1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ اوررسولﷺ سے’محبت‘کی جائے یا ’عشق‘ ؟

'ایمانیات' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏اکتوبر 06، 2011۔

  1. ‏اکتوبر 06، 2011 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    اللہ اوررسولﷺ سے’محبت‘کی جائے یا ’عشق‘ ؟

    حب الہی اور عشق الہی کا فرق​

    اختر حسین عزمی​

    قرآن نے حب ِ الٰہی کو مؤمن کی پہچان اور ایمان کی جان قرار دیا ہے: (وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا ﷲِ) (البقرۃ:۱۲۵)
    یہ ثابت کرنے کے لئے کہ دین کااصل تصورِ تزکیہ قرآن کے نزدیک بھی عشق الٰہی ہی ہے، دو باتوں کا ثابت شدہ ہونا ضروری ہے: ایک یہ کہ قرآن میں جس محبت ِالٰہی کا ذکر ہے، اس کا حقیقی مفہوم وہی ہے جو عشق الٰہی کا ہے اور دوسری یہ کہ قرآنی ارشادات اور اسالیب ِکلام کی رو سے اللہ کی یہ محبت ہی ا س کے دین کا بنیادی تصور ہے۔ کیا حقیقت ِواقعی یہی ہے؟ قرآن کی داخلی شہادتیں اس سلسلے میں کیا فیصلہ دیتی ہیں، یہ دیکھنے کی ضرورت ہے…
     
  2. ‏اکتوبر 06، 2011 #2
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    قرآن اورحب ِالٰہی
    پہلی بات یہ ہے کہ قرآن میں صرف ’محبت‘ ہی کا لفظ استعما ل ہوا ہے جبکہ لفظ ’عشق‘ سے مکمل اجتناب برتا گیا ہے۔ انسانی کلام میں تو بے سوچے سمجھے بھی الفاظ کا استعمال ہوجاتا ہے لیکن کلامِ الٰہی کے ایک ایک لفظ کے انتخاب میں کوئی احتیاط، کوئی موزونیت اور کوئی معنویت ایسی نہیں ہوتی جو فکر ونظرسے اوجھل رہ گئی ہو۔
    اور چونکہ قرآن کو مطلوب قلب ِمؤمن کی وہ کیفیت تھی جس کی تعبیر وہ ’حب ِالٰہی‘ کے لفظ سے کرتا ہے، نہ کہ وہ کیفیت جس کا نام ’عشق الٰہی‘ ہے۔ اس لئے اس نے بالکل ضروری سمجھا کہ کہیں ایک جگہ بھی عشق کا لفظ نہ آنے پائے۔
    یہ بات صحیح ہے کہ اہل لغت نے عشق کے معنی فرط الحب کے لکھے ہیں۔ گویا کہ ان کے ہاں محبت ِالٰہی اور عشق ِالٰہی میں فرق اصل اور حقیقت کا نہیں بلکہ صرف درجات کا ہے۔
    اس لئے عشق اور محبت میں فرق کے باوجود عشق کے مطلوبِ تزکیہ ہونے پر کوئی حرف نہیں آسکتا۔
    یہ اندازِ فکر بظاہر بڑا مدلل ہے لیکن سوال یہ ہے
    یہ دُہری حقیقت اس امرکی کھلی شہادت ہے کہ محبت ِالٰہی اور چیز ہے اور عشق الٰہی دوسری چیز۔ دونوں میں صرف درجات کا نہیں، بلکہ بنیادی نوعیت کا فرق ہے۔
     
  3. ‏اکتوبر 06، 2011 #3
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    حب ِالٰہی کی اصل نوعیت
    حب ِالٰہی کی اصل حقیقت پر جن آیتوں سے روشنی پڑتی ہے، ان میں سے سب سے زیادہ واضح یہ آیت ہے
    اس آیت میں ا س محبت کو جو مشرکین ِعرب اپنے معبودوں سے رکھتے تھے، بنیادی طور پر اس محبت کے مشابہ قرار دیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ہونی چاہئے۔ گویا کہ قرآن نے جس حب الٰہی کو مطلوب ٹھہرایا ہے وہ اسی طرح کی محبت ہے جو مشرکوں کے دلوں میں اپنے معبودوں کے لئے پائی جاتی تھی۔
    ہر واقف ِحال جانتا ہے کہ مشرکوں کو اپنے معبودوں کے ساتھ جو محبت تھی، وہ دوسری قسم کی اور دوسرے معنوں میں تھی، پہلے معنوں میں ہرگزنہ تھی۔ ان کا رویہ ان کے بارے میں طالب ِرضا کا تھا، طالب ِو صال کا نہ تھا اور مقصود یہ تھا کہ انہیں ان کی نظر کرم اور خوشنودی حاصل ہوجائے۔ قرآن نے اپنی مطلوبہ محبت ِالٰہی کو اس محبت کے مشابہ قرار دے کر گویا خود ہی یہ بات واضح کردی کہ مجھے جو محبت ِالٰہی مطلوب ہے، وہ بنیادی طور پر اسی قسم کی محبت ہے نہ کہ کسی اور قسم کی۔ اپنی مطلوبہ محبت کو قرآن نے مشرکوں کی ’محبت ِانداد‘ کے مشابہ قرار دیا ہے ۔ تاہم ا س کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ یہ محبت اپنی وسعت اور گہرائی میں بھی اس کے بقدر ہے بلکہ صرف یہ ہے کہ اپنی بنیادی نوعیت کے اعتبار سے اس کے مطابق ہے۔
    دوسری آیت:
    اس آیت سے اتباعِ رسول کے ساتھ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اپنے صحیح اور معیاری مفہوم میں ٹھیک وہ محبت ہے جو اس کے رسولؐ کے اندر موجود تھی۔ قلب ِرسولﷺ میں اپنے اللہ سے جو محبت موجزن تھی، وہ کس نوعیت کی تھی؟ ا س کا جواب آپؐ کی عملی زندگی ہی دے سکتی ہے۔
    چنانچہ ابن عطا ؒ نے محبت ِالٰہی کی مشیت ان الفاظ میں بیان کی:
    علی قدر العقول کے الفاظ اس بات کی دلیل ہیں کہ کہنے والے کے نزدیک محبت ِالٰہی کا اصل سرچشمہ انسانی عقل ہے نہ کہ طبعی جذبات۔
    سید اسمٰعیل شہیدؒ کی ذیل کی عبارت سے اس کی مزید وضاحت ہوتی ہے، فرماتے ہیں:
    شاہ صاحب کے بیان سے نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ حب ِنفسانی، عشق کا اور حب ایمان، حب ِعقلی کا نام ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی مطلوبہ محبت دوسری ہے نہ کہ پہلی۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ خود راہِ تصوف کے راہی ہیں، ان کا ارشاد بھی اس باب میں صریح ہے، فرماتے ہیں :
    مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے تعلق باللہ کی اساسات میں محبت کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ لفظ عشق کے استعمال کو تزکیہ کے قرآنی منہج کے مطابق ناقابل قبول قرار دیا ہے، وہ فرماتے ہیں:
    صوفیا کے ہاں لفظ ’محبت‘کی جگہ ’عشق‘ کی اصطلاح کیوں مروّج ہوئی، اس بارے میں مولانا اصلاحیؒ لکھتے ہیں :
     
  4. ‏اکتوبر 06، 2011 #4
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    حب ِالٰہی کا عملی اظہار
    قرآنِ مجید نے حب ِالٰہی کے عملی مفہوم کی کئی جگہ وضاحت کی ہے۔ مذکورہ صدر آیت : {قُلْ إنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اﷲَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اﷲُ} سے یہ واضح ہے کہ محبت ِالٰہی کا فطری تقاضا، ضروری مظہر اور واحد لازمی ثبوت اتباعِ رسولؐ ہے۔ جوشخص اس اتباع میں جتنا زیادہ بڑھا ہوا ہوگا، اتنی ہی زیادہ اپنے اللہ سے محبت رکھنے والا قرار پائے گا۔
    اس لئے جس کسی کی ’محبت ِالٰہی‘ عمل کے اس قالب میں ظاہر نہ ہوتی ہو، قرآن کی مطلوبہ محبت نہیں ہوسکتی!!
    سورۃ المائدہ کی مذکورہ بالا آیت نمبر ۵۴ کے مطابق جن لوگوں کے دلوں میں حب ِالٰہی ہوتی ہے، ان سے یہ اعمال لازماً صادر ہوتے ہیں :

    سورۃ التوبہ کی آیت۲۴ بھی جہاد فی سبیل اللہ کو محبت ِالٰہی کی پرکھ کی کسوٹی قرار دیتی ہے۔ گویا قرآن کے نزدیک جہا دکی محبت اور اللہ اور رسولﷺ کی محبت، دونوں ایک ہی حقیقت کی دو مختلف تعبیریں ہیں۔
    علامہ ابن تیمیہؒ حب ِالٰہی کے مسئلے پر بحث کرتے ہو ئے صراحت سے لکھتے ہیں :
     
  5. ‏اکتوبر 06، 2011 #5
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    عشق اور صفاتِ الٰہی
    قرآن حکیم میں بیان شدہ صفاتِ الٰہی کا جائزہ ہمیں دو حقیقتوں سے آگاہ کرتا ہے:
    تعلق باللہ کی ٹھیک ٹھیک حیثیت معلوم و متعین کرنے کے لئے اللہ کی بلا استثنا ان تمام قسم کی صفات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اگرکوئی شخص ان ساری صفات کو اپنے قلب و ذہن میں جگہ دینے کی بجائے ان میں سے کچھ خاص صفات کا انتخاب کرلیتا ہے اور صرف انہی کی بنیاد پر اللہ کا تصور قائم کرتا ہے تو یہ تصور بالیقین ایک ناقص اور غلط تصور ہوگا۔ مثلاً بعض مذاہب کا یہ تصور کہ خدا صرف رحمت و محبت ہے، قرآنی نقطہ نظر سے یکسر قابل ردّ ہے۔
    جب یہ بنیادی بات معلوم ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ کی اصل مشیت فی الواقع کیا ہے تو اب دوسری بات بھی نامعلوم نہیں رہ گئی کہ اللہ اور انسان کے درمیان اصل تعلق کی نوعیت کیا ہے؟ اللہ جن ’جلالی‘ اور ’جمالی‘ دوگونہ صفات سے متصف ہے، ان سے قدرتی طور پر یہ نوعیت انتہائی محبوب آقا اور مکمل باوفا غلام، حقیقی فرمانروا اور اطاعت گزار رعیت ہی کی ہوسکتی ہے۔
    سورۃ الذاریات کی آیت ۵۶
    اس سے یہ بات واضح ہے کہ قرآنی تصورِ تزکیہ عشق الٰہی والانہیں ہوسکتا کیونکہ یہ بات سراسر نامعقول ہے کہ تخلیق انسان کامقصد کچھ اور ہو اور اسے عطا کئے جانے والا تصورِ تزکیہ اور نوعیت کا ہو…!!
     
  6. ‏اکتوبر 06، 2011 #6
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    حب ِالٰہی کا بصیغہ امر ذکر نہ کرنے میں قرآنی حکمت و احتیاط
    قرآنِ حکیم نے دوسری صفاتِ ایمان کے متعلق صاف طور سے امر و حکم کی زبان استعمال کی ہے لیکن عشق الٰہی تو کجا خود حب ِالٰہی کی تمام تر دینی اہمیت کے باوجود بھی اس کا بصیغہ امر کہیں ذکر نہیں کیا۔ ا
    جیساکہ مولانا صدر الدین اصلاحی فرماتے ہیں :
    حب ِالٰہی کی عظیم اہمیتوں کے باوجود قرآنِ حکیم کی اس غیرمعمول احتیاط سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس کو عشق الٰہی پر مبنی تصورِ تزکیہ سے کتنا بُعد ہے۔ عشق الٰہی پر مبنی تصورِ تزکیہ کے متعلق سلبی پہلو سے ضروری واقفیت حاصل کرلینے کے بعد ہمیں عشق کے بارے میں تین بنیادی سوالات کاجواب ایجابی پہلو سے معلوم کرنا ہوگا :
     
  7. ‏اکتوبر 06، 2011 #7
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    (۱) سرچشمہ
    پہلے سوال کا منفی جواب تو پیچھے گذر چکا ہے کہ اس تصورِ تزکیہ کا سرچشمہ قرآن وحدیث نہیں ہے۔ یہ معلوم ہونے کے بعد کہ اس کا ماخذ وحی الٰہی نہیں ہے، ہمارے سامنے یہ حقیقت ایک مثبت جواب بن کر سامنے آتی ہے کہ تزکیہ کا یہ تصور انسانی ذہن کی ایجاد اور اس کے اپنے ہی افکار و جذبات کی پیداوار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دین میں بدعت و ضلالت کے دروازے کا کھلنا تصورِ عشق کا لازمی نتیجہ ہے۔
     
  8. ‏اکتوبر 06، 2011 #8
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    (۲) فطری مزاج
    جس تصورِ تزکیہ کی بنیاد عشق ہو، اس کا مزاج بھی عقل و بصیرت کا نہیں بلکہ وہی ہوگا جو عشق کا مزاج ہے۔ اس لئے عشق الٰہی پر مبنی تصورِ تزکیہ کا فطری مزاج معلوم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ پہلے خود نفس عشق کا مزاج سمجھ لیا جائے۔ سید اسمٰعیل شہیدؒ حقیقت ِعشق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    سید شہیدؒ کے اس بیان سے مزید عشق کی حسب ِذیل خصوصیات متعین ہوتی ہیں:
    عشق کے اس مزاج کے آئینے میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جس تصورِ تزکیہ کی بنیاد عشق الٰہی پر ہوگی، اس کا مزاج کیا ہوگا۔ عشق کا یہ فطری مزاج قرآن میں بیان کردہ اجتماعی احکامات سے قطعی طور پر متصادم ہے۔ قرآنی ہدایت ہمہ گیر نوعیت کے احکام و مسائل پر مبنی ہے۔ احکامِ قرآنی کی یہ نوعیت تصورِ تزکیہ کو عشق الٰہی پر مبنی خیال کرنے کے خلاف ہے۔ کیونکہ عشق الٰہی کی تو عین فطرت میں یہ شامل ہے کہ انسان دنیا و مسائل دنیا سے یکسر بے تعلق ہوجائے حتیٰ کہ خود اپنے وجود کے احساس سے بھی اونچا ہو رہے۔
     
  9. ‏اکتوبر 06، 2011 #9
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    (۳) عملی تقاضے
    تیسرا سوال عشق کے عملی تقاضوں سے متعلق ہے۔ عشق الٰہی پرمبنی تصورِ تزکیہ کے عملی تقاضوں کا ہم قطعیت کے ساتھ تعین نہیں کرسکتے (جبکہ قرآنی تصور تزکیہ کے تقاضے ہم ’حب ِ الٰہی کا عملی مفہوم‘ کے تحت بیان کرچکے ہیں)۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صرف اسی فکر کے عملی تقاضے قطعیت سے متعین کئے جاسکتے ہیں جو خود بھی متعین، منضبط اور قطعی حیثیت رکھتی ہو۔ جو محسوساتِ ذہنی کو دوسروں تک پہنچانے کے معروف اور فطری اُسلوب سے بیان کی جاسکتی ہو۔
    علاوہ ازیں سینوں کے احساسات اور دلوں کے جذبات بھی تو یکساں نہیں ہوتے۔ اس لئے جس تصورِ تزکیہ کا سرچشمہ احساسات و جذبات ہوں، اس کے بارے میں کوئی اطمینان توکیا، یہ خیال بھی نہیں کیا جاسکتا کہ اس کی حقیقت اور صورت عام اتفاقِ رائے کے ساتھ بالکل ایک ہوگی۔ کیونکہ ایسا خیال کرنا گویا یہ مان لینا ہے کہ مختلف انسانوں کے جذبات و احساسات اور ذوق و وجدان لازماً یک رنگ ہوتے ہیں جو کہ ایک غلط مفروضہ ہے۔ (۱۰) مولانا امین احسن اصلاحی ؒکے الفاظ میں:
    جب حقیقت ِحال یہ ہے تو یہ توقع کیسے کی جاسکتی ہے کہ اس تصورِ تزکیہ کے اندر قرآنی تصورِ تزکیہ کی سی شانِ انضباط پیدا ہوسکتی ہے اور اس طرح اس کے سارے ہی عملی تقاضوں کو قطعیت کے ساتھ متعین کیا جاسکتا ہے۔
    قرآنی دلائل اور اکابرین اُمت کی مذکورہ آرا کی روشنی میں عشق الٰہی کے تصور پر وارد ہونے والے اعتراضات کا خلاصہ یہ ہے :
     
  10. ‏اکتوبر 06، 2011 #10
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    حو ا لہ جا ت
    (۱) ابی القاسم عبدالکریم بن ہوازن قشیری: الرسالۃ القشیریۃ، مکتبہ مصطفی البابی، مصر، ۱۹۴۰ء :ص ۱۵۹
    (۲) صراطِ مستقیم، مطبع مجتبائی دہلی، ص:۴
    (۳) شریعت و طریقت، ادارئہ اسلامیات لاہور، ۱۹۸۱ئ، ص:۱۲۵
    (۴) تزکیۂ نفس، فاران فاؤنڈیشن لاہور ، ۱۹۹۴ئ، ج:۲ ص:۶۷۔۶۸
    (۵) ایضاً، ص:۶۸
    (۶) العبودیہ، المکتبۃ الاسلامی بیروت، ۱۳۸۹ھ، ص:۱۳۳
    (۷) دین کا قرآنی تصور، ص۱۰۳
    (۸) صراطِ مستقیم، ص:۵
    (۹) دین کا قرآنی تصور، ص:۱۳۷،۱۳۸
    (۱۰) ایضاً، ص:۱۳۹، ۱۴۰
    (۱۱) تزکیہ نفس: ۲؍۶۹
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں