1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان

'زکوۃ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏اگست 14، 2012۔

  1. ‏اگست 14، 2012 #1
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,928
    موصول شکریہ جات:
    5,770
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    حدیث نمبر: 1409
    حدثنا محمد بن المثنى،‏‏‏‏ حدثنا يحيى،‏‏‏‏ عن إسماعيل،‏‏‏‏ قال حدثني قيس،‏‏‏‏ عن ابن مسعود ـ رضى الله عنه ـ قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول ‏"‏ لا حسد إلا في اثنتين رجل آتاه الله مالا فسلطه على هلكته في الحق،‏‏‏‏ ورجل آتاه الله حكمة فهو يقضي بها ويعلمها ‏"‏‏.


    ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے یحیٰی بن سعید نے اسماعیل بن ابی خالد سے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حسد (رشک) کرنا صرف دو ہی آدمیوں کے ساتھ جائز ہو سکتا ہے۔ ایک تو اس شخص کے ساتھ جسے اللہ نے مال دیا اور اسے حق اور مناسب جگہوں میں خرچ کرنے کی توفیق دی۔ دوسرے اس شخص کے ساتھ جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت (عقل علم قرآن و حدیث اور معاملہ فہمی) دی اور وہ اپنی حکمت کے مطابق حق فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔


     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 3
    • لسٹ
  2. ‏فروری 12، 2014 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,701
    موصول شکریہ جات:
    6,469
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    1656364_618009958254421_286305388_n.png
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏فروری 12، 2014 #3
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,794
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاکم اللہ خیرا عامر و زاہد برادران
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏مارچ 05، 2014 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,701
    موصول شکریہ جات:
    6,469
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    فرشتوں کی دعا و بد دعا !!!
    حوالہ

    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ إِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلَانِ فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا وَيَقُولُ الْآخَرُ اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا

    (صحیح بخاری:1442)
    1899754_367394076732193_1780831415_o.jpg
     
  5. ‏مارچ 05، 2014 #5
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,860
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الزکوۃ

    باب : اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان

    حدیث نمبر : 1409
    حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، عن إسماعيل، قال حدثني قيس، عن ابن مسعود ـ رضى الله عنه ـ قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول ‏"‏ لا حسد إلا في اثنتين رجل آتاه الله مالا فسلطه على هلكته في الحق، ورجل آتاه الله حكمة فهو يقضي بها ويعلمها‏"‏‏. ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا‘ کہا کہ ہم سے یحیٰی بن سعید نے اسماعیل بن ابی خالد سے بیان کیا‘ کہا کہ مجھ سے قیس بن ابی حاز م نے بیان کیا اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حسد ( رشک ) کرنا صرف دوہی آدمیوں کے ساتھ جائز ہوسکتا ہے۔ ایک تو اس شخص کے ساتھ جسے اللہ نے مال دیا اور اسے حق اور مناسب جگہوں میں خرچ کرنے کی توفیق دی۔ دوسرے اس شخص کے ساتھ جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت ( عقل علم قرآن وحدیث اور معاملہ فہمی ) دی اور وہ اپنی حکمت کے مطابق حق فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔

    تشریح : امیر اور عالم ہردو اللہ کے ہاں مقبول بھی ہیں اور مردود بھی۔ مقبول وہ جو اپنی دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ کریں‘ زکوٰۃ اور صدقات سے مستحقین کی خبر گیری کریں اور اس بارے میں ریانمود سے بھی بچیں‘ یہ مالدار اس قابل ہیں کہ ہر مسلمان کو ان جیسا مالدار بننے کی تمنا کرنی جائز ہے۔ اسی طرح عالم جو اپنے علم پر عمل کریں اور لوگوں کو علمی فیض پہنچائیں اور ریانمود سے دور رہیں‘ خشیت ومحبت الٰہی بہر حال مقدم رکھیں‘ یہ عالم بھی قابل رشک ہیں۔ امام بخاری کا مقصد یہ کہ اللہ کے لیے خرچ کرنے والوں کا بڑا درجہ ہے ایسا کہ ان پر رشک کرنا جائز ہے جب کہ عام طورپر حسد کرنا جائز نہیں مگر نیک نیتی کے ساتھ ان پر حسد کرنا جائز ہے۔

    http://forum.mohaddis.com/threads/م...-حدیث-نمبر٨١٤-تا-١٦٥٤.7605/page-37#post-58760
     
  6. ‏مارچ 22، 2014 #6
    ساجد تاج

    ساجد تاج فعال رکن
    جگہ:
    پاکستان ، لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    7,163
    موصول شکریہ جات:
    4,488
    تمغے کے پوائنٹ:
    604

    جزاکم اللہ خیرا
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏مارچ 25، 2014 #7
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,794
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
  8. ‏نومبر 20، 2015 #8
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,701
    موصول شکریہ جات:
    6,469
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    11200762_890577977677139_4891628955303686288_n.jpg
     
  9. ‏نومبر 20، 2015 #9
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,701
    موصول شکریہ جات:
    6,469
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    11261246_10153807258738982_6387034276855801813_n (1).jpg
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں