1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ پکارنا غلط ہے

'بدعی عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از shizz, ‏جولائی 25، 2012۔

  1. ‏جولائی 30، 2012 #21
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    محترم بھائی! آپ نے دعویٰ یہ کیا تھا کہ
    ليكن آپ ابھی تک کسی دليل سے یہ ثابت نہیں کر سکے کہ نبی کریمﷺ خود سن سکتے ہیں اور نہ ہی آپ اسے آئندہ ثابت کر سکتے ہیں، کیونکہ یہ بات آیاتِ قرآنی کے منافی بھی ہے۔
    اسی لئے آپ نے خود ہی اپنے عجز کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
    جب یہ ثابت ہوگیا کہ نبی کریمﷺ اپنی قبر مبارک میں دنیاوی طور پر زندہ نہیں اور نہ ہی وہ بذات خود سن سکتے ہیں تو پھر اس طرح درود پڑھنا
    الصلاة والسلام عليك يا رسول الله!
    (اس نیت سے کہ نبی کریمﷺ خود سن رہے ہیں) جائز نہیں:

    سبحان اللہ! کیا زبردست اُصول بیان کیا ہے کہ کسی حدیث کے صحیح اور ضعیف ہونے کا؟؟؟
    یعنی آپ جس حدیث سے بھی استدلال کریں گے وہ حدیث صحیح ہوگی، اور پوری امت کو اسے ماننا پڑے گا، خواہ اصلا وہ موضوع ہی کیوں نہ ہو؟؟؟ یا للعجب!

    بھائی! اس حدیث مبارکہ کی تصحیح کو محدثین کرام سے ثابت کریں! البتہ اگر آپ خود محقق ہیں تو اس کی سند پر بحث کرکے اسے صحیح ثابت کریں!

    جو کام فرشتوں کے ذریعے ہوگا تو اسے معجزانہ نہیں کہیں گے تو کیا کہیں گے؟؟؟
    جب اللہ تعالیٰ جہاد میں نبی کریمﷺ اور مسلمان کی مدد فرشتوں سے کریں تو اسے معجزہ نہیں کہا جاتا؟؟؟

    بھائی! یہ اللہ کا سنوانا ہے، اللہ تو جسے چاہے سنوا دیں۔
    ہمارا اصل اختلاف ہی خود سننے میں ہے، جہاں تک اللہ کے سنوانے کا معاملہ ہے تو اللہ تعالیٰ تو کسی کو بھی سنوا سکتے ہیں۔ عام لوگوں، بلکہ بے جان کو بھی سنوا سکتے ہیں، فرمانِ باری ہے:
    ﴿ إِنَّ اللَّـهَ يُسْمِعُ مَن يَشَاءُ ۖ وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ‌ ٢٢ ﴾ ۔۔۔ سورة فاطر
    مثلاً اللہ تعالیٰ مردوں کے قدموں کی چاپ سنوا دیتے ہیں تو کیا سب کو ہی اس طرح براہ راست پکارنا جائز ہو جائے گا؟؟؟

    بھائی! یہ میں نے قرآنی آیات کا مفہوم بیان کیا ہے، کسی خاص آیت مثلاً: ﴿ وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ‌ ٢٢ کا ترجمہ نہیں کیا۔ اس کا ترجمہ وہی ہے کہ اے نبی (ﷺ)! اگر آپ بھی چاہیں تو قبر والوں کو نہیں سنا سکتے۔

    میں نے جن آیات کا مفہوم بیان کیا ہے وہ یہ ہیں:
    ﴿ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ‌ ١٣ إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ‌ونَ بِشِرْ‌كِكُمْ ۚ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ‌ ١٤ ﴾ ۔۔۔ سورة فاطر
    ﴿ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ ٥ ﴾ ۔۔۔ سورة الأحقاف

    ان آیات کا ترجمہ اس کے علاوہ کیا ہے کہ جنہیں اللہ کے علاوہ پکارا جاتا ہے (خواه ان کی یہ پوجا قبر پرستی کی صورت میں ہو یا مجسمے بنا کر!) وہ سن نہیں سکتے۔

    ان آیات کریمہ کے بعد بھی اگر آپ کا اعتراض بر قرار رہے تو پھر مجھے ازراہ کرم مجھے مزید بحث سے معاف رکھیے۔

    ان آیات میں کن لوگوں کا ذکر ہے؟؟؟

    میں نے نبی کریمﷺ کی قبر میں دنیاوی زندگی کے عقیدے کو باطل قرار دیا ہے۔ مجھے بتائیے کہ یہ کس صحابی، کس تابعی، کس امام کا عقیدہ ہے؟؟؟ چلیں جن امام صاحب کی آپ تقلید کرتے ہیں، انہی سے اس عقیدے کو ثابت کرکے دکھا دیں!

    بھائی! یہ فائدہ اللہ سبحانہ کی طرف سے ہوتا ہے یا نبی کریمﷺ کی طرف سے؟؟؟
    من صلى علي مرة صلى الله عليه بها عشرا

    اللهم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعه وأرنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه ولا تجعله ملتبسا علينا فنضل واجعلنا للمتقين إماما
     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 31، 2012 #22
    shizz

    shizz رکن
    جگہ:
    karachi pakistan
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2012
    پیغامات:
    48
    موصول شکریہ جات:
    165
    تمغے کے پوائنٹ:
    31

    بھائی میں نے تو الگ سے کوئی موضوع شروع نہیں کیا ہے جس موضوع پر ابھی بحث چل رہی ہے یہ ایک بدعت ہی ہے. جب ہمارے نبی نے کہ دیا کہ ہر بدعت گمراہی ہے تو اس میں اپنی مرضی سے اقسام بنا لینے کا بھلا کیا جواز ہے... آپ ہی نے کہا ہے ک منصوص میں تبدیلی بدعت ہے تو پھر کیوں بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ کی تقسیم کر کے نبی کے فرمان کی نافرمانی کر تے ہیں آپ لوگ ؟؟؟
    میں نے کب کہا ہے کہ میں نماز کے علاوہ بھی یہ سلام پڑھتی ہوں ؟؟؟
     
  3. ‏جولائی 26، 2014 #23
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    بیشک تشہد میں ۔ السلام علیک ایھاالنبی۔دعاییں توقیفی ہیں وہ جیسے ثابت ہیں اسیطرح پڑھی جاییںگی ۔پہر بھی آپ صلی اللہ علیہوسلم کی وفات کے بعد صحابہ کرام میں یہ بات پیدا ہویی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باحیات تھے تو ہم ۔ایھا النبی۔ پڑھتے تھے اب جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگیی ھے تو ھمیں ۔علی النبی۔ پڑھناچاہیے ۔ اسلیے کچھ صحابہایسا ہی پڑھتے تھے۔ کیونکہ۔ ک ۔ خطاب کیلیے آتاہے اور خطاب اسی کو کیا جاتا ہے جو سامنے موجود ہوتا ہے۔ غایب کیلیے نہیں ۔اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں صحابہ کرام ۔ فداک ابی وامی۔کہتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کسی صحابی نے یہ جملہ نہیں استعمال کیا کیونکہ وہ صاحب زبان تھے ااور صاحب اسلوب ۔اور غلو سے پاک ۔آج ایک طبقہ آپکی وفات تسلیم ہی نہیں کرتا اسلیے وہ اس قسم کی باتیں اور تاویلات کرتا رہتاہے جو زبان ۔اسلوب اور شریعت سب کے خلاف ہے۔
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ

اس صفحے کو مشتہر کریں