1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ اعلم یا اللہ و رسولہ اعلم؟؟؟

'توحید وشرک' میں موضوعات آغاز کردہ از بہرام, ‏جولائی 06، 2013۔

  1. ‏جولائی 14، 2013 #11
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    اللہ و رسولہ اعلم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس وقت کہا کرتے تھے جب خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی سوال پوچھیں یا عموماً جہاں شریعت کی باتوں کا ذکر ہو۔ اب شریعت کے احکامات، ان کی درست توضیح و تشریح تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے تھے، اس میں بھلا کیا شک۔
    معاملات کی جہاں تک بات ہے تو خود اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ حکم دیا کہ:
    زیر بحث مسئلے پر درج ذیل حدیث ہمارے مؤقف کی بھرپور تائید بھی کرتی ہے:

    اور درج ذیل حدیث بھی:

    لہٰذا آیات و احادیث مجموعی طور پر سامنے رکھیں تو یہ دلائل ہمارے مؤقف کی تائید کرتے ہیں کہ:
    1۔ اللہ و رسولہ اعلم کہنا فقط شرعی معاملات کے ساتھ خاص تھا۔ آج بھی مثلاً ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ فلاں آیت کی تشریح اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جائے تو وہی تشریح قبول کی جائے گی کیونکہ وہ اعلم ہیں۔
    2۔ اللہ و رسولہ اعلم کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں درست تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بذریعہ وحی رہنمائی کی جاتی تھی۔ لہٰذا عام دنیاوی معاملات میں بھی جن کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو علم نہیں ہوتا تھا، آسمانوں سے خبر کر دی جاتی تھی۔ جیسے کہ منافقین کے بارے میں بتا دیا گیا یا فتوحات کی خبریں دے دی گئیں وغیرہم۔
    3۔ دنیاوی معاملات میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے بھی یہی ملتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنگی معاملات وغیرہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کیا کرتے تھے۔
    4۔ یہ عقیدہ رکھنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر معاملے میں اعلم تھے اور اب وفات کے بعد بھی جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے اس کے ذرے ذرے کا علم بھی ان کو ہے۔ یہ ان کو عالم الغیب قرار دینا ہے۔ جو کہ فقط اللہ کی صفت ہے۔
    5۔ بعض علوم ایسے ہیں جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دئے ہی نہیں گئے۔ مثلاً شعر کا علم۔ وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ۔ تو کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ بعض معاملات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعلم ہیں اور بعض میں نہیں؟
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 14، 2013 #12
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    آپ کہاں مانتے ہو رسول اللہ کی تشریح آیت تطہیر کے بارے میں
    یہ صرف زبانی دعوے ہیں جب کہ حقائق اس کے برعکس ہیں

    ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    ابھی آپ نے کہا کہ " لہٰذا عام دنیاوی معاملات میں بھی جن کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو علم نہیں ہوتا تھا، آسمانوں سے خبر کر دی جاتی تھی۔"

    یہ مشورہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نرم مزاجی کی دلیل ہے نہ کہ بے خبر ہونے کی
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر معاملے میں اعلم ہیں اس کی دلیل قرآن کے بعد اصح ترین کتاب سے
    دعویٰ سَلُوْنِي کوئی اعلم ہی کرسکتا ہے جس کو دینی اور دنیاوی دونوں معاملات کی مکمل معلومات ہو کیونکہ اس دعویٰ سَلُوْنِيکے جواب میں جو باتیں پوچھی گئیں وہ دنیاوی بھی تھی اور دینی بھی
    صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 7294
    اور جو پاک ہستی اپنے ایک مختصرخطبہ میں مخلوقات کی ابتدا سے لے کر جنتیوں کے جنت میں داخل ہو جانے اور دوزخیوں کے دوزخ میں داخل ہو جانے تک کا ہمیں سب کچھ بتا دیں ان سے کیا بات پوشیدہ ہے ؟
    صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 3192
    ایسی پاک ہستی نے تو یہ بھی بتادیا کہ لوح محفوظ پر لکھا ہے کہ " جب اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا کر چکا تو اپنی کتاب (لوح محفوظ) میں، جو اس کے پاس عرش پر موجود ہے، اس نے لکھا کہ میری رحمت میرے غصہ پر غالب ہے۔"
    صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 3194
    پھر بھی اس پاک ہستی کو آپ اعلم مانے سے انکار کرتے ہیں تعجب ہے



    اور اس کی وجہ بھی اللہ تعالیٰ نے بیان فرمادی ہے اگر بصرت ہے تو اس بات کو سمجھوں
     
  3. ‏جولائی 14، 2013 #13
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    عجیب بات ہے یہی بات ہم اہل تشیع کے تحریف قرآن والے عقیدہ کے بارے میں کہتے ہیں تو آپ دلائل کا جواب نہ دے سکتے ہوئے بھی نہیں مانتے۔
    آپ بدگمانی نہ کریں۔ آیت تطہیر پر الگ دھاگا کھولیں اور اس میں فقط آیت تطہیر کی ہی بات کر لیں۔ آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ زبانی دعوے نہیں، اہل سنت ہی الحمدللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں۔


    نرم مزاجی کی وجہ سے مشورہ کرنا، قرآن کی کون سی آیت یا حدیث میں ہے؟

    اللہ کے بعد پوری کائنات میں سب سے زیادہ علم بے شک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا گیا تھا۔ لیکن اللہ ہی نے بذریعہ قرآن ہمیں بتایا ہے کہ وہ بہرحال عالم الغیب نہیں تھے۔ قیامت کی نشانیاں بتانا، یا فتنوں سے متعلق آگاہی دینا تو ان کا شرعی منصب تھا۔ لہٰذا آپ کے پیش کردہ حوالہ جات آپ کے مؤقف کے حق میں بے سود ہیں۔ عالم الغیب کے تعلق سے آپ سے دوسرے دھاگے میں بات چل رہی ہے وہیں چلنے دیں۔


    جی بالکل۔ اور ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ دنیا میں کئی ایسے کالے علوم پائے جاتے ہیں، کہ جن کا جاننا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہے اور نہ جاننا ہی ان کی بزرگی اور شرف کی علامت ہے۔ لہٰذا آپ کی کلی یہاں ٹوٹ جاتی ہے ، وجہ جو بھی ہو، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہرحال ہر معاملے میں عالم الغیب نہیں تھے۔
    یہاں ہمارا کام ختم ہوا۔ ہم نے اپنے مؤقف کی وضاحت دلائل کے ساتھ کر دی کہ ہم کیوں فقط اللہ اعلم کہتے ہیں۔ آپ کے پاس فضول بحث برائے بحث کے لئے بہت وقت ہے ۔ ہمیں فقط اتوار وغیرہ کا دن ہی ملتا ہے۔ لہٰذا تھوڑے کو بہت جانئے اور اپنی توانائی اہل تشیع کیلئے تحریف قرآن کے عقیدہ سے برات کے اثبات میں لگائیں، تو زیادہ بہتر رہے گا۔
     
    • زبردست زبردست x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏جولائی 15، 2013 #14
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    http://forum.mohaddis.com/threads/آیت-تطہیر-اور-اہل-تشیع-انتظامیہ.13981/

    اس دھاگہ میں آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آیت تطہیر کی تفسیر سے متفق نہیں لنک پر جاکر خود ہی ملاحظہ فرمالیں یہ بد گمانی نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آیت تطہیر کی تفسیر کو غیر متفق ریٹ کیا ہے اب اگر آپ بدل دیں تو وہ دوسری بات ہے

    تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لئے نرم دل ہوئے اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے تو وہ ضرور تمہاری گرد سے پریشان ہو جاتے تو تم انہیں معاف فرماؤ اور ان کی شفاعت کرو اور کاموں میں ان سے مشورہ لو اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کر لو تو اللہ پر بھروسہ کرو بے شک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں
    آل عمران : 159
    ( مترجم : امام احمد رضا بریلوی )
    ہم اس دھاگہ میں اس قول اصحابہ پر بات کررہے ہیں کہ اللہ اعلم یا اللہ ورسولہ اعلم اللہاللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہتر جانتے ہیں نا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عالم الغیب ہونے پر اور اس کو غلط جملہ کہہ کرآپ نے میری پوسٹ سے حذف کردیا تھا اور الحمدللہ آپ نے اس بات کا اعترف فرمالیا کہ " اللہ کے بعد پوری کائنات میں سب سے زیادہ علم بے شک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا گیا تھا"
    اس قاعدے سے قول اصحابہ کوئی غلط جملہ نہیں کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابتداء خلق سے لیکر جنتیوں کے جنت اور دوزخیوں کے دوزخ میں جانے تک کا تمام احوال صحابہ کو بتادیا تھا اس لئے وہ یہ کہتے تھے کہ

    اللہ ورسولہ اعلم اللہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہتر جانتے ہیں

    اس لئے یہ مسئلہ حل ہوچکا
    صحیح احادیث کے مقابلے پر نری عقلی دلیل سے کام نہیں چلتا
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان سَلُوْنِي کا مطلب ہی یہی بنتا ہے کہ جو چاہو پوچھوں اس میں ہر معاملہ آجاتا ہے اللہ نے ہر معاملے کا علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطاء فرمایا ہے

    پھر یاد دلادوں کہ ہم یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عالم الغیب ہونے پر بات نہیں کررہے ہیں
     
  5. ‏جولائی 15، 2013 #15
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    ذرا اس حدیث مبارکہ پر بھی توجہ فرمالیں اس سے کئی باتیں معلوم ہوجائیں گی
    حَدَّثَنَا ‏ ‏يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ‏ ‏قَالَ حَدَّثَنَا ‏ ‏اللَّيْثُ ‏ ‏عَنْ ‏ ‏عُقَيْلٍ ‏ ‏عَنْ ‏ ‏ابْنِ شِهَابٍ ‏ ‏عَنْ ‏ ‏عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ‏ ‏عَنْ ‏ ‏عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ‏ ‏أَنَّهَا قَالَتْ ‏ ‏أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ ‏ ‏صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‏ ‏مِنْ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي النَّوْمِ فَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ ‏ ‏فَلَقِ ‏ ‏الصُّبْحِ ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ وَكَانَ يَخْلُو ‏ ‏بِغَارِ حِرَاءٍ ‏ ‏فَيَتَحَنَّثُ ‏ ‏فِيهِ ‏ ‏وَهُوَ التَّعَبُّدُ ‏ ‏اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ ‏ ‏قَبْلَ أَنْ ‏ ‏يَنْزِعَ ‏ ‏إِلَى أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى ‏ ‏خَدِيجَةَ ‏ ‏فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتَّى جَاءَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي ‏ ‏غَارِ حِرَاءٍ ‏ ‏فَجَاءَهُ ‏ ‏الْمَلَكُ ‏ ‏فَقَالَ ‏ ‏اقْرَأْ قَالَ مَا أَنَا بِقَارِئٍ قَالَ فَأَخَذَنِي ‏ ‏فَغَطَّنِي ‏ ‏حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ ‏ ‏أَرْسَلَنِي ‏ ‏فَقَالَ اقْرَأْ قُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي ‏ ‏فَغَطَّنِي ‏ ‏الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ ‏ ‏أَرْسَلَنِي ‏ ‏فَقَالَ اقْرَأْ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي ‏ ‏فَغَطَّنِي ‏ ‏الثَّالِثَةَ ثُمَّ ‏ ‏أَرْسَلَنِي ‏ ‏فَقَالَ اقراء: الیٰ اٰخرہ
    ایک استاذ طالب علم سے کہتا ہے :
    ’’کیا تمہیں اس بارے میں کچھ معلوم ہے؟‘‘
    طالب علم جواب دیتاہے: ’’جی نہیں آپ ہی بہتر جانتے ہیں‘‘
    استاذکا انتقال ہوجاتا ہے : تو کیا اب بھی وہ طالب علم یہی کہے گا،
    کہ:’’میرے استاذہی بہتر جانتے ہیں‘‘ یا یہ کہے گا میرے استاذ بہتر جانتے تھے!
    بیشک اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کیوں کہ وہ ہمیشہ سے ہےاور ہمیشہ رہیگا،باقی ہر ایک کو فنا ہے جو چیز ختم ہوجاتی ہے اس کو باقی یا حیات نہیں کہتے
    واللہ اعلم بالصواب
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  6. ‏جولائی 16، 2013 #16
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    میں اس طرح کی دلیل کو پہلے بھی نری عقلی دلیل کہہ چکا ہوں
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان سَلُوْنِي کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں
    آپ کی پیش کردہ حدیث حدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں بلکہ یہ قول امی عائشہ کا ہے اور اس قول میں علت یہ ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کی ابتداء ہوئی اس وقت امی عائشہ غالبا پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان سَلُوْنِيکو ہی ایک بار پھر پیش کرتا ہوں آپ غور کریں
     
  7. ‏جولائی 19، 2013 #17
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا "سلونی"کہ مجھ سے سوال کرو،اظہار ناراضگی کی وجہ سے تھا ۔۔۔۔۔کیوں کہ لوگوں نے دور ازکار اور لایعنی سوالات کرنے شروع کردیئے تھے اس لئے آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے بطور ناراضگی کے یہ فرمایا۔۔۔۔چناچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی روایت میں اس کی تصریح موجود ہے کہ:

    جب بعض لوگوں نے آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی منشاءکو نہ سمجھا اور سوالات شروع کردئیے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی ان کے جوابات آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو بتلائے جاتے رہے ۔چناچہ امام نووی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ:

    ''قال العلماءھٰذا القول منہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم محمول علیٰ انہ اوحی الیہ والا فلا یعلم کل مایساءل عنہ من المغیبات الا باعلام اللہ تعالیٰ قال القاضی وظاھر الحدیث ان قولہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سلونی انما کان غضبا کما فی الروایة الاخریٰ سئل النبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم عن اشیاءکرھھا فلما اکثر علیہ غضب ثم قال للناس سلونی وکان اختیارہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم ترک تلک المسائل لکن وافقھم فی جوابھا لانہ لایمکن رد السوال لما راءمن حرصھم علیھا واللہ اعلم " بلفظہ (شرح مسلم ج 2 ص263)
    "حضرات علماءکرام کا کہنا ہے کہ یہ قول جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا س بات پر محمول ہے کہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو اس کی وحی ہوئی تھی ورنہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو تمام مغیبات کا جن کے بارے میں آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے سوالات ہوتے تھے کوئی علم نہ تھا ہاں مگر جتنا اللہ تعالیٰ چاہتا تھا اطلاع دے دیتا تھا ۔حضرت قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حدیث کے ظاہری الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا سلونی فرمانا اظہار ناراضگی پر مبنی تھا کیوں کہ دوسری روایت میں موجود ہے کہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے جب بکثرت ایسی چیزی پوچھی گئیں جن کو آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم پسند نہیں کرتے تھے تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے غصہ میں آکر لوگوں سے فرمایا مجھ سے پوچھو آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم صرف اسی امر کو پسند کرتے تھے کہ یہ سوالات نہ ہوں لیکن جب لوگوں نے آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے پوچھنا شروع کیا تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ان کو جواب دینے میں (نظر با خلاق کریمہ )موافقت کی کیوں کہ لوگ جب پوچھنے میں حریص واقع ہوئے تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے لئے ممکن نہ تھا کہ ان کو بے نیل مرام واپس کردیتے"

    حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ وغیرہ جلیل القدر صحابی جو صحیح معنی میں مزاج شناسِ رسول تھے ،انہوں نے اس موقع پر آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کا گہرا احساس کرتے ہوئے فرمایا:
    فبرک عمر رضی اللہ عنہ علیٰ رکبتیہ فقال رضینا باللہ ربا وبالاسلام دینا وبمحمد رسولا قال فکست رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم حین قال عمر رضی اللہ عنہ ذٰلک الخ (بخاری ج 2 ص1083)(مسلم ج 2ص263)
    دوزانو ہوکر بیٹھ گئے اور یہ فرمایا کہ "ہم اللہ تعالیٰ پر راضی ہیں جو ہمارا رب ہے اور اسلام پر راضی ہیں جو ہمارا دین ہے اور حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم پر راضی ہیں جو ہمارے رسول ہیں ،جب آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ سنا تو پھر آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے سکوت اختیار فرمایا "

    ان جملہ صحیح روایت سے معلوم ہوا کہ جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا "سلونی "فرمانا اس امر پر مبنی نہیں تھا کہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو کلی علم غیب تھا اور آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم اس کا اظہار لوگوں پر کرنا چاہتے تھے بلکہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے لایعنی اور بے کار سوالات کا دروازہ بند کرنے کے لئے ناراضگی کے طور پر یہ ارشاد فرمایا تھا۔
     
    • زبردست زبردست x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏جولائی 20، 2013 #18
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    غیر متعلق جواب ایک بار پھر یاد دلادوں کہ ہم یہاں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذیادہ جانتے ہیں پر بات کررہے ہیں نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلی علم غیب پراس پر ایک الگ دھاگہ میں بات ہورہی ہے اور یہ جو آپ نے سلونی کی تشریح پیش کی ہے یہ آپ کےمجہول اماموں کے قول تو ہوسکتے ہیں کیونکہ اس میں ان کے نام تک درج نہیں کہ کن علماء کا قول ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان نہیں
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان یہ ہے کہ آپ نے اپنے ایک خطاب میں مخلوق کی ابتدء سے لے کر انتہا بلکہ اس سے بھی آگے جنت اور جہنم میں جانے تک کا سارا احوال بتادیا اب اس میں کون سی بات رہ گئی جو آپ کے علم میں نہ ہو ایسی وجہ سے صحابہ یہ کہتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں
     
  9. ‏جولائی 20، 2013 #19
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,982
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ عالم الغیب صرف الله کی ذات ہے اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ "نبی صلی اللہ علیہ نے مخلوق کی ابتدء سے لے کر انتہا بلکہ اس سے بھی آگے جنت اور جہنم میں جانے تک کا سارا احوال بتادیا اب اس میں کون سی بات رہ گئی جو آپ کے علم میں نا ہو"

    جب کہ الله قرآن میں تو فرما رہا ہے -



    يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي ۖ لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ ۚ سوره الاعراف ١٨٧
    قیامت کے متعلق تجھ سے پوچھتے ہیں کہ اس کی آمد کا کونسا وقت ہے کہہ دو اس کی خبر تو میرے رب ہی کے ہاں ہے وہی اس کے وقت پر ظاہر کر دکھائے گا



    يَسْأَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ ۚ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبًا سوره الاحزاب ٦٥
    آپ سے لوگ قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہہ دو اس کا علم تو صرف الله ہی کو ہے اور اپ کو کیا خبر کہ شاید قیامت قریب ہی ہو



    قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ ۚ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ سوره النمل ٦٥
    کہہ دے الله کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی بھی غیب کی بات نہیں جانتا اور انہیں اس کی بھی خبر نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے-



    ان آیات سے تو ظاہر ہو رہا ہے کہ الله کے نبی سب کچھ نہیں جانتے ابتدء سے لے کر انتہا تک -

    صحیح حدیث میں ہے جبریل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ قیامت کب قائم ہوگی ؟ تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا تھا : جس سے سوال کیا جارہا ہے وہ قیامت کے بارہ میں سائل سے زيادہ علم نہیں رکھتا- (یعنی مجھے بھی جبریل علیہ السلام سے اس بارے میں زیادہ علم نہیں) - صحیح مسلم حدیث نمبر ( 8 ) ۔

    کیا قیامت کا علم ابتدء سے انتہا میں شامل نہیں ؟؟؟
     
    • پسند پسند x 4
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  10. ‏جولائی 20، 2013 #20
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    اس سے قبل آپ بار بار یہ فرما رہے تھے:
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جب آپ کی بار بار فرمائش پر اس کی درست تشریح پیش کی گئی تو آپ اسے غیرمتعلق قرار دیتے ہیں۔ عجیب۔

    پہلے تو یہ فرمائیے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک ہی خطاب میں مخلوق کی ابتداء سے لے کر انتہاء اور جنت و جہنم میں جانے تک کا سارا احوال بتا دیا جائے؟ وہ نشست دو چار گھنٹوں کی تھی یا دو چار صدیوں کی؟
    دوسری بات یہ فرمائیے کہ کیا اس خطاب کے بعد قرآن کی کوئی آیت نازل ہوئی؟ اگر نہیں، تو ثبوت درکار ہے۔ اور اگر ہاں، تو پھر اس آیت کی خبر بھی کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے سے اسی خطاب میں دے چکے تھے؟ اگر ہاں، تو آیت کے نزول کی کیا ضرورت رہی؟ اور اگر نہیں، تو آپ کی کلی ٹوٹ گئی کہ خطاب میں سب کچھ آ گیا تھا۔
    پھر یہ فرمائیے کہ اگر واقعی مان بھی لیا جائے کہ ایک ہی خطاب میں از ابتدائے کائنات تا قیام قیامت سب احوال سنا دئے گئے، تو کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جنہوں نے یہ سب احوال سن لئے، اعلم نہیں بن گئے؟ تو آپ فقط اللہ و رسولہ اعلم ہی کیوں کہتے ہیں؟

    اس خطاب کی حقیقت فقط اتنی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فقط بڑے بڑے فتنوں سے خبردار کر دیا تھا۔ نا یہ کہ ریت کا کون سا ذرہ کہاں سے اڑ کر کہاں تک پہنچے گا، اس کی خبر اگر دے بھی دی جاتی تو عبث ہوتی، نعوذباللہ۔

    رہا آپ کا بار بار یہ گردان کرنا کہ:
    ہرگز قابل التفات نہیں۔ کیونکہ آپ فقط نام ہی لینے سے گریز کر رہے ہیں، عقیدہ ان کے عالم الغیب ہونے کا ہی پیش فرما رہے ہیں۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی حیات میں اور شریعت کے معاملات میں اعلم ہونا اور بات ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔
    لیکن ان کی وفات کے بعد ہونے والی ہر ہر دنیاوی جزئیاتی بات سے ان کا باخبر ہونا، کالے علوم کا، شعر کا عالم ہونا علیحدہ بات ہے۔ اسی سے ہمیں اختلاف ہے۔

    اسی کو عالم الغیب ہونا کہتے ہیں۔
    یہ فرمائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخلوق کی ابتداء سے انتہا کا علم خود ہی ذاتی طور پر حاصل تھا یا بذریعہ وحی اللہ کے بتانے سے حاصل ہوا؟
    اگر ذاتی طور پر حصول مانیں، تو یہ شرک ہے۔
    اگر عطائی طور پر ان کا علم ہونا مانیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتانے سے صحابہ کو بھی یہ سب معلوم ہو گیا، لہٰذا ان کو بھی اعلم یا عالم الغیب کی فہرست میں شامل کر لیں۔
     
    • زبردست زبردست x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. مظفر اختر
    جوابات:
    5
    مناظر:
    29
  2. MindRoasterMir
    جوابات:
    3
    مناظر:
    59
  3. اسحاق سلفی
    جوابات:
    6
    مناظر:
    104
  4. اسحاق سلفی
    جوابات:
    8
    مناظر:
    115
  5. عدیل سلفی
    جوابات:
    1
    مناظر:
    56

اس صفحے کو مشتہر کریں