1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ کے حکم پر عدم رضامندی یا اس سے اعراض یا غیر اللہ کی طرف فیصلہ لے جانے کا ارادہ یا عملاًفیصلہ لی

'خوارج' میں موضوعات آغاز کردہ از محمدسمیرخان, ‏مارچ 10، 2013۔

  1. ‏مارچ 10، 2013 #1
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    اللہ کے حکم پر عدم رضامندی یا اس سے اعراض یا غیر اللہ کی طرف فیصلہ لے جانے کا ارادہ یا عملاًفیصلہ لیجاناکفرہے

    جس نے غیر اللہ کو اطاعت مطلق کا حق دیدیا اس نے غیر اللہ کو اللہ کا شریک بنالیا۔ جو شخص اللہ ورسول ﷺکے حکم پر راضی وخوش نہیں ہوتا وہ کافر مرتد ہے۔چاہے وہ اپنی اس عدم رضامندی کازبان سے اقرار کرے یا نہ کرے ۔جب اسے اللہ کے حکم کی طرف بلایا جائے جو اعراض کرتا ہے یا اللہ ورسول ﷺکے علاوہ کسی اور کی طرف فیصلہ لیجائے یا جاہلیت کے حکم سے فیصلہ کروائے یہ سب کفر ہے جو دین سے خارج کردینے والا ہے حکم وتشریع کے مسئلہ میں یہ دوسری بنیاد وسبب ہے اس کے دلائل جو پہلے ذکر ہوچکے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں :
    1 اللہ کا فرمان ہے:
    یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْآ اَطِیْعُوا اﷲَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اﷲِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاﷲِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلاً، اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّہُمْ ٰامَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْآ اِلَی الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْآ اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّہُمْ ضَلٰلاً بَعِیْدًا، وَ اِذَا قِیْلَ لَہُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اﷲُ وَ اِلَی الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْکَ صُدُوْدًا فَکَیْفَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِیْبَۃٌ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ ثُمَّ جَآءُ وْکَ یَحْلِفُوْنَ بِاﷲِ اِنْ اَرَدْنَآ اِلَّا اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا،اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اﷲُ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ وَ عِظْہُمْ وَ قُلْ لَّہُمْ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ قَوْلاً بَلِیْغًا، وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اﷲِ وَ لَوْ اَنَّہُمْ اِذْ ظَّلَمُوْآ اَنْفُسَہُمْ جَآءُ وْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اﷲَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اﷲَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا، فَلاَ وَ رَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لاَ یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(نساء:۵۹-۶۵)
    ایمان والو،اللہ کی اطاعت کرو اور رسول(ﷺ) کی اور اولی الامر کی اگر تمہارے درمیان کوئی اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ ورسول کی طرف لوٹا دو اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہویہ بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی اچھا ہے کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس پر ایمان لائے ہیں جو آپ ﷺکی طرف اور آپ سے قبل نازل ہوا ہے اور چاہتے ہیں کہ فیصلے طاغوت کی طرف لیجائیں حالانکہ انہیں طاغوت سے انکار کا حکم دیا گیا ہے۔شیطان چاہتاہے کہ انہیں دور کی گمراہی میں ڈال دے تیرے رب کی قسم یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک اپنے اختلافی معاملات میں آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں اور پھر آپ کے کیے ہوئے فیصلہ سے یہ اپنے دلوں میں تنگی محسوس نہ کریں اورمکمل طور پر تسلیم کرلیں ۔

    ان آیات میں اللہ نے مومنوں کو حکم دیا ہے کہ اللہ ورسول ﷺکی مطلق اطاعت کریں اور اولی الامر وعلماء کی اطاعت شریعت کی اطاعت سے مشروط کرکے کیا کرو۔اگر حکمران اور عوام کے درمیان کسی بات پر اختلاف ہوجائے تو اس کے حل کے لیے کتاب اللہ وسنت رسول اللہ ﷺکی طرف رجوع کرنا ضروری ہے اللہ نے بتلادیا کہ اللہ ویوم آخرت پر ایمان کا یہی تقاضا ہے ۔پھر اللہ نے ان لوگوں کے دعوائے ایمان پر تعجب کااظہارکیا ہے جو دعویٰ تو اس بات کا کرتے ہیں کہ وہ اللہ اور اس کے نازل کردہ تمام شریعتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور اس دعویٰ کے ساتھ ساتھ وہ فیصلہ طاغوت کے پاس لیجانا چاہتے ہیں کچھ حکمران ایسے بھی ہیں جو اللہ کے احکامات کو تبدیل کرتے ہیں اور غیر اللہ کے احکام کے مطابق فیصلے کرتے ہیں ۔پھر اللہ نے یہ بتایا ہے کہ میں نے ان حکمرانوں اور عوام سب کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ ہرطاغوت کا انکار کریں جس کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جاتی ہو۔ پھر اللہ نے اپنی قسم کھاکرکہا کہ جب تک اللہ کی شریعت لانے والے محمد ﷺکو تمام چھوٹے بڑے تنازعات میں فیصلہ کرنے والا تسلیم نہ کرلیں اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے اور پھر اس فیصلے سے کسی کے دل میں تنگی بھی نہ ہویعنی اس کے ساتھ مکمل رضامندی اللہ کے حکم کو مطلق تسلیم کرنا بھی ہے جو اللہ ورسول ﷺکے پاس فیصلہ نہیں لے جاتا تو وہ مومن نہیں ہے۔اور جس کے دل میں اس فیصلہ سے تنگی اور حرج ہو وہ بھی مومن نہیں ہے اور اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اللہ ورسول ﷺکے فیصلے پرراضی نہ ہوجائے اور اللہ ورسول کے حکم کومکمل طورپر تسلیم نہ کرلے ۔

    ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ :
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    شیخ محمد بن ابراہیم آل شیخ رحمہ اللہ اپنے رسالہ تحکیم القوانین میں کہتے ہیں:
    سید قطب شہید رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
     
  2. ‏مارچ 10، 2013 #2
    بنت حوا

    بنت حوا مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2013
    پیغامات:
    95
    موصول شکریہ جات:
    246
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    محمد سمیر بھائی۔۔اس میں وہ تمام دیوبندی حضرات بھی آئیں گے نہ۔۔جنہوں نے اللہ کی شریعت کو جاننے کے باوجود ایک الگ فقہ حنفی بنا لی۔اور آج تک قرآن و سنت کے دلائل واضح ہونے کے باوجود اپنی فقہ حنفی سے چمٹے ہوئے ہیں۔
    یہ سب حضرات کافر،مشرک ہیں نہ؟؟؟
    براہ مہربانی وضاحت فرما دیں۔
    جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں