1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ تعالی کے لئے لفظ "جسم" استعمال کرنا کیسا ہے ؟

'ذات باری تعالیٰ' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏فروری 24، 2019۔

  1. ‏فروری 24، 2019 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    850
    موصول شکریہ جات:
    239
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    محترم شیوخ سے گزارش ہے کہ اس متعلق ہمارے اسلاف کیا فرماتے ہیں اس کی وضاحت کر دیں ۔ جزاکم اللہ خیرا
     
  2. ‏فروری 27، 2019 #2
    عبد الخبیر السلفی

    عبد الخبیر السلفی رکن
    جگہ:
    بدایوں
    شمولیت:
    ‏اگست 28، 2018
    پیغامات:
    105
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    اللہ تعالی کے اسماء و صفات توقیفی ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی طرف سے اس کے لئے کوئی لفظ استعمال نہیں کریں گے، قرآن و حدیث میں اللہ کے لئے جسم کا لفظ استعمال نہیں ہوا ہے اس لئے اس کا استعمال اللہ کے لئے درست نہیں ہے، لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں ہے کہ اس لفظ کو بنیاد بناکر اس کے ہاتھ، پیر یا آنکھ وغیرہ جو صفات اللہ کے لئے قرآن و حدیث سے ثابت ہیں ان کا انکار کر دیا جائے؟ اہل سنت والجماعات اللہ کی تمام صفات کو ان کے حقیقی معنی میں ثابت کرتے ہیں لیکن ان کی کیفیات کو اللہ کے حوالے کرتے ہیں اور ان کے پیچھے اپنے آپ کو نہیں لگاتے .
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏فروری 27، 2019 #3
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    850
    موصول شکریہ جات:
    239
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    جزاک اللہ خیرا یا شیخ محترم
    محترم ایک گزارش یہ تھی کہ کیا شیخ ابن عثیمین و شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے اللہ کا جسم مانا ہے ؟
    دو اسکین لگا رہا ہوں ذرا اس کی وضاحت کر دیں اور ترجمہ بھی ساتھ لکھ دیں ۔ مشکور رہوں گا ۔ جزاک اللہ خیرا یا شیخ محترم
    FB_IMG_1551267901438.jpg
    FB_IMG_1551267861375.jpg
     
  4. ‏فروری 27، 2019 #4
    محمد عثمان رشید

    محمد عثمان رشید رکن
    جگہ:
    پاکستان فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2017
    پیغامات:
    94
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    عدنان بهائی آپ نے جو سوال کیا هے اسکا جواب عرض هے که الله کے لۓ جسم کا اطلاق قرآن وحدیث میں مروی نهیں نه هی سلف سے منقول هے لهذا اس کا اطلاق صحیح نهیں متکلمین نے اس میں اختلاف کیا بهرحال عرض هے که لفظ جسم کی آر میں الله کی صفات کی نفی مردود هے.
    سب سے پهلے ابن تیمیه کے نزدیک تجسیم کا قائل هشام بن حکم الرافضی وهشام الجوالیقی هیں.
    "واثبات لفظ الجسم ونفیه بدعه لا اصل لها فی الکتاب والسنه ولم یتکلم به احد من السلف ولائمه واهل السنه والجماعه لا یطلقون هذا اللفظ لا نفیا ولا اثباتا کما انھم لم یثبتوا لفظ التحیز ولا نفوه ولا لفظ الجھه ولا نفوه ولکن اثبتوا الصفات التی جاء بھا الکتاب والسنه ونفوا مماثله المخلوقات. قال وانما یطلقه اهل الکلام مثل هشام بن الحکم الرافضی وهشام الجوالیقی فانه اول من قال ان الله جسم."
    (درء التعارض ج ۲ ص ۲۸۸, ۲۸۹, مجموع الفتاوی ج ۱۷ ص ۳۰۱, ۳۲۹.)
    اور متکلمین کے نزدیک لفظ جسم کے مفھم میں اختلاف هے.
    "ما کان مبتدعا من الالفاظ یجب استفصال صاحبه والنظر الی مراده فان کان یرید معنی صحیحا قبل منه ذلک ونبه علی انه لا یجوز استعمال مثل هذه الالفاظ. وان کان مراده نفی ما وصف الله به نفسه من العلو والاستواء والنزول فالمعنی باطل واللفظ باطل"
    (بیان تلبیس الجھمیه ۹ ط الریاض.)
    ومع ذلک فان من کبار الاشاعرۃ من یجیز وصف الله بالجسم بشرط معین فقد صرح ابو جعفر السمنای راس الاشاعرۃ وکبیرهم
    (فتح الباری ج ۱ ص ۷۰.)
    "من سمی الله جسما من اجل انه حامل لصفاته فی ذاته فقد اصاب المعنی واخطا فی التسمیه"
    (سیر ج ۱۷ ص ۶۵۱, ۶۵۲.)
    .
    مختصر یه هے که جسم کا اطلاق الله تعالی کیلئے سب سے پهلے هشام نے کیا هے اگرچه وه اس سے مراد "قائم بالذات" مراد لیتے هیں. اس بات میں پهر مضائقه صرف لغت کے اعتبار سے هوسکتا هے کما قال ائمه فی الاقتصاد فی الاعتقاد للغزالی ص ۱۰۹.
    همارے اکابر نے لفظ جسم کا اطلاق نهیں کیا بلکه همارے اکابر اسکو نفیا واثباتا بدعت کھتے هیں کما قال شیخ الاسلام انظر تقدم. مزید تفصیل کیلئے
    (عقیده سلف پر اعتراضات کا علمی جائزه ص ۴۳۳, ۵۵۸ تا ۵۶۳ ج ۱.
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏فروری 27، 2019 #5
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    850
    موصول شکریہ جات:
    239
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    جزاکم اللہ خیرا ۔۔
    باقی یہ کتاب ابھی ۲۰۰ صفحات تک پڑھی ہے میں نے ۔۔۔ بہت ہی مشکل الفاظ لکھے ہوئے ہیں اس کتاب میں عام قاری کو یہ کتاب پڑھنے میں بہت دشواری ہو رہی ہے ۔ امید ہے جب دوسرا ایڈشن شائع ہوگا تو آسان لفظوں کے ساتھ ہوگا ۔ ان شاء اللہ
     
  6. ‏فروری 27، 2019 #6
    محمد عثمان رشید

    محمد عثمان رشید رکن
    جگہ:
    پاکستان فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2017
    پیغامات:
    94
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    میری جان یه کتاب بهت مشکل هے دوسرے ایڈیشن میں پته نهیں آسان الفاظ آتے هیں کے نهیں ویسے جو صفحات کا ذکر میں نے کیا هے وهاں سے آپکو سمجھ آجائے گی ان شاءالله.
     
  7. ‏فروری 28، 2019 #7
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,331
    موصول شکریہ جات:
    2,384
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    یہ عبارت نہیں مل سکی ،شاید کتاب کا حوالہ درست نہیں ،
     
  8. ‏فروری 28، 2019 #8
    عبد الخبیر السلفی

    عبد الخبیر السلفی رکن
    جگہ:
    بدایوں
    شمولیت:
    ‏اگست 28، 2018
    پیغامات:
    105
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    اہل سنت والجماعت پر اللہ کے لئے لفظ جسم ماننے کا الزام لگانا اہل بدعت کا طریقہ رہا ہے وہ اہل سنت کے عقیدے کو نا سمجھنے کی وجہ سے اس طرح کی باتیں کرتے ہیں اہل سنت اللہ کی صفات کے متعلق واضح عقیدہ رکھتے ہیں وہ اللہ کے اسماء و صفات کو توقیفی مانتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے لئے انہی صفات و ناموں کو ثابت کیا جائے گا جو اس نے یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے لئے بیان کی ہیں اپنی طرف سے کوئی صفت اللہ کے لئے ثابت نہیں کی جائے گی، وہ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور بات بھی کہتے ہیں کہ اللہ کی جتنی بھی صفات ہیں وہ اپنے حقیقی معنی میں بلا تعطیل، بلا تکییف، اور بلا تمثیل و بلا تاویل ثابت ہیں مثلاً اس کا ہاتھ، پیر آنکھ اس کا تمام مخلوق سے بلند ہونا اور عرش پر مستوی ہونا یا آسمان دنیا پر ہر رات نزول فرمانا وغیرہا اہل سنت کے اس عقیدے کو جو قرآن و سنت سے ثابت شدہ ہے، اہل بدعت تجسیم سے تعبیر کرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ اللہ کے لئے جسم کو ثابت کر رہے ہیں جبکہ یہ اہل سنت پر بہتان ہے کیونکہ اہل سنت اللہ کے لئے کسی ایسے لفظ کو ثابت نہیں کرتے جس کا ثبوت قرآن و حدیث میں نا ہو اور جب اہل سنت صفات کی کیفیت کو اللہ کے حوالے کرتے ہیں اور ان صفات کی کیفیات کے ادراک کی نفی کرتے ہیں اور ان کی جو بھی کیفیت ہے اس کے علم کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں تو ان کے قول سے اللہ کے لئے تجسیم کہاں ثابت ہوئی؟ اہل بدعت در اصل اللہ کی ان صفات کے ثبوت سے اللہ کے لئے أعضاء کا ثبوت سمجھتے ہیں جب کہ اہل سنت میں سے کسی نے ان صفات سے أعضاء ثابت نہیں کیے ہیں بلکہ اہل سنت ان صفات کو اللہ کی صفات تصور کرتے ہیں جن کی کیفیات اللہ کے حوالے ہیں، گویا اہل سنت کی طرف اللہ کے لئے لفظ جسم کو منسوب کرنا بہتان ہے، جہاں تک ابن عثيمين اور إبن باز رحمہم اللہ کی بات ہے اور ان کے اقوال سے یہ سمجھنا کہ وہ اللہ کے لئے تجسیم کے قائل ہیں بہت بڑا فراڈ ہے کیونکہ ان علماء نے جو بات کہی وہ صرف اللہ کے لئے صفات کو ثابت کرنے کے لئے ہے اور یہ ایسے ہی جیسے اللہ کا فرمان ہے "قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ ( الزخرف:81) " یعنی اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ ان کافروں سے کہو کہ اگر رحمن کے لئے اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلا عبادت گذار ہوتا، ایسے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا تھا جب ان پر ناصبیوں نے رفض کا الزام لگا یا تھا

    إن كان رفضا حب آل محمد
    فليشهد الثقلان أني رافضي

    یعنی اگر آل محمد سے محبت کا نام رفض ہے تو اے انسانوں اور جنات کی جماعت تم گواہ رہو میں رافضی ہوں (آل محمد سے محبت کرنے والا ہوں) کوئی پاگل ہی ہوگا جو اس آیت کی بنیاد پر اللہ کے لئے اولاد کے ثبوت پر استدلال کرے گا یا اس شعر کی بنیاد پر امام شافعی رحمہ اللہ پر رافضی ہونے کا الزام لگائے گا! اسی طرح سے إبن عثيمين اور إبن باز رحمہما اللہ کی عبارتوں کا معاملہ ہے، چلئے پہلے بات کرتے ہیں ابن عثيمين رحمہ اللہ کی عبارت کی در اصل علامہ ابن عثيمين رحمہ اللہ اہل بدعت کے اس دعوے کی تردید کر رہے ہیں جس سے وہ اہل سنت پر اعتراض کرتے ہیں کہ اللہ کے لئے صفت ہاتھ، پیر، آنکھ، نزول یا استوی وغیرہ ثابت کرنے سے تجسیم لازم آتی ہے،اس کے جواب میں علامہ کئی سوالات قائم کرتے ہیں جس کا جواب اہل بدعت کے پاس نہیں ہے چنانچہ وہ کہتے ہیں "ہم جوابا أن سے کہیں گے کہ آپ سے کس نے کہا کہ جسم (ایسی ذات جو صفات سے متصف ہو ) اللہ سے بعید ہے؟ یہ کس نے کہا؟ کیا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے کہ جسم ثابت نہیں ہے ؟ پس اگر ان صفات (ہاتھ پیر اور وجہ وغیرہ) سے اللہ کا جسم ہونا ثابت ہوتا ہے تو یہ حق ہے لیکن یہ جسم دوسرے (مخلوق کے) اجسام کی طرح نہیں ہیں اور اگر ان صفات کے ثبوت سے جسم لازم نہیں آتا تو تمہارا ہمارے لئے اس چیز کو لازم کرنا جو لازم نہیں آتی محض ظلم و زیادتی ہے،
    ابن عثيمين رحمہ اللہ نے اس مسئلے کی وضاحت اپنی کئ کتب میں کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو الفاظ اللہ نے اپنے لئے نہیں استعمال کئے ہیں ہم ان کو اللہ کے لئے استعمال نہیں کریں گے اور جو الفاظ حق اور باطل کا احتمال رکھتے ہیں ان کے سلسلے میں خاموش رہنا واجب ہے ان کو نفی یا إثبات میں نہیں استعمال کیا جا سکتا اگر بالفرض کوئی محتمل لفظ اللہ کے لئے استعمال کرتا ہے تو ہم اس سے پوچھیں گے کہ اس قول سے اس کی مراد کیا ہے؟ اگر اس کی مراد حق ہے تو یہ قابل قبول ہے اور اگر اس کی مراد اس سے باطل ہے تو اس کا قول باطل ہے مثلاً لفظ جسم اس کا استعمال اللہ کے لئے نہیں ہوا ہے نا قرآن میں نا حدیث میں اور نا ہی اس کا ثبوت اسلاف سے ہے اگر اس سے مراد اس کی ایسے جسم سے ہے جو مرکب ہو اور اس کو تکمیل کے لئے ایک دوسرے اجزاء کی حاجت و ضرورت ہو تو اللہ کے لئے اس کا استعمال جائز نہیں ہے اور اگر اس سے مراد ایسی ذات ہے جو ہاتھپیر، نزول استوی وغیرہ صفات جو اللہ نے اپنے لئے ثابت کی ہیں، سے متصف ہو تو یہ اللہ کے لئے ثابت ہیں چنانچہ ایک جگہ لکھتے ہیں "نفي الجسمية والتجسيم لم يرد في الكتاب والسنة، ولا في كلام السلف، فالواجب على العبد التأدب مع الله ورسوله وسلف الأمة، فلا ينفي عن الله تعالى إلا ما نفاه عن نفسه، ولا يثبت له إلا ما أثبته لنفسه. أما ما لم يرد به نفي ولا إثبات مما يحتمل حقّاً وباطلاً، فإن الواجب السكوت عنه، فلا ينفى ولا يثبت لفظه، وأما معناه فيسأل عنه، فإن أريد به حق قبل، وإن أريد به باطل رد، وعلى هذا فيسأل من نفى التجسيم، ماذا تريد بالجسم؟ فإن قال: أريد به الشيء المركب المفتقر بعضه إلى بعض في الوجود والكمال، قلنا: نفي الجسم بهذا المعنى حق؛ فإن الله تعالى واحد أحد صمد غني حميد. وإن قال: أريد به الشيء المتصف بالصفات القائمة به من الحياة، والعلم والقدرة، والاستواء والنزول، والمجيء، والوجه، واليد ونحو ذلك مما وصف الله به نفسه. قلنا: نفي الجسم بهذا المعنى باطل، فإن لله تعالى ذاتاً حقيقية، وهو متصف بصفة الكمال التي وصف بها نفسه من هذه الصفات وغيرها على الوجه اللائق به. ومن أجل احتمال الجسم لهذا وهذا، كان إطلاق لفظه نفياً وإثباتاً من البدع التي أحدثت في الإسلام، قال شيخ الإسلام ابن تيمية ص 152 ج 4 من مجموع الفتاوى لابن قاسم: "لفظ التجسيم لا يوجد في كلام أحد من السلف لا نفياً ولا إثباتاً، فكيف يحل أن يقال: مذهب السلف نفي التجسيم أو إثباته بلا ذكر لذلك اللفظ ولا لمعناه عنهم". وقال قبل ذلك ص 146 : " وأول من ابتدع الذم بها المعتزلة الذين فارقوا جماعة المسلمين" اهـ. يعني أن المعتزلة جعلوا من أثبت الصفات مجسماً وشنعوا عليهم بهذه الألفاظ المبتدعة ليغزوا بذلك عوام المسلمين. اهـ." (مجموع فتاوی و رسائل لإبن عثيمين 2/152) اتنی صاف وضاحت کے بعد بھی متعصب ہی ہوگا جو إبن عثيمين رحمہ کو تجسیم کا قائل بتائے گا!
    اور یہی حال ابن باز رحمہ اللہ کی عبارت کا ہے وہ بھی اس لفظ کا اللہ کے لئے استعمال کرنا ثابت نہیں مانتے چنانچہ ان کی عبارت کا ترجمہ مندرجہ ذیل ہے،
    ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں "رہی بات (اللہ کے لئے) جسم کی نفی اور اثبات کی تو اس سلسلے میں نصوص وارد نہیں ہوئے ہیں، اور جو جسم کو ثابت کرتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ وہ جسم ہے لیکن (مخلوق کے) جسموں کی طرح نہیں اس کے آنکھ کان وغیرہ ہیں تو یہ حقیقت ہے (یعنی وہ ایسی ذات ہے جس کی مذکورہ صفات ہیں) اور جس نے جسم کا انکار کیا (تو گویا کہ اس نے کہا اس کی) کوئی ذات نہیں ہے تو یہ کفر اور گمراہی ہے اگر اس نے یہی معنی مراد لیا ہے، اس لئے صحیح بات یہ کہ اس کی (جسم) نفی یا اثبات نہیں کیا جائے گا اور نا ہی یہ کہا جائے گا کہ وہ جسم نہیں ہے اور نا ہی یہ کہا جائے گا کہ وہ جسم ہے دلائل میں اس لفظ کے وارد نا ہونے کی وجہ سے، اس وجہ سے بھی کہ دلائل اس لفظ کے ساتھ وارد نہیں ہوئے ہیں اور نا ہی صحابہ نے اس کا استعمال کیا ہے....... یہ بھی اپنے مفہوم میں واضح ہے کہ اللہ کے لئے لفظ جسم کا ثبوت نہیں ہے لہذا اس کا استعمال اللہ کے لئے نہیں کرنا ہے اور اہل بدعت اسی کو توڑ مروڑ کر جسم ثابت کرنے کی سعی نا مسعود میں لگے ہوئے ہیں، إنا لله وإنا إليه راجعون!
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  9. ‏فروری 28، 2019 #9
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    850
    موصول شکریہ جات:
    239
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    جزاک اللہ خیرا یا شیخ محترم
    اللہ آپ کے علم میں مزید برکت دے ۔۔
    محترم شیخ اہل حدیث علماء کے کچھ حوالے ہیں میرے پاس جس میں انھوں نے معیت علمیہ کی نفی کی ہے ۔۔ مثلاً امام شوکانی ۔۔ نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ ۔۔ فتاوی ثنائیہ ۔۔ فتاوی علمائے حدیث ۔۔ مولانا سعید کی کتاب عقیدہ و منہج ۔۔ ان کتب کے حوالے ہیں میرے پاس ۔۔۔ اس کی بھی وضاحت کر دیں مشکور رہوں گا ۔۔ جزاکم اللہ خیرا
     
  10. ‏فروری 28، 2019 #10
    عبد الخبیر السلفی

    عبد الخبیر السلفی رکن
    جگہ:
    بدایوں
    شمولیت:
    ‏اگست 28، 2018
    پیغامات:
    105
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    آمین یا رب
    آپ ان عبارتوں کو بھیجیں فورم پر بہت سارے علماء موجود ہیں کوئی نا کوئی آپ کی مراد پوری کر ہی دیگا رہی بات میری تو میں بہت معمولی آدمی ہوں پھر بھی جو بھی مجھ سے ہوگا میں حاضر ہوں إن شاء الله
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں