1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

القرآن میں عربی لسان کی اہمیت

'فہم قرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد فیض الابرار, ‏نومبر 28، 2016۔

  1. ‏نومبر 28، 2016 #1
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    میرے ایک دیوبندی طالب علم نے اس عنوان سے مقالہ لکھا اس کے کچھ مندرجات میں حذف کرنے کے بعد یہ مقالہ یہاں درج کر رہا ہوں تاکہ یہ بات واضح ہو سکے کہ فہم قرآن میں عربی زبان کا کیا کردار ہو سکتا ہے
     
  2. ‏نومبر 28، 2016 #2
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    القرآن میں عربی کی اہمیت:
    عربی لِسَان کی اہمیت کے لئے یہ کہنا ہی کافی ہے کہ جیسے قرآن میں لکھا ہے ’’اِنَّا اَنْزَلْنَاہُ قُرْآناً عَرَبِیّاً لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ (2) (یوسف ۱۲) ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم عقل حاصل کرسکو (۲) ۔‘‘ اور ’’نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ (193)عَلَی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذرِیْنَ (194) بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍ‘‘ (195) (الشعراء ۲۶) اس (اللہ ) نے اس (قرآن) کے ساتھ روح الامین کو نازل کیا۔ آپ (محمدؐ) کے قلب پر تاکہ آپ لوگوں کو نصیحت کرتے رہو۔ بیان کرنے والی (آسان) عربی زبان کے ساتھ (۱۹۵)‘‘ اس لئے اب ایک سچے مسلمان کے نزدیک سوائے عربی کے کوئی دوسری زبان اس کے مقابلے میں اہمیت کی حامل کبھی نہیں بن سکتی۔ قرآن میں عربی لسان کی تمام تر اہمیت کے باوجود بہت سے فرقہ پرست اور قوم پرست علماء لوگوں کو اور اپنی اسلامی حکومتوں کو عربی لسان کی طرف رغبت نہیں دلاتے ہیں کیونکہ عربی زبان کی وجہ سے ہی ان کی مذہبی رواداری عوام اور حکومت پر چلتی ہے!!!
     
  3. ‏نومبر 28، 2016 #3
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    زبان کی اہمیت:
    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ زبان (لغت) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک الٰہی عطیہ ہے۔ ’’وَمِنْ آیَاتِہِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلاَفُ اَلْسِنَتِکُمْ وَاَلْوَانِکُمْ اِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِّلْعَالِمِیْنَ(22) (۳۰: روم) اور اسی کی آیات میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا خلق کرنا اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا جدا جدا ہونا، اہلِ عالم کے لئے ان باتوں میں (بہت سی) آیات (یعنی نشانیاں) ہیں۔ ۲۲۔ ‘‘ یعنی ہر زبان اللہ کی آیت ہے اور تمام زبانیں اللہ نے خلق کی ہیں۔ ’’زبان‘‘ جو بڑی اہمیت رکھتی ہے یہ وہ خاص صفت ہے جو انسان کو دوسرے زندہ عالم سے نمایاں بھی کرتی ہے۔ آج انسان جس ترقی پر پہنچا ہے اس میں زبان اور کتاب کا ایک بڑا حصہ ہے۔ ترقی انسانی میں زبان انسان کی ایسی حاجت اور ضرورت ہے کہ کوئی اور حاجت اس کے برابر نہیں زبان کی مختصر ترین تعریف بھی یہ ہے کہ زبان ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے ایک انسان دوسرے انسان سے ہمکلام ہوکر اپنے جذبات و احساسات کی عکاسی کرتا ہے۔ اس لئے جو شخص کسی زبان میں بات کرتا ہے، اس کے ذریعے سوچتا ہے۔ یہ زبان انکے اندر اس زبان کی ایک روحانی اور اجتماعی احساس و محبت کے جذبہ کو پیدا کردیتی ہے اور اس زبان کے الفاظ و جملے، خوشی، غمی، سکون اور بے قراری کی حالت میں ان کے دلوں کی عکاسی کرتی ہے۔ ’’وَکَذَلِکَ اَنْزَلْنَاہُ قُرْآناً عَرَبِیّاً وَصَرَّفْنَا فِیْہِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَھُمْ ذِکْراً (113) (۲۰:طٰہٰ) اور ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح کے ڈراوے بیان کردیئے ہیں تاکہ لوگ پرہیز گار بنیں یا اللہ ان کے لئے نصیحت پیدا کردے۔۱۱۳‘‘ جس طرح اللہ نے تمام زبانیں خلق کی ہیں اسی طرح ہر لسان کے ساتھ کچھ احساسات وجذبات بھی پیدا کئے اسی لئے ہر زبان ہر لفظ کے ساتھ ایک ذائقہ، جذبہ اور ایک خوبصورتی چھپی ہوئی ہوتی ہے جو ترجمے سے بھی مکمل طور پر ادا نہیں ہوسکتی ہے مثلاً کوئی غنا (یعنی گانا) کسی بھی لسان میں سننے میں تو بہت خوبصورت لگتا ہے لیکن ترجمے کے بعد اس کی تمام اصل خوبصورتی و رعنائی ختم ہوجاتی ہے۔ اسی طرح کوئی لطیفہ اور کوئی اچھی خوفناک کہانی ترجمہ کے بعد وہ پہلا والا اثر نہیں رکھتی۔ اسی طرح قرآن مجید بھی ترجمے کے بعد اللہ تعالیٰ کے اندازِ کتابت کے وہ اندازِ جذبات و محسوسات کے وہ تاثرات نہیں دکھا سکتا جو اس کی اصل زبان عربی میں موجود ہے!!!
     
  4. ‏نومبر 28، 2016 #4
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    قرآن کی ساخت:
    قرآن میں کل ایک سو (۱۱۴) سورتیں ہیں۔ ہر سورۃ ایک خاص ترتیب سے جوڑی ہوئی ہے۔ ہر سورت کی ہر آیت کا آخری لفظ ایک جیسی آواز کے حرفوں کا ہوتا ہے۔ مثلاً سورۃ الکوثر، العصر اور القدر کی ہر آیت کے آخر میں (ر) کا آنا، سورۃ الاخلاص میں (د) کا آنا، سورۃ الناس میں (س) کا آنا، سورۃ الفیل میں (ل) کا آنا اور سورۃ الشمس میں (الف) کا آنا کوئی اتفاق نہیں جیسے قرآن میں ہے۔ ’’وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْالَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْہِ الْقُرْآنُ جُمْلَۃً وَاحِدَۃً کَذَلِکَ لِنُثِّبتَ بِہِ فُوَادَکَ وَرَتَّلْنَاہُ تَرْتِیْلاً (32) اور کافروں نے کہا کہ اس پر قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہ اتارا گیا؟ اس طرح (اس لئے اتارا گیا کہ ) اس سے تمہارے دل کو ہم ثابت رکھیں اور ہم اُس (القرآن) کو نہایت عمدہ ترتیب و نظم کے ساتھ پڑھتے رہیں۔۳۲۔‘‘ کیونکہ ’’الرَتَّلُ‘‘ کے معنی کسی چیز کا حسنِ تناسب اور حسن نظم کے مربوط و مراتب ہونا ہے۔ قرآن یوں تو نثر ہے، نظم نہیں،لیکن اس کے فقرے نظم کے اصول کے مطابق متوازن اجراء میں تقسیم ہے۔ کیونکہ یہ نہایت اعلیٰ درجے کی نثر ہے جو ہر انسانی تصنیف سے بہت بالاتر ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام عرب علماؤں کو مخاطب کرکے یہ دعویٰ کیا۔’’وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَی عَبْدنَا فَاْتُوا بِسُوْرَۃٍ مِِنْ مِّثْلِہِ وَادْعُوْا شُھَدَائَ کُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صاَدِقِیْنَ(23) (۲:بقرۃ) اور اگر تم کو اس (کتاب) میں جو ہم نے اپنے بندے (محمد رسول اللہ) پر نازل فرمائی ہے کچھ شک ہو تو اسی کی مثل ایک سورۃ تم بھی بنالاؤ اور اللہ کے سوا جو تمہارے مددگار ہوں ان کو بھی بلالو اگر تم سچے ہو ۔۲۳۔‘‘ ’’اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلاَفاً کَثِیْراً (82) بھلا یہ قرآن میں تدبر کیوں نہیں کرتے؟ اگر یہ غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو اس میں کثیر اختلاف موجود ہوتا ہے۔ ۸۲۔‘‘ اسی لئے آج تک کوئی انسان بغیر تضاد کے قرآن جیسا فصیح و بلیغ کلام بنانے سے بالکل عاجز رہا ہے۔ قرآن مجید لسان کی ایسی صنف میں ہے جس کا ترجمہ نہیں ہوتا بلکہ صرف مفہوم نکالا جاتا ہے۔ قرآن کریم چونکہ عربی لسان کا بہترین نمونہ ہے تو اس کے الفاظ کا تلفظ، تعبیر اور اس کے معانی کے انتخاب کے لئے اشعار عربی بھی ایک معیار ہے۔ لوگ گوئٹے کے اشعار کو سمجھنے کے لئے جرمن سیکھ لیتے ہیں بقول ان کے شاعری کا ترجمہ نہیں ہوسکتا مگر ایسے کلام جس کا مصنف اللہ خود ہو اس کے فصیح و بلیغ کلام کا سمجھنے کے لئے عربی لسان کو سیکھنا ضروری نہیں سمجھتے !!!!
     
  5. ‏نومبر 28، 2016 #5
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    مکہ کی روز مرہ کی زبان:
    قرآن مجید عرب کی مشہور بستی اُمّ القریٰ میں نازل ہوا۔ ’’وَکَذَلِکَ اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ قُرْآنً عَرَبِیّاً لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرَی وَمَنْ حَوْلَھَا (۷) (۴۲: شوریٰ) اور اسی طرح آپ کے پاس یہ قرآنی عربی وحی کی تاکہ آپ ام القریٰ (یعنی مکہ) کو اور جو اس کے اردگرد ہیں، ان کو راستہ دکھائیں(۷)۔‘‘ یہ قرآنی عربی اس وقت کے عرب معاشرے کی عین بول چال کے مطابق تھی۔ جیسے ارشاد ہوا۔ ’’فَوَرَبِّ السَّمَاء وَالْاَرْض اِنَّہُ لَحَقُّ‘ مِّثْلَ مَا اَنَّکُمْ تَنْطِقُوْنَ (۲۳) (۵۱: الذاریات) پس آسمانوں اور زمین کے مالک کی قسم! بیشک وہ (قرآن) برحق ہے (تمہاری زبان) کی مثل، جس طرح تم (آپس میں) بات چیت کرتے ہو۔۲۳۔‘‘ یعنی مکہ اور مدینہ کی عربی بھی ایک معیار ہیں! دوسری جگہ ارشاد ہوا۔ ’’اَنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلَّمُہُ بَشَرُ‘ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْہِ اَعْجَمِیُّ‘ وَھَذَا لِسَانُ‘ عَرَبِیُّ‘ مُّبِیْنَ (۱۰۳) (۱۶:نحل) وہ کہتے ہیں ہیں کہ کیا وہ اس بشر کو تعلیم دیتا ہے؟ جس کی زبان وہ ٹیڑھاپن اختیار کرتے ہوئے اشارہ سے اعجمی (یعنی غیر عربی) بیان کرتے ہیں اور یہ صاف عربی زبان ہے۔ ۱۰۳۔‘‘ یعنی بعض عربوں کے نزدیک قرآنی عربی کو کوئی اعجمی لسان کا فرد نہیں سیکھ سکتا کیونکہ قرآنی عربی وہاں کی مرکزی شہروں میں استعمال ہونے والی علمی زبان ہے اور دیہاتی زبان کو عربی میں لسانِ مبین نہیں کہا جاتا کیونکہ دیہاتی زبان میں شقگی کے بجائے اکھڑپن پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے کافر قوم پرست عربوں نے یہ اعتراض کیا کہ رسول ؐ ان غیر عربوں کو اس لسان عربی مبین کی تعلیم دیتا ہے جو عربوں کو بھی مشکل سے سمجھ میں آتی ہے، آج بھی عربوں کو کوئی قرآن کی صحیح بات بتائے تو اکثر اسی طرح گھمنڈیا انداز میں کہتے ہیں کہ تم اعجمی ہم عربوں کو قرآن سیکھاؤ گے؟ اور بعض غیر عربی لوگ کسی بات کو نہ سمجھنے کے لئے ’’زبان‘‘ کو مسئلہ بناتے ہیں جبکہ اللہ فرماتا ہے۔ ’’اور اگر ہم اسے بعض غیر عربی زبانوں میں نازل کردیتے، پھر وہ اسے ان کے سامنے پڑھتا( پھر بھی) وہ ایمان نہیں لاتے(۲۶: شعراء: ۱۹۸) ۔
     
  6. ‏نومبر 28، 2016 #6
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    عالمگیر دین کی عالمگیر زبان :
    ’’آمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلَی مُحَمَّد (۲) (۴۷: محمد) اے لوگوں ایمان لیکر آؤ جو ’’محمد‘‘ پر نازل ہوا۔۲۔‘‘ محمدؐ اللہ تعالیٰ کے وہ واحد رسول ہیں جو پوری دنیا کے لئے رسول بناکر بھیجے گئے جیسے اللہ فرماتا ہے۔ ’’قُلْ یَااَیُّھَاالنَّاسُ اِنِّی رَسُولُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعاً (158) (۷:اعراف) (اے محمد!) کہہ دو! کہ تمام لوگوں کو، میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔‘‘ قرآن کے مطابق آپؐ سے قبل تمام رسولوں کو اللہ نے ایک خاص قوم کے لئے رسول بناکر بھیجا تھا۔ جیسے ’’قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یَا بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ اِنِّیْ رَسُولُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ (۶) (۶۱:صف) عیسیٰ ابن مریم نے کہا کہ اے (قوم) بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔۶‘‘ اور دنیا کے تمام قومی رسولوں نے عالمی رسول ’’محمدؐ‘‘ کے دنیا میں آنے کی پیشگوئی بھی کی تھی، اس عالمی رسولؐ کو اللہ فرماتا ہے۔ ’’وَکَذَلِکَ اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ قُرْآناً عَرَبِیّاً لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرَی وَمَنْ حَوْلَھَا(۷) (الشوری:۴۲) اور اسی طرح تمہارے پاس قرآن عربی بھیجا ہے تاکہ تم اُمُّ القری کے رہنے والوں کو اور جو لوگ اس کے اردگرد رہتے ہیں ان کو راستہ دکھاؤ۔۷‘‘اور محمدؐ نے یہ پیغام عربی زبان میں پہنچایا تو عربی زبان کی حیثیت بھی عالمی ہوگئی اور دنیا میں جہاں جہاں عربی بولی جاتی تھی وہاں وہاں یہ پیغام حق عربی میں پہنچا اور اب دنیا کی ہر زبان میں یہ پیغام حق پہنچ رہا ہے۔ جس طرح آہستہ آہستہ اسلام پوری دنیا کا عالمی دین بنتا جارہا ہے اسی طرح عربی لسان بھی عالمی زبان بنتی جارہی ہے۔ حبِ اسلام کے تحت آج بھی اکثر مسلمین کی لغتِ ثانی عربی ہے اور ماضی میں بھی عربی زبان اور اس کے علوم کی خدمت کرنے والے مسلمان اہل علم زیادہ تر غیر عرب تھے۔ آج جس طرح اسلام ایک عالمی دین ہے اگرتمام مسلمین عربی کو صحیح معنوں میں پھیلانے اور اس کو ترقی دینے میں بھر پور کردار ادا کریں تو پوری دنیا میں عربی کے مقابل کوئی عالمی زبان نہیں رہے گی کیونکہ اگر دین اسلام اللہ کا عالمگیر دین ہے تو اس عالمی دین کی زبان بھی عالمی اور آفاقی ہوگی!!!
     
  7. ‏نومبر 28، 2016 #7
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    عربی رسول اللہ کی ایک زندہ سنت:
    محمد نبی اللہؐ عربی النسل تھے۔ اس لئے آپ رسول اللہؐ نے ساری عمر عربی میں بول چال فرمائی۔ عربی بولنا وہ واحد سنت ہے جس کا اقرار مسلمانوں کے تمام فرقے کرتے ہیں مگر عمل کم لوگ کرتے ہیں جبکہ لکھا ہے: ’’فَاِنَّمَا یَسَّرْنَاہُ بِلِسَانِکَ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْن (۵۸) (۴۴:الدخان) ہم نے اس (قرآن) کو آپ (محمد رسول اللہ) کی زبان میں آسان کردیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت پکڑیں۔ ۵۸‘‘ یعنی قرآن فہمی اور عربی دونوںاللہ نے محمدی زبان میں آسان بھی کردی اور اللہ فرماتا ہے: ’’لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃُ‘ حَسَنۃُ‘ (۲۱) (۳۳: احزاب) اس نے (محمد) رسول اللہ کی (طرزِ زندگی) تمہارے لئے بہترین نمونہ بنادی ہے۔۲۱۔‘‘ یعنی رسولؐ کا ہر عمل جیے عربی اندازِ تکلم (ناکہ اُردو اندازِ تکلم)، عربی لباس (ناکہ شلوار قمیض)، عربی کھانا (ناکہ ہندی کھانا) اور عربی ثقافت (ناکہ صوبائی ثقافت) وغیرہ وہ تمام عمل جو رسولؐ نے اپنی زندگی میں کئے اور جو ہوئے وہ سب ہمارے لئے بہترین نمونہ ہیں اور ان کو اپنانا حبِ قرآن و رسولؐ کا تقاضہ بھی ہے۔ عربی سیکھنے سے قرآن بھی ہمارے لئے آسان ہوجاتا ہے۔ جیسے کہ اللہ فرماتا ہے ’’وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِذِّکْرِ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ (17) (۵۴: قمر) اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟ ۱۷۔‘‘ اس لئے زبانی طور پر شاعری میں اللہ و رسولؐ سے محبت کرنے کے دعوے کے بجائے صحابہؓ اور تابعین ؒ کی طرح عملی طور پر محبت کو ثابت کرنا چاہئے۔ تمام جبلی وغیر جبلی سنتِ محمدی جو کردار اور گفتار پر مبنی ہو اس پر عمل کرنا اللہ کا حکم بھی ہے تو رسول اللہؐ نے جس طرح کی عربی زبان کا استعمال کیا تو اس طرح کا عربی انداز ہم کو بھی اپنانا چاہئے کیونکہ رسولؐ کا کوئی عمل بعدِ نبوت غلط نہیں ہوسکتا!!!
     
  8. ‏نومبر 28، 2016 #8
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    دنیا کی اولین زبان:
    اگر ہم خلقِ انسانی کے قرآنی فلسفے پر غور کریں تو لکھا ہے۔ ’’ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَجَعَلَ مِنْھَا زَوْجََہَا (189) (۷:اعراف) وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہیں ایک نفس (یعنی انسان) سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا۔۱۸۹۔‘‘ یعنی روئے زمین پر جس قدر لوگ، قبائل اور قومیں رہتی ہیں۔ اگر یہ سب ایک انسان کی اولاد ہیں تو ان اولین انسانوں کی پہلی زبان کونسی تھی؟ قرآن کے مطابق آدمؑ کو جو چیز دوسروں سے نمایاں کرتی تھی وہ زبان کا علم تھا، جس کی برتری نے آدمؑ کو خلافت تک پہنچایا جیسے اللہ فرماتا ہے: ’’وَعَلَّمَ آدَمَ الاَسْمَاء کُلَّھَا (۳۱) (۲: البقرہ) اور اس نے آدم کو سب چیزوں کے نام سکھائے۳۱‘‘ بنی نوع انسان کی پہلی زبان کے بارے میں تاریخ کی کتابیں اختلافات سے بھری ہوئی ہیں لیکن اگر ہم قرآن و بائبل میں ابتدائی دور یعنی آدمؑ تا نوح ؑکے زمانے میں موجود ہستیوں، مقامات اور مصنوعی خداؤں کے اسمائے معرفہ پر غور کریں۔ تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ نے دنیا میں انسانوں کے لئے پہلی زبان عربی بنائی تھی۔ آدم (انسان رہنے والا)، قابِل (قبول کرنے والا)، نوح (غم زدہ)، وَدّ (چاہت)، عدن (رہنا، بسنا) فرات (میٹھا پانی)، یغوث (جوفر یا درسی کرتا ہے)، نسر (گدھ)، شیطان (زیادتی کرنے والا، ابلیس (ناامید) اور جبریل (الٰہ کا جبار) جیسے الفاظ خاص عربی زبان کے ہیں کیونکہ یہ عربی میں ایک خاص معنی رکھتے ہیں جن سے ان کی حیثیت، ہیت اور اسبابِ اسم پر روشنی پڑتی ہے۔ کسی دوسری زبان میں یہ الفاظ اس طرح بمعنی نہیں۔ اسی طرح اللہ نے مکہ کو قرآن کریم میں بستیوں کی ماں ’’اُمَّ الْقُرَی‘‘ (۴۲:شوریٰ:۷) قراردیا یعنی روئے زمین پر سب سے اولین بستی اور بستیوں کا آغاز کرنے والی بستی اور کعبہ کو ’’اَوَّلَ بیتٍ‘‘ پہلا گھر (۳: عمران:۹۶) اور ’’بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقٍ‘‘ سب سے قدیم گھر (۲۲: حج:۲۹) قرار دیا۔ یعنی دنیا کی آبادی کا آغاز مکہ اور کعبہ کے علاقے سے ہوا اور وہاں کی زبان عربی ہے۔
    اس کے علاوہ دنیا میں صرف عربی لسان کو ہی ’’اُمّ الالسنۃ‘‘ یعنی زبانوں کی ماں کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔ یعنی یہ تمام باتیں ثابت کرتی ہیں کہ عربی ہی دنیا کی پہلی زبان تھی، دنیا کی دوسری زبانوں کی پیدائش عربی کے بعد ہوئی اسی لئے عربی کے الفاظ دنیا کی ہر زبان میں ملتے ہیں جس کا اقرار تمام ماہر لسانیات بھی کرتے ہیں خاص طور پر مسلم قوموں کی زبانوں میں عربی زبان کے الفاظ کی تعداد پچاس فیصد سے لیکر اسی فیصد تک استعمال ہوتی ہے عربی کے کئی الفاظ مثلاً ’’کتاب، قلم‘‘ وغیرہ تو ہر مسلم زبان میں استعمال ہوتے ہیں اس لئے عربی لسان سیکھنا تمام انسانوں خصوصاً مسلمین کے لئے بہت آسان ہے۔ اللہ نے دنیا کی پہلی عالمی زبان عربی کو بنایا، کیا اب تمام انسانوں خاص طور پر مسلمین کا فریضہ نہیں کہ وہ بھی عربی لسان کو عالمی زبان بنائیں؟؟
     
  9. ‏نومبر 28، 2016 #9
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    امت واحد کا عقیدہ:
    ابتدائی انسانوں میں تمام انسان ایک امت اور ایک زبان تھے۔ جیسے اللہ فرماتا ہے۔ ’’وَمَا کَانَ النَّاسُ اِلاَّ اُمَّۃ وَاحِدَۃً فَاخْتَلَفُوْا(۱۹) (۱۰:یونس) اور (سب) لوگ (پہلے ایک ہی امت تھے پھر مختلف ہوگئے۔۱۹۔‘‘ یعنی اللہ نے امتِ واحدہ میں سے مختلف امتیں بناکر انہیں جدا جدا کیا‘‘۔ ’’لِکُلِّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَمِنْھَا جاً وَلَوْشَاء اللّٰہُ لْجَعَلَکُمْ اُمَّۃً (۴۸) (۴:مائدہ) ہم نے تم میں سے ہر ایک (اُمت) کے لئے ایک دستور اور طریقہ مقرر کیا ہے اور اگر اللہ نے چاہا تو سب کو ایک امت بنادیگا۔ ۴۷۔‘‘ یعنی ہر امت کے مختلف طور طریقے الٰہی ہیں امتِ واحدہ کیوں مختلف ہوئی؟ کا جواب اللہ نے ایسے دیا ’’یَا اَیُّھَاالنَّاسُ اِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِّن ذَکَرٍ وَاُنْثَی وَجَعَلْنَا کُمْ شُعُوباً وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا (۱۳) (۴۹:الحجرات) اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مذکر اور ایک مونث سے خلق کیا ہے ’’تعارف‘‘ کے لئے تمہاری شعوب اور قبائل بنائے۔۱۳۔‘‘ تعارف کی تشریح ’’وَقُلِ الْحَمْدُلِلّٰہِ سَیُرِیْکُمْ آیَاتِہِ فَتَعْرِفُونَھَا وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْن (93) (۲۷:نمل) اور کہو الحمد للہ پھر وہ تمہیں اپنی آیات دکھائے گا تو تم ان (آیات) کا ’’تعارف‘‘ جان جاؤگے اور جو عمل تم کرتے ہو تمہارا رب ان سے غافل نہیں۔ ۹۳۔‘‘ یعنی یہ ذاتیں اور قبائل اللہ نے صرف انسانی تعارف کے لئے نہیں بلکہ حق کے تعارف کے لئے بھی بنائے ہیں تاکہ معلوم ہوکہ کون سا شخص حق کی بات اور اللہ کی آیات کو مانتا ہے۔ جیسے اللہ فرماتا ہے: ’’وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنِ (56) (۵۱:ذاریات) اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔۵۶۔‘‘ جس طرح اللہ نے رات کے ساتھ دن اور خیر کے ساتھ شرکو پیدا کیا، اسی طرح اللہ نے اچھی ، ناقص زبانیں اور اچھے، برے اقدار بھی پیدا کئے تاکہ سچے مسلم اللہ کی اچھی زبان اور اچھی ثقافت و تمدن کو قبول کریں۔ اللہ فرماتا ہے: ’’وَلَوْشَاء رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَاحِدۃً وَلاَ یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَ اِلاَّ مَنْ رَّحِمَ رَبُّک (۱۱۹) (۱۱: ھود) اور اگر تمہارے رب نے چاہا تو تمام انسانوں کو ایک امت بنادیگا وہ مختلف نہیں رہیں گے مگر جن پر تمہارا رب رحم کرے۔۱۱۹‘‘ یعنی تمام انسانوں کا ایک امت بننا اللہ کی رحمت ہے اور یہ وعدہ اللہ نے صرف عالمی رسولؐ کو بھیج کر پورا کیا پھر ہم سے فرمایا: ’’اِنَّ ھَذِہِ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَاحِدَۃً وَاَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنَ وَتَقَطَّعُوْا اَمْرَھُمْ بَیْنَھُمْ کُلُّ‘ اِلَیْنَا رَاجِعُوْنَ (۹۳) (انبیاء:۲۱) بے شک(مسلمانو یہ تمہاری امت، اب ایک امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں تم میری ہی بندگی کرو اور جس نے اپنے امر (یعنی امت) کو باہم ٹکڑے کیا (تو) وہ سب ہماری طرف رجوع کرنے والے ہیں(۹۳)‘‘ یعنی اب تمام مسلمان ایک اسلامی ثقافت کی حامل ایک امت ہے جس کی زبان عربی ہے چونکہ ’’زبان‘‘ امت کے تمدن، ثقافت کی آئینہ دار ہوتی ہے بلکہ ثقافت اور تمدن کو پیدا کرنے اور بیدار کرنے کے لئے ایک معاون کی حیثیت بھی رکھتی ہے اور قومی تشخص پر بھی اثر انداز ہوتی ہے جبکہ مختلف زبانیں تفریق کی وجہ بنتی ہیں، جس میں فخر و نفرت دونوں ہوتی ہے۔ دنیا میں لسانیات کی وجہ سے سب سے زیادہ فساد ہوتے ہیں اسی لئے اللہ نے امت مسلمہ کو اپنی رحمت سے امت واحدہ میں تبدیل کیا۔ کیا اب بھی تمام مسلمین مختلف زبانوں و اقوام میں تقسیم رہیں گے یا امر الٰہی کے مطابق ایک لسان و قوم کی شکل میں یکجا ؟؟؟
     
  10. ‏نومبر 28، 2016 #10
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    قوم اور امت ایک ہی لفظ ہیں:
    دنیا کی لغت میں ’’قوم‘‘ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جن کی ثقافت، تمدن، زبان، لباس، تاریخ اور تہوار وغیرہ مشترک ہوں۔ لغت کی رو سے دو الگ الگ زبانیں بولنے والوں کو ایک قوم نہیں کہہ جاسکتا۔ قرآن مجید کے مطابق بھی قوم کے لئے ایک زبان کا ہونا ضروری ہے۔ ’’وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ اِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِہِ لیُبَیِّنَ لَھُمْ (۴) (۱۴: ابراہیم) اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا تھا تاکہ انہیں (احکام الٰہی) کھول کھول کر بتائے۔۴۔‘‘ یعنی ہر قوم اور ہر زبان میں اللہ تعالیٰ نے رسول بھیجے ہیں اور اللہ نے قرآن میں امت اور قوم کو ہم معنی لفظ قرار دیا ہے۔ مثلاً ’’ثُمَّ اَرْسَلْنَا رسلنا تَتْرَاکُلَّ مَاجَاء اُمَّۃً رَّسُوْلُھَا کَذَّبُوْہُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَھُمْ بَعْضاً وَجَعَلْنَاھُمْ اَحَادِیْثَ فَبُعْداًلِّقَوْمٍ لاَّیُوْمِنُوْنَ (44) (۲۳:مومنون)۔ پھر ہم پے در پے اپنے رسول بھیجتے رہے۔ جب کسی ’’امت‘‘ کے پاس اس کا رسول آتا تھا تو وہ اسے جھٹلا دیتے تھے تو ہم بھی بعض کو بعض کے پیچھے لاتے رہے اور ان کی احادیث بناتے رہے۔ پس جو ’’قوم‘‘ ایمان نہیں لاتی ان پر لعنت ہے۔۲۴۔‘‘ ’’وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلُ‘ (۴۷) (۱۰:یونس) اور ہر ’’امت‘‘ کے لئے ایک رسول ہے۔ ۴۷۔‘‘ ’’وَلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ (7) (۳:الرعد) اور ہر ’’قوم‘‘ کے لئے ایک ہدایت کرنے والا ہے۔۷۔‘‘ یعنی ان آیات کے مطابق قوم اور امت ہم معانی لفظ ہیں۔ قوم عربی لفظ رہائش، جگہ اور کھڑے ہونے کے معنی سے نکلا ہے یعنی جہاں بہت سارے انسان ایک ساتھ رہائش پذیر ہوںوہ گروہ ’’قوم‘‘ کہلاتا ہے۔اُمت لفظ ارادہ، اساس، بنیاد اور ماں کے معنی سے نکلا ہے۔ یعنی وہ انسان جن کی بنیاد اساس ایک ہوں اور ان کی ماں بھی ایک ہو پھر ان کی ایک زبان ہو۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں