1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کردیا کہ احکام صرف دوقسم کے ہوسکتے ہیں ایک اللہ کا حکم دوسرا جاہلیت کاتیسری

'خوارج' میں موضوعات آغاز کردہ از محمدسمیرخان, ‏مارچ 11، 2013۔

  1. ‏مارچ 11، 2013 #1
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کردیا کہ احکام صرف دوقسم کے ہوسکتے ہیں ایک اللہ کا حکم دوسرا جاہلیت کاتیسری کوئی صورت نہیں ہے۔

    فرماتا ہے:
    اَفَحُکْمَ الْجَاہِلِیَّۃِ یَبْغُوْنَ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اﷲِ حُکْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۔(مائدہ:۵۰)
    کیا یہ لوگ جاہلیت کا حکم تلاش کررہے ہیں اللہ سے بہترحکم کس کا ہے یقین کرنے والی قوم کے لیے ۔

    فرماتا ہے:
    اَفَغَیْرَ اﷲِ اَبْتَغِیْ حَکَمًا وَّ ہُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ اِلَیْکُمُ الْکِتٰبَ مُفَصَّلاً۔(انعام:۱۱۴)
    کیا اللہ کے علاوہ میں کوئی حکم کرنے والاڈھونڈلوں حالانکہ اس نے تمہاری طرف تفصیلی کتاب نازل کی ہے۔

    ان کے علاوہ دیگر آیات بھی ہیں جو اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ امر،تخلیق اور تشریع صرف اللہ کا حق ہیں اور وہی حقیقی شارع اور حاکم ہے تو پھر ہر وہ شخص جو خود کو یاکسی اور کو تشریع وقانون سازی کا حق دیتا ہے وہ اللہ کے ساتھ اس کی خاص صفات میں دوسرے معبود کو شریک کرتا ہے ۔ایسا کرنے والوں کے بارے میں اللہ نے فرمایا:
    اَمْ لَہُمْ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوْا لَہُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَن بِہِ اﷲُ۔(شوریٰ:۲۱)
    کیا ان کے پاس ایسے (اللہ کے )شریک ہیں جو ان کے لیے دین کے وہ قوانین بناتے ہیں جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی؟

    اللہ نے اس آیت میں ان لوگوں کو شریک کہا ہے جو لوگوں کے لیے ایسے قوانین بناتے ہیں جن کی اجازت اللہ نے نہیں دی ہے۔اہل کتاب نے اپنے احبار ورہبان کو جب اللہ کے علاوہ رب بنایا تو اللہ نے ان کے بارے میں فرمایا:
    اِتَّخَذُوْآ اَحْبَارَہُمْ وَ رُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اﷲِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ مَآ اُمِرُوْآ اِلَّا لِیَعْبُدُوْآ اِٰلہًا وَّاحِدًا لَآ اِٰلہَ اِلَّا ہُوَسُبْحٰنَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ۔(توبۃ:۳۱)
    انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے علاوہ رب بنالیا ہے اور مسیح ابن مریم کو بھی حالانکہ انہیں صرف یہ حکم دیا گیا تھا کہ ایک اللہ کی عبادت کریں اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہ پاک ہے ان کے شرک سے ۔

    اللہ نے اپنی کتاب میں جو حکم نازل کیا ہے اسے ترک کرنے یا اللہ کے نازل کردہ کے بجائے کسی اور قانون کی طرف جانے والے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اﷲُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ۔(مائدہ:۴۴)
    جو اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں ۔

    دوسری جگہ ارشاد ہے:
    اَفَحُکْمَ الْجَاہِلِیَّۃِ یَبْغُوْنَ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اﷲِ حُکْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۔(مائدہ:۵۰)
    کیا یہ لوگ جاہلیت کے فیصلے ڈھونڈتے ہیں اللہ سے بہتر حکم کرنے والا کون ہے ؟یقین کرنے والی قوم کے لیے۔

    پس ثابت ہوا کہ احکام صرف دوقسم کے ہوسکتے ہیں ایک اللہ کا حکم دوسرا جاہلیت کاتیسری کوئی صورت نہیں ہے
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 12، 2013 #2
    بنت حوا

    بنت حوا مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2013
    پیغامات:
    95
    موصول شکریہ جات:
    246
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    زبردست سمیر خان
    لیکن ایک بات جو میں بار بار پوچھ رہی ہوں،آپ اس کی طرف زرا بھی دھیان نہیں دہتے ،نہ جانے کیوں؟
    باقی پوسٹس پر اور اس پوسٹ پر بھی میرا سوال وہی ہے۔کہ کیا۔۔
    جہالت کے فیصلوں میں ابو حنیفہ ،قاضی ابو یوسف،امام محمد،وغیرہ نے جو فیصلے کیے،جو اللہ کے فیصلے کے بالکل خلاف تھے،
    مثال کے طور پر اڑھائی سال دودھ پلانی کی مددت،سرکہ کی شراب کو حلال قرار دینا،کتے کی قیمت کو حلال قرار دینا۔۔۔وغیرہ۔۔۔
    کیا یہ سب بھی جہالت کے احکام ہوں گے؟
    اور ان پر بھی وہی حکم لگے گا جو ایک جج،وکیل،حکمران یا سیاستدان پر لگتا ہے۔؟؟؟؟
     
  3. ‏مارچ 13، 2013 #3
    طالب نور

    طالب نور رکن مجلس شوریٰ
    جگہ:
    سیالکوٹ، پاکستان۔
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2011
    پیغامات:
    361
    موصول شکریہ جات:
    2,303
    تمغے کے پوائنٹ:
    220

    السلام علیکم! میری ہمت تو نہیں ہو رہی کہ میں سمیر خان جیسے عظیم مفسر قرآن اور مفتی اعظمِ دوراں سے کوئی سوال کروں کہ نتیجہ میں کہیں قابل گردن زنی قرار نہ پا جائوں۔ پھر بھی سمجھنے کے لئے پوچھ رہا ہوں کہ کیا علی الاطلاق یہ کہنا کہ
    درست ہے یا یہ صرف شرعی معاملات میں ہے اور پھر شرعی معاملات میں بھی صرف نصوص سے ثابت شدہ معاملات ہی یا اجتہادی معاملات بھی اس مسئلہ کو شامل ہیں۔
    بطور مثال ملکی قوانین میں درج ہے کہ سرخ سگنل پر گاڑی روک لی جائے۔ یہ حکم اللہ کا تو نہیں ہے تو کیا پھر اس کو جاہلیت کا حکم شمار کر کے اس کی خلاف ورزی کرنی چاہئے۔
    اسی طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا حج تمتع پر پابندی لگانا اللہ کی شریعت میں تو نہیں تھا بلکہ اجتہادی طور پر ان کا فیصلہ تھا جو اللہ کا حکم نہیں تھا تو کیا اسے بھی جاہلیت کا حکم شمار کیا جائے گا۔ (نعوذ باللہ)
    اگر کہا جائے کہ عظیم مفسر و مفتی وقت کی مراد یہ نہیں تھی تو عرض ہے کہ آیات کو پیش کر کے اپنے من چاہے عمومی الفاظ میں بیان کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ سیدھی طرح ان آیات کا صرف یہی مفہوم کیوں نہ بیان کیا ان آیات کا مصداق وہ قوانین ہیں جو جان بوجھ کر اللہ کی شریعت کے مقابل بنائے جائیں یا جن قوانین کو اللہ کے حکم سے بہتر سمجھا جائے دیگر قوانین و احکامات اس میں شامل نہیں۔ نیز جان بوجھ کر صریح حکم کی مخالفت اور علمی و اجتہادی خطا میں فرق بھی ضروری ہے۔ باقی ان غیر شرعی قوانین پر عمل پیرا ہونے والوں کے حکم میں جو اعتقاد کے اعتبار سے فرق ہے تفصیل کا متقاضی ہے جس کا یہ موقع نہیں۔
    لہٰذا مفتی وقت سے گزارش ہے کہ آیات کو پہلے سے پڑھے فتووں کی روشنی میں نہیں بلکہ دیگر آیات و احادیث نیز سلف صالحین کی فکر کی روشنی میں سمجھیں ورنہ خوامخواہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کے لئے بھی باعث گمراہی کا بنیں گے۔ والسلام
     
  4. ‏مارچ 13، 2013 #4
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    آپ میرا پوسٹ غور سے پڑھیں اس میں اجتہادی خطاؤں یا کونی قوانین کے متعلق بات نہیں کی گئی صرف اور صرف یہ بات کی گئی ہے کہ اللہ کے احکامات کے مقابلے پر جو قوانین بنائے جاتے ہیں وہ جاہلیت کے قوانین ہیں۔قاضی کے اجتہادی فیصلوں یا کسی بھی مسئلے میں فقہاء کی اجتہادی خطاؤں کی میں نے کسی بھی پوسٹ میں بات نہیں کی ہے۔ میں نے تو وہ بات کی ہے کہ جو عام ہے اور ان شاء اللہ سب کی سمجھ میں آچکی ہے۔ اسی لئے تو اس موضوع کو موڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ہم سب اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ سود حرام ہے ۔ شراب حرام ہے۔ شادی شدہ زانی کی سزا سنگسار کرنا ہے۔ اور غیر شادی شدہ کو سو کوڑے مارنا ہے ۔ لیکن کیا اس کے مقابلے میں پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے اشخاص اللہ کے محکم اور ٹھوس قوانین کے مقابلے میں اپنے قوانین نہیں بنارہے ہیں۔ جس سود کو اللہ نے بلکہ طاغوتی عدالتوں تک نے حرام قرار دے دیا لیکن پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے مشرعین نے اس کو ملکی معیشت میں اہم ستون قرار دے کر جاری و ساری کیا ہوا ہے۔ بینک مسلمانوں کو سودی قرضے فراہم کررہے ہیں۔ جس شراب کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہوا ہے۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے مشرعین نے اس کی خریدوفروخت کو لائسنس کے ساتھ جائز قرار دیا ہوا ہے۔حتیٰ کہ مساجد کے برابر میں یا مساجد کے سامنے شراب خانے کھلے ہوئے ہیں۔جہاں دھڑلے سے ملکی محافظین کی موجودگی میں شراب علانیہ فروخت کی جارہی ہے۔ کیا آج تک کسی شادی شدہ زانی کو سنگسار کیا گیا؟۔نہیں کیا گیا کیونکہ پارلیمنت میں بیٹھے ہوئے مشرعین نے یہود کی طرح اس قانون کو بھی بدل دیا ہے۔ کیا کسی غیر شادی شدہ زانی کو سو کوڑے کی سزا دی گئی ہر گز نہیں ۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے مشرعین نے اس کو بھی یہود کی طرح بدل دیا ہے۔
    تو میرے بھائی قاضی کی اجتہادی غلطیوں کی تو بات میری کسی بھی پوسٹ میں نہیں کی گئی ہے۔ بلکہ یہ موضوع کچھ اور ہے۔اس پر بحث کے اصول کچھ اور ہیں۔ آپ ان دونوں چیزوں کو الگ الگ رکھیں آپس میں خلط ملط نہ کریں ۔ بس میری اتنی سی گزارش ہے۔جزاک اللہ
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏مارچ 13، 2013 #5
    ابومحمد

    ابومحمد رکن
    جگہ:
    کوٹ ادو
    شمولیت:
    ‏جنوری 19، 2013
    پیغامات:
    301
    موصول شکریہ جات:
    546
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

     
  6. ‏مارچ 13، 2013 #6
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    جناب ابو محمد صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں آپ پر واضح کرتا چلوں کہ میں اہل الحدیث ہوں ۔ جن صاحب کی آپ نے بات کی ہے۔ میرا ان سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔جزاک اللہ
     
  7. ‏مارچ 13، 2013 #7
    ابومحمد

    ابومحمد رکن
    جگہ:
    کوٹ ادو
    شمولیت:
    ‏جنوری 19، 2013
    پیغامات:
    301
    موصول شکریہ جات:
    546
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    محترم سمیر صاحب اور جھاں تک زانی کی سزا اور شراب کی حرمت کا ہے تو ارکان پارلیمنٹ کو یہ سارے مسائل عند ابی حنیفہ والی فقہ سے ملے ہیں ۔
     
  8. ‏مارچ 13، 2013 #8
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    تو کیا خیال ہے؟؟؟؟؟
     
  9. ‏مارچ 13، 2013 #9
    ابومحمد

    ابومحمد رکن
    جگہ:
    کوٹ ادو
    شمولیت:
    ‏جنوری 19، 2013
    پیغامات:
    301
    موصول شکریہ جات:
    546
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    تو کیا خیال
    یہ تو میرا سوال آپ سے تھا ہمارے نزدیک تو وہ کافر نہیں لیکن آپ کے فتاواجات کی روشنی میں وہ نہیں بچ سکتے اس کا جواب آپ نے دینا ہے کہ کیا حکم لگے گا۔
     
  10. ‏مارچ 13، 2013 #10
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    میں نے تو کوئی ذاتی فتویٰ نہیں دیا کسی کے متعلق نہ ہی کسی کو معین کرکے بات کی ہے۔ میں نے تو صرف علماء سلف کے اقوال اور ان کی تحاریر کو پوسٹ کیا ہے۔تاکہ لوگ ان کفریہ باتوں اور گمراہ کن عقائد سے بچیں جن کی علماء اہل السنۃ والجماعۃ نے اپنی تحاریر اور اپنی کتابوں میں نشان دہی کی ہے۔ کیونکہ یہی بہتر طریقہ ہے۔ حق بات پہنچانے کا۔آپ کو حکم لگانے کا شوق ہے تو یہ آپ کی مرضی پر منحصر ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں