1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ پکارنا غلط ہے

'بدعی عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از shizz, ‏جولائی 25، 2012۔

  1. ‏جولائی 26، 2012 #11
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    میرے بھائی! میں نے وہ لنکس دیکھے ہیں، مجھے ان میں نبی کریمﷺ کے بذاتِ خود درود سننے کی کوئی دلیل نہیں ملی۔ آپ ازراه كرم وہ الفاظ کوٹ کر دیں جن سے نبی کریمﷺ کا براہ راست سننا ثابت ہوتا ہو۔ اور ساتھ ساتھ اس حدیث کی صحّت وضعف بھی۔

    کیونکہ قرآن کریم کے مطابق قبر میں موجود لوگ خود سننے کی صلاحت نہیں رکھتے، البتہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو معجزاتی طور پر سنانا چاہیں تو الگ بات ہے، جیسا قلیب بدر والا واقعہ ہے۔
    ﴿ وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يُسْمِعُ مَن يَشَاءُ ۖ وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ‌ ٢٢ ﴾ ۔۔۔ سورة فاطر
    ﴿ إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ‌ونَ بِشِرْ‌كِكُمْ ۚ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ‌ ١٤ ﴾ ۔۔۔ سورة فاطر

    امیج لگانے کے متعلق کلیم حیدر بھائی یا محمد ارسلان بھائی آپ کی راہنمائی کریں گے۔ ان شاء اللہ!

    بھائی! مرنے کے بعد قبر میں انبیائے کرام﷩ کی برزخی زندگی کا تو میں بھی قائل ہوں، اور قبر میں نماز پڑھنے کا بھی۔ لیکن ہمیں اس کا شعور نہیں، جیسے اللہ تعالیٰ نے شہداء کے متعلق فرمایا:
    ﴿ بل أحياء ولكن لا تشعرون ﴾

    البتہ وہ اپنی قبروں میں دنیاوی زندگی کی طرح زندہ نہیں، دنیاوی اعتبار سے وہ فوت ہو چکے ہیں۔
    ﴿ إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ ٣٠ ﴾ ۔۔۔ سورة الزمر
    اپنی پوسٹ میں، میں نے یہی لکھا تھا، دوبارہ ملاحظہ کر لیں:
    مجھے آپ کے اس موقف سے اتفاق نہیں۔ کوئی اگر دنیاوی طور پر زندہ نہ بھی ہو تو اس کو بھی کوئی بات پہنچائی جا سکتی ہے جیسے قلیب بدر میں مشرکین کو سنانے والا معجزانہ واقعہ ہے۔ اسی طرح وہ بھی اللہ کے حکم سے بات کر سکتا ہے جو زندہ نہ ہو، بلکہ جس کی زبان ہی نہ ہو۔ مثلاً قرآن وحدیث میں جنت وجہنم، آسمان وزمین اور پہاڑوں و دیگر مخلوق کے بات چیت کرنے کا ذکر بھی ہے، (جو اللہ کی قدرت کی دلیل ہے) حالانکہ ان کی ہماری طرح زندگی نہیں ہے۔

    آپ وہ الفاظ کوٹ کریں جن سے آپ نبی کریمﷺ کے براہ راست سننے کو ثابت کر رہے ہیں، اس پر مزید بات تب ہوجائے گی۔

    مجھے نہیں معلوم کہ آپ لوگوں کے نزدیک اللہ کے دیکھنے، سننے اور علم میں اور رسول کریمﷺ کے دیکھنے سننے اور علم میں کیا فرق ہے؟؟؟

    میں نے بھی یہاں علم غیب کے متعلق بات نہیں کرنا چاہتا، میں نے صرف مثال پیش کی تھی کہ کس طرح آپ لوگ اللہ کے ہر واضح اور صریح حکم میں تاویل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    اسی لئے میں نے سوال بھی یہی کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کی زبانی فرمایا کہ وہ ہمارے نفع ونقصان کے ذرہ برابر بھی مالک نہیں تو آپ کو باعث نفع ونقصان کی اصطلاح گھڑنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟
    کیا اللہ پاک کے مباک کلام پر آپ کو اعتماد نہیں، کہ آپ دوٹوک طور پر اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کی بجائے، نہ ماننے کے نت نئے حیلے بہانے ایجاد کر رہے ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 27، 2012 #12
    Abu Saifullah

    Abu Saifullah رکن
    جگہ:
    کویٹہ
    شمولیت:
    ‏جولائی 26، 2012
    پیغامات:
    27
    موصول شکریہ جات:
    160
    تمغے کے پوائنٹ:
    31

    جناب مصطفوی صاحب!

    میرا خیال ہے کہ آپ بھول گئے ہیں کہ یہ تھریڈ کس موضوع پر شروع کی گئی تھی اور آپ نا جانے کہاں کی ہانکے جا رہے ہیں،،،،، میری خواہش ہے کہ آپ اس تھریڈ کا وہ جواب دیں جس حوالے سے یہ شروع کی گئی ہے۔۔۔۔۔

    جہاں تک نماز کے اندر جو کلمات سکھائے گئے ہیں، نماز میں کسی قسم کی تبدیلی قطعی نہیں ہو گی اور یہی نماز قیامت تک چلے گی، میری یا آپ کی یا کسی مولوی امام کی مرضی کے تابع دین قطعی نہیں ہے۔ ایسے ہی اذان بھی وہی رہنی چاہیے جو نبی کریمﷺ نے سکھائی اور صحابہ کرام نے سیکھی اور درجہ بدرجہ ہم تک پہنچائی نہ کہ ایجاد بندہ کی چند ایک انوکھے اضافے جو برصغیر پاک وہند کے باہر کوئی نہیں جانتا۔

    پھر آپ نے سسٹر شزہ کو کہا ہے کہ آپ نے میری کسی بات کا جواب نہیں دیا ہے۔ جبکہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کچھ تو آپ کو جواب دیا ہے اور کچھ آپ سے حوالے مانگے ہیں جن کو آپ سرے سے گول کر چکے ہیں۔ تو کیا مہربانی کر کے آپ ان حوالہ جات پر کوئی روشنی ڈالیں گے جو شزہ نے آپ سے مانگے ہیں؟؟؟؟ اگر یہ مہربانی کریں گے تو عند اللہ ماجور ہوں گے۔

    بصد شکریہ۔ ابوسیف اللہ
     
  3. ‏جولائی 27، 2012 #13
    Abu Saifullah

    Abu Saifullah رکن
    جگہ:
    کویٹہ
    شمولیت:
    ‏جولائی 26، 2012
    پیغامات:
    27
    موصول شکریہ جات:
    160
    تمغے کے پوائنٹ:
    31

    محترم قریشی صاحب!
    پیارے دوسروں کو فتنہ پرور کہنے سے پہلے آپ یہ تو نشاندہی کریں کہ آپ نے کہاں کیا جواب دیا ہے؟؟؟؟؟ ذرا نشاندہی فرما دیں۔۔۔۔ معلوم تو ہو آپ نے کیا معرکہ سر کیا ہوا ہے جس کی بنا پر دوسروں پر فتنہ پروری کے فتوے صادر فرما رہے ہیں جناب۔
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏جولائی 27، 2012 #14
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    محترم، اس مثال کے تحت تو دنیا میں موجود ہر شے باعث نقصان بھی ہوتی ہے اور باعث نفع بھی ہوتی ہے۔ تو خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو باعث نفع و نقصان باور کروانے کا کیا مقصد؟
    آپ تفریق کیجئے کہ مخلوق کے باعث نفع و نقصان بلکہ بے جان چیزوں، شہد، دودھ، چھری، وغیرہ کے باعث نفع و نقصان ہونے میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے باعث نفع و نقصان ہونے میں کیا فرق ہے؟
    کیا مخلوق کے باعث نفع و نقصان ہونے میں آج تک کسی غیر مسلم نے بھی اختلاف کیا ہے؟ جو اسے بطور خاص عقیدہ بنا کر مسلمانوں میں رائج کیا جاتا؟
    حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مختار کل مانتے ہوئے انہیں مالک نفع و نقصان یا نفع و نقصان پر مختار کل تصور کیا جاتا ہے اور یہی وہ عقیدہ ہے جس پر ہمارا آپ سے اختلاف ہے۔ عجیب بات ہے کہ عوام الناس کے سامنے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سر عام مالک نفع و نقصان کی تبلیغ کی جاتی ہے، اور آج بھی آپ کسی عامی بریلوی سے پوچھیں گے تو وہ یہی عقیدہ بتائے گا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نفع و نقصان کے مالک ہیں۔ اور جب بات دلائل کی آتی ہے تو دور از کار تاویلات اور الفاظ کے ہیر پھیر سے بات اصل دعویٰ کے اثبات سے کہیں بہت دور کھینچ لی جاتی ہے۔
    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں درست عقیدہ کی تفہیم عطا فرمائیں اور پھر بلا تعصب اسے قبول کر لینے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔
     
    • شکریہ شکریہ x 8
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  5. ‏جولائی 27، 2012 #15
    مصطفوی

    مصطفوی رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 25، 2012
    پیغامات:
    21
    موصول شکریہ جات:
    48
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    جناب انس صاحب!
    حیرت کی بات ہے آپ کو ان لنکس میں کوئی دلیل نظر نہیں آئی۔ اگر مجھے امیج پیسٹ کرنے کا طریقہ بتا دیا جاتا تو بڑی آسانی ہو جاتی بہرحال میں وہ دلیل ٹائپ کر دیتا ہوں۔
    جلا،الافھام میں علامہ ابن قیم نے حدیث نقل کی ہے
    "طبرانی نے بسند مزکور کہا کہ حضرت ابو دردا، سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن مجھ پر زیادہ درود پڑھا کرو اس لئے کہ وہ یوم مشہود ہے اس دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں،کوئی بندہ درود نہیں پڑھتا مگر اس کی آواز مجھ تک پہنچ جاتی ہے وہ جہاں بھی ہو۔ہم نے پوچھا حضور آپ کی وفات کے بعد بھی؟فرمایا ہاں میری وفات کے بعد بھی بےشک اللہ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیا، کے جسموں کو کھائے۔
    اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرما دیا ہے کہ درود پڑھنے والے کی آواز مجھ تک پہنچ جاتی ہے۔اب اس زیادہ کیا واضح دلیل ہو۔باقی اس حدیث پر آپ کو کوئی اعتراض ہے تو وہ آپ پیش کریں۔
    بھئی ہم کب کہتے ہیں کہ وہ خود سن لیتے ہیں اللہ ہی ان کو سنواتا ہے وہی طاقت عطا کرتا ہے۔میں نے اپنی پہلی پوسٹ میں جو حدیث کوٹ کی تھی اس میں بھی یہی ہے کہ "جب کوئی مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو اللہ میری روح کو۔۔۔۔۔'
    ظاہری بات ہے بھائی فوت ہونے کے بعد سب عالم برزخ میں ہی جاتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی برزخی زندگی ہی حاصل ہے ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ برزخی زندگی دنیاوی زندگی جیسی ہے بلکہ یوں کہہ لیں اس بھی بڑھ کر ہے۔
    آپ قبر میں انبیا، کی نماز کے قائل اور یقینا رزق دیئے جانے کے قائل بھی ہوں گے تو صرف آپ کو ان کے سننے پر ہی کیوں اعتراض ہے؟
    آپ نے شہدا، کی زندگی کی بات کی تو اللہ ان کے متعلق یہ بھی فرماتا ہے کہ ان کو مردہ مت کہو بلکہ یہ گمان بھی نہ کرو کہ وہ مردہ ہیں
    اس لئے جب وہ میت یا مردہ ہی نہیں تو ان پر وہ آیات چسپاں نہ کریں جو مردوں کے لئے ہیں۔
    یہ تو بات ہوئی شہید کی زندگی کی تو نبی تو شہید سے افضل ہوتا ہے تو اس کی زندگی کا کیا کہنا۔
    ہم کوئی تاویل نہیں کرتےہم بھی تسلیم کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اللہ نہ چاہے تو وہ از خود کوئی نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
    لیکن اس آیت یہ مفہوم لینا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی قسم کا کوئی نفع نہیں پہنچ سکتا اس کو ہم تسلیم نہیں کرتے۔

    ابو سیف صاحب!
    جی بالکل پتہ ہے کہ موضوع کیا ہے اور میں نے بالکل موضوع کے مطابق ہی اپنی پہلی پوسٹ میں جواب دیا تھا۔باقی باتیں تو انس صاحب کی وجہ سے شروع ہوئیں۔
    آپ کی بڑی مہربانی ہو گی اگر آپ نشان دہی کر دیں کہ شزا صاحبہ نے مجھ سے کون سے حوالے مانگے ہیں جن کو میں گول کر رہا ہوں تاکہ ان کا جواب دے کر میں عنداللہ ماجور ہو سکوں۔
     
  6. ‏جولائی 27، 2012 #16
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    محترم مصطفوی صاحب! میری معروضات پر غور کیے بغیر آپ نے جواب دے دیا۔ میں نے عرض کیا تھا:
    آپ نے نبی کریمﷺ کے بذاتِ خود سننے کا دعویٰ کیا تھا، جو ہنوز محتاج دلیل ہے، علاوہ ازیں میرے مطالبے کے مطابق اس حدیث کی صحّت وضعف بھی آپ نے بیان نہیں کی۔ کیا آپ کے نزدیک ہر قسم کی صحیح وضعیف حدیث حجت ہے؟؟؟

    جہاں تک درود آپﷺ تک پہنچنے کا معاملہ ہے تو وہ نبی کریمﷺ کو معجزانہ طریقے سے فرشتوں کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے:
    « إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونِي مِنْ أُمَّتِي السَّلَامَ » ۔۔۔ صحيح سنن النسائي

    تو اس طرح تو اللہ تعالیٰ جس کو چاہے سنوا سکتے ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ قبر میں موجود مردے کو لوگوں کے قدموں کی چاپ سنوا دیتے ہیں۔ اس سے نبی کریمﷺ کا دنیاوی زندگی کی طرح زندہ ہونا کیسے ثابت ہو گیا؟

    بھائی دعویٰ تو آپ نے نبی کریمﷺ کے خود سننے کا کیا تھا، ملاحظہ فرمائیے:
    اسی سے آپ نبی کریمﷺ کو فوت ہونے کے بعد، قبر مبارک میں مدفون ہونے کے بعد بھی دنیا کی طرح زندہ سمجھتے ہیں جو کتاب وسنت کے مطابق ایک باطل عقیدہ ہے۔

    آپ نے خود جو حدیث کوٹ کی ہے، اس میں نبی کریمﷺ میں روح لوٹانے کا ذکر بھی ہے، جس سے بھی یہ صراحتا ثابت ہوجاتا ہے کہ آپ اپنی قبر مبارک میں دنیا کی طرح زندہ نہیں ہیں۔

    اب اگر آپ اس دعوے سے دستبردار ہو رہے ہیں کہ نبی کریمﷺ خود سنتے ہیں تو ثابت ہوگیا کہ نبی کریمﷺ کو دور سے (اس نیت سے کہ آپ خود سنتے ہیں) یا رسول اللہ کہہ کر پکارنا جائز نہیں۔

    آپ سے اس حد تک اتفاق ہے کہ نبی کریمﷺ کو قبر مبارک میں برزخی زندگی حاصل ہے۔ لیکن نہ یہ زندگی دُنیاوی طرز کی ہے اور نہ ہی اس سے بڑھ کر ہے!!

    نبی کریمﷺ دنیاوی طور پر فوت ہوچکے ہیں، اسی لئے انہیں روضۂ مبارک میں دفن کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد آپﷺ کو دنیاوی زندگی جیسے یا اس سے بھی بڑھ کر زندگی کیسے حاصل ہوگئی؟؟ صرف دعویٰ نہ کیجئے! اگر آپ کے پاس اپنے موقف کی کوئی دلیل ہے تو بیان کیجئے!

    اس لئے کہ سننے کا ذکر کسی نص میں موجود نہیں۔ اور یہ بات قرآن پاک کی بیسیوں نصوص کے بھی خلاف ہے (جن میں سے بعض میں اوپر کوٹ کر چکا ہوں) جن میں ہے کہ قبر میں موجود لوگ سن نہیں سکتے۔

    بھائی! کسی کو اللہ کی راہ جان قربان کر دینے (فوت ہونے) کے بعد ہی شہید کہا جاتا ہے، اللہ نے بھی انہیں مقتول ہی قرار دیا ہے، البتہ ان کی عزت افزائی کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں مردہ نہیں کہنا چاہئے (بلکہ شہید کہنا چاہئے۔)
    وہ اپنی قبروں میں زندہ ہوتے ہیں لیکن ہمیں ان کی (اس برزخی زندگی) کا شعور نہیں ہوتا: ﴿ بل أحياء ولكن لا تشعرون ﴾

    کیونکہ ہمارے مطابق وہ دنیاوی طور پر شہید ہوچکے ہوتے ہیں۔ یہی معاملہ انبیاء کرام﷩ کا بھی ہے۔

    اپنی زندگی میں نبی کریمﷺ اپنی بشری استطاعت کی حد تک دوسروں کو فائدہ پہنچا سکتے تھے۔ ما فوق الفطرت انداز میں اللہ تعالیٰ کی طرح نفع نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔ فوت ہونے کے بعد تو بشری حد تک بھی کسی کو نفع ونقصان نہیں پہنچا سکتے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  7. ‏جولائی 28، 2012 #17
    shizz

    shizz رکن
    جگہ:
    karachi pakistan
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2012
    پیغامات:
    48
    موصول شکریہ جات:
    165
    تمغے کے پوائنٹ:
    31

    ji alhamdulillah mai sunnat k mutabiq hi salam parhti hoon
    apki hr bat ka jawab meri is aik bat mai hi mojood hai k ye deen mai aik nai ijad yani k bida,at hai.
    magar ap k samajh mai ye bat kahan aygi kyon k ap log to bida,at ko bida,at e husna ka nam de kr jaiz qarar dete hain. Allah ap logon ko hidayat de.
    mai ne kb kaha k hm ziada sunnat ki itba krtay hain han magar koshish zaroor krtay hain magar ap log to wo bhi nhi krtay.
    aik bat to bataye k namaz mai bhi ap isi tarah se nabi (S.A.W) pr salam bhejtay hain??? kyon k ap ne hi to kaha hai k ye naim ul badal hai us ka jo k Nabi (S.A.W) ne bataya hai. to phir namaz mai bhi ap log yehi parhtay hongay hai na??
    bida,at e husna k nam pr bida,at ki taqseem ki
    jb k nabi (S.W.A) ka frman hai k hr bida,at gumrahi hai or hr gumrahi aag ha.
    phir ilme ghaib ki
    jb k Allah ka frman hai
    اے نبی ا پ کہ دیجیے کہ جتنے لوگ آسمان ور زمین میں ہیں کسی کو بھی غیب کا علم نہیں ہے سواۓ الله کے
    jb Allah ne keh dia k jitne log aasman or zameen main hain ksi ko bhi ghaib ka ilm nhi hai to is pr apni marzi chala kr ghaib ki taqseem krna kahan ki aqalmandi hai bhai?
    ab nafa o nuqsan ki bhi taqseem mkr dali hai...
    ﺁﭖ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﯾﺠﺌﮯ ﻛﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺫﺍﺕ ﻛﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﻮ ﻛﺴﯽ ﻧﻔﻊ ﰷ ﺍﻭﺭ ﻛﺴﯽ ﺿﺮﺭ ﰷ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺭﻛﮭﺘﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺟﺘﻨﺎ ﺍﹴ ﻛﻮ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﮨﻮ
    is ayat mai saf saf bta dia gaya hai k Nabi (s.a.w) ko ksi bhi nafa o nuqsan ka ikhtiyar nhi hai....
    magar ap ne sirf is k doosre hissay ko dekha jis mai kaha gaya hai k
    "magar jitna Allah ko manzoor ho"
    jb k is ayat ka matlab ye hai k jo muajzat nabi (s.A.W) ko jo muajzaat ata kiye gaye thay Allah ki taraf jis ki wajah se logon ko faida pohnchta tha jesa k ahadees mai ata hai magar ap logon ne ayat k ma,ani o mafhoom hi badal dale. Allah ap logon ko hidayat de. ameen
     
  8. ‏جولائی 28، 2012 #18
    مصطفوی

    مصطفوی رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 25، 2012
    پیغامات:
    21
    موصول شکریہ جات:
    48
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    انس صاحب!
    مجھے تو آپ کے اعتراض کی کوئی سمجھ نہیں آ رہی۔آپ اتنی سادہ سی بات کو کیوں الجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ درود پڑھنے والے کی آواز مجھ تک پہنچ جاتی ہے تو پھر آپ صلی اللہ علین وسلم کے سننے میں کیا اشکال ہے۔یہ منطق میری سمجھ سے تو بالا تر ہے کہ ایک شخص تک بولنے والے کی آواز پہنچ رہی ہو اور اس کے سننے پر سوال اٹھایا جائے۔
    جب میں اس حدیث سے استدلال کر رہا ہوں تو ظاہر ہے میرے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے۔اگر آپ کو کوئی اعتراض ہے تو پیش فرمائیں۔
    یہ لفظ معجزانہ طور پر پتہ نہیں اپ نے کہاں سے اخذ کیا ہے۔
    بہرحال فرشتوں کے سلام پہنچانے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عدم سماع سلام پر محمول نہیں کیا جا سکتا۔
    یہ ایسے ہی سمجھ لیں جیسے اللہ علیم و خبیر ہے مگر اس کے باوجود فرشتے بھی اللہ کے حضور اعمال پیش کرتے ہیں۔
    قبر میں موجود لوگ سن نہیں سکتے یہ ترجمہ ٹھیک نہیں ہے اصل ترجمہ ہے قبر والوں کو سنا نہیں سکتے اور یہ نہ سنا سکنا کس معنی اور مفہوم میں استمعال ہوا ہے اس کے لئے علامہ ابن قیم کی کتاب، کتاب روح ملاحظہ فر ما لیں۔
    پھر ان ایات کا شہدا اور انبیا، پر اطلاق کیسے ہو سکتا ہے جبکہ وہ زندہ ہیں رزق دیے جاتے ہیں قبور میں نماز پڑھتے ہیں اور ان ایات میں جن لوگوں کا ذکر ہے وہ تو یہ سب نہیں کر سکتے۔
    یہ عجیب الفاظ اپ نے استعمال کئے ہیں کہ صرف ان کی عزت افزائی کرتے ہوئے انہیں مردہ نہیں کہنا چاہیئے شہید کہنا چایئے
    بھائی اللہ نے تو فرمایا ہے ان کو مردہ نہ کہو بلکہ یہ گمان بھی نہ کرو کہ وہ مردہ ہیں وہ زندہ ہیں اور ان کی زندگی کے ثبوت میں مزید فرمایا کہ وہ رزق بھی دئے جاتے ہیں تاکہ کسی کو ان کے زندہ ہونے میں کوئی شک نہ رہے۔
    تو بھائی اس باطل عقیدہ( بقول اپ کے) کے اس امت کے بڑے بڑے کتاب و سنت کے عالم بھی قائل ہیں۔
    بات لمبی ہو جائے گی مگر کیا یہ ایک نفع کم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی کا سلام اپ تک پہنچ جاتا ہے اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سلام کا جواب مرحمت فرماتے ہیں۔
     
  9. ‏جولائی 28، 2012 #19
    مصطفوی

    مصطفوی رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 25، 2012
    پیغامات:
    21
    موصول شکریہ جات:
    48
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    محترمہ شز صاحبہ ! اپ نے بدعت کا ایک نیا موضوع شروع کر دیا۔اب یہ بھی ایک لمبی بات ہے کہ بدعت کی تعریف کیا ہے؟اور کیا بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ کی تقسیم غلط ہے یا صحیح؟ کون کون سے امت کے جید اکابر ہیں جو یہ تقسیم کرتے ہیں؟
    باقی رہا نماز میں پڑھنے کا مسئلہ تو اس میں ہم وہی پڑھتے ہیں جو منصوص ہے اس میں تبدیلی بدعت ہے۔
    خارج از نماز افضل اور بہتر یہی ہے کہ مسنون سلام ہی پڑھا جائے لیکن اگر کوئی اس کے علاوہ حالت ذوق و شوق میں دیگر الفاظ سے بھی سلام پڑھ لیتا ہے تو یہ مباح ہے بشرطیکہ وہ الفاظ غیر شرعی نہ ہوں۔
    بہرحال میرا مشاہدہ ہے کہ اکثر اہل ٍحدیث خارج از نماز یہ مسنون سلام نہیں پڑھتے۔اگر اپ ایسا کرتی ہیں تو بہت خوشی کی بات ہے۔
    باقی علم غیب وغیرہ کے مسائل پر اگر موقع ملا تو انشا،اللہ کسی الگ تھریڈ میں بات ہو گی۔
     
  10. ‏جولائی 28، 2012 #20
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    آپ کوشش کریں کہ اردو لکھیں،رومن اردو سے پڑھنے میں دقت پیش آتی ہے۔
    اردو کے لیے آپ میرا یہ تھریڈ دیکھیں۔
    اردو یونی کوڈ کی بورڈ
     

اس صفحے کو مشتہر کریں