1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الصدقات للفقراء میں صدقہ مطلق ہے پھر ہم ذکوۃ ہی کیوں مراد لیتے ہیں

'فقہ عام' میں موضوعات آغاز کردہ از شیخ نوید, ‏جون 07، 2014۔

  1. ‏جون 07، 2014 #1
    شیخ نوید

    شیخ نوید رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 07، 2014
    پیغامات:
    32
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    سلام

    1) الصدقات للفقراء میں صدقہ مطلق ہے جو صدقات واجبہ و نافلہ دونوں پر دال ہے پھر ہم ذکوۃ ہی کیوں مراد لیتے ہیں؟

    2) جب عام مخصوص ظنی ہوتا ہے اور ظنی فرضیت نہیں وجوب ثابت کرتا ہے اور اٰتو الزکوۃ کا عام، الصدقات للفقراء سے مخصوص ہوکر ظنی ہوجاتا ہے تو ذکوۃ واجب ہونی چائیے۔ ہم فرض کیوں کہتے ہیں؟

    3) لیس فیما دون خمس اواق صدقہ۔ کا 'فیما' لفظ خاص ہے جو اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ خمس اواق ( ساڑھے باون تولے چاندی ) سے کم میں ذکوۃ نہیں ہونی چائیے ۔ یعنی کسی کے پاس ساڑے تریپن (5۔53)تولے چاندی ہو تو صرف 1 تولہ چاندی پر ذکوۃ واجب ہونی چاہئے ۔ پھر ہم ساڑے تریپن تولے پر ذکوۃ کیوں فرض قرار دیتے ہیں؟
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏جون 08، 2014 #2
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    الصدقات کے الف لام پر غور کر لیا جائے تو شاید بات واضح ہو جائے اور دوسری بات یہ ہے کہ واجب اور فرض کا یہ فرق صرف آپ نزدیک ہے، اس لیے آپ خاصی مشکل کا شکار ہیں
     
  3. ‏جون 08، 2014 #3
    شیخ نوید

    شیخ نوید رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 07، 2014
    پیغامات:
    32
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    ال سے اگر خاص صدقہ مراد ہے تو وہ تو کوئی اور صدقہ بھی ہوسکتا ہے ہم یہاں ذکوۃ ہی مراد کیوں لیتے ہیں؟
    واجب اور فرض کا یہ فرق صرف آپ نزدیک ہے اس کی تھوڑی وضاحت کردیں۔ اور نمبر 3 کا بھی جواب عنایت کریں
     
  4. ‏جون 09، 2014 #4
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    میرے بھائی پہلے آپ یہ جان لیں کہ ال کا معنی صرف خاص نہیں ہوتا ہے،یہ الف لام کبھی استغراق کے لیے آتا ہے ،کبھی عہد ذہنی کے لیے اور کبھی عہد خارجی کے لیے اور کبھی جنس کے لیے آتا ہے،یہاں یہ الف لام عہد خارجی کے لیے ہے اور عہد خارجی کا استعمال اس طرح ہے:
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏جون 09، 2014 #5
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    بھائی جان آپ گزارش ہے کہ واجب اور فرض میں فرق کا دعوی آپ نے کیا ہے اس لیے دلیل بھی آپ ہی کے ذمہ ہے
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏جون 09، 2014 #6
    شیخ نوید

    شیخ نوید رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 07، 2014
    پیغامات:
    32
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    جواب کا شکریہ ۔ میرا مقصد یہاں معاملات کو سمجھنا ہے ۔ برائے مہربانی کثرت سوالات سے پریشان نہ ہوں بلکہ رہنمائی فرمائیں ۔

    1) فِرْعَوْ نُ الرَّسُوْلَ والی مثال میں تو متکلم و مخاطب دونوں ہی کو معلوم ہے کہ وہاں ایک ہی رسول مراد ہیں ۔ الصدقات میں متکلم کو تو معلوم ہے مخاطب کو بھی معلوم ہے اس کی دلیل کیا ہے؟

    2) یہ کیسے معلوم ہوا یہ ال عہد خارجی کا ہی ہے ۔

    3) واجب اور فرض کا یہ فرق وہ ہے جو آج تک اپنے ارد گرد سے میں نے سیکھا اس کے علاوہ اگر کچھ اور بات ہے تو اس لٹریچر کا لنک دیں تاکہ پڑھ کر میری اصلاح ہوسکے۔

    4) اصل سوال میں نمبر 3 کا بھی جواب دیجئے ۔

    5) یہاں میں دیگر لوگوں کی توجہ کس طرح مبذول کرواسکتا ہوں کہ وہ اس تھریڈ کو پڑھیں اور اپنی رائے کا اظہار کریں ۔
     
  7. ‏جون 10، 2014 #7
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ
    محترم بھائی!
    صدقہ لفظ مشترک ہے جو زکاۃ اور عطیہ دونوں پر بولا جاتا ہے۔ یہاں قرینہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس سے مراد زکاۃ ہے اور قرینہ آگے مذکور افراد ہیں کیوں کہ نصوص سے ہمیں یہ علم ہوتا ہے کہ عمومی عطیہ میں یہ قیود نہیں بلکہ وہ عطیہ فقیر و امیر سب کو دیا جا سکتا ہے اور تملیکا و اباحتا دونوں طرح دیا جا سکتا ہے۔
    اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ لفظ مطلق کا اطلاق اس کے فرد کامل پر اولا ہوتا ہے اور زکاۃ صدقہ کا فرد کامل ہے کیوں کہ اس کا تاکیدی حکم ہے۔ اس لیے یہاں زکاۃ مراد ہے۔
    نیز یہ بھی یاد رکھیے کہ بسا اوقات قرینہ عقلیہ کی وجہ سے بھی تخصیص ہوتی ہے۔

    یہاں آپ ذرا سی غلطی پر ہیں۔ وہ یہ کہ عموم اور اس میں ہونے والے خصوص کی جہت ایک ہی ہونی چاہیے۔ اٰتوا الزکاۃ میں ادائے زکاۃ کا جو حکم ہے اس میں خصوص نہیں ہوا۔ بلکہ اس میں اس بات میں عموم تھا کہ کسی کو بھی زکاۃ دی جا سکتی ہے اور خصوص اس میں ہوا ہے۔ تو دونوں کی جہتیں مختلف ہیں۔

    اس لیے کہ لفظ "دون" بھی خاص ہے جس کا مطلب ہے "کم، قریب"۔ تو مطلب یہ ہوا کہ جب تک خمس اواق سے "کم" ہونے کی خصوصیت پائی جائے گی زکاۃ نہیں ہوگی۔ اور جب یہ خاصیت ختم ہو جائے گی تو زکاۃ بھی ہوگی۔ کس چیز پر ہوگی؟ مال پر۔ مال کیا ہے؟ یہ مکمل ساڑھے تریپن تولہ۔
    یعنی یہ مال پر زکاۃ نہ ہونے کا حکم تب تک ہے جب تک لفظ دون کا اطلاق ہو رہا ہے۔ جب دون ہٹ جائے گا تو حکم اپنی اصل کی طرف لوٹ جائے گا۔
    واللہ اعلم۔


    دیگر جس فرد کو مخاطب کرنا مقصود ہو اس کے نام سے پہلے @ لکھیں اور پھر بغیر فاصلہ دیے اس کا نام لکھیں۔ نیچے لسٹ میں نام ظاہر ہو جائے گا۔ اس کا انتخاب کر لیجیے۔

    آپ کا یہ سوال اصول فقہ سے متعلق ہے۔ اس قسم کے سوالات وہاں پوسٹ کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔ ہم ان شاء اللہ اپنے ناقص علم کی حد تک ہر ممکن مدد کریں گے۔
     
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  8. ‏جون 11، 2014 #8
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    فرض اور واجب کا فرق تو اپنی جگہ باقی ہے جناب اس پر بھی لب کشائی فرما دیتے تو بات واضح ہو جاتی
     
  9. ‏جون 11، 2014 #9
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    محترم بھائی۔ فرض اور واجب کے بارے میں علماء کرام کے دو مسلک ہیں۔
    بعض علماء کے نزدیک فرض اور واجب میں کوئی فرق نہیں۔
    جب کہ بعض کے نزدیک جو چیز دلیل قطعی سے ثابت ہوتی ہے وہ فرض ہے اور جو چیز دلیل ظنی سے ثابت ہوتی ہے وہ واجب ہے۔
    ان دونوں میں عملی لحاظ سے کوئی فرق نہیں کرتے بلکہ عملا دونوں کو لازم قرار دیتے ہیں۔ لیکن اعتقادا فرض کے منکر (بلا تاویل علمی) کو کافر اور واجب کے منکر کو فاسق قرار دیتے ہیں۔
     
  10. ‏جون 11، 2014 #10
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    یہ بعض علما کون ھیں ؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں