1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللّه عیسیٰ کو کتاب وحکمت کی تعلیم دے گا ۔۔ کتاب سے مراد کونسی کتاب

'تفسیر قرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از danish ghaffar, ‏اپریل 11، 2019۔

  1. ‏اپریل 11، 2019 #1
    danish ghaffar

    danish ghaffar رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 30، 2017
    پیغامات:
    93
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    السلام علیکم
    محترم شیوخ
    قرآن پڑھتے ہوئے سورۃ آلِ عمران کی ایک آیت نظر سےگزری تو سوچا اس بارے میں بھی پوچھ لوں :
    وَيُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ
    سوره آل عمران ،آیت 48
    اللّه عیسیٰ کو کتاب حکمت اور تورات اور انجیل کی تعلیم دے گا
    اس میں " کتاب " کونسی ہے

    جزاک اللہ خیراً
     
    Last edited by a moderator: ‏اپریل 11، 2019
  2. ‏اپریل 11، 2019 #2
    عبد الخبیر السلفی

    عبد الخبیر السلفی رکن
    جگہ:
    بدایوں
    شمولیت:
    ‏اگست 28، 2018
    پیغامات:
    140
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    اس آیت کریمہ میں "الکتاب" سے کیا مراد ہے؟ اس کے سلسلے میں مفسرین کے تین قول ہیں
    (1) اس سے مراد مصدری معنی ہیں اور یہ "الکتابة" کے معنی میں ہے مطلب ہے کہ اللہ تعالی حضرت عیسی علیہ السلام کو لکھنا سکھائے گا اکثر مفسرین نے اس معنی کو ذکر کیا ہے
    (2) "الکتاب" یہاں جنس کے استعمال ہوا ہے اور اس کی وضاحت آگے آیت میں ہے اور وہ تورات، انجیل مطلب یہ کے اللہ عیسی علیہ السلام کو کتاب یعنی تورات اور انجیل سکھائے گا تفسیر سعدی میں یہ بھی تفسیر کی گئی ہے
    (3) یہ "الکتاب" تورات و انجیل کے علاوہ کوئی اور کتاب ہے جو تورات و انجیل کے علاوہ دی گئی تھی.
     
  3. ‏اپریل 11، 2019 #3
    عبد الخبیر السلفی

    عبد الخبیر السلفی رکن
    جگہ:
    بدایوں
    شمولیت:
    ‏اگست 28، 2018
    پیغامات:
    140
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    قوله تعالى : ويعلمه الكتاب والحكمة والتوراة والإنجيل
    قوله تعالى : ويعلمه الكتاب والحكمة والتوراة والإنجيل قال ابن جريج : الكتاب الكتابة والخط . وقيل : هو كتاب غير التوراة والإنجيل علمه الله عيسى عليه السلام (تفسير القرطبی سورةَ آل عمران :48)
     
  4. ‏اپریل 11، 2019 #4
    عبد الخبیر السلفی

    عبد الخبیر السلفی رکن
    جگہ:
    بدایوں
    شمولیت:
    ‏اگست 28، 2018
    پیغامات:
    140
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    علامہ ابن کثیرؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
    يقول تعالى - مخبرا عن تمام بشارة الملائكة لمريم بابنها عيسى ، عليه السلام - أن الله يعلمه ( الكتاب والحكمة ) الظاهر أن المراد بالكتاب هاهنا الكتابة . والحكمة تقدم الكلام على تفسيرها في سورة البقرة .(تفسیرإبن کثیر)
     
    Last edited by a moderator: ‏اپریل 11، 2019
  5. ‏اپریل 11، 2019 #5
    عبد الخبیر السلفی

    عبد الخبیر السلفی رکن
    جگہ:
    بدایوں
    شمولیت:
    ‏اگست 28، 2018
    پیغامات:
    140
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    ثم أخبر تعالى عن منته العظيمة على عبده ورسوله عيسى عليه السلام، فقال { ويعلمه الكتاب } يحتمل أن يكون المراد جنس الكتاب، فيكون ذكر التوراة والإنجيل تخصيصا لهما، لشرفهما وفضلهما واحتوائهما على الأحكام والشرائع التي يحكم بها أنبياء بني إسرائيل والتعليم، لذلك يدخل فيه تعليم ألفاظه ومعانيه، ويحتمل أن يكون المراد بقوله { ويعلمه الكتاب } أي: الكتابة، لأن الكتابة من أعظم نعم الله على عباده ولهذا امتن تعالى على عباده بتعليمهم بالقلم في أول سورة أنزلها فقال { اقرأ باسم ربك الذي خلق خلق الإنسان من علق اقرأ وربك الأكرم الذي علم بالقلم } والمراد بالحكمة معرفة أسرار الشرع، ووضع الأشياء مواضعها، فيكون ذلك امتنانا على عيسى عليه السلام بتعليمه الكتابة والعلم والحكمة، وهذا هو الكمال للإنسان في نفسه.( تفسير السعدي)
     
  6. ‏اپریل 11، 2019 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,359
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    سعودی عرب کے مشہور مفسر قرآن علامہ عبد الرحمن بن ناصر السعدي (المتوفى: 1376هـ)
    اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
    ثم أخبر تعالى عن منته العظيمة على عبده ورسوله عيسى عليه السلام، فقال { ويعلمه الكتاب } يحتمل أن يكون المراد جنس الكتاب، فيكون ذكر التوراة والإنجيل تخصيصا لهما، لشرفهما وفضلهما واحتوائهما على الأحكام والشرائع التي يحكم بها أنبياء بني إسرائيل والتعليم، لذلك يدخل فيه تعليم ألفاظه ومعانيه، ويحتمل أن يكون المراد بقوله { ويعلمه الكتاب } أي: الكتابة، لأن الكتابة من أعظم نعم الله على عباده ولهذا امتن تعالى على عباده بتعليمهم بالقلم في أول سورة أنزلها فقال { اقرأ باسم ربك الذي خلق خلق الإنسان من علق اقرأ وربك الأكرم الذي علم بالقلم } والمراد بالحكمة معرفة أسرار الشرع، ووضع الأشياء مواضعها، فيكون ذلك امتنانا على عيسى عليه السلام بتعليمه الكتابة والعلم والحكمة، وهذا هو الكمال للإنسان في نفسه.
    ( تفسير السعدي :تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان )
    اللہ نے اپنے بندے اور اپنے رسول عیسیٰ پر اپنے عظیم احسان کا ذکر فرمایا (ویعلمہ الکتب) ” اللہ اسے کتاب یا کتابت کا علم دے گا“ اس لفظ سے کتاب کی جنس مراد ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد تورات اور انجیل کا ذکر خصوص کے طور پر کیا گیا کیونکہ یہ دونوں کتابیں اشرف و افضل ہیں۔ ان میں وہ احکام و شرائع مذکور ہیں جن کے مطابق بنی اسرائیل کے انبیاء فیصلے فرماتے تھے۔ علم دینے میں الفاظ اور معانی دونوں کا علم شامل ہے۔ ممکن ہے کہ الکتاب سے کتابت (لکھنے کا علم) مراد ہو۔ کیونکہ تحریر کا علم اللہ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ہے۔ اسی لئے اللہ نے بندوں پر اپنا یہ احسان خاص طور پر ذکر فرمایا ہے کہ اس نے انہیں قلم کے ذریعے سے علم دیا، چنانچہ سب سے پہلے نازل ہونے والی سورت میں ارشاد ہے : (اقرا باسم ربک الذین خلق، خلق الانسان من علق، اقرا وربک الاکرم، الذی علم بالقلم) (العلق :3-1/96) ” پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ تو پڑھتا رہ، تیرا رب بڑے کرم والا ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا، اور حکمت سے مراد اسرار شریعت کا علم اور ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھنے کا علم ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ پر یہ احسانات بیان فرمائے کہ انہیں لکھنا سکھایا، اور علم و حکمت سے نوازا۔
     
  7. ‏اپریل 11، 2019 #7
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,359
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    امام ابنِ کثیر اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
    اللہ تعالیٰ فرشتوں کی اس خوشخبری کو بیان کرتا ہے جو انہوں نے سیدہ مریم علیہا السلام کو بیٹے کی پیدائش کی دی تھی ،
    کہ فرشتوں نے سیدہ مریم کو یہ خوشخبری بھی دی کہ :سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو پروردگار عالم کتاب و حکمت سکھائے گا ،
    اورظاہر یہ ہے کہ "الکتاب " سے مراد یہاں کتابت (لکھنا )ہے ، اور "حکمت " سے کیا مراد ہے اسکی وضاحت ہم سورۃ البقرۃ کی تفسیر میں کرچکے ہیں ؛
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں