1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

التزام جماعت کا صحیح مفہوم

'سیاسی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از سید طہ عارف, ‏جون 01، 2016۔

  1. ‏جون 01، 2016 #11
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    124
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    اللہ تعالی نے اس جماعت کو جو حکم دیا ہے وہ یہ ہے کہ
    "مقرر کیا ہے اس نے ہارے لئے وہ دین جس کی وصیت کی تھی اس نے نوح کو اور جس کی وحی کی ہے ہم نے تیری جانب اور جس کی وصیت کی تھی اس نے ابراہیم علیہ السلام کو، موسی علیہ السلام کو اور عیسی علیہ السلام کو کہ قائم کرو اس دین کو اور پھوٹ نہ ڈالو اس میں." (الشوری)
    اس آیت میں لکم کے مخاطب مسلمان اور پوری امت مسلمہ ہے ان کو مخاطب کرکے اللہ نے فرمایا کہ تمہاری جماعت کا مقصد وجود وہی ہے جو انبیاء علیہم السلام کا مقصد بعثت رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ اقامت دین کا فریضہ ادا کرتے رہو، اس دین کو قائم کرنے اور قائم رکھنے میں ایک دوسرے سے الگ نہ رہو، اختلاف نہ کرو اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو بلکہ سب ملکر دین کی اس رسی کو مضبوطی سے تھام لو اس لیے کہ یہ اقامت دین تمھاری جماعت کے وجود کا مقصد ہے اور اپنے وجود کے مقصد میں افتراق و اختلاف کرنا ایک غیر معقول رویہ ہے اور اپنا شیرازہ خود اپنے ہاتھوں سے منتشر کے مترادف ہے.
     
  2. ‏جون 01، 2016 #12
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    124
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    امام ابن جریر لکھتے ہیں
    "ان سب کو انبیاء کو اللہ نے جو وصیت کی تھی وہ ایک ہی وصیت تھی اور وہ تھی اقامت دین کی وصیت"
    یہ بات تو کسی ثبوت کی محتاج نہیں ہے کہ اللہ نے اپنے انبیاء کو جو حکم دیا وہی حکم ان کی امتوں کے لئے بھی ہوتا ہے الا یہ کہ اللہ نے صراحت کے ساتھ فرمادیا ہو کہ یہ حکم نبی کے لئے مخصوص ہے یا نبی نے کہ دیا ہو کہ یہ حکم میرے لئے ہے. رسول اللہ کے صحابہ کے بارے میں عبداللہ بن مسعود نے فرمایا ہے کہ
    "اللہ نے ان کو اپنے نبی کی رفاقت کے لئے اور اقامت دین کے لئے چن لیا تھا."
     
  3. ‏جون 01، 2016 #13
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    124
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    سورۃ ابقرہ کی آیت 143 میں اس امت کا مشن(شھادت حق) قرار دیا گیا ہے یعنی یہ کہ وہ اپنے قول و عمل سے حق کی گواہی دیں اور زندگی کے ہر شعبے میں اسلام کا عملی نمونہ پیش کرے گی. سورہ ال عمران کی آیت 110 میں اس مت کی تشکیل کا مقصد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بتایا گیا ہے لیکن چونکہ حق اور معروف سے مراد دین حق کے فرائض ہیں اور منکر سے مراد منہیات اور سیئات ہیں اس لئے نیکی کو پھیلانا اور برائی کو مٹانا دین حق کی شھادت دینا اور اقامت دین کا فرض انجام دینا ہے.

    Sent from my Lenovo A536 using Tapatalk
     
  4. ‏جون 01، 2016 #14
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    124
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    ماخوذ از تفہیم المسائل از مولانا گوہر رحمان
    جاری ہے

    Sent from my Lenovo A536 using Tapatalk
     
  5. ‏جون 02، 2016 #15
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    124
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    اقمت دین کا مفہوم
    شاہ ولی اللہ نے اقیمو الدین کا فارسی میں ترجمہ کیا ہے (قائم کنید دین را) دین کو قائم کرو اور اس کی تشریح اپنی دوسری کتاب میں اسطرح کی ہے:_
    "آحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب ساری مخلوق کے لئے مبعوث ہوئے تو آپ نے لوگوں کے ساتھ مختلف معاملات کئے اور مختلف تدابیر اختیار فرمائیں، ہر معاملے کے لئے اپنے نمائندے اور نائب مقرر فرمائے اور ہر معاملے کو انجام دینے کے لئے بڑا اہتمام فرمایا. اگر ان سب معاملات کو معلوم کریں اور جزئیات کے کلیات معلوم کریں اور کلیات سے ایسا واحد کلیہ معلوم کریں جو تمام کلیات کا جامع ہو تو وہ کلیہ اقامت دین ہی ہوسکتا ہے جو کلیات پر مشتمل ہے اور اس کے تحت دین کے مختلف اجناس آتے ہیں" (ازالۃ الخلفاء ص 2)

    Sent from my Lenovo A536 using Tapatalk
     
  6. ‏جون 02، 2016 #16
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    124
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    شاہ ولی اللہ کی درج بالا عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ نے اپنی امت کی اصلاح کے لئے جو کام بھی کئے ہیں خواہ وہ اصول و کلیات سے تعلق رہتے ہوں یا وہ فروع اور جزئیات سے متعلق ہوں ان سب کا کلمہ جامعہ اقامت دین ہے. معلوم ہوا کہ شاہ صاحب کے نزدیک اقامت دین سے مراد پورے کے پورے دین کو بمعہ اصول و فروع کے عملاً قائم کرنا ہے، نافذ کرنا ہے اور اس پر عمل درآمد کروانا ہے صرف پڑھنا پڑھانا اور خود عمل کرنا اقامت دین کا جامع مفہوم نہیں ہے.

    Sent from my Lenovo A536 using Tapatalk
     
  7. ‏جون 02، 2016 #17
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    124
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    مولانا مودودی نے ترجمہ تو کیا ہے. قائم کرو اس دین کو مگر تشریح میں لکھا ہے.
    "اس فقرے کا ترجمہ شاہ ولی اللہ نے( قائم کنید دین را) کیا ہے اور شاہ رفیع الدین اور شاہ عبدالقادر نے قائم رکھو کو یہ دونوں ترجمے درست ہیں اقامت کے معنی کرنے لے بھی اور قائم رکھنےکے بھی اور انبیاء کرام ان دونوں ہی کاموں پر مامور تھے ان کا پہلا فرض یہ تھا کہ جہاں یہ دین قائم نہیں ہے وہاں اسے قائم کریں اور دوسرا فرض یہ تھا کہ جہاں یہ قائم ہو وہاں قائم رکھیں. جو چیزیں مادی نہیں بلکہ معنوی ہوتی ہیں ان کیلئے جب قائم کرنے کا استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے مراد اس چیز کی تبلیغ کرنا ہی نہیں بلکہ اس پر کماحقہ عملدرآمد کرنا اسے رواج دینا اور عملاً نافذ کرنا ہوتا ہے. انبیاء کرام کو جب دین کے قائم کرنے اور قائم رکھنے کا حکم دیا گیا تھا تو اس سے مراد صرف اتنی بات نہ تھی کہ خواہ اس دین پر عمل کریں اور دوسروں میں اس کی تبلیغ کریں بلکہ یہ بھی تھی کہ پورے کا پورا دین ان میں عملاً رائج اور نافذ کیا جائے تاکہ اس کے مطابق عمل درآمد ہونے لگے اور ہوتا رہے"(تفہیم القرآن سورۃ الشوری)

    Sent from my Lenovo A536 using Tapatalk
     
  8. ‏جون 02، 2016 #18
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    124
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    مولانا امین احسن اصلاحی نے جو ترجمہ کیا ہے قائم رکھو اس دین کو اور تشریح اس طرح کی ہے کہ:
    "قائم رکھنے سے مراد یہ ہے کہ اس کی جو باتیں ماننے کی ہیں وہ دیانت داری اور راست بازی کے ساتھ کی جائیں نیز لوگوں کی برابر نگرانی رکھی جائے کہ اس سے غافل اور منحرف نہ ہونے پائیں اور اس بات کا پورا اہتمام کیا جائے کہ اہل بدعت اس میں کوئی رخنہ نہ پیدا کرسکیں. (تدبر القرآن ج 7 ص 153)

    Sent from my Lenovo A536 using Tapatalk
     
  9. ‏جون 02، 2016 #19
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    124
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    مولانا امین احسن اصلاحی نے اقامت دین کی جو تشریح کی ہے اپنے حاصل مفہعم کے اعتبار سے وہی تشریح ہے جو شاہ ولی اللہ اور مولانا مودودی نے کی ہے کہ دین صرف عقائد و اخلاق کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں ماننے اور کرنے کی ساری چیزیں یعنی اصول و فروع اور جزئیات و کلیات سب شامل ہیں اور اس دیم کو قائم رکھنے سے مراد خود بھی عمل کرنا ہے اور دوسروں سے بھی کروانا ہے لووں کو اس سے غافل اور منحرف ہونے سے بچانے کی کوشش کرنا بھی اقامت دین کے مفہوم میں شامل ہے اور دین کو اہل بدعت اور تجدد پسندوں کی رخنہ اندازیوں سے محفوظ رکھنا بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے.

    Sent from my Lenovo A536 using Tapatalk
     
  10. ‏جون 02، 2016 #20
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    124
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    قدیم مفسرین میں اس سے امام ابوالحسن ماوردی نے اقیمو الدین کی ہمہ پہلو تفسیر کی ہے فرماتے ہیں.
    "اس دین پر عمل کرو اس کی طرف دعوت دیتے رہو اور اس کے دشمنوں کے مقابلے میں جہاد کرو "(تفسیر الماوردی ج 5 ص 197)
    دین کو قائم رکھنے کے لئے سب سے پہلے خود عمل کرنا ضروری ہے پھر دوسروں کو دعوت دینا اور جہاد کرنا بھی دین کو قائم رکھنے کا لازم تقاضی ہے. مذکورہ بحث سے تو ثابت ہوتا ہے کہ اقامت دین نہ صرف یہ کہ ایک دینی فریضہ ہے بلکہ یہ تو حقیقت میں ام الفرائض ہے

    Sent from my Lenovo A536 using Tapatalk
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں