیارات کی حامل وزارتیں جیسے شاہراہوں کا نظم ونسق کرنے والا محکمہ، محکمہ مال اور محکمہ حسبہ، شیخ الاسلام کے نزدیک سب الامر بالمعروف والنھی عن المنکر کا فریضہ انجام دیں گے۔
    اس وضاحت کے بعد اب آپ آسانی سے انسان ساختہ قوانین پر عمل کرنے والی ریاست اور الٰہی ضابطہ پر کاربند رہنے والی اسلامی ریاست میں فرق بتا سکتے ہیں۔
    غیر اسلامی حکومتیں اپنی عسکری طاقت میں اضافہ کریں، پولیس کو فری ہینڈ دیں یا مارشل لاءلگائیں ان کا مقصد عوام الناس پر جبر کرنا اور ظاہری طور پر امن وامان برقرار رکھ کر وقت کی حکومت کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے اس کے علاوہ طاقت کے مظاہرے کی اور کوئی غرض وغایت نہیں ہوتی ہے اسی لئے ابن تیمیہ ایک اور جگہ فرماتے ہیں لیس المراد من الشرائع مجرد ضبط العوام .... اسلام میں قوانین کے نفاذ کا مقصد صرف عوام الناس کو پرامن رکھنا نہیں ہے بلکہ قوانین کے نفاذ کا مقصد لوگوں کی ظاہری اور باطنی اصلاح ہے۔
     
  7. ‏اگست 19، 2015 #7
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    یہ بات ابن تیمیہ نے اس لئے لکھی تھی کہ ہر زمانے کا حاکم اور ہر معاشرے اور ہر ملک کا حاکم روٹین کے کاموں اور عوام کو کنٹرول کرنے کو ہی اپنی ذمہ داری سمجھ کر اسلامی ریاست کی اصل ذمہ داری الامر بالمعروف والنھی عن المنکر کو فراموش نہ کردے جیساکہ انسان ساختہ قوانین پر قائم حکومتیں سمجھتی ہیں۔ غیر اسلامی حکومتیں سرے سے اصلاح ___ خواہ ظاہری ہو یا باطنی ___ کے نام سے بھی واقف نہیں ہوتی ہیں۔ حکومت الہیہ اور غیر اسلامی ریاست میں یہ ایک عظیم ترین فریق ہے، احکم الحاکمین کی شریعت دلوں کی اصلاح اور دلوں کی بیماریاں دور کرنے کیلئے نازل ہوئی ہے جبکہ انسان ساختہ قوانین فریب خوردہ آراء، الل ٹپ قوانین اور ذاتی اغراض کو سامنے رکھ کر بنائے گئے دساتیر پر مشتمل ہوتے ہیں۔ دوسری طرف شیخ الاسلام حکومت الہیہ کا مقصد بیان کرتے ہیں۔ ظاہری اور باطنی اصلاح، عامہ الناس اور خواص کی اصلاح، حاکم اور رعایا کی اصلاح، افسر اور ماتحت کی اصلاح، رئیس اورخادم کی اصلاح، دنیا اور آخرت کی اصلاح اور غیر اسلامی حکومت کے انسان ساختہ قوانین اگر کبھی نظم وضبط کی وجہ سے عوامی خوش حالی اور ترقی کا باعث بھی بن جائیں تو یہ مقصد صرف دنیا اور اس کی عارضی لذتوں تک محدود رہتا ہے۔ آخرت میں کامیابی ایسی حکومتوں کے سان وگمان میں بھی نہیں ہوتی، حکومت الہیہ ایک وسیع تر مفہوم کی حامل ریاست ہوتی ہے۔ دنیا اور آخرت میں کامیابی کا وسیع تر مفہوم۔
     
  8. ‏اگست 19، 2015 #8
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    دواوین کا آپس میں ربط:
    دیوان الحجابہ یا دیوان السلطنتہ کو موجودہ سیاسی اصطلاح میں حکومت کہہ سکتے ہیں جو وزیر اعظم اور وزراءکی کابینہ پر مشتمل ہوتی ہے، انتظامیہ اس کے ماتحت کام کرتی ہے۔ فوج اور پولیس انتظامیہ کا حصہ کہلاتے ہیں اور یہ حکومت کے اوامر کو نافذ کرتے ہیں۔

    دیوان المظالم:
    دیوان المظالم حکومت اور حکومت کے اہلکاروں کی ناانصافیوں اور تجاوزات کے خلاف یہ ادارہ عوام الناس کی شکایات سن کر ان کا ازالہ کرنے کیلئے قائم ہوتا ہے اگرچہ اس اصطلاح کا باقاعدہ رواج عمر بن عبدالعزیز کی خلافت میں ہوا تھا بعض علماءکرام دیوان المظالم کی ابتداءاس سے پہلے عبدالملک بن مروان کی خلافت کو قرار دیتے ہیں کیونکہ عبدالملک بن مروان ہفتے میں ایک دن سرکاری افسران کے خلاف شکایات سننے کیلئے بیٹھا کرتا تھا۔ دیوان المظالم ایک سیاسی اصطلاح کے عبدالملک بن مروان کی خلافت یا عمر بن عبدالعزیز کی خلافت میں رائج ہوئی ہو عملی طور پر خلیفہ کے نامزد والیوں کی شکایات اور ان کا تدارک اسلامی ریاست اول روز سے کرتی رہی ہے۔ خلفاءراشدین اور عمر بن عبدالعزیز بذات خود اس فریضے کو انجام دیتے تھے اور عباسی خلافت میں اس مقصد کیلئے بااختیار ادارہ قائم ہو گیا تھا۔ الغرض دیوان المظالم حکومت اور حکومت کے نامزد والیوں اور اہلکاروں کے خلاف عوام الناس کی شکایات سننے اور ان کا ازالہ کرنے کا مجاز ادارہ ہوتا تھا۔
     
  9. ‏اگست 19، 2015 #9
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    دیوان القضاء:
    دیوان القضاءمتنازع فریقین کے درمیان عدل وانصاف قائم کرنے کیلئے عدالتی نظام، وزارت عدل وانصاف کے مترادف ادارے کا نام دیوان الحسبہ یا الامر بالمعروف والنھی عن المنکر۔ اسلامی ریاست کا یہ چوتھا رکن تھا اور ہمارا موضوع بھی یہی ہے کہ دیوان الحسبہ کی نگرانی میں کتنے شعبہ جات آتے ہیں اور ان کا باقی دواوین سے کیا تعلق بنتا ہے۔

    اگر موجودہ حکومتیں مذکور بالا چار دواوین یا ارکان پرمشتمل ہوں تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ کتنی وزارتیں ختم ہو جائیں گی اور کتنے ادارے ان چار ارکان میں ضم کرنے پڑیں گے۔ مزید برآں آپ یہ بھی اندازہ کر سکتے ہیں کہ دیوان الحسبہ، حکومت میں کتنا اہم اورمرکزی رکن ہے ائمہ کرام اور علم سیاسیات پر لکھنے والے مؤلفین دیوان الحسبہ کو ایک نہایت فعال اور بااختیار وزارت کے ضمن میں ذکر کرتے ہیں۔ اگلی سطور میں ہم علماءکرام کی آراءکی روشنی میں دیوان الحسبہ کو تفویض کیے جانے والے کاموں کو بیان کریں گے۔

    امام ماوردی دیوان القضا اور دیوان الحسبہ کے فرق کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    وزارت حسبہ دو امور میں وزارت قضاءسے کم اختیار رکھتی ہے۔ وزارت حسبہ منکرات کے علاوہ دوسرے متنازع دعوے سننے کی مجاز نہیں ہے جیسے فریقین کے درمیان معاہدات، لین دین کے معاملات اور حقوق اور مطالبات سے متعلق نزاعی معاملات سب وزارت حسبہ کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں، یہ معاملات وزارت قضاءمیں زیر بحث لانے کے ہیں۔ سرعام ہونے والے منکرات کا بروقت ازالہ وزارت حسبہ کے دائرہ اختیار میں ہے اسی طرح جس شخص کاکوئی حق ثابت شدہ ہے اور دوسرا فریق انکار نہیں کرتا (صرف لیت ولعل سے کام لے رہا ہو) تو اس حق کا صاحب حق کو دلانا وزارت حسبہ کے اختیارات میں ہے۔ جہاں ایک فریق دعوے دار ہو اور دوسرا دعوے کا انکار کرتا ہو (اور فیصلہ قرائن اور گواہان یا سرکاری ریکارڈ کا محتاج ہو) ایسے دعوے سننے اور فیصلہ کرنے کا مجاز ادارہ وزارت قضاءہے۔

    وزارت حسبہ کے اختیارات میں ایک تو متنازع دعوے نہیں آتے یہ اختیار وزارت قضاءکو ہے اور دوسرا وزارت حسبہ کادائرہ اختیار ثابت شدہ حقوق کو صاحب حق تک پہنچانے تک محدود ہے اس لحاظ سے بھی وزارت حسبہ اور وزارت قضاءکے اختیارات میں فرق ہے لیکن ایک تیسری جانب میں وزارت حسبہ کے اختیارات وزارت قضاءسے زیادہ ہیں۔
     
  10. ‏اگست 19، 2015 #10
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    وزارت حسبہ کسی معروف کام کے کرنے یا منکر کو روکنے کا کام ازخود کر سکتی ہے خواہ کوئی فریق دعوے دار نہ ہو، یعنی قاضی کا یہ کام نہیں کہ وہ بازاروں اور محلوں میں جا کر معاملات نبٹائے بلکہ قاضی کے پاس ایک فریق جو دعوے دار ہوتا ہے وہ مقدمہ دائر کرتا ہے اور مدعی علیہ اس دعوے کا انکار کرتا ہے محتسب بذات خود موقع پر جا کر تصفیہ کراتا ہے اور حقدار کو حق دلاتا ہے اور ظالم کو ظلم کرنے سے روکتا ہے۔ مثال کے طور پر محتسب اس بات کا جائزہ لے گا کہ کہیں کوئی والد (زیادہ مہر حاصل کرنے کیلئے) بلاوجہ اپنی بیٹیوں کو گھر بٹھائے ہوئے تو نہیں ہے، اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ اسے مجبو رکرے گا کہ اپنی بیٹیوں کی شادی کرے۔ وہ یہ بھی جائزہ لے گا کہ کسی یتیم کا سرپرست اس پر ظلم تو نہیں کر رہا اور اس یتیم کی سرکاری یا ذاتی) آمدنی سے تعرض تو نہیں کر رہا، بازاروں میں چل پھر کر دیکھے گا کہ معاملات (شرعی اصول کے مطابق) درست ہو رہے ہیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں