1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ اعلم یا اللہ و رسولہ اعلم؟؟؟

'توحید وشرک' میں موضوعات آغاز کردہ از بہرام, ‏جولائی 06، 2013۔

  1. ‏جولائی 21، 2013 #21
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    اس سارے مواد سے صرف یہ بات ثابت ہورہی ہے کہ آپ اپنی قرآن کے بعد اصح ترین کتاب کی تردید کررہے ہیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب قول ہے جو اس طرح ہے
    صحیح بخاری
    کتاب بدء الخلق
    باب: اور اللہ پاک نے فرمایا
    حدیث نمبر : 3192
    وروى عيسى،‏‏‏‏ عن رقبة،‏‏‏‏ عن قيس بن مسلم،‏‏‏‏ عن طارق بن شهاب،‏‏‏‏ قال سمعت عمر ـ رضى الله عنه ـ يقول قام فينا النبي صلى الله عليه وسلم مقاما،‏‏‏‏ فأخبرنا عن بدء الخلق حتى دخل أهل الجنة منازلهم،‏‏‏‏ وأهل النار منازلهم،‏‏‏‏ حفظ ذلك من حفظه،‏‏‏‏ ونسيه من نسيه‏.‏
    اور عیسیٰ نے رقبہ سے روایت کیا ، انہوں نے قیس بن مسلم سے ، انھوں نے طارق بن شہاب سے ، انھوں نے بیان کیا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا ، آپ نے کہا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر ہمیں وعظ فرمایا اور ابتدائے خلق کے بارے میں ہمیں خبر دی۔ یہاں تک کہ جب جنت والے اپنی منزلوں میں داخل ہو جائیں گے اور جہنم والے اپنے ٹھکانوں کو پہنچ جائیں گے (وہاں تک ساری تفصیل کو آپ نے بیان فرمایا) جسے اس حدیث کو یاد رکھنا تھا اس نے یاد رکھا اور جسے بھولنا تھا وہ بھول گیا۔​
    اس حدیث کے بریکیٹ میں داؤد راز صاحب فرماتے ہیں ساری تفصیل بیان فرمادی ​
     
  2. ‏جولائی 21، 2013 #22
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    یہ درست تشریح کس طرح ہوسکتی ہے سلونی کی اس تشریح کو کرنے والے کا نام بھی آپ نہیں جانتے سلونی کی درست تشریح تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوالات کے جوابات عنایت فرماکر بیان کردی ہے جبکہ آپ مجہول علماء کے قول کو صحیح تشریح کہہ رہے ہیں

    پہلے میں یہ عرض کردوں کہ ایک ہی خطاب میں سارے احوال بیان کرنے کا علم مجھے آپ کی قرآن کے بعد اصح ترین کتاب صحیح بخاری کے مطالعہ سے حاصل ہوا اس لئے آپ کا اعتراض صحیح بخاری پر ہے

    دوسری بات یہ کہ ایسی حدیث کے بریکیٹ میں داؤد راز صاحب کہتے ہیں کہ

    " ابتدائے خلق کے بارے میں ہمیں خبر دی۔ یہاں تک کہ جب جنت والے اپنی منزلوں میں داخل ہو جائیں گے اور جہنم والے اپنے ٹھکانوں کو پہنچ جائیں گے (وہاں تک ساری تفصیل کو آپ نے بیان فرمایا)"

    یہاں لفظ ساری تفصیل پر غور کیا جائے کہ داؤد راز صاحب مانتے ہیں کہ ابتداء خلق سے لے جنتی اور جہنمی کے اپنے ٹھکانے پر پہنچنے کی ساری تفصیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمادی

    پھر یہ بات کہ یہ سارے احوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے بیان فرمادئے تو صحابہ بھی اعلم بن گئے تو اس کے لئے عرض ہے کہ جن صحابہ نے یہ ساری تفصیل سن کر یاد رکھی وہ بھی اعلم ہیں اور جو بھول گئے وہ نہیں یہ بات بھی اس حدیث میں ہی بیان ہوئی ہے کچھ اس طرح سے
    جسے اس حدیث کو یاد رکھنا تھا اس نے یاد رکھا اور جسے بھولنا تھا وہ بھول گیا۔
    یہ ہے اس خطاب کی حقیقت صحیح بخاری کے مطابق کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساری باتیں تفصیل سے بیان فرمادیں
    یہ بات آپ جیسے صاحب علم سے پوشیدہ نہیں ہوگی کہ یہ حدیث صحابہ میں سے کس صحابی رسول نے یاد رکھی اور انھوں نے بھیسلوني کا نعرہ لگایا !!!
    کیا صحابہ کا یہ قول کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذیادہ جانتے ہیں سے صحابہ کی مراد یہ ہوتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم الغیب ہیں تو پھر تو آپ کا یہ اعتراض درست ہے کہ اس قول صحابہ سے میں یہ مراد لے رہا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم الغیب ہیں
    اور اگر صحابہ کی یہ مراد ہوتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ نے ہرچیز کا علم عطاء کیا اور جس کا اعتراف آپ بھی فرماچکے ہیں کہ اللہ کی مخلوق میں جس کو اللہ نے سب سے ذیادہ علم عطاء کیا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں تو پھر یہ آپ کی بدگمانی ہے
    جہاں تک بات ہے صحابہ کو بھی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ باتیں بتادیں تھی وہ بھی اعلم ہوئے تو اس کے میں پہلے ہی عرض کرچکا کہ

     
  3. ‏جولائی 21، 2013 #23
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    اتنی لمبی چوڑی تحریر کی کیا ضرورت تھی بہرام صاحب!۔
    بس دو چیزوں کی تشریح اپنے سوچ کے مطابق کردیجئے۔۔۔
    پہلی علم دوسری غیب۔۔۔
    پھر آگے بڑھتے ہیں ان شاء اللہ۔۔۔
     
  4. ‏جولائی 21، 2013 #24
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    یاد رہے اس دھاگہ کا موضوع ہے اللہ و رسولہ اعلم اور یہ صحابہ کا قول ہے جن کی آپ پرستش کی حد تک عزت کرتے ہیں
    اور اگر میں علم اور غیب کی تشریح کربھی دوں تو آپ نے یہی کہنا ہے کہ موضوع میں رہیں
     
  5. ‏جولائی 21، 2013 #25
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    پوچھی گئی بات پر یہ الزام نہیں لگایا جاتا۔۔۔
    ہاں اگر راہ فرار چاہئے تو مان لیتے ہیں۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏جولائی 21، 2013 #26
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    کیا میں آپ کو یہ بات مثال دے کر سمجھاؤں کہ کس طرح آپ اپنے پوچھے گئے سوال پر جب جواب دیا جاتا ہے تو پھرآپ کا ردعمل کیا ہوتا ہے ؟؟؟؟
     
  7. ‏جولائی 21، 2013 #27
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    ابتسامہ بہرام صاحب ایسا نہیں ہے۔۔۔ اگر میں نے جواب نہیں دیا کسی موضوع میں تو اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہیں کہ میں نے ضروری نہیں سمجھا ہوگا،،،،
     
  8. ‏جولائی 21، 2013 #28
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    لگتا ہے مثال دینی ہی پڑے گی تاکہ بات آپ کی سمجھ میں آجائے ۔۔۔۔
    ایسی دھاگے کی میری پوسٹ پوسٹ نمبر 22 کے جواب میں آپ کا ارشاد گرامی
    یعنی جب جواب دیا جاتا ہے تو فرماتے ہیں کہ اس کی ضرورت ہی نہیں تھی یہ ہے وہ ردعمل جو آپ لی طرف سے آتا ہے
    یہ ہے ابتسامہ کا صحیح موقع
     
  9. ‏جولائی 22، 2013 #29
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,982
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304


    اس حدیث کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ الله نے اپنے نبی کو خلق بنی آدم کے واقعیات اور جنّت اور جہنم میں جو انسانوں کو ان کے ا عمال کے مطابق انجام پیش آ یں گے ان کی خبر دی- یعنی عمومی علم آتا کیا گیا -

    ورنہ الله کے نبی نے مسلمانوں کو احد میں شکست کے بارے میں پہلے سے کیوں نہیں بتا دیا؟؟

    بدر میں اگر فتح کا پہلے سے پتا تھا - تو اللہ سے اتنی گڑ گڑا کر دوعایں کیوں کیں ؟؟؟ اور صحابہ کرام نے اس پر اعترا ض کیوں نہیں کیا کہ جب آپ صل الله علیہ وسلم کو سب کچھ پتا ہے تو اتنی بے قراری کیوں ؟؟؟

    واقعہ افک پر نبی کریم صل الله علیہ وسلم کا ایک مہینے تک پریشان رہنا اور حضرت عائشہ رضی الله عنہ سے متعلق صحابہ کرام سے مشوره کرنا ؟؟؟ کیا یہ علم ابتدء سے انتہا میں شامل نہیں تھا؟؟ - صحابہ کرام رضی الله عنہ نے یہ کیوں نہ کہا کہ جب آپ صل الله علیہ وسلم کو سب پتا ہے تو یہ پریشان ہونا کیوں اور مشوره کرنا کیسا ؟؟ اور حضرت عائشہ رضی الله عنہ کیوں ایک ماہ تک پریشان ہوئیں ؟؟؟ اور انہوں نے نبی کریم صل الله علیہ وسلم سے کیوں نہیں دریافت کیا کہ وہ اپنے علم کی بنیاد پر ان لوگوں کے نام بتائیں جنھوں نے ان پر تہمت لگائی تھی ؟؟؟

    اور اس طرح کے اور بہت سے واقعیات ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں ہیں کہ الله کے نبی کو اگر بروقت علم ہوتا تو وہ اپنے لئے بہت سا فائدہ سمیٹ لیتے اور انھیں کوئی نقصان نہ ہوتا -


    قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ۚ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ ۚ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ سوره الاعراف ١٨٨
    کہہ دو میں اپنی ذات کے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں مگرجو الله چاہے اور اگر میں غیب کی بات جان سکتا تو بہت کچھ بھلائیاں حاصل کر لیتا اور مجھے تکلیف نہ پہنچتی میں تو محض ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان دار ہیں-

     
  10. ‏جولائی 25، 2013 #30
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    آتا کیا گیا نہیں بلکہ عطاء کیا گیا ہے ! درست فرمالیں
    آپ یہ فرماتے ہو کہ یہ عموعی علم عطاء کیا گیا مگر داؤد راز صاحب فرماتے ہیں کہ ساری تفصیل کے ساتھ علم عطاء کیا گیا یہ ہے وہ تضاد جس کی نشاندہی میں پہلے بھی کرچکا ہوں لیکن لگتا ہے آپ میری پوسٹوں کو پڑھے بغیر ہی جوابات دیتے ہیں اس لئے عرض ہے کہ پہلے میری پوسٹوں کو بغور پڑھ لیں شکریہ

    کیا غزوہ بدر سے متعلق وہ صحیح حدیث آپ کے ذہین میں نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے ہی بتادیا تھا اس جنگ میں فلاں کافر اس جگہ مارا جائے گا فلاں کافر اس جگہ مارا جائے گا اور جنگ کے بعد صحابہ بتاتے ہیں کہ جس کافر کے مارےجانے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو جگہ بتائی تھی وہ کافر وہیں مارا گیا
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جنگ سے پہلے اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعا مانگنا امت کی تعلیم کے لئے بھی ہوسکتا ہے اس سے وہ معنی مراد نہیں لئے جاسکتے جو آپ لے رہیں ہیں کیونکہ یہ بات طے ہوچکی کہ صحابہ کا یہ کہنا کہ اللہ اور اس کے رسول ذیادہ جانتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات تک درست تھا اور یہ دونوں واقعات جن کی آپ نے نشاندہی کی ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ہی کے واقعات ہیں اس لئے ان واقعات سے آپ کا استدلال کرنا باطل ہوجاتا ہے

    اس آیات کریمہ میں صرف إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ پر غور کرلیا جائے تو آپ کی سمجھ میں اس آیت کا صحیح مفہوم آجائے گا
    ایک چھوٹی سی مثال اس کے لئے کافی ہوگی
    اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ۰۰۱
    صحیح بخاری میں اس کی تفسیر
    ترجمہ از داؤد راز
    ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ان سے ابوالبشر نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے "کوثر" کے متعلق کہ وہ خیر کثیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ہے۔ ابو بشر نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن جبیر سے عرض کی، لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے جنت کی ایک نہر مراد ہے؟ سعید نے کہا کہ جنت کی نہر بھی اس خیر کثیر میں سے ایک ہے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ہے۔
    حدیث نمبر: 4966
    یہ ہے إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ کا صحیح مفہوم کہ خیر کثیر کہ جس میں نہر جنت بھی شامل ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطاء کردی گئی ہے اور خیر کثیر کو سمجھنے کے لئے اتنا ہی عرض کروں گا کہ جس خیر کو اللہ تعالیٰ کثیر کہے اس کی انتہا کیا ہوگی کیونکہ اللہ کی قلیل عطاء کو بھی ہم شمار نہیں کرسکتے ۔
    غلط جملہ حذف۔ انتظامیہ!
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. مظفر اختر
    جوابات:
    5
    مناظر:
    29
  2. MindRoasterMir
    جوابات:
    3
    مناظر:
    59
  3. اسحاق سلفی
    جوابات:
    6
    مناظر:
    104
  4. اسحاق سلفی
    جوابات:
    8
    مناظر:
    115
  5. عدیل سلفی
    جوابات:
    1
    مناظر:
    56

اس صفحے کو مشتہر کریں