1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الحسن بن موسیٰ النسائی: مجہول یا معلوم

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد بن اقبال, ‏دسمبر 03، 2017۔

  1. ‏دسمبر 03، 2017 #1
    محمد بن اقبال

    محمد بن اقبال مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 16، 2017
    پیغامات:
    12
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    السلام علیکم ورحمة وبرکاته،

    شیوخ سے سوال ہے کی کیا "الحسن بن موسیٰ النسائی" واقعی مجہول راوی ہے یا ان سے متعلق کوئی جرح یا تعدیل موجود ہے؟

    جواب کا منتظر
     
  2. ‏دسمبر 03، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    محترم بھائی !
    الحسن بن موسیٰ النسائی کی ایک مشہور روایت امام عبداللہ بن امام احمدؒ نے اپنی کتاب (السنۃ ) میں نقل فرمائی ہے :
    حدثني أحمد بن إبراهيم الدورقي، حدثنا الحسن بن موسى النسائي، قال: سمعت عبدة بن عبد الله، يحدث عن شعيب بن حرب، قال: قال لي سفيان الثوري: " اذهب إلى ذلك يعني أبا حنيفة فاسأله عن عدة أم الولد إذا مات عنها سيدها، فأتيته فسألته فقال: ليس عليها عدة، قال: فرجعت إلى سفيان فأخبرته فقال هذه فتيا يهودي "
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کتاب السنہ کی دو اشاعتیں ہمارے پاس موجود ہیں ،
    (1) تحقيق الدکتور محمد بن سعيد بن سالم القحطاني، صدر عن دار رمادي للنشر بالمملكة العربية السعودية، سنة 1416ھ
    (2) تحقيق الشيخ ابو مالك الرياشي صدر عن مكتبة الامام البخاري ،اليمن

    ان دونوں اشاعتوں میں کتاب کی تحقیق و تخریج کرنے والوں نے الحسن بن موسی کو مجہول لکھا ہے ،
    الشيخ ابو مالك الرياشی اپنی تحقیق میں لکھتے ہیں :
    هذا اثر ضعيف ، في سنده الحسن بن موسى النسائي ،وهو مجهول الحال ، ترجمه الخطيب البغدادي في تاريخ بغداد(ج7 ص 429 ) ولم يذكر فيه جرحا ولا تعديلا
    اور سعودی عرب سے شائع تحقیق میں محقق ڈاکٹر محمد بن سعید القحطانی اس روایت کے ذیل میں لکھتے ہیں :
    الحسن بن موسی کا ترجمہ مجھے نہیں مل سکا "
    https://archive.org/stream/waq16040/16040#page/n193/mode/2up
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں