1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

التائیدات السماویہ فی توثیق عبدالرحمن بن معاویہ

'ثقہ رواۃ' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏دسمبر 04، 2013۔

  1. ‏دسمبر 04، 2013 #1
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,818
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    ایک روایت میں آیا ہے کہ صحابی رسول اور مفسرقران عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے یزید بن معاویہ کو صالح ونیک قرار دیا ہے اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یزید بن معاویہ کو نیک اورصالح سمجھتے تھے ۔ ہم نے بہت عرصہ قبل اس روایت کی تحقیق پیش کی تھی اور اس کے ہر ہر راوی کی توثیق ثابت کی تھی ، پھر کچھ دنوں بعد یزید بن معاویہ کے بعض مخالفین کے میرے اس مضمون کو حافظ زبیرعلی زئی کے سامنے پیش کیا اور ان کا فیصلہ طلب کیا ، موصوف چونکہ یزید کی شدید مذمت کرتے تھے اس لئے ظاہر ہے کہ یہ روایت ان کے لئے پریشان کن ثابت ہوئی اس لئے موصوف نے حددرجہ تکلفات سے کام لیتے ہوئے اس روایت کو ضعیف ثابت کرنے کے ناکام کوشش کی اس ضمن میں موصوف نے اس کی سند کے ایک راوی ’’عبدالرحمن بن معاویہ ‘‘ کے بارے میں دعوی کیاکہ جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس لئے یہ راوی ضعیف ہے اس سلسلے میں موصوف نے امام ہیثمی رحمہ اللہ کا قول بطور تائید پیش کیا کہ امام ہیثمی رحمہ اللہ نے بھی کہا ہے کہ اکثر نے اس راوی کو ضعیف کہاہے۔
    حالانکہ اس سے پہلے خود موصوف نے ہی امام ہیثمی کے اس قول کو مردود قرار دیا تھا اوراس کے خلاف اپنی یہ تحقیق پیش کی تھی کہ جمہور نے اس راوی کو ثقہ کہا ہے دیکھئے : تحقیقی مقالات ج 3 ص 385 ۔ نیز دیکھیں : مجلہ الحدیث : 107 ص 48۔
    لیکن شاید یہ تحقیق پیش کرتے وقت انہیں یہ علم نہیں تھا کہ اسی راوی نے ایک عظیم صحابی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یزید بن معاویہ کی تعریف نقل کی ہے ۔ اور جوں ہی آں جناب کے سامنے میرا مضمون پیش ہوا اور یہ حقیقت سامنے آئی کہ اس راوی نے ایک عظیم صحابی سے یزید بن معاویہ کی تعریف نقل کی ہے ۔ پھر کیا تھا ! تحقیق کی پوری کایا پلٹ گئی، توثیق کرنے والے جمہور کی پوری عمارت منہدم ہوگئی۔ اب دوبارہ الیکشن ہوا ، نئے سرے سے ووٹنگ ہوئی اور اس بار ٹوٹے پھوٹے ووٹ حاصل کرکے نام نہاد جمہوریت کی تلوار اٹھائی گئی اور مدح یزید میں روایت بیان کرنے کی پاداش میں بے چارے ’’عبدالرحمن بن معاویہ‘‘ کی ثقاہت کا بڑی ہی بے دردی و بے رحمی سے خون کردیا گیا ۔
    عرض ہے کہ اول تو محض جمہوریت اور ووٹنگ سے کسی راوی کی توثیق و تضعیف والا اصول ہی مضحکہ خیز ہے ۔ دوم یہ کہ خود جمہور ہی نے اس راوی کو ثقہ وصدوق اور حسن الحدیث مانا ہے ۔ثبوت میں درج ذیل سطور پیش خدمت ہیں :

    اقوال جارحین

    صحابی رسول عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی زبانی یزید بن معاویہ کو صالح و نیک قراردینے والی بلاذری رحمہ اللہ کی روایت کو ضعیف ثابت کرنے کے لئے محمد مهدي الخرسان رافضی لکھتا ہے :
    والراوي عنه عبد الرحمن بن معاوية هو ابن الحويرث الانصاري الزرقي أبو الحويرث المدني الّذي قال فيه مالك: ليس بثقة، قال ابن عدي: ليس له كثير حديث ومالك أعلم به لأنّه مدني ولم يرو عنه شيئاً. وقال أبو حاتم: ليس بقوي يكتب حديثه ولا يحتج به، وعن ابن معين: ليس يحتج بحديثه. وقال مالك: قدم علينا سفيان فكتب عن قوم یرمون بالتخنيث يعني أبا الحويرث منهم، قال أبو داود: وكان يخضب رجليه وكان من مرجيء أهل المدينة، وقال النسائي: ليس بذاك
    عامربن مسعود رحمہ اللہ سے اس روایت کو نقل کرنے والا عبدلرحمن بن معاویہ ہے اور یہ ابن الحویرث انصاری ، زرقی ، مدنی ابوالحویرث ہے جس کے بارے میں امام مالک نے کہا : یہ ثقہ نہیں ہے ، اور ابن عدی نے کہا : اس کی زیادہ حدیثیں نہیں ہیں اور امام مالک اس کے بارے میں بہتر جانتے ہیں کیونکہ یہ مدنی ہے اورامام مالک نے اس سے کچھ روایت نہیں کیا۔ ابوحاتم نے کہا: یہ قوی نہیں ہے اس کی حدیث لکھی جائے گی اور اس سے حجت نہیں پکڑی جائے گی ۔ ابن معین نے کہا: اس سے حجت نہیں پکڑی جائے گی۔امام مالک کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سفیان آئے وہ ایسے لوگوں سے روایت لکھتے تھے جن پر ہجڑے پن کی تہمت لگائی جاتی تھی یہ ان میں ابوالحویرث کو بھی مراد لیتے تھے۔ اورامام ابوداؤد نے کہا کہ: یہ اپنے پاؤں میں مہدی لگاتا تھا اور یہ اہل مدینہ کے مرجئوں میں سے تھا ۔ اور امام نسائی نے کہا کہ یہ بہت زیادہ قوی نہیں ہے۔[موسوعة عبد الله بن عباس ـ ج 05 ص 211...]۔

    عرض ہے کہ جارحین کے کے اقوال پر تبصرہ ہم آگے کریں لیکن اس قبل یہ واضح ہو کہ رافضی کی ذکردہ باتوں میں سے کچھ باتیں جرح کے باب میں سرے سے غیر مقبول ہیں مثلا امام مالک نے بھی ابوالحویرث پرلگائی گئی ہجڑے پن کی تہمت کا ذکر کیا ہے لیکن انہوں نے ’’یرمون‘‘ ان پرتہمت لگائی جاتی تھی کہا ہے اور یہ صراحت نہیں کی ہے کہ یہ تہمت لگانے والے کون لوگ ہیں وہ ثقہ ہیں یا نہیں اسی طرح انہوں نے خود یہ بات دیکھی ہے یا نہیں اس لئے امام مالک رحمہ اللہ کی یہ جرح بھی بغیر شہادت و ثبوت کے ہے اس لئے غیر مسموع ہے۔
    اور اس طرح کے چیزوں کا ماخذ راوی کی روایات نہیں ہوتی ہیں بلکہ اس کے لئے شہادت وثبوت کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا اگر کوئی محدث بغیر شہادت وثبوت کے اس طرح کا الزام لگائے تو اسے رد کردیا جاتا ہے۔بعض محدثین پر گانا باجا وغیرہ سننے کا بھی الزام ہے لیکن چونکہ اس سے متعلق کوئی گواہی اور ثبوت موجود نہیں ہے اس لئے اہل فن نے اس طرح کے الزامات کو رد کردیا ہے۔
    یہی حال امام ابوداؤد کے تبصرہ کا بھی ہے اس کی بنیاد ابولحویرث کی طرف منسوب عقیدہ و عمل ہے اور ابوالحویرث سے اس طرح کے عقیدہ یا اس طرح کے عمل کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ۔ لہذا اصل بنیاد منہدم ہونے کے سبب یہ جرح بھی منہدم ہے۔
    زبیرعلی زئی صاحب لکھتے ہیں:
    حافظ ذہبی نے بھی عمروبن یحیی کو ابن معین کی طرف منسوب غیرثابت جرح کی وجہ سے دیوان الضعفاء والمتروکین (٢/ ٢١٢ت ٩٢٢٣) وغیرہ میں ذکرکیا ہے اوراصل بنیاد منہدم ہونے کی وجہ سے یہ جرح بھی منہدم ہے [الحدیث :95 ص 82]۔
    نیز ان باتوں کو نقل کرنے والے ابوعبید الاجری ہیں اور بعض کے نزدیک ابوعبید الآجری مجہول ہیں اس لئے ان کے اصول کے تحت یہ باتیں ثابت ہی نہیں۔اس کے علامہ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے امام مالک کی یہ بات کس کے ذریعہ سنی ہے اس کا بھی نام نہیں بتایا ہے لہٰذا امام مالک سے بھی یہ بات بسند صحیح ثابت نہیں ہے۔اور امام ابوداؤد نے اپنے الزام کا بھی کوئی حوالہ نہیں دیا ہے کہ یہ بات انہیں کیسے معلوم ہوئی۔لہٰذا ان سب باتوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

    اب اس رافضی کے ذکر کردہ دیگر اقوال اور اس کے ساتھ ساتھ زبیرعلی زئی صاحب کی پیش کردہ جروح اسی طرح بعض دیگر اقوال جرح پرتبصرہ ملاحظہ ہو:

    امام مالک رحمہ اللہ۔
    امام ابن أبي حاتم رحمه الله (المتوفى327)نےکہا:
    أنا عبد الله بن أحمد بن محمد ابن حنبل فيما كتب إلى قال قال أبي: أبو الحويرث روى عنه سفيان الثوري وشعبة، فقلت إن بشر بن عمر زعم أنه سأل مالك بن أنس عنه فقال: ليس بثقة، فأنكره فقال: لا وقد حدث عنه شعبة.[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم 5/ 284 وسندہ صحیح]۔
    امام مالک رحمہ اللہ جرح کرنے میں متشدد ہیں اور آپ کی جرح غیر مفسر ہے اوراس کے ساتھ ساتھ جمہورمحدثین کے خلاف بھی ہے بھی لہٰذا غیرمسموع ہے اسی لئے امام احمدرحمہ اللہ نے اسے ردکردیاہے۔

    بعض لوگ کہتے ہیں کہ ’’امام احمد رحمہ اللہ کی توثیق کا مدار امام شعبہ کی توثیق پر ھے اور اگر امام شعبہ کا قول امام مالک کے تعارض میں آجائے تو امام مالک کے قول کا اعتبار کیا جائے گا نہ کہ امام شعبہ کے قول کا‘‘
    عرض ہے کہ:
    یہاں امام مالک کے بالمقابل امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ کی توثیق کئی لحاظ سے راجح ہے۔
    • 1: امام مالک رحمہ اللہ کی جرح غیرمفسر ہے اور توثیق کے خلاف جرح غیرمفسر ناقابل قبول ہے۔
    • 2: امام شعبہ رحمہ اللہ امام مالک رحمہ اللہ سے زیادہ متشدد ہیں بلکہ اس قدر متشدد ہیں کہ مدلسین کی وہی احادیث روایت کرتے تھے جن میں ان کے سماع کی صراحت ہو اوریہ خوبی امام مالک سے منقول نہیں ہے ثابت ہوا کہ امام شعبہ رحمہ اللہ امام مالک سے زیادہ متشدد ہیں اورجب ایک متشدد توثیق کردے تو اس کی توثیق زیادہ اہم ہوتی ہے بالخصوص متشدد کے خلاف ۔
    • 3: یہاں صرف جرح وتعدیل کا تعارض نہیں بلکہ جرح کا انکار اوراس پررد ہے۔
    • یعنی صرف یہ بات نہیں ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے ایک راوی کو ضعیف کہا اور اسی راوی کو امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ نے ثقہ کہا ہے۔اوردونوں میں تعارض ہے۔بلکہ معاملہ یہ ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ نے براہ راست امام مالک کی جرح کی تردید کی ہے۔یعنی ایک ناقد امام نے ایک دوسرے ناقد امام کی جرح کو رد کردیا ہے لہٰذا یہاں صرف تعارض کی بات نہیں ہے بلکہ جرح کی تردید کی بات ہے۔ اور یہ بہت اہم بات ہے یہ بات عبدالرحمن بن معاویہ کی توثیق کو مزید راجح قراردیتی ہے کیونکہ یہ ترجیح ایک بہت بڑے ناقد امام کی طرف سے مل رہی ہے۔
    • 4: جیساکہ اوپر ذکر کیا گیا کہ امام مالک رحمہ اللہ کی طرف یہ بھی منسوب ہے کہ وہ ابوالحویرث پر ہجڑے پن کی لگائی گئی بے بنیاد تہمت کی وجہ سے ان سے روایت لکھنے کو معیوب سمجھتے تھے اگر یہ بات ثابت ہوجائے تو یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ امام مالک رحمہ اللہ نے ایسی چیز کی بنا پرجرح کی ہے جو بے بنیاد ہے ۔لہٰذا یہ جرح غیرمسموع ہے۔
    یادرہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے امام المغازی محمدبن اسحاق رحمہ اللہ پر بھی شدید جرح کی ہے لیکن اہل علم نے اسے رد کردیا ہے کیونکہ یہ صحیح بنیاد پرقائم نہیں ہے۔



    امام ابوحاتم رحمہ اللہ:
    امام ابن أبي حاتم رحمه الله (المتوفى327)نے کہا:
    سألت أبي عن أبي الحويرث فقال: ليس بقوي يكتب حديثه ولا يحتج به[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 5/ 284]۔
    اول تو یہ جرح جمہورکے خلاف ہے، دوم ثابت شدہ توثیق کے بالمقابل ابوحاتم کا یہ جملہ غیرمسموع ہے کیونکہ وہ متشدد ہیں اورثٖقات کے بارے میں بھی یہ جملہ عام طورپربولتے ہیں:
    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
    إِذَا وَثَّقَ أَبُو حَاتِمٍ رَجُلاً فَتَمَسَّكْ بِقَولِهِ، فَإِنَّهُ لاَ يُوَثِّقُ إِلاَّ رَجُلاً صَحِيْحَ الحَدِيْثِ، وَإِذَا لَيَّنَ رَجُلاً، أَوْ قَالَ فِيْهِ: لاَ يُحْتَجُّ بِهِ، فَتَوَقَّفْ حَتَّى تَرَى مَا قَالَ غَيْرُهُ فِيْهِ، فَإِنْ وَثَّقَهُ أَحَدٌ، فَلاَ تَبْنِ عَلَى تَجْرِيْحِ أَبِي حَاتِمٍ، فَإِنَّهُ مُتَعَنِّتٌ فِي الرِّجَالِ ، قَدْ قَالَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ رِجَالِ (الصِّحَاحِ): لَيْسَ بِحُجَّةٍ، لَيْسَ بِقَوِيٍّ، أَوْ نَحْو ذَلِكَ.
    جب امام ابوحاتم کسی راوی کو ثقہ کہہ دیں تو اسے لازم پکڑلو کیونکہ وہ صرف صحیح الحدیث شخص ہی کی توثیق کرتے ہیں اور جب وہ کسی شخص کو ’’لین‘‘ قرار دیں یا اس کے بارے میں یہ کہیں کہ ’’اس سے حجت نہیں پکڑی جائے گی ‘‘ تو اس جرح میں توقف اختیار کرو یہاں تک کہ دیکھ لو کہ دوسرے ائمہ نے اس کے بارے میں کیا کہا ہے ، پھر اگر کسی نے اس راوی کی توثیق کی ہے تو ابو حاتم کی جرح کا اعتبار مت کرو کیونکہ وہ رواۃ پر جرح کرنے میں متشدد ہیں ، انہوں نے صحیحین کے کئی راویوں کے بارے میں یہ کہہ دیا کہ : ’’یہ حجت نہیں ہیں ، یہ قوی نہیں ہیں ،وغیرہ وغیرہ [سير أعلام النبلاء للذهبي: 13/ 260]۔
    امام زيلعي رحمه الله (المتوفى762)نے کہا:
    قَوْلُ أَبِي حَاتِمٍ: لَا يُحْتَجُّ بِهِ، غَيْرُ قَادِحٍ أَيْضًا، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ السَّبَبَ، وَقَدْ تَكَرَّرَتْ هَذِهِ اللَّفْظَةُ مِنْهُ فِي رِجَالٍ كَثِيرِينَ مِنْ أصحاب الثِّقَاتِ الْأَثْبَاتِ مِنْ غَيْرِ بَيَانِ السَّبَبِ، كَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ، وَغَيْرِهِ، وَاَللَّهُ أَعْلَمُ.
    امام ابوحاتم کا یہ فرمانا: ’’اس سے حجت نہیں لی جائے گی ‘‘ غیر قادح ہے، کیونکہ انہوں نے سبب ذکر نہیں کیا اوراس طرح کی جرح ان سے بغیر کسی تفسیر کے بڑے بڑے ثقات کے بارے میں صادر ہوئی ہے جیسے خالد الحذاء وغیرہ واللہ اعلم[نصب الراية للزيلعي: 2/ 439]۔

    امام نسائی رحمہ اللہ :
    آپ نے کہا:
    عبد الرَّحْمَن بن مُعَاوِيَة أَبُو الْحُوَيْرِث لَيْسَ بِثِقَة
    عبدالرحمن بن معاویہ ابوالحویرث ثقہ نہیں ہیں[الضعفاء والمتروكون للنسائي: ص: 68]۔
    امام نسائی بھی متشددین میں سے ہیں نیز ان کی جرح غیرمفسر ہونے کے ساتھ ساتھ جمہورکے خلاف ہے لہٰذا غیرمسموع ہے۔

    امام زکریا بن یحیی الساجی رحمہ اللہ
    آپ نے ابو الحویرث کو اپنی کتاب الضعفاء میں ذکر کیا ہے۔ [بحوالہ: اکمال تہذیب الکمال للمغلطائی 8/229]
    عرض ہے کہ ضعفاء کے مؤلفین کبھی کبھی ثقہ رواۃ کو بھی ضعفاء میں ذکر کردیتے ہیں یہ بتانے کے لئے ان پرفلان نے یہ جرح کی ہے اور ان کا مقصد اس راوی کو ضعیف بتلانا نہیں ہوتا ہے اورامام ساجی نے اس راوی کو ضعفاء میں کس طرح ذکر کیا ہے یہ معلوم نہیں ہے کہ ان کی کتاب مفقود ہے اور ان کے الفاظ کو بھی کسی نے نقل نہیں کیا ہے۔

    امام بوصيري رحمه الله :
    آپ فرماتے ہیں:
    رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ بِسَنَدٍ ضَعِيفٌ لِضَعْفِ أَبِي الْحُوَيْرِثِ
    اسے ابویعلی موصلی نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے کوینکہ ابوالحویرث یہ ضعیف ہے[إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة : 7 / 195 ]
    یہ جرح بھی غیرمفسرہے نیز جمہور اور کبار ائمہ فن کے خلاف ہے۔



    اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ صرف پانچ محدثین سے عبدالرحمن بن معاویہ کی تضعیف ثابت ہے اور ان پانچ میں چار محدثین جرح میں متشدد ہیں اور انہوں نے یہاں مفسر جرح نہیں کی ہے اور پانچویں امام بوصیری ہیں جو بہت بعد کے اور متاخر عالم ہیں ۔
    اس کے برخلاف بیس (20) محدثین سے اس راوی کی توثیق ثابت ہے جیساکہ تفصیل آگے آرہی ہے
     
  2. ‏دسمبر 04، 2013 #2
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,818
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    درج ذیل اقوال سے تضعیف ثابت نہیں ہوتی


    امام ابن معین رحمہ اللہ۔
    امام ابن أبي حاتم رحمه الله نے کہا:قرئ على العباس بن محمد الدوري عن يحيى بن معين أنه قال: أبو الحويرث ليس يحتج بحديثه
    ابوالحویرث سے حجت نہیں لی جائے گی[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 5/ 284]۔
    ابن معین کے صرف ایک شاگردنے جرح نقل کی ہے بکہ ان کے تین شاگردوں نے توثیق نقل کی ہے کما سیاتی لہٰذا ان کی توثیق ہی راجح ہے۔
    ایک شخص نے راقم الحروف پراعتراض کرتے ہوئے لکھا کہ:
    ’’پھر اس کی سب سے اچھی تطبیق یہ ہے کے یحیی بن معین رحمہ اللہ کے "ثقہ" کہنے سے ایسا شخص بھی مراد ہوتا ہے جو کذاب نہ ہو، لحاظ یہاں ان کی یہی مراد ہے۔ اور کفایت اللہ بھی اس بات کے قائل ہیں‘‘
    عرض ہے ہے کہ ابن معین رحمہ اللہ کے اقوال میں یہ تطبیق بھی ہوسکتی ہے اور ہم اس کے قائل بھی ہیں لیکن ہم نے یہاں یہ تطبیق اس لئے نہیں اختیار کی کہ ہمیں قرینہ یہ مل رہا ہےکہ توثیق کا قول ہی راجح ہے کیونکہ جرح کا قول صرف ایک شاگرد نے نقل کیا ہے اور توثیق کا قول تین شاگرد نے نقل کیا ہے کما سیاتی اوراصول حدیث میں یہ بات آپ کو بھی معلوم ہوگی ثقہ اوثق یا اکثر کے خلاف روایت کرے تو اوثق یا اکثر کی بات ہی لی جائے گی اور ثقہ کے تفرد کو رد کردیا جائے گا ، اور اسی اصول پر ہم نے یہاں بھی عمل کیا ہے۔

    امام ابن عدي رحمه الله
    آپ نے کہا:
    وأبو الحويرث هذا ليس له كثير حديث ومالك أعلم به لأنه مدني ولم يرو عنه شيئا
    ابوالحویرث کی زیادہ احادیث نہیں ہیں ، اورامام مالک ان کے بار ے میں بہتر جانتے ہیں کہ وہ مدنی ہیں اورانہوں نے اس سے روایت نہیں کیا[الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 5/ 502]۔
    ان کی جرح کی بنیاد امام مالک کی جرح ہے ان کو اس راوی کی مرویات زیادہ ملی ہی نہیں لہٰذا ان کی یہ کوئی اپنی تحقیق نہیں ہے جیساکہ انہوں نے خود یہ کہہ کر واضح کردیا ہے کہ اس کی احادیث زیادہ نہیں ہیں اس لئے جب ابن عدی رحمہ اللہ اپنی تحقیق کی نفی کررہے ہیں تو انہیں جارحین کی فہرست میں نہیں گنایا جاسکتا ۔ اگر امام ابن عدی رحمہ اللہ نے اپنی تحقیق کی نفی کے بغیر امام مالک کی جرح کا حوالہ دیا ہوتا کہا جاسکتا تھا کہ امام ابن عدی نے خود تحقیق کی ہے اور امام مالک کا قول بطور تائید پیش کیا لیکن یہاں ایسا معاملہ نہیں ہے۔اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں۔

    زبیرعلی زئی صاحب نے کہا:
    ’’اس کلام میں حافظ ابن عدی امام مالک کے مکمل مؤید ہیں لہٰذا ان کی طرف سے بھی ابوالحویرث پر’’لیس بثقۃ ‘‘ والی جرح نافذ ہے۔[الحدیث: 107 ص 46]۔
    عرض ہے کہ زبیرعلی زئی صاحب کو امام ابن عدی رحمہ اللہ کی عبارت سمجھنے میں غلطی لگی ہے ، امام ابن عدی رحمہ اللہ نے امام مالک کی مکمل تائید تو دور کی بات ، سرے سے تائید ہی نہیں کی ہے بلکہ ان کی جرح پر اعتماد کیا ہے اور کسی کی تائید کرنا اور کسی پراعتماد کرنے میں بعدزمیں و آسمان کا فرق ہے۔
    دراصل ناقدین جب کسی راوی سے متعلق جرح وتعدیل کا فیصلہ کرتے ہیں تو راوی کی مرویات کا مطالعہ کرتے ہیں امام ابن عدی کا بھی اپنی کتاب الکامل میں یہی طرزعمل ہے ۔اورزیربحث راوی سے متعلق امام ابن عدی نے صاف طور سے کہہ دیا کہ ان کی روایات زیادہ نہیں ہیں یعنی امام ابن عدی کو زیربحث راوی کی اتنی روایات ملی ہی نہیں کہ وہ کوئی فیصلہ کرسکیں اس لئے انہوں نے اس سلسلے میں امام مالک کی جرح نقل کی اور یہ کہا کہ یہ مدنی ہیں اور امام مالک بھی مدنی ہیں اس لئے امام مالک ان کے بارے میں زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔
    یہاں تائید کی سرے سے کوئی بات ہی نہیں ہے بلکہ بات امام مالک کی پیروی کی ہے یعنی امام ابن عدی رحمہ اللہ نے امام مالک کی پیروی کی ہے۔اوراس پیروی کو تائید سمجھ لینا غلط فہمی پر مبنی ہے۔


    امام ابو جعفر العقیلی رحمہ اللہ
    آپ نے کہا:
    عبد الرحمن بن معاوية أبو الحويرث حدثنا محمد بن أحمد قال: حدثنا العباس قال: سمعت يحيى قال: أبو الحويرث ليس يحتج بحديثه. حدثنا محمد بن إسماعيل قال: حدثنا الحسن بن علي، ح وحدثنا عبد الله بن أحمد قال: حدثنا عباس بن عبد العظيم، ح وحدثنا زكريا بن يحيى قال: حدثنا محمد بن المثنى قالوا: حدثنا بشر بن عمر قال: سألت مالكا عن أبي الحويرث، فقال: ليس بثقة، قال عبد الله: قال أبي: روى عنه سفيان وشعبة، وأنكر أبي هذا من قول مالك
    عبدالرحمن بن معاویہ کے بارے میں امام ابن معین نے کہا: ’’ اس سے حجت نہیں لی جائے گی‘‘ ۔ بشربن عمرنے کہا کہ: میں امام امالک سے ابوالحویرث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ’’ یہ ثقہ نہیں ہے‘‘۔ امام احمد رحمہ اللہ کے بیٹے عبداللہ نے کہا کہ: میرے والد احمدبن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایاکہ : عبدالرحمن بن معاویہ سے امام سفیان اور امام شعبہ نے روایت کیا ہے ۔ اس کے بعد میرے والد نے امام لک کے قول کی تردید کی :الضعفاء الكبير للعقيلي: 2/ 344]

    امام ابن الجوزی رحمہ اللہ
    آپ نے کہا:
    عبد الرحمن بن معاوية أبو الحويرث الرزقي المديني يروي عن ابن عباس قال مالك والنسائي ليس بثقة وقال يحيى والرازي لا يحدث بحديثه وقال مرة ثقة وقال أحمد روى عنه سفيان وشعبة وانكر قول مالك قال المصنف قلت وثم آخران يقال لهما عبد الرحمن بن معاوية لا نعرف فيهما طعنا
    عبدالرحمن بن معاویہ کے بارے میں امام مالک اور امام نسائی نسائی نے کہا : یہ ثقہ نہیں ہیں ۔ امام ابن معین اورا امام رازی نے کہا: ان سے حدیث نہ بیان کی جائے ۔ اور دوسرے مقام پرامام ابن معین نے انہیں ثقہ بھی کہا ۔ امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا: ان سے سفیان اور امام شعبہ نے ان سے روایت بیان کی ہے، اور اس کے بعد امام احمد رحمہ اللہ نے امام مالک کے قول کی تردید کی ۔ابن الجوزی کہتے ہیں کہ عبدالرحمن بن معاویہ نام کے دو اورشخص ، ہم ان کے بارے میں کوئی جرح نہیں جانتے[الضعفاء والمتروكين لابن الجوزي: 2/ 100]

    عرض ہے کہ امام عقیلی اور امام ابن الجوزی رحمہما اللہ کو جارحین کی فہرست میں گنانا درست نہیں کیونکہ انہوں نے اسے ضعفاء میں نقل کرنے کے بعد اپنا کوئی فیصلہ نہیں پیش کیا ہے بلکہ ان سے متعلق جرح وتوثیق دونوں طرح کی بات نقل کی ہے جیساکہ اوپر ہم نے ان کے الفاظ نقل کئے ہیں۔
    بلکہ غور کریں کہ دونوں نے زیر بحث راوی سے متعلق جرح نقل کرنے کے بعد اخیرمیں امام احمد سے اس کی تردید نقل کی ہے اوراس میں اس بات کا بھی احتمال ہے کہ یہ ان کی تضعیف کو غیرمعتمدسمجھتے ہیں۔
    دراصل ضعفاء کے مصنفین اگرکسی راوی کو ضعفاء میں نقل کردیں تو اس کا یہ لازمی مطلب نہی ہوتا کہ ان کی نظر میں یہ راوی ضعیف ہی ہے بلکہ ضعفاء کے مصنفین ثقہ رواۃ کا تذکرہ بھی ضعفاء میں یہ بتانے کے لئے کرتے ہیں کہ ان پرجرح بھی ہوئی ہے۔
    بلکہ ابن الجوزی رحمہ اللہ کے آخری جملہ پر غور کیجئے کہتے ہیں کہ ’’عبدالرحمن بن معاویہ‘‘ نام کے دو راوی اور ہیں اورہم ان کے بارے میں کوئی جرح نہیں جانتے ‘‘ گویا کہ اس کتاب میں الجوزی کا مقصد صرف یہی ہے کہ ان رواۃ کا تذکرہ کیا جائے جن پرجرح ہوئی ہے قطع نظر اس کے کہ وہ جرح مقبول ہے یا مردود ۔
    الغرض یہ کہ محض ضعفاء میں ذکر کردینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ذکر کرنے والے کے نزدیک یہ ضعیف ہے۔اس لئے ثابت شدہ توثیق کے خلاف اس طرح کے حوالے غیرمسموع ہیں ۔اس کے ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ امام عقیلی اور ابن الجوزی دونوں متشددین میں سے ہیں۔

    امام أبو أحمد الحاكم رحمه الله
    آپ نے کہا:
    ليس بالقوي عندهم
    یہ محدثین کے نزدیک بہت زیادہ قوی نہیں ہیں[الأسامي والكنى لأبي أحمد الحاكم: 4/ 50]

    امام ابن عبد البر رحمه الله
    آپ نے کہا:
    آپ نے فرمایا: "ليس بالقوي عندهم"
    یہ محدثین کے نزدیک بہت زیادہ قوی نہیں ہیں[الاستغناء في معرفة بالكني لابن عبدالبر:ت 633]

    عرض ہے کہ امام ابواحمد الحاکم اور امام ابن عبدالبر رحمہماللہ کے یہ اقول اس راوی کی تضعیف پردلالت نہیں کرتے کیونکہ ان دونوں ائمہ نے ’’ لیس بقوی ‘‘ نہیں بلکہ ’’لیس بالقوی ‘‘ کہاہے اور ان دونوں صیغوں میں فرق ہے ۔’’لیس بقوی ‘‘ بے شک راوی کے ضعیف ہونے پردلالت کرتا ہے لیکن ان دونوں ائمہ نے ’’لیس بقوی‘‘ نہیں کہا ہے بلکہ ’’لیس بالقوی‘‘ کہا ہے اور یہ ضعیف پر دلالت نہیں کرتا چنانچہ:

    امام دارقطني رحمه الله (المتوفى385) نے کہا:
    وهو إسناد متصل حسن إلا أن ابن عقيل ليس بالقوي
    یہ سند متصل اورحسن ہے مگر ابن عقیل بہت زیادہ قوی نہیں ہے[علل الدارقطني: 1/ 129]
    غورکریں کہ یہاں امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ابن عقیل کو لیس بالقوی بھی کہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کی سند کو حسن بھی کہا ہے ۔ معلوم ہوا کہ کسی راوی کا لیس بالقوی ہونا اس کے حسن الحدیث ہونے کے منافی نہیں ہے۔

    امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
    ليس بالقوي ليس بجَرْحٍ مُفْسِد
    لیس بالقوی فاسد جرح نہیں ہے[الموقظة في علم مصطلح الحديث ص: 82]

    امام الجرح والتعدیل علامہ معلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    وكلمة «ليس بالقوي» إنما تنفي الدرجة الكاملة من القوة،
    ’’لیس بالقوی‘‘ کے الفاظ سے کامل درجے کی قوت کی نفی ہوتی ہے[التنكيل بما في تأنيب الكوثري من الأباطيل 1/ 442]۔

    عظیم محدث علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    وأما الآخر فهو قول أبي حاتم ليس بالقوي: فهذا لا يعني أنه ضعيف لأنه ليس بمعني ليس بقوي، فبين هذا وبين ما قال فرق ظاهر عند أهل العلم
    امام ابوحاتم کے قول ’’لیس بالقوی‘‘ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ضعیف ہے کیونکہ یہ ’’لیس بقوی‘‘ کے معنی میں نہیں ہے ۔اور اہل علم کے نزدیک ان دونوں کے درمیان واضح فرق ہے۔[النصيحة بالتحذير من تخريب ابن عبد المنان لكتب الأئمة الرجيحة للشیخ الالبانی ص 183]۔

    مولانا عبد الحئی لکھنوی فرماتے ہیں:
    مجرد الجرح بکون الراي ليس بالقوي لا ينافي كون حديثه حسناً ان لم يكن صحيحاً
    راوی پر محض ’’لیس بالقوی ‘‘ کی جرح اس کی حدیث کے صحیح نہیں تو کم از کم حسن ہونے کے منافی نہیں ہے[غيث الغمام على حواشي إمام الكلام 4/ 29]

    خود حافظ زبیرعلی زئی لکھتے ہیں:
    تیسرے یہ کہ القوی نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ قوی بھی نہیں ہے، واللہ اعلم" [نور العینین،طبع جدید، ص 38]۔

    امام ذہبی رحمہ اللہ
    آپ نے کہا:
    ضعف
    یعنی ان کی تضعیف کی گئی ہے[الکاشف: 1/ 644]۔
    عرض ہے کہ امام ذہبی نے صیغہ تمریض سے تضعیف کا ذکر کیا اوراس کے بعد آنے والے راوی عبدالرحمن بن معقل کی توثیق بھی صیغہ تمریض سے ذکر کی ہے اور آپ کاشف میں صیغہ تمریض سے تضعیف یا توثیق کا ذکر کریں تو یہ اشارہ ہوتا ہے کہ یہاں تضعیف یا توثیق معتبرنہیں ہے۔
    چنانچہ علامہ البانی رحمہ اللہ ایک مقام پر فرماتے ہیں:
    ولذلك أشار الذهبي في " الكاشف " إلى أن التوثيق المذكور غير موثوق به، فقال : " وثق "
    اسی لئے امام ذہبی رحمہ اللہ نے ’’کاشف‘‘ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مذکورہ توثیق غیرمعتبرہے چنانچہ انہوں نے صیغہ تمریض کے ساتھ کہا ’’ان کی توثیق کی گئی ہے‘‘[سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة 3/ 377]۔
    علامہ البانی کی اس عبارت سے معلوم ہواکہ امام ذہبی جب ''وثق '' کہیں تو اس بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ اس راوی کی جوتوثیق کی گئی ہے وہ غیر معتبرہے ۔یہی معاملہ تضعیف میں صیغہ تمریض کا بھی ہونا چاہئے۔یہیں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امام ذہبی نے رجال ابن ماجہ میں جو ’’لین‘‘ کہا ہے اس سے بھی ہلکی جرح مراد ہے۔

    حافظ ابن الملقن رحمہ اللہ
    آپ ایک حدیث پر حکم لگاتے ہوئے فرماتے ہیں:
    وفي إسناده اثنان قد ضعفا ، أحدهما : أبو الحويرث ؛ الثاني : أبو معشر نجيح
    اس کی سند میں دو لوگ ہیں جن کی تضعیف کی گئی ہے ان میں سے ایک ابولحویرث ہے اوردوسے ابو معشر نجیح ہیں [البدر المنیر: 2/8]۔

    یہاں پر ابن الملقن نے محض ابوالحویرث کی وجہ سے حدیث کی تضعیف نہیں کی ہے بلکہ اس کے ساتھ ایک اور راوی ابو معشر کے ضعف کا بھی تذکرہ کیا ہے علاوہ بریں یہ نقد ایک مرسل سند پر ہے اور اس میں ارسال بھی ایک ضعف ہے ، یعنی اس سند میں کوئی طرح کے ضعیف موجود ہیں ۔
    اورجب سند میں کئی ضعف ہوں تو بعض غیرقادح ضعف کا بھی تائیدا ذکر کردیا جاتا ہے گرچہ وہ ضعف منفرد ہونے کی صورت میں روایت کی تضعیف کے لئے کافی نہ ہو ۔ علامہ البانی رحمہ اللہ کے سلسلتین میں ایسی متعدد مثالیں دیکھی جاسکتی ہیں۔
    لہٰذا ممکن ہے کہ یہاں پر ابن الملقن نے محض ضعف کی تائید میں ابوالحویرث کی تضعیف کاحوالہ دیا ہو ، بلکہ یہ جان کر یہ بات طے ہوجاتی ہے کہ دوسرے مقام پر خود ابن الملقن نے ہی ابوالحویرث کی حدیث کو صحیح بھی کہا ہے چنانچہ ایک دوسرے مقام پر آپ نے فرمایا:
    قَالَ الْحَاكِم : هَذَا حَدِيث صَحِيح عَلَى شَرط الشَّيْخَيْنِ وَلم يخرجَاهُ . وَهُوَ كَمَا قَالَ
    حاکم نے کہا کہ : یہ حدیث شیخین کی شرط پرہے اور انہوں نے اس کی تخریج نہیں کیا ہے ‘‘ امام ابن الملقن نے کہا ہے : یہ حدیث اسی طرح ہے جس طرح حاکم نے کہا ہے [البدر المنير لابن الملقن: 4/ 278]
    یہ حدیث عبدالرحمن بن معاویہ ابوالحویرث ہی کے ۔اس سے معلوم ہوا کہ ابن الملقن کے نزدیک اصل میں ابو الحویرث کی توثیق ہی راجح ہے۔

    امام ابن كثير رحمه الله
    آپ نے ابوالحویرث کی ایک مرسل روایت کے بارے میں کہا:
    هذا مُرْسَل ، أبو الحُوَيْرِثِ : اسمُهُ عبدُالرحمن بنُ مُعاويةَ فيهِ ضعفٌ
    یہ حدیث مرسل ہے اورابولحویرث کا نام عبدالرحمن بن معاویہ ہے اس میں ضعف ہے[إرشاد الفقيه لابن کثیر: 1/ 204]

    عرض ہے کہ اس سند کے ضعیف ہونے کے لئے اس کا مرسل ہونا ہی کافی ہے اور اس کے بعد امام ابن کثیر رحمہ اللہ ابولحویرث کا تعارف پیش کیا اور اس کا پورا نام بتایا ہے اور چونکہ اس پر بعض محدثین نے جرح کی ہے اس لئے تعارف پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اس میں ضعف ہے ۔ یہ جملہ راوی کی مطلق تضعیف پر ہرگز دلالت نہیں کرتا ، اس سے صرف اور صرف یہ معلوم ہوتا کہ اس راوی میں ضعف ہے لیکن کیا یہ ضعف اس قدر ہے کہ راوی کو ضعیف بنادے ؟ اس بات کی صراحت یہاں نہیں ہے۔ لہٰذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ کے نزدیک یہ راوی ضعیف ہے۔

    حافظ ابن حجر رحمه الله
    آپ نے کہا: صدوق سيء الحفظ رمي بالإرجاء
    ابوالحویرث سچے ہیں ، برے حافظہ والے ہیں ان پر ارجاء کی تہمت لگائی گئی ہے۔[تقريب التهذيب لابن حجر: رقم4011]
    عرض ہے کہ ارجاء کی تہمت کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔اور اس طرح کے الزامات سے راوی کی ثقاہت پر کوئی فرق بھی نہیں پڑتا ۔
    رہا حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے انہیں صدوق تو کہا ہے اورصدوق راوی حسن الحدیث ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے انہیں جو سیی الحفظ کہا ہے توخود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ سی الحفظ سے ضعیف مراد نہیں لیتے بلکہ ایسے راوی کو وہ حسن الحدیث مانتے ہیں ۔
    چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ایک مقام پر فرماتے ہیں:
    وابن عقيل سيء الحفظ يصلح حديثه للمتابعات فأما إذا انفرد فيحسن
    ابن عقیل سیئ الحفظ ہیں ان کی حدیث متابعات کے قابل ہوں گی اور جب یہ منفرد ہوں گے تو ان کی حدیث حسن ہوگی [تلخيص الحبير 2/ 108]۔
    معلوم ہوا کہ صدوق سیء الحفظ راوی حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے نزدیک حسن الحدیث ہوتا ہے۔
    اب اگرکسی مقام پر یہ ملتاہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس راوی کو ضعیف کہا ہے تو ان کی تضعیف اس توثیق کے معارض ہوگی پھر بعض لوگوں کے اصول کے مطابق دونوں اقوال ساقط ہوجائیں گے۔

    بعض معاصرین کا موقف

    ایک صاحب نے لکھا:
    عرض ہے کہ انہیں دونوں شخصیات علامہ البانی رحمہ اللہ اور شیخ شعیب الارنووط نے نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے سے متعلق ابن خزیمہ والی حدیث کے راوی ''مؤمل بن اسماعیل '' کو بھی ضعیف کہا ہے ۔ چنانچہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے کہا:
    مؤمل ابن إسماعيل فإنه ضعيف لسوء حفظه وكثرة خطإه
    مؤمل بن اسماعیل یہ برے حافظہ اور بکثرت غلطیاں کرنے کے سبب ضعیف ہے[سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة 2/ 293]۔

    اور شیخ شعیب الارنووط نے کہا:
    ومؤمل بن إسماعيل ضعيف
    اورمؤمل بن إسماعيل ضعیف ہے[مسند أحمد: 30/ 402]

    اب کیا خیال ہے ؟ کیا مؤمل بن اسماعیل کو ضعیف تسلیم کرلیا جائے ؟ زبیرعلی زئی صاحب نے تو مؤمل بن اسماعیل کی توثیق پر مکمل ایک مقالہ تحریر کیا ہے۔ کیا انہیں نہیں معلوم تھا کہ علامہ البانی رحمہ اللہ اور شعیب الارنووط نے تو مؤمل بن اسماعیل کو ضعیف کہا ہے ؟
    اگر کہا جائے کہ مؤمل بن اسماعیل کے بارے میں علامہ البانی وغیرہ کا ضعیف کہنا درست نہیں ہے تو عرض ہے کہ عبدالرحمن بن معاویہ کے بارے میں بھی علامہ البانی وغیرہ کا ضعیف کہنا درست نہیں ۔
    یاد رہے خود علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی ایک مقام پر عبدالرحمن بن معاویہ کی ایک منفرد حدیث کو حسن قرار دیا ہے چنانچہ آپ نے ارواء الغلیل میں کہا:
    وأما حديث سهل بن سعد فقال: " ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم شاهرا يديه قط يدعو على منبره , ولا على غيره , ولكن رأيته يقول هكذا وأشار بالسبابة وعقد الوسطى والإبهام ".أخرجه أبو داود (1105) بإسناد حسن.
    یعنی سہل بن سعد کو جویہ حدیث ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر یا اس کے علاوہ دعا کرتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں کرتے تھے اور اشارہ کر کے دکھایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انگشت شہادت اٹھاتے اور درمیانی انگلی اور انگھوٹھے کا حلقہ بنا لیتے۔ اسےسے امام ابوداؤد نے حدیث نمبر1105 کے تحت حسن سند سے روایت کیا ہے۔[إرواء الغليل للألباني: 3/ 77]

    زبیرعلی زئی صاحب کا اصول ہے جب ایک ہی راوی سے متعلق کسی امام سے دو طرح کے فیصلہ ملیں تو دونوں ساقط ہیں ، اس اصول پر ایمان رکھنے والوں کو زیربحث راوی کی تضعیف میں علامہ البانی رحمہ اللہ کا حوالہ نہیں دینا چاہئے۔کیونکہ ایک مقام پر علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس راوی کی حدیث کو حسن بھی کہا ہے۔

    کچھ لوگ علامہ البانی اور شیخ شعیب الارنووط کا حوالہ دکے کر شاید یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ عصر حاضر کے محققین بھی زیربحث راوی کو ضعیف ہی مانتے ہیں ۔
    جب کہ حقیقت ایسی نہیں خود علامہ البانی رحمہ اللہ ہی سے ہم نے اس راوی کی حدیث کی تحسین پیش کردی ہے ۔

    اس کے علاوہ عصر حاضر میں ایک عظیم محدث علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ بھی گذرے ہیں آپ نے زیربحث راوی عبدالرحمن بن معاویہ کو متعدد مقامات پر ثقہ قرار دیا ہے اور اس پر کی گئی جروح کو مردود قرار دیا ہے۔چنانچہ ایک مقام پر لکھتے ہیں:
    أبو الحويرث: هو عبد الرحمن بن معاوية بن الحويرث الأنصاري، اختلف فيه، والراجع أنه ثقة، وثقه يحيى بن معين وروى عنه شعبة
    ابوالحویرث یہ عبدالرحمن بن معاویہ بن الحویرث الانصاری ہیں ان کے بارے میں اختلاف ہے اور راجح یہی ہے کہ یہ ثقہ ہیں امام ابن معین رحمہ اللہ نے انہیں ثقہ کہا ہے اور امام شعبہ رحمہ اللہ نے ان سے روایت لی ہے۔[مسند أحمد ت شاكر 1/ 182]۔
    اوراس کے علاوہ معاصرین اور محققین بھی ہیں جو عبدالرحمن بن معاویہ کو ثقہ مانتے ہیں۔
     
  3. ‏دسمبر 04، 2013 #3
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,818
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    اقوال مؤثقین


    پہلی توثیق:ازامام شعبة بن الحجاج (المتوفى 160)رحمه الله:

    امام ابن أبي حاتم رحمه الله (المتوفى327)نے کہا:
    عبد الرحمن بن معاوية الزرقي أبو الحويرث المديني روى عن ابن عباس وعلي بن الحسين ونافع بن جبير بن مطعم ومحمد بن عمار المؤذن، روى عنه الثوري وشعبة سمعت أبي يقول ذلك.
    یعنی عبدالرحمن بن معاویہ سے امام شعبہ نے روایت کیا ہے[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 5/ 284]۔
    اورامام شعبہ رحمہ اللہ صرف ثقہ سے روایت کرتے ہیں ،چنانچہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے کہا:
    شیوخ شعبة جیاد.
    شعبہ کے شیوخ حسن الحدیث ہیں[میزان الاعتدال للذہبی:4504]۔
    حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے کہا:
    أن یکون الرجل قد عرف من حالہ أنہ لا یروی لا عن ثقة, فننی أذکر جمیع شیوخہ أو أکثرہم, کشعبة ومالک وغیرہما
    جس کے بارے میں یہ معلوم ہوجائے کہ وہ صرف ثقہ سے روایت کرتے ہیں تو میں ان کے تمام شیوخ یا اکثر شیوخ کا تذکرہ کروں گا جیسے امام شعبہ اورامام مالک وغیرہما[تہذیب التہذیب لابن حجر:51]۔
    ''ابوصدقہ ،توبہ بن عبداللہ'' کوامام ازدی نے ''لایحتج بہ'' کہا تو امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس کی تردیدکرتے ہوئے کہا:
    قلت: ثقة، روی عنہ شعبة
    یعنی: یہ راوی ثقہ ہے کیونکہ امام شعبہ نے اس سے روایت کیا ہے۔[میزان الاعتدال للذہبی: 3611]۔

    حافظ ابن حجر امام ذہبی رحمہ اللہ کی اس عبارت کے بارے میں لکھتے ہیں:
    وقرأت بخط الذہبی: بل ہو ثقة روی عنہ شعبة یعنی وروایتہ عنہ توثیق لہ .
    یعنی :میں نے امام ذہبی کی تحریرپڑھی جس میں امام ذہبی نے مذکورہ راوی کے بارے میں کہا کہ وہ ثقہ ہے کیونکہ امام شعبہ نے اس سے روایت کیا ہے ، یعنی امام شعبہ کا ان سے روایت کرنا ان کی توثیق ہے [تہذیب التہذیب لابن حجر:5161]۔

    دوسری توثیق از امام شافعي(المتوفى204) رحمه الله :
    آپ نے کہا :
    أبو الحويرث ثقة
    ابوالحویرث یعنی عبدالرحمن بن معاویہ ثقہ ہیں[الام للشافعی (اختلاف الحدیث): ج 10 ص 47 ط . دار الوفاء]

    تیسری توثیق: از امام ابن معين (المتوفى233) رحمه الله :

    آپ کے تین شاگردوں نے زیرتذکرہ راوی سے متعلق آپ کی توثیق نقل کی ہے:
    أحمد بن سعد بن أبي مريم رحمه الله (المتوفى253):
    عن يحيى بن معين قال أبو الحويرث ثقة واسمه عبد الرحمن بن معاوية.
    ابوالحویرث ثقہ ہیں ان کا نام عبدالرحمن بن معاویہ ہے[الكامل لابن عدي: 5/ 502 واسنادہ صحیح]۔
    امام ابن أبي خيثمة رحمه الله (المتوفى279)نے کہا:
    سَأَلْتُ يَحْيَى بن مَعِيْن : عن أبي الحويرث ؟ فقال : اسمه عَبْد الرَّحْمَن بن مُعَاوِيَة ، روى عنه ابن عُيَيْنَة ، مدنيٌّ ثقة
    میں نے امام یحیی بن معین سے ابوالحویرث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا ان کانام عبدالرحمن بن معاویہ ہے ان سے ابن عیینہ نے روایت کیا ہے اور یہ مدنی ثقہ ہیں[تاريخ ابن أبي خيثمة 4/ 270]۔
    امام عثمان الدارمي رحمه الله (المتوفى280)نے کہا:
    سألته عن عبد الرحمن بن معاوية الذي يروي عن بن أبي ذباب فقال هو أبو الحويرث ثقة
    میں نے عبدالرحمن بن معاویہ جو ابن ابی ذباب سے روایت کرتے ہیں ان کے بارے میں امام ابن معین رحمہ اللہ سے سوال کیا اتو انہوں نے کہا : یہ ابوالحویرث ثقہ ہیں[تاريخ ابن معين - رواية الدارمي: ص: 168]۔

    چوتھی توثیق:از امام علي بن المديني (المتوفى234)رحمه الله :

    محمد بن عثمان بن أبي شيبة نے کہا:
    سَأَلت عليا عَن أبي الْحُوَيْرِث فَقَالَ كَانَ عندنَا ثقه قد روى عَنهُ الثَّوْريّ وَشعْبَة وسُفْيَان بن عيينه
    میں نے امام علی ابن المدینی سے ابوالحویرث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ ہمارے نزدیک ثقہ تھے ان سے سفیان ثوری اور امام شعبہ اور سفیان بن عیینہ نے روایت لی ہے[سؤالات ابن أبي شيبة لابن المديني: ص: 92]۔

    پانچویں توثیق: ازامام أحمد بن حنبل (المتوفى241)رحمه الله :

    امام ابن أبي حاتم رحمه الله (المتوفى327)نےکہا:
    أنا عبد الله بن أحمد بن محمد ابن حنبل فيما كتب إلى قال قال أبي: أبو الحويرث روى عنه سفيان الثوري وشعبة، فقلت إن بشر بن عمر زعم أنه سأل مالك بن أنس عنه فقال: ليس بثقة، فأنكره فقال: لا وقد حدث عنه شعبة.
    امام احمدرحمہ اللہ کے بیٹے عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے والد محترم نے کہا کہ ابوالحویرث سے سفیان ثوری اور امام شعبہ نے روایت کیا ہے ۔ تو میں نے کہا: بشربن عمر کا گمان ہے کہ انہوں نے امام مالک سے اس کے بارے پوچھا تو امام مالک نے کہا یہ ثقہ نہیں ہیں ۔ تو میرے والد (امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ) نے کہا: نہیں یعنی یہ موقف درست نہیں جب کہ امام شعبہ رحمہ اللہ نے ان سے روایت کیا ہے[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم 5/ 284 وسندہ صحیح]۔
    امام عقيلي رحمه الله (المتوفى322)نے کہا:
    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، ح وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالُوا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: سَأَلْتُ مَالِكًا عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ، فَقَالَ: لَيْسَ بِثِقَةٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَالَ أَبِي: رَوَى عَنْهُ سُفْيَانُ وَشُعْبَةُ، وَأَنْكَرَ أَبِي هَذَا مِنْ قَوْلِ مَالِكٍ
    بشربن عمر نے کہا کہ میں نے امام مالک سے ابوالحویرث کے بارے پوچھا تو امام مالک نے کہا یہ ثقہ نہیں ہیں ۔ تو میرے والد (امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ) نے کہا: ان سے امام سفیان بن عیینہ اور امام شعبہ نے روایت لی ہے اور میرے والد امام مالک کے اس قول کر مردود قراردیا [الضعفاء الكبير للعقيلي: 2/ 344 وسندہ صحیح]۔

    امام احمدرحمہ اللہ کا یہ فرمانا کہ امام شعبہ نے ان سے روایت کیاہے یہ امام احمد رحمہ اللہ کی طرف سے اس راوی کی توثیق ہے اگرامام احمد کا مقصد توثیق کے بجائے صرف جرح کو ہلکا کرنا ہوتا توامام شعبہ رحمہ اللہ کا حوالہ نہ دیتے کیونکہ امام شعبہ کی روایت کا حوالہ دینے سے توثیق مقصود ہوتی ہے۔جیساکہ امام ذہبی رحمہ اللہ کے حوالہ سے اوپرگذرا۔

    چھٹی توثیق :ازامام بزار رحمه الله (المتوفى292):
    آپ نے عبدالرحمن بن معاویہ کی ایک حدیث سے متعلق فرمایا:
    وهذا الحديث لا نعلمه يروى عن أنس من وجه أحسن من هذا الوجه ، ولا نعلم أسند نعيم المجمر ، عن أنس ، إلا هذا الحديث واسم أبي الحويرث عبد الرحمن بن معاوية رجل مشهور من أهل المدينة. [مسند البزار: 12/ 340]
    حافظ زبیرعلی زئی نے نعیم بن حماد کی توثیق میں طحاوی کو قول پیش کرتے ہوئے کہا:
    طحاوی نے۔۔۔۔۔ ان کی ایک روایت کو باب میں سب سے بہتر احسن ماذکرناہ فی ھذالباب قرار دیا ہے۔[الحدیث : 49 ص 41]

    ساتویں توثیق :از امام ابن جرير الطبري رحمه الله (المتوفى310):
    آپ نے کہا:
    وابو الحويرث، واسمه عبد الرحمن بن معاويه، روى عنه ابن عيينه قال يحيى:هو مدينى ثقه.
    ابوالحویرث کانام عبدالرحمن بن معاویہ ہے ان سے سفیان بن عیینہ نے روایت کی ہے اور امام یحیی بن معین رحمہ اللہ نے کہا کہ یہ مدنی ثقہ ہیں[تاريخ الطبري: 11/ 648]


    آٹھویں توثیق:از امام ابن خزيمة(المتوفى311) رحمه الله :

    امام ابن خزيمة رحمه الله (المتوفى311) نے آپ کی حدیث کو صحیح کہا ، ملاحظہ ہو [صحيح ابن خزيمة 2/ 351 رقم 1450]۔
    اورکسی روای کی روایت کی تصحیح یا تحسین اس راوی کی توثیق ہوتی ہے۔

    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
    قلت صحح ابن خزيمة حديثه ومقتضاه أن يكون عنده من الثقات
    حافظ ابن حجررحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن خزیمہ نے ان کی حدیث کو صحیح کہا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی نزدیک یہ ثقہ ہیں[تعجيل المنفعة لابن حجر: ص: 248]۔

    نویں توثیق از :امام ابن حبان (المتوفى354)رحمه الله :
    آپ نے اس راوی کو ثقات میں ذکرکیا:
    أبو الحويرث اسمه عبد الرحمن بن معاوية[الثقات لابن حبان: 5/ 104]۔

    دسویں توثیق از :امام ابن شاهين (المتوفى385) رحمه الله:

    آپ نے اس راوی کو ثقات میں ذکرکیا:
    عبد الرَّحْمَن بن مُعَاوِيَة أَبُو الْحُوَيْرِث روى عَنهُ بن عُيَيْنَة مديني ثِقَة
    عبدالرحمن بن معاویہ ابوالحویرث ان سے سفیان ابن عیینہ نے روایت کیا ہے اور یہ مدنی ثقہ ہیں[تاريخ أسماء الثقات لابن ابن شاهين: ص: 145]۔

    گیارہویں توثیق: ازامام حاكم (المتوفى405)رحمه الله:

    امام حاكم (المتوفى405)رحمه الله نے آپ کی حدیث کو صحیح کہا ، ملاحظہ ہو [المستدرك على الصحيحين للحاكم: 1/ 718 رقم1964 ]
    اورکسی روای کی روایت کی تصحیح یا تحسین اس راوی کی توثیق ہوتی ہے۔
    امام ابن الملقن فرماتے ہیں:
    وَقَالَ غَيره: فِيهِ جَهَالَة، مَا رَوَى عَنهُ سُوَى ابْن خُنَيْس. وَجزم بِهَذَا الذَّهَبِيّ فِي «الْمُغنِي» فَقَالَ: لَا يعرف لَكِن صحّح الْحَاكِم حَدِيثه - كَمَا ترَى - وَكَذَا ابْن حبَان، وَهُوَ مُؤذن بمعرفته وثقته.[البدر المنير لابن الملقن: 4/ 269]۔

    بارہویں توثیق : از امام ابن حزم رحمه الله (المتوفى456):
    آپ نے اپنی کتاب ’’المحلی‘‘ میں ابوالحویرث عبدالرحمن بن معاویہ کی ایک حدیث کو بطور حجت پیش کیا دیکھئے :[المحلى لابن حزم: 4/ 257]
    اورآپ اپنی اس کتاب کے بارے میں فرماتے ہیں:
    وليعلم من قرأ كتابنا هذا أننا لم نحتج إلا بخبر صحيح من رواية الثقات مسند ولا خالفنا إلا خبرا ضعيفا فبينا ضعفه
    اورجوہماری اس کتاب کو پڑھے اسے جان لینا چاہئے کہ اس میں ہم نے صرف ان صحیح احادیث سے حجت پکڑی ہے جنہیں ثقہ لوگوں نے روایت کیا ہے اور اس کی سند متصل ہے اور ہم نے اس کتاب میں صرف ضعیف روایات ہی کی مخالفت کی ہے اوراس کا ضعف بیان کردیا ہے[المحلى لابن حزم: 1/ 21]

    تیرہویں توثیق: از امام أبو محمد البغوي رحمه الله (المتوفى516):
    آپ نے ابوالحویرث عبدالرحمن بن معاویہ کی ایک روایت کے بارے میں کہا:
    هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ[شرح السنة للبغوي 2/ 115]

    چودہویں توثیق: ازامام ضياء المقدسي رحمه الله (المتوفى643) رحمه الله:
    امام ضياء المقدسي رحمه الله (المتوفى643) نے بھی الأحاديث المختارة میں ان کی روایت لی ، دیکھئے :[ المستخرج من الأحاديث المختارة مما لم يخرجه البخاري ومسلم في صحيحيهما 3/ 129 رقم 931 وقال المحقق اسنادہ حسن]۔

    پندرہویں توثیق از امام منذري رحمه الله (المتوفى656):
    آپ نے ابوالحویرث عبدالرحمن بن معاویہ کی ایک حدیث کے بارے میں کہا:
    رَوَاهُ أَحْمد وَإِسْنَاده جيد حسن[الترغيب والترهيب للمنذري: 2/ 307]

    سولہویں توثیق : از امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748):
    آپ نے ابوالحویرث عبدالرحمن بن معاویہ کی دو حدیث کی تصحیح میں امام حاکم کی موافقت کی ہے پہلے حوالہ کے لئے دیکھئے:[المستدرك للحاكم مع تعليق الذهبي: 1/ 344 رقم 810]۔
    دوسرے حوالہ کے لئے دیکھئے: [المستدرك للحاكم مع تعليق الذهبي: 1/ 718 رقم 1964]۔

    سترہویں توثیق: از امام صلاح الدين علائي رحمه الله (المتوفى761):
    آپ نے ابوالحویرث عبدالرحمن بن معاویہ کی ایک حدیث کے بارے میں کہا:
    وَهَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ جَيِّدٌ [بغية الملتمس في سباعيات حديث الإمام مالك بن أنس ص: 32]۔

    اٹھارہویں توثیق : ازامام ابن الملقن رحمه الله (المتوفى804):
    آپ نے عبدالرحمن بن معاویہ کی ایک حدیث سے متعلق فرمایا:
    قَالَ الْحَاكِم : هَذَا حَدِيث صَحِيح عَلَى شَرط الشَّيْخَيْنِ وَلم يخرجَاهُ . وَهُوَ كَمَا قَالَ
    حاکم نے کہا کہ : یہ حدیث شیخین کی شرط پرہے اور انہوں نے اس کی تخریج نہیں کیا ہے '' امام ابن الملقن نے کہا ہے : یہ حدیث اسی طرح ہے جس طرح حاکم نے کہا ہے[البدر المنير لابن الملقن: 4/ 278]

    انیسویں توثیق : ازامام زين الدين العراقي رحمه الله (المتوفى806):
    آپ نے عبدالرحمن بن معاویہ کی ایک حدیث سے متعلق فرمایا:
    هذا حديثٌ حسنٌ، أخرجه الطبراني في الكبير
    یہ حدیث حسن ہے اسے طبرانی نے معجم کبیر میں روایت کیا ہے[محجة القرب إلى محبة العرب للعراقي: ص: 311]

    بیسویں توثق : از امام هيثمي رحمه الله (المتوفى807):
    آپ نے ابوالحویرث عبدالرحمن بن معاویہ کی ایک حدیث کے بارے میں کہا:
    رواه أبو يعلى ورجاله ثقات.
    اسے ابویعلی نے روایت کیا ہے اور اس کے سارے رجال ثقہ ہیں [مجمع الزوائد للهيثمي: 6/ 48]
    ابویعلی کی یہ روایت [مسند أبي يعلى الموصلي 1/ 379] میں موجود ہے اور اس کی سند میں ابوالحویرث عبدالرحمن بن معاویہ بھی ہیں ۔

    امام ہیثمی رحمہ اللہ کی اس توثیق سے معلوم ہوا کہ ان کی معلومات کی حدتک جو اکثر نے اس راوی کو ضعیف کہا ہے تو امام ہیثمی رحمہ اللہ نے اکثر کی بات نہیں لی ہے کیونکہ ان کے اپنے الفاظ میں اس راوی کی توثیق توملتی ہے لیکن ان کے اپنے الفاظ میں اس راوی پر جرح کہیں نہیں ملتی اس سے معلوم ہوا یہ راوی ان کے نزدیک ضعیف نہیں ہے نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امام ہیثمی رحمہ اللہ ہرجگہ جمہور کی توثیق پر اعتماد نہیں کرتے تھے بلکہ جو راجح موقف ہوتا تھا اسے ترجیح دیتے تھے خواہ وہ جمہور کے موافق ہو یا جمہور کے خلاف۔

    واضح رہے کہ امام ہیثمی رحمہ اللہ کا یہ کہنا درست نہیں ہے کہ اکثر نے اس کی تضعیف کی ہے کیونکہ ہم نے اوپر اکثر سے اس راوی کی توثیق پیش کردی ہے والحمدللہ۔
    امام ہیثمی نے تضعیف کے قول کو اکثر کا قول قراردیا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ انہوں نے اس راوی کی تضعیف کرنے والوں میں انہیں بھی سمجھ لیا ہے جنہوں نے اس راوی کو ثقہ کہا ہے مثلا ایک جگہ امام ہیثمی فرماتے ہیں:
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ
    اسے امام طبرانی نے کبیر اور اوسط میں روایت کیا ہے اس میں عبدالرحمن بن معاویہ بن الحویرث ہیں انہیں ابن معین نے ضعیف کہا ہے اور ابن حبان نے ثقہ کہا ہے[مجمع الزوائد ومنبع الفوائد 2/ 302]

    حالانکہ ابن معین رحمہ اللہ سے تضعیف کا قول نقل کرنا شاذ و مردود ہے کیونکہ ان کے تین شاگردوں نے بالاتفاق توثیق کا قول نقل کی ہے۔

    اسی طرح ایک دوسری جگہ امام ہیثمی رحمہ اللہ نے کہا:
    رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو الْحُوَيْرِثِ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ،
    اسے طبرانی نے کبیر میں روایت کیا ہے اس میں ابولحویرث ہیں انہیں امام احمد وغیرہ نے ضعیف کہا ہے[مجمع الزوائد ومنبع الفوائد 4/ 188]

    حالانکہ امام احمدرحمہ اللہ نے انہیں ہرگز ضعیف نہیں کیا یہ بات امام احمد رحمہ اللہ سے سرے سے منقول ہی نہیں ہے حتی کہ کسی ضعیف ومردود سند سے بھی یہ قول منقول نہیں نیز کتب جرح وتعدیل میں بھی امام احمد کی طرف ایسی کسی تضعیف کی نسبت نہیں کی گئی ہے بلکہ اس کے بالکل برعکس کتب جرح وتعدیل میں امام احمد کی توثیق نقل کی گئی ہے جیساکہ گذشتہ سطور میں پیش کیا گیا۔

    بہرحال معاملہ کچھ بھی جب یہ ثابت ہوگیا کہ جمہور نے اس راوی کی توثیق کی ہے تو پھر ان امام ہیثی کا یہ کہنا کہ جمور نے اس کی تضعیف کی ہے خلاف حقیقت اور خلاف دلیل ہے اس لئے غیر مقبول ہے۔

    مزید تسلی کے لئے عرض ہے کہ سینہ پر ہاتھ باندھنے والی حدیث کے راوی مؤمل بن اسماعیل کے بارے میں بھی امام ہیثمی رحمہ اللہ نے کہا:
    مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ.
    مؤمل بن اسماعیل کو امام ابن معین نے ثقہ کہا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے[مجمع الزوائد ومنبع الفوائد 5/ 49]۔

    حالانکہ مؤمل بن اسماعیل کے بارے میں امام ہیثمی رحمہ اللہ کا یہ بیان حقیقت کے خلاف ہے اس لئے غیر مقبول ہے حافظ زبیرعلی زئی نے بھی مؤمل بن اسماعیل کو جمہور کے نزدیک ثقہ ہی بتلایا ہے بلکہ اس پر ایک مقالہ بھی لکھا ہے۔

    یادرہے کہ امام ہیثمی رحمہ اللہ نے گرچہ ناقص معلومات وغلط فہمی کی بنا پر یہ کہہ دیا کہ جمہور نے ابولحویرث عبدالرحمن بن معاویہ کو ضعیف کہا ہے لیکن اس کے باوجود بھی امام ہیثمی نے اپنے نزدیک اس راوی کوثقہ ہی مانا ہے کمامضی۔

    اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ جمہور نے اس راوی کو ثقہ ہی کہا ہے۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں