1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ کی قسم جشن عید میلاد النبی قرآن و حدیث سے ثابت نہیں

'بدعت' میں موضوعات آغاز کردہ از اسحاق سلفی, ‏نومبر 09، 2018۔

  1. ‏نومبر 09، 2018 #1
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,240
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    اللہ کی قسم جشن عید میلاد النبی قرآن و حدیث سے ثابت نہیں

    مصنف : شیخ محمد طیب محمدی
    ناشر:ادارہ تحقیقات سلفیہ ،گوجرانوالہ

    مسلمان کی اصل کامیابی قرآن مجیداور احادیث نبویہ میں اللہ اور رسول اکرم ﷺ کی جو تعلیمات ہیں ان کی پیروی کرنے اوران کی خلاف ورزی یا نافرمانی نہ کرنے میں ہے اللہ اور رسولﷺکی اطاعت عقائد ،عبادات ،معاملات ، اخلاق کردار ہر الغرض ہر میدان میں قرآن واحادیث کو پڑھنے پڑھانے سیکھنے سکھانے اور اس پر عمل پیرا ہونےکی صورت میں ہوسکتی ہے مسلمانوں کوعملی زندگی میں اپنے سامنے قرآن وحدیث ہی کو سامنے رکھنا چاہیے اور سلسلے میں صحابہ کرام کے طرزِ عمل سے راہنمائی لینے چاہیے کہ انہوں نے قرآن وحدیث پر کیسے عمل کیا کیونکہ انہی شخصیات کو اللہ تعالی نے معیار حق قرار دیا ہے۔ اورنبی ﷺنے بھی اختلافات کی صورت میں سنتِ نبویہ اور سنت خلفائے راشدین کو تھام نے کی تلقین کی ہے جب مسلمان سنت ِنبویہ اور خلفائے راشدین کے طرز ِعمل کوچھوڑ دیں گے تو وہ دین میں نئے نئے کام ایجاد کرکے بدعات میں ڈوب جائیں گے اور سیدھے راستے سے بھٹک جائیں گے یہی حال اس وقت مسلمانوں کا ہے ۔متازعہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ بارہ ربیع الاول کو میلاد النبی ﷺ منانےکاہے بہت سارے مسلمان ہرسال بارہ ربیع الاول کو عید میلادالنبی ﷺ اورجشن مناتے ہیں ۔عمارتوں پر چراغاں کیا جاتا ہے ، جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں، نعت خوانی کےلیے محفلیں منعقدکی جاتی ہیں اور بعض ملکوں میں سرکاری طور پر چھٹی کی جاتی ہے۔
    لیکن اگر قرآن وحدیث اور قرون اولیٰ کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہےکہ قرآن وحدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ ہی اسکی ترغیب دلائی ، قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرام ﷺ ،تابعینؒ،تبع تابعینؒ کا زمانہ جنھیں نبی کریم ﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید کوئی تصور نہ تھا اورنہ وہ جشن مناتے تھے اور اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید کا کو ئی تصور تھا اور نہ وہ اسے مناتے تھے او ر نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتےتھے بلکہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز نبی ﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا ۔
    زیر نظر کتاب :
    ’’اللہ کی قسم جشن عیدمیلاد النبی قرآن وحدیث سے ثابت نہیں ‘‘
    محدث العصر مجتہد وفقیہ مولانا عبد المنان نورپوری ؒ کےتلمیذ رشید مولاناطیب محمدی حفظہ اللہ کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے عید میلاد کی تاریخ ،اس کی شرعی حیثیت ،عیدِ میلاد منانے والوں کے دلائل کا کتاب وسنت کی روشنی میں جائزہ لیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ عہد نبوی ،عہد صحابہ اوربعدکے ادوار میں اس مروجہ جشن میلا النبی ﷺ کو ئی ثبوت نہیں ملتا اوراس کو منانا بدعت ہے ۔
    مصنف موصوف اس کتاب کے علاوہ بھی متعدد کتب کے مصنف ہیں ۔مولانا عبدالمنان نوری پوریؒ کی حیات وخدمات پر مشتمل کتاب کےمرتب بھی آپ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی حسنہ کو شرف قبولیت بخشے اور اس کتاب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین)
    ڈاؤن لوڈ لنک
     
    Last edited: ‏نومبر 09، 2018
    • زبردست زبردست x 3
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 15، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,240
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    عید میلاد النبی- اصلیت اور حقیقت


    ازقلم : شیخ ندیم اختر سلفی مدنی حفظہ اللہ

    {ناشر:مکتب توعیۃ الجالیات الغاط: www.islamidawah.com }

    اللہ رب العالمین نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنا کر بھیجا،قرآن جیسی مقدس مبارک اور رشد وہدایت والی کتاب کو آپ پر نازل فرمایا،تاکہ لوگوں کی اصلاح کی جائے،انہیں سیدھا راستہ دکھایا جائے،جس پر چل کر لوگ اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار سکیں۔ارشاد الہی ہے:

    يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُوراً مُبِيناً، فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَاعْتَصَمُوا بِهِ فَسَيُدْخِلُهُمْ فِي رَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ وَيَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَاطاً مُسْتَقِيماً (النساء:174،175)

    (اے لوگو!تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے سند اور دلیل آپہنچی اور ہم نے تمہاری جانب واضح اور صاف نور اتار دیا ہے،پس جو لوگ اللہ تعالی پر ایمان لائے اور اسے مضبوط پکڑ لیا،انہیں تو وہ عنقریب اپنی رحمت اور فضل میں لے لےگا اور انہیں اپنی طرف کی راہ ِراست دکھادے گا)

    لیکن افسوس کہ مسلمانوں نے اس نور سے روشنی حاصل نہ کی اور صراط ِ مستقیم پر جمے رہنے کے بجائے بدعتیوں کے طریقے اپنانے لگےجس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ دنیا میں ذلیل وخوار ہوئے،ان کا شیرازہ بکھر گیا،یہ سزا ہے ان لوگوں کی جنہوں نے رسول کے بتائے ہوئے طریقوں کو ناکافی سمجھتے ہوئے دین میں عبادت وریاضت،فرح وخوشی کے نئے طریقے نکالے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

    أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِهِ اللَّهُ وَلَوْلا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (الشورى:21)

    (کیا ان لوگوں نے ایسے(اللہ کے)شریک(مقرر کر رکھے)ہیں جنہوں نے ایسے احکام ِ دین مقرر کردئیے ہیں جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں،اگر فیصلے کے دن کا وعدہ یہ ہوتاتو(ابھی ہی)ان میں فیصلہ کردیا جاتا،یقیناً (ان)ظالموں کے لئے ہی دردناک عذاب ہے)۔

    اور اللہ کے رسول کا ارشاد ہے:(من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد)(بخاری:2697 بروایت عائشہ رضی اللہ عنہا)”

    جس نے ہمارے اس معاملہ (دین)میں کوئی نئی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے” اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی ارشاد ہے(من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد)(مسلم:17)”جس نے وہ کام کیا جو ہمارے طریقہ پر نہیں تو وہ مردود ہے”،

    مسلمانوں نے غیر قوموں کی مشابہت اور دین کے نام پر جن بہت ساری بدعتوں کو ایجاد کیا انہیں میں سے ایک میلاد النبی کی بدعت ہے،اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ساری دنیا کے لئے باعث ِ رحمت او روجہ ِ رشد وہدایت ہے،لیکن اس ماہ(ربیع الاول)میں ایک خاص تاریخ کو خوشی کے لئے متعین کرنے کے سلسلے میں دو باتیں قابل ِ غور ہیں:

    [1] تاریخ میلاد کا تعین۔

    [2] اس کے متعلق قرآن وحدیث کا حکم۔

    اولاً تو تاریخی اعتبار سے تاریخ میلاد کے متعلق تاریخ دانوں اور سیرت نگاروں کے درمیان کافی اختلاف ہے،کسی نے آپ کی پیدائش 4/ربیع الاول،کسی نے 8/ربیع الاول اور کسی نے 12/ربیع الاول بتلایا ہے،لیکن اکثر مؤرخین اور سیرت نگاروں کا خیال ہے کہ آپ کی پیدائش 9/ربیع الاول پیر کے دن ہوئی اور 12/ربیع الاول تاریخ وفات ہے، اب ایسی صورت میں جزم کے ساتھ 12/ربیع الاول کو خوشی منانااور میلاد کی محفلیں قائم کرنابے معنی ہے،ثانیاً اگر مان بھی لیا جائےکہ آپ کی تاریخ پیدائش بارہ ربیع الاول ہی ہے تو ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ قرآن وحدیث، آثار ِ صحابہ اور ائمہ کرام کی مقدس تعلیمات سے اس دن کو عید کا دن ماننا اور اس میں جشن منانے کا کیا حکم معلوم ہوتا ہے۔

    عید میلاد النبی کی ایجاد:۔

    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے جانے کے بعد اسلام کی تین بہترین صدیاں گذر گئیں صحابہ،ان کے ساتھیوں کا دور اور ان کے بعد فقہا٫ اور محدثین کا دور،باوجود کہ انہیں اپنے نبی سے شدید محبت تھی لیکن کسی ایک سے بھی ثابت نہیں کہ انہوں نے نبی کی پیدائش کا جشن منایا ہوجب کہ وہ حضرات اتباع ِ سنت کےہم سے کہیں زیادہ حریص تھے۔

    چوتھی صدی ہجری کے وسط میں فاطمیوں نے مصر پر قبضے کے بعد جہاں اور بہت ساری بدعتیں ایجاد کیں وہیں عید میلاد النبی کے بھی موجد بنے،یہ فاطمی کون تھے ان کے بارے میں علما٫ امت کے اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ منافق اور زندیق تھے، اسلام کا اظہار کرتے اور کفر کو چھُپاتے تھے ،جن اہل ِ علم نے ان کے ایمان وتقوی اور صحت ِ نسب کی گواہی دی انہوں نے ان کے ظاہر پر نظر رکھا، علامہ قاضی باقلانی نے اپنی کتاب(کشف الاسرار وہتک الاستار)میں ان کی اسلام دشمنی کو واضح کیا،ان کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ سب کے سب روافض ہیں ، کفر کو چھُپاتے اور اسلام کا اظہار کرتے ہیں۔

    جشن ِ میلاد کے اسباب اور ان کارد:۔

    جو لوگ میلاد النبی کا جشن مناتے ہیں ان کے پاس کئی علتیں ہیں:

    1) ہر سال جشن میلاد سے نبی کی محبت اور تعظیم میں اضافہ ہوتا ہے۔

    اس جشن کے لئے یہ وجہ کافی نہیں ہے،اس لئے کہ نبی کے ذکر سے کوئی بھی نماز خالی نہیں،آذان واقامت میں نبی کا ذکر ہے،جس کو بھولنے کا خوف ہو اس کو یاد کیا جاتا ہے،لیکن جس کا برابر ذکر کیا جائے،دن ورات اس کو یاد کیا جائےسال میں کسی ایک دن خاص طور سے اس کو یاد کرنے کی کیا ضرورت ہے، یہ تو تحصیل ِ حاصل ہے۔

    2) اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صفات سننے اور آپ کا نسب جاننے کا موقع ملتا ہے۔

    جشن ِ میلاد کے لئے یہ سبب بھی ناکافی ہے،اس لئے کہ آپ کے صفات اور نسب کو جاننا عقیدے کا ایک جز٫(حصہ)ہےجسے سال میں ایک مرتبہ سن لینا کافی نہیں،بلکہ ہر مسلمان مرد وعورت پر واجب ہے کہ جس طرح وہ اللہ کو ان کے اسما٫ وصفات کے ساتھ پہچانتے ہیں نبی کو بھی ایسے ہی پہچانیں۔

    3) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پر خوشی کا اظہار کرنامحبت ِ رسول اور کمال ِ ایمان کی علامت ہے۔

    جشن ِ میلاد کے لئے یہ علت اور بھی کمزور ہے،اس لئے کہ خوشی کا تعلق یا تو آپ کی ذات سے ہوگا یا آپ کے پیدائش کے دن سے،اگر خوشی کا تعلق آپ کی ذات سے ہےتو یہ ہمیشہ ہونی چاہئیے اس کے لئے کسی خاص دن اور وقت کی ضرورت نہیں،اور اگر اس کا تعلق ولادت کے دن سے ہے تو اسی دن آپ کا انتقال بھی ہوا، اور کوئی ایسا عاقل بھی ہے جو اپنے محبوب کے یوم ِ وفات پر خوشی منائے ؟ رسول کی وفات تو مسلمانوں کے لئے ایک بڑی مصیبت ہے،یہاں تک کہ صحابہ کرام کہتے تھے کہ جسے کوئی مصیبت پہنچی ہو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کو یاد کرلے،یوم ِ وفات کو خوشی منانا انسانی طبیعت کے خلاف ہے۔

    4) اس دن شکرانے کے طور پر کھانا کھلانے کا موقع ملتا ہے جس میں بڑا اجر ہے۔

    جشن ِ میلاد کے لئے یہ سبب پہلے اسباب سے بھی زیادہ کمزور ہے،اس لئے کہ ایک مسلمان کو یہ کام سال بھر کرناچاہئیے،مہمان نوازی کرنا، بھوکوں کو کھانا کھلانا یقیناً ایک مستحب عمل ہےجس کے لئے کسی ایک دن کو خاص کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

    5) اس سے اللہ کا ذکر کرنے ،تلاوت ِ قرآن اور نبی پر درود بھیجنے کا موقع ملتا ہے۔

    جشن ِ میلاد کے لئے یہ ایک فاسد اور باطل سبب ہے اس لئے کہ اجتماعی طور پر اللہ کا ذکر کرنا صحابہ کرام سے ثابت نہیں، یہ بذات ِ خود ایک بدعت ہے نیز اس طرح کی مجلس میں سازو سارنگی وغیرہ کے ساتھ قصیدے پڑھنا،مدحیہ اشعار پڑھنا مزید اس کی قباحت میں اضافہ کرتا ہے،یہ کام تو وہ لوگ کرتے ہیں جنہیں دین کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی،پھر یہ کہ اللہ کا ذکر ،قرآن کی تلاوت اور نبی پر درود بھیجنے کا سلسلہ تو ہمیشہ قائم رہنا چاہئے، اس کے لئے کسی ایک دن کو خاص کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟

    میلاد النبی کو جائز کہنے والوں کے چند کمزور شبہات اور ان کا رد:۔

    جش میلاد النبی منانے والےچند مشتبہ اور غیر واضح دلائل سے عید میلاد کو جائز قرار دیتے ہیں،آئیے ان پر بھی ایک نظر ڈال لیتے ہیں:

    1) مذکور ہے کہ حضرت عباس بن عبد المطلب نے ابو لہب کو خواب میں دیکھا،اس سے پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے،اس نے جواب دیا کہ جہنم میں عذاب دیا جارہا ہے،مگر ہر پیر کو عذاب میں قدرےتخفیف ہوتی ہے،وہ اس طرح کہ دو انگلیوں کے دونوں سِروں کے بقدر پانی چوستا ہے،ایسا اس وجہ سےہوتا تھا کہ اس نے اپنی لونڈی ثوبیہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ولادت کی بشارت دینے اور آپ کو دودھ پلانے کی خوشی میں آزاد کردیا تھا،تو جب ایک کافر کو جس کی مذمت میں قرآن نازل ہوا آپ کی ولادت پر خوشی کا فائدہ پہنچ سکتا ہے تو ایک مسلم موحد کا کیا حال ہوگا جو اپنے نبی کی ولادت کا جشن مناتا ہے،آپ کی محبت میں حتی المقدور سخاوت اور فیاضی سے کام لیتا ہے،رب کریم کی طرف سے ایسے شخص کا بدلہ تو صرف جنت ہی ہے۔([1])

    اس شبہے کا رد: (1) ا ہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ خواب سے کوئی شرعی حکم ثابت نہیں ہوسکتا گرچہ صاحب ِ رؤیا ایمان وعلم کی کتنی بلندی پر کیوں نہ ہوچہ جائیکہ ایک کافر کا خواب ، وہ شرعی دلیل کیسے بن سکتا ہے ؟ اس لئے کہ یہ خواب دیکھنے والے حضرت ابن عباس ہیں اور اس وقت حالت ِ کفر میں تھے، ہاں انبیا٫ کا خواب اس سے مستثنی ہے کیونکہ وہ وحی ہوتا ہے۔

    (2) یہ قصہ ایک مرسل روایت میں بیان ہوا ہے جس سے کوئی عقیدہ یا عبادت ثابت نہیں ہوسکتا،کیونکہ مرسل روایت حقیقت میں ضعیف روایت ہے۔

    (3) سلف اور خلف میں سےاکثر اہل ِ علم کے صحیح قول کے مطابق کافر جب حالت ِ کفر میں مرجائے تو اس کو اس کی نیکی کا فائدہ نہیں پہنچتا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَقَدِمْنَا إِلَى مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَنْثُوراً(الفرقان:23) (اور انہوں نے جو جو اعمال کئے تھے ہم نے ان کی طرف بڑھ کر انہیں پراگندہ ذروں کی طرح کردیا)،نیز ارشاد ہے: أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآياتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْناً (الكهف:105) (یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں اور اس کی ملاقات سے کفر کیا،اس لئے ان کے اعمال غارت ہوگئے پس قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن قائم نہ کریں گے)۔

    (4) اپنے بھتیجے کی ولادت پر ابولہب کی یہ خوشی فطری اور طبیعی تھی اور یہ سب کے ساتھ ہے،اور خوشی اگر اللہ کے لئے نہ ہو تو خوش ہونے والے کواس کا ثواب نہ ملے گا۔

    (5) ابو لہب کا نبی کی ولادت کی خوشی پر اپنی لونڈی کا آزاد کرنا یہ بھی محل ِ نظر ہے،اس کا ذکر کسی صحیح حدیث میں نہیں ہے، اور جو اس کا دعوی کرتا ہے اسے ثبوت دینا چاہئیے،بلکہ حافظ ابن عبد البر نے (الاستیعاب)میں نبی کے ترجمہ میں یہ ذکر کیا ہے کہ ابو لہب نے ہجرت سے پہلے اپنی لونڈی کو آزاد کیا تھا۔([2])

    2) روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے عقیقہ کیا تھا([3])جب کہ آپ کے دادا عبد المطلب کی طرف سے آپ کی ولادت کے ساتویں دن آپ کا عقیقہ ہوچکا تھا،اور چونکہ عقیقہ دوبارہ نہیں کیا جاتا لہذا آپ کا دوبارہ عقیقہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے اپنے ولادت کی نعمت پربطور شکر آپ نے یہ عمل کیا،جس طرح آپ اپنی ذات پر درود بھیجتے تھے،لہذا ہمارے لئے بھی مستحب ہے کہ ایک جگہ جمع ہوکر آپ کی ولادت کا جشن منائیں،کھانا کھلائیں اور نیکی کے دوسرے کام کریں۔([4])

    اس شبہے کا رد: (1) عقیقہ والی یہ روایت اہل ِ علم سے ثابت نہیں،امام نووی اس حدیث کو باطل کہتے ہیں۔([5])

    (2) کیا اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ بچوں کا عقیقہ کرتے تھے ؟ تاکہ یہ کہ سکیں کہ عبد المطلب نے اپنے پوتے کا عقیقہ کیا،کیا جاہلیت کے اعمال اسلام میں معتبر ہیں ؟ کیا اس بات کا کوئی ثبوت ملتا ہے کہ آپ نے اپنی پیدائش پر بطور ِ شکرانہ بکری ذبح کیا ؟ اور جب نبی نے امت کو ساری باتیں بتلادیں تو پھر یہ کیوں نہ بتایا، جس طرح آپ نے عید الاضحی اور عید الفطر کے احکام بتلائے یہ کیوں نہ بتلایا ؟

    3) صحیح حدیث میں ہے کہ آپ نے عاشورا٫ کا روزہ رکھا اور صحابہ کرام کو اس کا حکم دیا،اور جب آپ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایاکہ اس دن اللہ نے موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو نجات دیا تھا(اسی شکرانے میں روزہ رکھتے ہیں)اس سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ حصول ِ نعمت پر شکر ِ الہی کے لئے کسی دن کو متعین کیا جاسکتا ہے،اور اللہ کا شکر کئی قسم کی عبادتوں سے حاصل ہوتا ہے،جیسے نماز پڑھنا،روزہ رکھنا،صدقہ اور تلاوت کرنا،اور نبی کی ولادت سے بڑھ کر بھی کوئی نعمت ہے؟

    اس شبہے کا رد: اللہ کے نبی نےخود بھی عاشورا کا روزہ رکھا ہے اور صحابہ کرام کو بھی اس پر ابھارا ہے،اس کے بر خلاف آپ نے اپنے ولادت کے دن کا نہ احتفال کیا اور نہ اسے عید بنایا اور نہ ہی صحابہ کرام کو اس کی ترغیب دی،اگر یہ کوئی فضیلت کی چیز ہوتی تو آپصلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو ضرور بتاتے کیونکہ اللہ کے رسول نے اپنی امت کو ساری بھلائیاں بتلادیں اور ہر برائی سے روک دیا،نیز یہ کہ عاشورا کے روزے کا بدعت ِ مولد سے کیا تعلق ہے ؟ کیونکہ عبادت کی اساس تو شریعت ہے، کسی رائے یا استحسان سے کسی عبادت کو ثابت نہیں کیا جاسکتا۔

    قارئین کرام!جشن ِ میلاد النبی منانے والوں کے پاس ان کے علاوہ اور بھی شبہات ہیں جنہیں اس مختصر مضمون میں بیان نہیں کیا جاسکتا یہاں صرف اشارہ کرنا مقصود ہے،یہ حقیقت تو آپ نے جان ہی لیا کہ جشن ِ میلاد النبی کے جواز پر ان میں کوئی بھی دلیل فٹ نہیں ہوتی۔

    (اے اللہ ہمیں حق کو حق سمجھ کر اس پر عمل کرنے ، اور باطل کو باطل سمجھ کر اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما)
     
    • علمی علمی x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 15، 2018 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,240
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    تاریخ عید میلاد النبی ﷺ

    محمد رفیق طاہر
    دین اسلام میں اللہ تعالى نے صرف دو عیدیں رکھی ہیں عید الفطر اور عید الأضحى ۔
    سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
    كَانَ لِأَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ يَوْمَانِ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ قَالَ كَانَ لَكُمْ يَوْمَانِ تَلْعَبُونَ فِيهِمَا وَقَدْ أَبْدَلَكُمْ اللَّهُ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى
    [سنن النسائي , كتاب صلاة العيدين بابٌ (1556)]
    اہل جاہلیت کے دو دن ایسے تھے جن میں وہ کھیلا کرتے تھے تو جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا " تمہارے دو دن تھے جن میں تم کھیلا کرتے تھے اور اب اللہ تعالى نے تمہیں ان کی نسبت بہتر دو دن عطاء فرمائے ہیں یعنی عید الفطر اور عید الاضحى کا دن ۔
    رسول اللہ ﷺ نے اپنی ساری حیات طیبہ میں , خلفائے اربعہ سادتنا بو بکر وعمر وعثمان وحیدر نے اپنے ادوار خلافت میں , خیر القرون اور فقہائے اربعہ کے مبارک ادوار میں اس تیسری عید کا کوئی تصور موجود نہ تھا ۔
    اور اس بات کا اعتراف بریلوی علماء بھی کرتے ہیں احمد یار خاں نعیمی بریلوی صاحب نقل فرماتے ہیں : "لَمْ یَفْعَلْهُ أَحَدٌ مِّنَ الْقُرُونِ الثَّلَاثَةِ، إِنَّمَا حَدَثَ بَعْدُ."
    میلاد شریف تینوں زمانوں میں کسی نے نہ کیا ، بعد میں ایجاد ہوا ۔'' (جاء الحق : ١/٢٣٦)
    اسی طرح غلام رسول سعیدی بریلوی صاحب فرماتے ہیں: ''سلف صالحین یعنی صحابہ اور تابعین نے محافلِ میلاد نہیں منعقد کیں بجا ہے۔'' (شرح صحیح مسلم : ٣/١٧٩)
    بریلوی عالم عبد السمیع رامپوری بریلوی لکھتے ہیں : 'یہ سامان فرحت و سرور اور وہ بھی مخصوص مہینے ربیع الاول کے ساتھ اور اس میں خاص وہی بارہواں دن میلاد شریف کا معین کرنا بعد میں ہوایعنی چھٹی صدی کے آخر میں۔'' (انوارِ ساطعہ : 159)
    اکابرین بریلویہ کی زبانی یہ بات معلوم کرنے کے بعد کہ رسول اللہ ﷺ , صحابہ کرام ], تابعین وتبع تابعین s کے مبارک ادوار میں یہ بدعت موجود نہ تھی اس بات کی تحقیق کرتے ہیں کہ یہ کب ایجاد ہوئی ۔
    أحمد بن علي بن عبد القادر، أبو العباس الحسيني العبيدي، تقي الدين المقريزي (المتوفى: 845 هـ) نے اپنی کتاب المواعظ والاعتبار بذكر الخطط والآثار ( ط : دار الكتب العلمية، بيروت 1418 هـ ) جلد ۲ صفحہ ۴۳۶ پر یہ عنوان قائم کیا ہے : ذكـر الأيام التي كان الخلفاء الفاطميون يتخذونها أعيادا، ومواسم تتسع بها أحوال الرعية، وتكـثر نعمهم "
    ان ایام کا تذکرہ جن میں فاطمی خلفاء عیدیں اور تہوار مناتے تھے جن کے ذریعہ رعایا کے حالات کشادہ ہو جاتے اور انکی نعمتیں بڑھ جاتیں ۔ اس عنوان کے تحت لکھتے ہیں :
    "وكان للخلفاء الفاطميين في طول السنة: أعياد ومواسم، وهي: موسم رأس السنة، وموسم أوّل العام، ويوم عاشوراء، ومولد النبيّ صلّى الله عليه وسلّم، ومولد عليّ بن أبي طالب رضي الله عنه، ومولد الحسن، ومولد الحسين عليهما السلام، ومولد فاطمة الزهراء عليها السلام، ومولد الخليفة الحاضر، وليلة أوّل رجب، وليلة نصفه، وليلة أوّل شعبان، وليلة نصفه، ......."
    فاطمی خلفاء سال بھر میں عیدیں اور تہوار مناتے اوروہ تہوار یہ ہیں : سال کے اختتام میں , سال کے آغاز میں , عاشوراء کے دن , میلاد النبی ﷺ , میلاد علی رضی اللہ عنہ, میلاد حسن رضی اللہ عنہ , میلاد حسین رضی اللہ عنہ
    , میلاد فاطمہ رضی اللہ عنہا موجودہ خلیفہ کا میلاد , رجب کی پہلی رات کا تہوار , پندرہ رجب کا تہوار , شعبان کے شروع میں , شعبان کی پندرھویں رات ........ الخ"

    پھر اسی کتاب کی جلد ۲ صفحہ ۳۳۳ پر لکھتے ہیں : "ذكر جلوس الخليفة في الموالد الستة في تواريخ مختلفة، وما يطلق فيها، وهي مولد النبيّ صلّى الله عليه وسلّم، ومولد أمير المؤمنين عليّ بن أبي طالب، ومولد فاطمة عليها السلام، ومولد الحسن، ومولد الحسين عليهما السلام، ومولد الخليفة الحاضر" "
    مختلف تاریخوں میں چھ میلادوں کے موقع پر خلیفہ کے جلوس اور دیگر کاموں کا ذکر , اور وہ میلا النبی ﷺ میلاد امیر امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ , میلاد فاطمہ رضی اللہ عنہا میلاد حسن ، میلاد حسین رضی اللہ عنہما اور موجودہ خلیفہ کا میلاد ہے ۔"
    پھر اس ذکر کے دوران میلاد النبی ﷺ میں ہونے والے کاموں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : "فإذا كان اليوم الثاني عشر من ربيع الأوّل، تقدّم بأن يعمل في دار الفطرة عشرون قنطارا من السكر اليابس حلواء يابسة من طرائفها، وتعبى في ثلثمائة صينية من النحاس، وهو مولد النبيّ صلّى الله عليه وسلّم"
    تو جب ربیع الاول کی بارہ تاریخ ہوتی تو دار الفطرہ میں بیس قنطارشکر سےمختلف قسم کا خشک حلوہ تیار کیا جاتا اور اسے پیتل کے تین سو برتنوں میں ڈالا جاتا اور یہ میلاد النبی ﷺ کا تہوار ہوتا ۔" پھر اسکے بعد اس میلاد میں ہونے والے مختلف امور کا ذکر کرتے ہوئے خلیفہ کا اس جلوس و جلسہ کی قیادت کرنا اور بڑے بڑے خطباء کا میلاد کے موضوع پر درس دینا نقل کیاہے ۔ (مصدر سابق , ص ۲۳۳, ۲۳۴)
    علامہ مقریزی کی اس توضیح سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس بدعت میلاد کے اولین موجد فاطمی خلیفے تھے اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ فاطمی خلیفے کٹر قسم کے رافضی شیعہ تھے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عید میلاد منانا رافضی شیعوں کی ایجاد ہے ۔ اور وہ صرف میلاد النبی ﷺ ہی نہ مناتے بلکہ اسکے ساتھ ساتھ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ , حسن و حسین رضی اللہ عنہما اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور موجودہ خلیفہ کا میلاد بھی منایا کرتے تھے ۔
    اور انہی الفاظ سے اس بدعت میلاد کا تذکرہ محمد بخيت المطيعي الحنفي قاضي اسكندرية نے اپنی کتاب أحسن الكلام فيما يتعلق بالسنة والبدعة من الأحكام
    (ط:مطبع كردستان العلمية قاهرة 1329هـ ) کے صفحہ نمبر 61 پر بھی کیا ہے ۔
    اور تقریبا یہی بات أحمد بن علي بن أحمد الفزاري القلقشندي ثم القاهري (المتوفى: 821هـ) نے اپنی کتاب صبح الأعشى في صناعة الإنشاء جلد 3 ص576 میں کچھ یوں نقل کی ہے :
    الجلوس الثالث جلوسه في مولد النبي صلى الله عليه وسلم في الثاني عشر من شهر ربيع الأوّل وكان عادتهم فيه أن يعمل في دار الفطرة عشرون قنطارا من السّكّر الفائق حلوى من طرائف الأصناف، وتعبّى في ثلاثمائة صينية نحاس. فإذا كان ليلة ذلك المولد، تفرّق في أرباب الرسوم: كقاضي القضاة، وداعي الدعاة، وقرّاء الحضرة، والخطباء، والمتصدّرين بالجوامع القاهرة ومصر، وقومة المشاهد وغيرهم ممن له اسم ثابت بالديوان .
    تیسرا جلوس ۱۲ ربیع الاول کو میلاد النبی ﷺ کا نکالا جاتا تھا ۔ اس جلوس میں انکا طریقہ یہ تھا کہ دار الفطرہ میں ۲۰ قنطار عمدہ شکر سے مختلف قسم کا حلوہ تیار کیا جاتا اور پیتل کے تین سو برتنوں میں ڈالا جاتا اور جب میلاد کی رات ہوتی تو اس حلوہ کو مختلف ارباب رسوم مثلا : قاضی القضاۃ , داعی الدعاۃ , قراء , واعظین , قاہر ہ اور مصرکی جامع مساجد کے صدور , مزاروں کے مجاور ونگران اور دیگر ان لوگوں میں تقسیم کر دیا جاتا جن کا نام رجسٹرڈ ہوتا ۔
    اور اس بدعت کی اولین ایجاد اور پھر اسکی تجدید کی تاریخ کے بارہ میں محمد بخيت المطيعي الحنفي قاضي اسكندرية اپنی کتاب :
    أحسن الكلام فيما يتعلق بالسنة والبدعة من الأحكام (ط:مطبع كردستان العلمية قاهرة 1329هـ ) کے صفحہ نمبر 59تا 61 پر تحریر فرماتے ہیں: سب سے پہلے اسے قاہر ہ میں فاطمی خلفاء نے ایجاد کیا تھا اور ان میں سب سے پہلا "المعزلدین اللہ" تھا۔ جوکہ شوال 361ھ میں مغرب سے مصر آیا اور362ھ تک سکندریہ کی سرحدوں تک پہنچ گیا۔ اور اسی سال سات رمضان المبارک کو قاہرہ میں پہنچ گیا ۔ تو انہوں نے چھ میلادیں ایجاد کیں : میلاد النبی ﷺ میلاد امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ میلاد سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا , میلاد حسن ، میلاد حسین رضی اللہ عنہما اور موجودہ خلیفہ کا میلاد ۔
    اور یہ میلادیں اسی انداز سے جاری رہیں حتى کہ " الأفضل ابن امیر الجیوش" نے انہیں ختم کیا ۔اور اسکا والد "امیر الجیوش" "مستنصر باللہ" کی دعوت پر اسکے دور خلافت میں شام سے مصر آیا تھا اور وہ بدھ کی رات 2جمادى اولى 465ھ کو مصر میں داخل ہوا تھا ۔ اور جب وہ اہل شام سے جنگ کے لیے گیا تو اس نے اپنے بیٹے " افضل" کو اپنا نائب بنا دیا ۔اور جب ربیع الثانی یا جمادى اولى سنہ 487ھ میں " امیر الجیوش" فوت ہوا تو لشکر نے اسکے بیٹے "افضل " کو اسکے قائم مقام کر دیا ۔ پھر "مستنصر باللہ " 17 ذو الحجہ 495 میں فوت ہوگیا اور اسکی مدت خلافت سات سال اور دو ماہ تھی , تو "افضل" نے " مستنصر باللہ " کے بعد اسکے بیٹے "مستعلی باللہ" کو کھڑا کر دیا ۔ پھر "مستعلی" 17 صفر 495ھ کو فوت ہوگیا اور اسکی مدت خلافت سات سال اور دو ماہ تھی ۔اسکے بعد " افضل " نے اسکی وفات کے دن ہی اسکے بیٹے "الآمر باحکام اللہ " کو خلیفہ بنادیا ۔پھر "افضل " عید الفطر کی رات 515ھ کو قتل کر دیا گیا ۔ پھر "آمر باحکام اللہ " 524ھ میں قتل ہوگیا اور اسکی خلافت میں مذکورہ بالا چھ میلادیں دوبارہ شروع ہوگئیں جبکہ " افضل" نے انہیں ختم کر دیا تھا اور لوگ انہیں تقریبا بھول چکے تھے ۔ محمد بخيت المطيعي الحنفي قاضي اسكندرية کی اس صراحت سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اس بدعت کا اولین موجد فاطمی خلفاء میں سے " المعز لدین اللہ " تھا جس نے چوتھی صدی ہجری سنہ 362 ھ میں اسے ایجاد کیا پھرپانچویں صدی ہجری سنہ 465ھ کو "افضل ابن امیر الجیوش" نے اسے ختم کر دیا اسکے بعد چھٹی صدی ہجری سنہ 516ھ میں اسے "الآمر باحکام اللہ " نے دوبارہ شروع کیا ۔ اسی طرح عراق کے شہر اربل میں اس بدعت کی تاریخ ایجاد کے بارہ میں محمد بخيت المطيعي الحنفي قاضي اسكندرية اپنی کتاب أحسن الكلام فيما يتعلق بالسنة والبدعة من الأحكام (ط:مطبع كردستان العلمية قاهرة 1329هـ ) کے صفحہ نمبر 66 پر تحریر فرماتے ہیں:
    "وأقول إن الملك المظفر صاحب أربل الذي قال السيوطي أنه أول من أحدث فعل ذلك هو أبو سعيد كوكبوري ابن أبي الحسن على بن بكـتكين بن محمد الملقب بالملك الأعظم مظفر الدين صاحب أربل تولي بعد وفاة أبيه الملقب بزين الدين في عشرة ذي القعدة سنة خمسمائة وثلاثة وستين وكان عمره أربع عشرة سنة وهو أول من أحدث عمل الموالد بمدينة أربل ."
    اور میں (محمد بخیت المطیعی الحنفی) کہتا ہوں کہ ملک مظفر صاحب اربل جس کے بارہ میں امام سیوطی نے کہا ہے کہ اس نے سب سے پہلے اسے ایجاد کیا تھا اسکا نام ابو سعید کوکبوری بن ابو الحسن علی بن بکتکین بن محمد ہے , اور لقب ملک اعظم مظفر الدین صاحب اربل ہے ۔ یہ اپنے والد " زین الدین" کی وفات کے بعد 10 ذو القعدہ 563ھ کو بادشاہ بنا تھا جبکہ اسکی عمر چودہ سال تھی ۔اور یہی وہ شخص ہے جس نے اربل شہر میں میلادوں کا آغاز کیا ۔" ))
    یعنی چھٹی صدی ہجری کے اواخر سنہ 563ھ میں شہر اربل میں بھی یہ موالید شروع ہوگئے تھے جن کے موجد فاطمی رافضی بادشاہ تھے ۔ اور صاحب اربل مظفر الدین نے یہ کام ایک صوفی ملا" عمر بن محمد" کی پیروی میں شروع کیا تھا ۔ أبو القاسم شهاب الدين عبد الرحمن بن إسماعيل بن إبراهيم المقدسي الدمشقي المعروف بأبي شامة (المتوفى: 665هـ) اپنی کتاب الباعث على إنكار البدع والحوادث ( ت: عثمان أحمد عنبر , ط: دار الهدى – القاهرة 1398 – 1978) ص 24 پر رقمطراز ہیں : وَكَانَ أول من فعل ذَلِك بالموصل الشَّيْخ عمر بن مُحـَمَّد الملا أحد الصَّالِحين الْمَشْهُورين وَبِه اقْتدى فِي ذَلِك صَاحب أربل وَغَيره. موصل شہر میں سب سے پہلے مشہور صوفی عمر بن محمد الملا نے اسے ایجاد کیا اور اربل کے بادشاہ نے بھی اس مسئلہ میں اسی کی پیروی کی ۔ یعنی موصل میں اس کام کی ابتداء اربل سے پہلے ہوئی تھی ۔ شاہ اربل نے موصلی صوفی کی تقلید میں یہ کام شروع کر لیا تھا ۔ ستم بالائے ستم یہ کہ شاہ اربل کو اس بدعت کا جواز فراہم کرنے کے لیے ایک "بدعتى ملا" بھی دستیاب آگیا جس نے اس بدعت کے جواز میں کتاب لکھ ماری ۔ محمد بخيت المطيعي الحنفي قاضي اسكندرية اپنی کتاب
    ( أحسن الكلام فيما يتعلق بالسنة والبدعة من الأحكام (ط:مطبع كردستان العلمية قاهرة 1329هـ ) کے صفحہ نمبر ۷۰ پر تحریر فرماتے ہیں:
    "ولما قدم عمر ابن الحسن المعروف بأبي الخطاب ابن دحية إلى مدينة أربل في سنة أربع وستمائة وهو متوجه إلى خراسان ورأى صاحبها الملك المعظم مظفر الدين ابن زين الدين مولعا بعمل مولد النبي ﷺ عمل له كـتابا سماه "التنوير في مولد السراج المنير" وقرأه عليه بنفسه , ولما عمل هذا الكـتــاب دفع له الملك المعظم ألف دينار ."
    اور جب عمر بن الحسن المعروف ابو خطاب بن دحیہ ۶۰۴ھ کو خراسان جاتے ہوئے اربل پہنچا تو اس نے دیکھا کہ شاہ اربل ملک مظفر الدین بن زین الدین میلاد النبی ﷺ کا بہت دلدادہ ہے تو اس نے اس (بادشاہ کو خوش کرنے) کے لیے ایک کتاب لکھی جسکا نام اسے نے رکھا "التنویر فی مولد السراج المنیر " اور خود وہ کتاب بادشاہ کو پڑھ کر سنائی ۔ اور جب اس نے یہ کتاب لکھی تو ملک معظم نے اسے ایک ہزار دینار (بطور انعام) دیے ۔
    یہ شاہ اربل جو کہ انتہائی ظالم قسم کا انسان تھا , رعایا پر بہت ظلم کرتا , لوگوں کے مال بلا وجہ ضبط کرلیتا تھا , اسی بدعت کے جواز پرکتاب لکھنے کی وجہ سے بطور انعام ۱۰۰۰ دینار یعنی ۳۷۵ تولہ سونا ایک کذاب شخص ابو الخطاب عمر بن الحسن کو دے دیا ۔ ایسے ہی بدعتی بادشاہوں کی وجہ سے یہ بدعات عروج پکڑگئیں اور آہستہ آہستہ دیگر ممالک میں بھی پہنچتی رہیں ۔ کسی نے سچ کہا تھا :
    وهل أفسد الدين إلا الملوك أو أحبار سوء أو رهبانها
    دین کو بگاڑنے والے صرف تین قسم کے لوگ ہیں :بادشاہ , علمائے سوء , اور صوفی ۔

    مصدر: http://www.rafiqtahir.com/ur/play-article-659.html
     
    • علمی علمی x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 16، 2018 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,240
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    قیام میلاد کی شرعی حیثیت

    شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر حفظہ اللہ لکھتے ہیں :
    محفلِ میلاد وغیرہ میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر ِ خیر پر کھڑے ہو جانا بے اصل اور بے ثبوت عمل ہے ، جس کی بنیاد محض نفسانی خواہشات اور غلو پر ہے ۔ شرعی احکام ،قرآن وحدیث اور اجماعِ امت سے فہمِ سلف کی روشنی میں ثابت ہوتے ہیں ۔ ان مصادر میں سے کسی میں بھی اس کا ثبوت نہیں ، لہٰذا یہ کام بدعت ہے ۔
    بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود اس محفل میں تشریف فرما ہوتے ہیں ، بعض کہتے ہیں : ”تاہم یہ بات ممکنات میں سے ہے کہ حضور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روحانی طور پر محفلِ میلاد میں تشریف لائیں ۔ ” بعض نے کہا ہے : ”ایسا ہونا گو بصورت ِ معجزہ ممکن ہے ۔ ” وغیرہ

    یہ سب ان لوگوں کے اپنے منہ کی باتیں ہیں ۔ قرآن وسنت میں اس کی کوئی اصل نہیں ۔
    نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی ، کسی تابعی یا کسی ثقہ مسلمان سے ایسا کرنا باسند ِ صحیح مروی نہیں ، لہٰذا یہ قبیح بدعت ہے ۔
    علامہ عبدالحئی لکھنوی حنفی (١٢٦٤۔ ١٣٠٤ھ ) لکھتے ہیں :
    ومنہا أی من القصص المختلقۃ الموضوعۃ ما یذکرونہ من أنّ النبیّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم یحضر بنفسہ فی مجالس وعظ عند ذکر مولدہ ، بنو علیہ القیام عند ذکر المولد تعظیما وإکراما ، وہذا أیضا من الأباطیل لم یثبت ذلک بدلیل ومجرّد الاحتمال والإمکان خارج عن حدّ البیان ۔
    انہی من گھڑت باتوں میں یہ بات بھی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وعظ کی مجلسوں میں اس وقت خود حاضر ہوتے ہیں ، جب ان کے میلاد کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ اس کو بنیاد بنا کر انہوں نے آپ کی ولادت کے ذکر کے وقت قیام گھڑ لیا ہے ۔ یہ بھی ان جھوٹی باتوں میں سے ہیں جو کسی دلیل سے ثابت نہیں ۔ صرف احتمال اور امکان ہے ، وہ بھی دلیل سے عاری ہے۔”
    (الآثار المرفوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ لعبد الحی : ص ٤٦)

    علامہ محمد بن یوسف الصالحی الشامی رحمہ اللہ (٩٤٢ھ) لکھتے ہیں :
    جرت عـــادۃ کثیر من المحبّین إذا سمعوا بذکر وصفہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم أن یقوموا تعظیما لہ صلی اللہ علیہ وسلم، وہذا القیام بدعۃ، لا أصل لہ۔
    ”بہت سے دعویدارانِ حب ّ ِ نبی میں یہ عادت رواج پا گئی ہے کہ وہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی صفت کا ذکر سنتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم میں کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ یہ قیام ایسی بدعت ہے ، جس کی شریعت میں کوئی دلیل نہیں ۔ ”(سبل الہدی والرشاد فی سیرۃ خیر العباد : ١/٤١٥)

    مبتدعین کے ممدوح ابنِ حجر ہیتمی (٩٠٩۔ ٩٧٤ھ) کہتے ہیں :
    ونظیر ذلک فعل کثیر عند ذکر مولدہ صلی اللہ علیہ وسلم، ووضع أمہ لہ من القیام، وہو أیضا بدعۃ، لم یرد فیہ شیء علی أنّ الناس إنّما یفعلون ذلک تعظیما لہ صلی اللہ علیہ وسلم، فالعوّام معذورون لذلک بخلاف الخواصّ ۔
    ”اسی طرح (بدعت )کا کام بہت سے لوگوں کا نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاداور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ کے آپ کو جننے کے ذکر کے وقت کھڑا ہونا ہے ۔ یہ بھی بدعت ہے ۔ اس کے بارے میں کوئی دلیل نہیں ملتی ۔ لوگ اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کی نیت سے کرتے ہیں ۔ عام لوگوں کا تو (لا علمی کی وجہ سے ) عذر قبول ہو جائے گا ، برعکس خاص(جاننے والے) لوگوں کے (کہ وہ بدعتی ہی شمار ہوں گے )۔”
    (الفتاوی الحدیثیۃ لابن حجر الہیتمی : ص ٥٨)

    اس کے باوجود بعض دیوبندی اکابر بھی اس قیام کو جائز قرار دیتے ہیں ،
    جیسا کہ دیوبندیوں کے عقیدہئ وحدت الوجود کے پیشوا اور ”سید الطائفہ” حاجی امداد اللہ مکی صاحب (م ١٣١٧ھ) کہتے ہیں : ”البتہ وقت قیام کے اعتقاد تولد کا نہ کرنا چاہیے ۔ اگر احتمال تشریف آوری کا کیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ، کیونکہ عالمِ خلق مقید بزمان ومکان ہے ، لیکن عالمِ امر دونوں سے پاک ہے ۔ پس قدم رنجہ فرمانا ذات ِ بابرکات کا بعید نہیں ۔ ”(امداد المشتاق از اشرف علی تھانوی : ٥٦)

    نیزاشرف علی تھانوی صاحب خود لکھتے ہیں :
    ”جب مثنوی شریف ختم ہو گئی ۔ بعد ختم حکم شربت بنانے کا دیا اور ارشاد ہوا کہ اس پر مولانا (روم ) کی نیاز بھی کی جاوے گی ۔ گیارہ گیارہ بار سورہئ اخلاص پڑھ کر نیاز کی گئی اور شربت بٹنا شروع ہوا ۔ آپ نے فرمایا کہ نیاز کے دو معنیٰ ہیں ۔ ایک عجز وبندگی اور وہ سوائے خدا کے دوسرے کے واسطے نہیں ہے ، بلکہ ناجائز شرک ہے ۔ اور دوسرے خدا کی نذر اور ثواب خد اکے بندوں کو پہنچانا ، یہ جائز ہے ۔ لوگ انکار کرتے ہیں ۔ اس میں کیا خرابی ہے ؟ اگر کسی عمل میں عوارض غیر مشروع لاحق ہوں تو ان عوارض کو دور کرنا چاہیے ، نہ یہ کہ اصل عمل سے انکار کردیا جائے ۔ ایسے امورسے انکار کرنا خیر کثیر سے باز رکھنا ہے ، جیسے قیام مولد شریف اگر بوجہ آئے نام آنحضرت کے کوئی شخص تعظیماً قیام کرے تو اس میں کیا خرابی ہے ؟ جب کوئی آتا ہے تو لوگ اس کی تعظیم کے واسطے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ اگر اس سردار ِ عالم وعالمیان (رو حی فداہ ) کے اسمِ گرامی کی تعظیم کی گئی تو کیا گناہ ہوا؟ ”
    (امداد المشتاق از تھانوی : ص ٨٨)
    لو جی ! یہ ہیں دیوبندیوں کے ”سید الطائفہ” صاحب اور یہ ہیں ان کی خرافات وبدعات ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ”سیدالطائفہ” کا شمار بھی ”بدعات پسند حضرات” میں ہوتا ہے ۔
     
    • مفید مفید x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏نومبر 16، 2018 #5
    احمد گڈاوی

    احمد گڈاوی مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 24، 2018
    پیغامات:
    5
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    اس کا اسکین پیج مل سکتا ہے؟
     
  6. ‏نومبر 17، 2018 #6
    احمد گڈاوی

    احمد گڈاوی مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 24، 2018
    پیغامات:
    5
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    امداد المشتاق کے کس ایڈیشن میں یہ بات لکھی ہے؟ آپ اسکین پیج دکھا دیں
     
  7. ‏نومبر 17، 2018 #7
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,240
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    جی بہتر آپ کے حکم کی تعمیل میں " حکیم الامت " کی حکمت سے بھرپور کتاب امداد المشتاق شریف کے متعلقہ صفحات زیارت کیلئے پیش ہیں ،
    امداد المشتاق ،طبع دیوبند ہندوستان سنۃ 2014
    https://archive.org/details/ImdadUlMushtaqPdfbooksfree.pk/page/n43
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    Imdad ul Mushtaq Pdfbooksfree.pk_0001.jpg قیام میلاد.jpg
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  8. ‏نومبر 17، 2018 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,240
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

  9. ‏نومبر 17، 2018 #9
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,240
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    اگر قرآن وحدیث اور قرون اولیٰ کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہےکہ قرآن وحدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ ہی اسکی ترغیب دلائی ، قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرام ﷺ ،تابعینؒ،تبع تابعینؒ کا زمانہ جنھیں نبی کریم ﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید کوئی تصور نہ تھا اورنہ وہ جشن مناتے تھے ،
    اور اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید کا کو ئی تصور تھا اور نہ وہ اسے مناتے تھے او ر نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتےتھے بلکہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز نبی ﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  10. ‏دسمبر 10، 2018 #10
    zahra

    zahra مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 04، 2018
    پیغامات:
    144
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    25

    but I think there is no any issue if we celebrate it what is bidaat in it
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں