1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ اعلم یا اللہ و رسولہ اعلم؟؟؟

'توحید وشرک' میں موضوعات آغاز کردہ از بہرام, ‏جولائی 06، 2013۔

  1. ‏جولائی 25، 2013 #31
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,982
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    یہ داود راز صاحب کا اپنا فہم ہے - نبی کریم صل الله علیہ وسلم کا اپنا بیان نہیں -نا ہی کسی صحابی کا بیان ہے کہ اس پر ا عتماد کیا سکے- کہ جو باتیں نبی کریم صل الله وسلم نے اپنے صحابہ کرام کو بتائیں وہ کیا تھیں - زیادہ سے زیادہ ہم یہی کہ سکتے ہیں کہ وہ آدم اور بنی آدم سے لے کراس کے انجام تک عمومی باتیں تھیں - نا کہ تفصیلی باتیں- حدیث کے آخری الفاظ ہیں حفظ ذلك من حفظه،‏‏‏‏ ونسيه من نسيه‏ - جسے اس نے حدیث کو یاد رکھنا تھا اس نے یاد رکھا اور جسے بھولنا تھا وہ بھول گیا۔ سوال ہے کس نے اس کی یاد رکھا اور کون بھول گیا - جس نے یاد رکھا اس نے اس کو آگے کیوں نہیں پہنچایا -؟؟؟ کیا نبی صل الله علیہ وسلم کی باتیں اتنی غیرضروری تھیں کہ آگے نا پہنچائی جاسکتیں ؟؟؟

    جہاں تک غزوہ بدر کا تعلق ہے تو حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ صل الله علیہ وسلم نے الله سے یہ بھی فرمایا تھا کہ "اے الله اگر آج کفار غالب آ گئے تو اس دنیا میں تیرا نام لیوا کوئی نہ ہو گا" - یعنی الله کے نبی کو بھی اس جنگ شروع ہونے سے پہلے یہ بات معلوم نہیں تھی کہ فتح کس کی ہو گی اہل حق کی یا اہل باطل کی ؟؟؟ - آپ صل الله علیہ وسلم کی دعا کے نتیجے میں ہی الله نے خوشخبری دی کہ فتح اہل حق کی ہو گی -

    جہاں تک إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ کی تفسیر تا تعلق ہے اس میں کویہ شک نہیں کہ ہم که سکتے ہیں کہ اس سے مراد خیر کثیر ہے - لیکن افسوس کہ آپ نے صرف اسی ایک حصہ کو لیکر معنی اخذ کرنا شروع کردیے - بغیر یہ سوچے سمجھے کہ آیت کے اگلے حصّے میں الله رب العزت یہ فرما رہا ہے کہ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ کہہ دو اگر میں غیب کی بات جان سکتا تو بہت کچھ بھلائیاں حاصل کر لیتا - یعنی میرے اختیار میں کچھ نہیں - خیر کثیر کے ساتھ اگر مجھے تکلیفوں اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس لئے کہ میں نہیں جنتا کہ مستقبل میں میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے ؟؟؟ اس سے صاف ظاہر ہے کہ خیر کثیر سے مراد علم غیب نہیں -

    ساتھ یہ آیت بھی ذہن میں رکھیں جس کا حکم ہر انسان بشمول انبیاء پر بھی لاگو ہے-

    وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ سوره تکویر ٢٩
    نہیں ہوتا تمھارے چاہنے سے کچھ بھی مگر وہی کچھ جو تمام جہان کا رب چاہے -
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 25، 2013 #32
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    لیکن شاید آپ نے میرے جواب کے ساتھ میری عرض پر توجہ نہیں دی۔۔۔
    اگر آپ میری عرض پر توجہ دیتے تو اعتراض کے بجائے جو آپ کی گھٹی میں شامل ہے وہ شاید نہ کرتے بلکہ جواب دیتے۔۔۔
    لیکن مجھےاُمید ہے کہ آپ میرے سوال کا مدلل جواب دیں گے جو سوال میں نے آپ کی عرض میں پیش کئے تھے۔۔۔
    ملاحظہ کیجئے!۔
     
  3. ‏جولائی 26، 2013 #33
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    داؤد راز صاحب کے فہم سے آپ متفق نہیں کہ ساری تفصیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کردی اور پھر جو لوگ آپ کی فہم سے متفق نہیں تو ان کا کیا قصور ہے
    تو پھر آپ ہی اس حدیث سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد بیان فرمادیں کہ یہ عموعی علم کی تفصیل تھی

    جہاں تک بات ہے کہ کس نے اس حدیث کو یاد رکھا تو اس کے میں پہلے ہی عرض کرچکا کہ اہل سنت کی کتب حدیث کے مطالعہ سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ ایک ہستی ضرور ہے جس نے اس حدیث کو یاد رکھا اور انھوں نے بھی سلونی کا نعرہ لگایا کہ جو چاہو مجھے سے پوچھ لو آپ جیسے صاحب علم سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہوگی !!!
    یہ بات امت کی تعلیم کے لئے بھی ہوسکتی ہے ضروری نہیں کہ آپ جو اپنی فہم سے اس کی وضاحت کررہے ہیں وہی صحیح ہو
    یاد رہے یہاں ہم قول صحابہ "اللہ اور اس کے رسول ذیادہ جانتے " پر بات کررہے ہیں نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ علم غیب پر نہیں اس لئے بہتر ہوگا کہ آپ اس پر اپنے دلائل قرآن و حدیث سے بیان فرمائیں
    اور جہاں تک بات ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مستقبل کے جاننے کی تو یہ جنتی اور جہنمی ہونے کی خبر تو تو دوسرے کے بارے میں جانتے ہیں اور اپنے ہی مستقبل کی خبر نہیں یہ ہے آپ کی فہم کا معیار
    انا للہ وانا الیہ راجعون

    یہی بات میں آپ کے گوش گذار کرچکا کہ اللہ کے چاہنے سے ہی سب کچھ ہوتا ہے اور اللہ نے جو چاہا اس کو آپ ماننے کو تیار نہیں
    ایک بار پھر سورہ کوثر کی پہلی آیت کی تلاوت فرمالیں آپ کی سمجھ میں آجائے گا
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. مظفر اختر
    جوابات:
    5
    مناظر:
    29
  2. MindRoasterMir
    جوابات:
    3
    مناظر:
    59
  3. اسحاق سلفی
    جوابات:
    6
    مناظر:
    104
  4. اسحاق سلفی
    جوابات:
    8
    مناظر:
    115
  5. عدیل سلفی
    جوابات:
    1
    مناظر:
    56

اس صفحے کو مشتہر کریں