1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ کے اسمائے حسنی اور ان کی معرفت وقواعد

'ذات باری تعالیٰ' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏جولائی 10، 2017۔

  1. ‏جولائی 10، 2017 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,241
    موصول شکریہ جات:
    353
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    اللہ کے اسمائے حسنی اور ان کی معرفت وقواعد

    مقبول احمدسلفی

    شرعی علوم کی معرفت میں اللہ کی معرفت سب سے بنیادی اور شرف وعظمت والی ہے ، اللہ تعالی نے اپنی معرفت حاصل کرنے کا حکم دیا ہے ۔فرمان الہی ہے : فاعلم انہ لاالہ الا اللہ (محمد:19)یعنی اس بات کی معرفت حاصل کروکہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
    اللہ کی معرفت کے ذریعہ ہی اس کائنات کی تخلیق اور اس کا مقصد معلوم ہوتا ہے ،ساتھ ہی ہمیں اس معرفت سے اپنی حقیقت اور اپنی زندگانی کے حقائق ومعارف سے آگاہی ملتی ہے ۔اللہ کی معرفت کا سب سے بڑا فائدہ دنیا وآخرت کی کامیابی ہے اس لئے جو لوگ اللہ کی معرفت نہیں حاصل کرتے وہ نہ صرف دونوں جہان کی سعادت سے محروم ہیں بلکہ ہرقسم کی ذلت ورسوائی کے مستحق بھی ہیں ۔
    اللہ کی معرفت میں اس کے اسمائے حسنی کی معرفت شامل ہے ۔ اسمائے حسنی کہتے ہیں اللہ رب العالمین کے وہ پیارے نام جو اس نے اپنے لئے پسند فرمائے ہیں ۔ اللہ کا فرمان ہے :
    وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا
    ۖ وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ ۚ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الاعراف: 180)
    ترجمہ: اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کیلئے ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں ان لوگوں کو ان کے کئے کی ضرور سزا ملے گی ۔
    اس آیت میں جہاں اللہ کو ہی پکارنے کا حکم ہوا ہے وہیں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اس کے اسمائے حسنی کا علم حاصل کریں جن کے ذریعہ ہمیں اسے پکارنا ہے۔ اور یہ جان لیں کہ اسماء وصفات توحید کی ایک قسم ہے جس کا علم توحیدالوہیت اور توحیدربوبیت کے ساتھ ساتھ ضروری ہے ۔
    یہاں اسماء وصفات کے باب میں بنیادی طور پر یہ بات جان لیں کہ اللہ کے اسماء وصفات میں اسے یکتا مانا جائے ،اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم یہ اعتقاد رکھیں کہ اللہ کے اسماء وصفات کی کوئی مثال نہیں یعنی جس طرح سے یہ اسماء وصفات کتاب وسنت میں وارد ہیں انہیں بغیر تحریف،تعطیل، تمثیل اور تکییف کے تسلیم کیا جائے ۔
    تحریف کہتے ہیں :اسماء وصفات کے جو معانی کتاب وسنت سے معلوم ہوتے ہیں انہیں معانی پر محمول کیا جائے ،حقیقی معانی سے ہٹ کر دوسرا معنی بیان کرنا جس کی کوئی دلیل نہیں ہے تحریف میں داخل ہوگا۔
    تعطیل : جو بھی اسماء وصفات اللہ کے لئے ثابت ہیں ان میں سے کسی اسم یا صفت کا انکار کرنا تعطیل کے زمرے میں آتاہے ۔
    تمثیل: اللہ کی صفات کو مخلوق کی صفات سے مثال بیان کرنا تمثیل ہے ۔
    تکییف: اللہ کی صفات کی کیفیت بیان کرنا تکییف ہے ۔ جس طرح اسماء وصفات میں تحریف وتعطیل کرنا منع ہے ویسے ہی صفات کی مثا ل اور اس کی کیفیت بیان کرنا بھی منع ہے ۔

    ایک امر کی وضاحت :
    ہمارے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ اللہ کے اسمائے حسنی کون کون سے ہیں تاکہ ان کی معرفت حاصل کی جائے چنانچہ بخاری و مسلم کی روایت میں ہے ۔
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ :إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلا وَاحِدًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ .(صحيح البخاري :2736 وصحيح مسلم :2677)
    ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:اللہ تعالی کے ننانوے یعنی ایک کم سو نام جس نے یاد کئے جنت میں داخل ہوجائے گا۔
    اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ کے ننانوے نام ہیں اور ایک دوسری حدیث میں جو ترمذی اورابن ماجہ وغیرہ میں موجود ہے ان ننانوے ناموں کی تفصیل مذکور ہے مگر وہ ضعیف ہے ۔ اللہ کے صرف ننانوے نام نہیں بلکہ لاتعداد ہیں جن میں سے کچھ ہم جانتے ہیں جن کا بیان کتاب وسنت میں ہوا ہے اور بہت کچھ نہیں جانتے ہیں جنہیں اللہ تعالی نےہمیں نہیں بتلایا ہے ۔ اس بات کی دلیل غم کے ازالے سے متعلق اس دعامیں ہے ۔
    اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ ، وَابْنُ عَبْدِكَ ، وَابْنُ أَمَتِكَ ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ ، أَوْ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي ، وَنُورَ صَدْرِي ، وَجِلَاءَ حُزْنِي ، وَذَهَابَ هَمِّي(السلسلة الصحيحة: 199)
    ترجمہ: یا اللہ! میں تیرا بندہ ہوں ، اور تیرے بندے اور باندی کا بیٹا ہوں میری پیشانی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، میری ذات پر تیرا ہی کا حکم چلتا ہے، میری ذات کے متعلق تیرا فیصلہ سراپا عدل و انصاف ہے، میں تجھے تیرے ہر اس نام کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ جو توں نے اپنے لیے خود تجویز کیا، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو وہ نام سکھایا، یا اپنی کتاب میں نازل فرمایا، یا اپنے پاس علم غیب میں ہی اسے محفوظ رکھا، کہ تو قرآن کریم کو میرے دل کی بہار، سینے کا نور،غموں کیلئے باعث کشادگی اور پریشانیوں کیلئے دوری کا ذریعہ بنا دے۔
    بخاری ومسلم میں ننانوے کے حصرکا معنی جیساکہ ابن القیم رحمہ اللہ نے لکھاہے کہ ان اسماء کو حفظ کیا جائے، ان کے معانی جانےجائیں، ان کا تقاضہ پورا کیا جائے اور ان کے ذریعہ اللہ تعالی سے دعا کی جائے ۔

    اسمائے حسنی کے قواعد وضوابط
    اب یہاں چند قواعد وضوابط بیان کئے جاتے ہیں جن سے اسمائے حسنی کی تعیین ہوتی ہے۔
    (1) اسمائے حسنی توقیفی ہیں اس لئےجوکتاب وسنت سے صراحۃ ثابت ہیں انہیں نام کواسمائے حسنی کے طور بیان کیا جائے گا۔
    (2) جو اسماء نقص وعیب سے بالکل پاک ہوں ، اس لئے العاجر،الخائن وغیرہ اسمائےحسنی نہیں۔
    (3) کچھ اسماء خاص پس منظر اور اخبار کے طور پر وارد ہوئے ہیں یعنی وہ مستقل طور پر نہیں آئے ہیں بلکہ اضافت کے ساتھ ہیں انہیں اسمائے حسنی نہیں قرار دیا جائے گامثلا قابل التوبہ (توبہ قبول کرنے والا)، فالق الحب(دانے کا پھاڑنے والا)۔اسی طرح ذو سے شروع ہونے والے اسماء بھی اسمائے حسنی نہیں جیسے ذوالعرش، ذوالقوۃ، ذوالرحمۃ
    (4) بعض اسماء ذاتی صفات پر دلالت کرتے ہیں مثلا الحی(زندہ) اور بعض اسماء افعال سے متعلق ہیں جومشیت سے وابستہ ہیں مثلا خالق (پیداکرنے والا)۔
    (5) قرآن وحدیث میں اللہ کے لئے بہت سے افعال کا ذکر ہے مثلا یفعل، یذکر،تعز، تذل وغیرہ تو ان افعال سے اللہ کی صفت کی دلیل بنے گی نہ کہ ان کے اسماء کو اسمائے حسنی قرار دیا جائے گا جیساکہ پہلے نمبر پر گزرچکا ہے کہ اسمائے حسنی توقیفی ہیں۔
    (6) جو اللہ تعالی کے افعال کی صفات ہیں وہ بھی اسمائے حسنی میں سے نہیں مثلا شدیدالعقاب(سخت عذاب دینے والا)۔
    (7) اسی طرح وہ اسماء جو متساوی المعنی اور مختلف الالفاظ ہوں اور اسمائے حسنی کے طور پر وارد ہوں تو یہ سب الگ الگ مستقل اسمائے حسنی قرار پائیں گے مثلا القدیر، القادر،المقتدر ، یہ تینوں الگ الگ اسم الہی ہیں ۔
    (8) اسمائے جامدہ بھی اسمائے حسنی میں سے نہیں ہیں مثلا الدھر(زمانہ)۔
    (9) جواسم تفضیل کے طور پر بغیر اضافت کے آیا ہے وہ اسمائے حسنی میں سے ہے جیسے الاعلی اور جو اضافت کے ساتھ آیا ہے وہ اسمائے حسنی میں سے نہیں ہے جیسے ارحم الراحمین۔ اسی طرح وہ اسمائے صفاتی جو اللہ کے لئے ثابت ہیں ان کا اسم تفضیل استعمال کرنا بہترہے مثلا الاعظم، الاقوی وغیرہ لیکن وہ بھی اسمائے حسنی میں سے نہیں ہوں گے۔
    (10) آخری بات یہ ہے کہ عبدیت کا انتساب صرف اسمائے حسنی کی طرف ہی کرنا چاہئے جیسے عبدالخالق، عبدالباری وغیرہ اور جو اسمائے حسنی میں سے ثابت نہیں ہیں ان کی طرف عبدیت کا انتساب نہیں کرنا چاہئے جیسے عبدالنور،عبدالمعزوغیرہ
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں