1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الفاظ کی جنگ یا نورا کشتی ؟

'انتخابی سیاست' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوحتف, ‏اپریل 11، 2012۔

  1. ‏اپریل 11، 2012 #1
    ابوحتف

    ابوحتف مبتدی
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2012
    پیغامات:
    87
    موصول شکریہ جات:
    300
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    ہمارے ملک کے سیاستدان ماضی سے سبق سیکھنے کے دعوے تو بہت کرتے ہیں لیکن ان کے یہ دعوے بھی دوسرے دعووں کی طرح نمائشی اور کھوکھلے ہوتے ہیں۔ تازہ ترین مثال ہے پنجاب کے وزیراعلی شہباز شریف کی فلمی گھن گرج ، جس میں انہوں نے صدر مملکت آصف علی زرداری کے بارے میں جو الفاظ استعمال کئے اور جواباً صدر آصف علی زرداری نے جو بیانات دئیے اس سے بظاہر تو لگتا ہے کہ جیسے جیسے الیکشن نزدیک آتے جائیں گے سیاسی فضا اتنی ہی مکدر ہوتی جائے گی لیکن دونوں جماعتیں ملکی اقتدار میں حصہ دار بھی ہیں اور دونوں کی ذمہ داری ہے عوام کے لئے اچھا انداز حکمرانی پیش کرنا، عوام کے دکھ درد کا احساس اور ان کا مداوا، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب کہ ملک کے چاروں طرف خطرات کے سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں اور کئی جگہوں پر سازشوں کے جال بنے جا رہے ہیں ایسے کڑے وقت میں سیاسی رہنماؤں کو باہمی اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرکے عوام کو بھی اس کی ترغیب دینی چاہئے، لیکن بجائے اس کے، اقتدار کے دونوں حصہ دار آپس میں گالم گلوچ کا مظاہرہ کرکے، ایک دوسرے کی ماضی کی کمزوریوں کو اچھال کر توجہ مسائل سے ہٹا رہے ہیں۔ کیونکہ مہنگائی، غربت، بے روزگاری، معاشی زبوں حالی، بجلی گیس کی ستائی ہوئی عوام سڑکوں پر آتی دکھائی دے رہی ہے جس سے ان دونوں کے اقتدار کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔
    الفاظ کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی لیکن یہ جنگ چالاک سیاست دانوں کی نورا لڑائی ہے۔۔۔ صرف عوام کو دکھانے کے لئے۔۔۔ حکومت (وفاقی حکومت) اور اپوزیشن (پنجاب کی صوبائی حکومت) بظاہر تو آپس میں لڑتے ہیں اور پھر ایک ٹیلی فون کال پر آپس میں ایسا تعاون کرتے ہیں کہ اسمبلی میں بائیکاٹ ختم کرکے آئینی بل پاس کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں اور پھر عوام کی توجہ مسائل سے ہٹانے کے لئے ایک دوسرے کو لتاڑنے لگتے ہیں ، مسائل کے لئے ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹہراتے ہیں اور پھر اپنے اپنے ڈیڑھ اینٹ کے اقتدار کے تحفظ کے لئے ایک دوسرے سے سمجھوتے بھی کر لیتے ہیں ۔۔۔ وقت گزاری کے لئے ۔۔اور بھر جب عوام کا دباؤ بڑھے اور عوام بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی اور گیس کی قلت پر بلبلا کر سڑکوں پر آتی دکھائی دے یہ فورا عوام میں پہنچ کر ۔۔۔۔ ایک دوسرے کو گالیاں دے کر ۔۔۔عوام کے جذبات ابھار کر عوام کو بیوقوف بناتے ہیں۔۔۔ اور عوام کے غصے کا رخ موڑتے ہیں اور ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہیں۔۔۔ پنجاب میں شریف برادران کی حکومت اور وفاق میں آصف زرداری کی حکومت۔۔ دونوں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی حکومتیں ہیں۔۔۔ اور عوام ان کے خلاف سڑکوں پر آئیں ۔۔۔ یہ دونوں کے مفاد میں نہیں۔!!!
    سید شہزاد عالم……
     
  2. ‏اپریل 11، 2012 #2
    نسرین فاطمہ

    نسرین فاطمہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    حیدرآباد سندھ
    شمولیت:
    ‏فروری 21، 2012
    پیغامات:
    1,278
    موصول شکریہ جات:
    3,218
    تمغے کے پوائنٹ:
    396

    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏اپریل 11، 2012 #3
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    کب تک دھوکہ دیں گے آخر مرنا ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں