1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ تعالی کے عرش پر مستوی ہونے کے متعلق امام عبداللہ بن مبارکؒ کے قول اسنادی صحت

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد اعمش, ‏جنوری 21، 2019۔

  1. ‏جنوری 21، 2019 #1
    محمد اعمش

    محمد اعمش مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 21، 2019
    پیغامات:
    3
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    4

    السلام علیکم
    میں استواء کے متعلق امام عبداللہ بن مبارکؒ کے قول والی اس روایت کی تحقیق کروانا چاہتا ہوں :

    امام بیہقیؒ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الزَّاهِدُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَبُّوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ، يَقُولُ: نَعْرِفُ رَبَّنَا فَوْقَ سَبْعِ سَمَاوَاتٍ، عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى، بَائِنٌ مِنْ خَلْقِهِ، وَلَا نَقُولُ كَمَا قَالَتِ الْجَهْمِيَّةُ بِأَنَّهُ هَهُنَا. وَأَشَارَ إِلَى الْأَرْضِ. قُلْتُ: قَوْلُهُ: «بَائِنٌ مِنْ خَلْقِهِ» . يُرِيدُ بِهِ مَا فَسَّرَهُ بَعْدَهُ مِنْ نَفْيِ قَوْلِ الْجَهْمِيَّةِ لَا إِثْبَاتِ جِهَةٍ مِنْ جَانِبٍ آخِرَ، يُرِيدُ مَا أَطْلَقَهُ الشَّرْعُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ
    حديث: 903 ¦ الصفحة: 336
    کتاب : الاسماء والصفات للبیھقی
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 22، 2019
  2. ‏جنوری 22، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    امام عبداللہ ابن المبارکؒ کا یہ صحیح اسناد سے کئی محدثین نے روایت کیا ہے
    امام بیہقیؒ کی "الاسماء والصفات " کی روایت کا ترجمہ پہلے پیش ہے :
    عَلِيَّ بْنَ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ، يَقُولُ: نَعْرِفُ رَبَّنَا فَوْقَ سَبْعِ سَمَاوَاتٍ، عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى، بَائِنٌ مِنْ خَلْقِهِ، وَلَا نَقُولُ كَمَا قَالَتِ الْجَهْمِيَّةُ بِأَنَّهُ هَهُنَا. وَأَشَارَ إِلَى الْأَرْضِ.
    امام ابن مبارکؒ فرماتے ہیں کہ:ہم اپنے رب عزوجل کو پہچانتے ہیں کہ وہ ساتوں آسمانوں سے اوپر عرش پر مستوی ہے ،اور اپنی تمام مخلوق سے جدا ہے ،ہم جہمیوں کے طرح یہ نہیں کہتے کہ وہ یہاں زمین میں ہے ۔”

    اس روایت کے متعلق کتاب کے محقق شیخ عبد الله بن محمد الحاشدي نے "اسنادہ صحیح " لکھا ہے ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شیخ الاسلام عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ (م ١٨١ھ) کایہ قول سب سے پہلے امام عبداللہ بن امام احمد بن حنبلؒ نے "السنۃ " ص111 ،میں روایت کیا ہے ،اور اس کتاب کے محقق علامہ محمد بن سعيد بن سالم القحطاني نے اس کی تخریج میں اسے "اسنادہ صحیح " لکھا ہے ۔
    ان کے یہاں اس کے الفاظ یہ ہیں :
    کہ ثقہ امام علی بن الحسن بن شقیق رحمہ اللہ ( م ٢١٥ھ)بیان کرتے ہیں :
    سألت عبد اللہ بن المبارک : کیف ینبغی لنا أن نعرف ربّنا عزّوجلّ ؟ قال : علی السّماء السّابعۃ علی عرشہ ، بائن من خلقہ ، ولا نقول کما تقول الجھمیّۃ : انّہ ھاھنا فی الأرض ۔
    یعنی میں نے امام عبداللہؒ بن المبارک سے سوال کیا ، ہمیں اپنے ربّ عزوجل کو کس طرح پہچاننا چاہیے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ، (اللہ تعالیٰ) ساتویں آسمان کے اوپر اپنے عرش پر ہے ،اپنی مخلوق سے جد اہے ، ہم جہمیوں کے طرح یہ نہیں کہتے کہ وہ یہاں زمین میں ہے ۔”
    (السنۃ لعبد اللہ بن احمد : ١/١١١، ح : ٢٢، ١/١٧٤۔١٧٥، ح : ٢١٦، الرد علی المریسی للدارمی : ص ١٠٣، الرد علی الجھمیۃ للدارمی : ص ٥٠ ، الاسماء والصفات للبیہقی : ٩٠٣، وسندہ، صحیحٌ)
    حافظ ذہبی رحمہ اللہ اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں : ھذا صحیح ثابت ۔
    ”یہ قول صحیح اور ثابت ہے ۔”(العرش للذھبی : ٢/٢٤٠)
    شیخ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں : وروی عبد اللّٰہ بن الامام أحمد وغیرہ بأسانید صحیحۃ عن ابن المبارک ۔ ”
    (اس قول کو) امام احمد کے بیٹے امام عبداللہ اور دیگر محدثین نے صحیح سند کے ساتھ امام عبداللہ بن المبارک سے نقل کیا ہے ۔”(الفتوی الحمویۃ لابن تیمیۃ : ص ٩١)
    اور شیخ الاسلام حافظ ابنِ قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں : وقد صحّ عنہ صحّۃ قریبۃ من التواتر ۔​
    ”یہ قول آپ(امام عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ )سے اس قدر صحیح ثابت ہے کہ متواتر کے قریب پہنچ گیا ہے ۔”(اجتماع الجیوش الاسلامیۃ لابن القیم : ٢١٣۔٣١٤)
    ــــــــــــــــــــــ
     
    • علمی علمی x 3
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں