1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اللہ کے لیے تو کچھ مشکل نہیں

'اصلاح خواتین' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالحسیب07, ‏جولائی 12، 2018۔

  1. ‏جولائی 12، 2018 #1
    عبدالحسیب07

    عبدالحسیب07 مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 05، 2017
    پیغامات:
    15
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    *اللہ کے لئے تو کچھ بھی مشکل نہیں*

    ہسپتال کے کمرے میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی ایک درمیانی عمر کا شخص سفید رنگ کی چادر اوڑھے بے ہوش پڑا تھا اسے ارد گرد کی کوئی خبر نہیں جسم پر مختلف آلات اور خوراک کی نالیاں لگی ہوئی ہیں مشینیں لمحہ بہ لمحہ اس کے دل کی دھڑکن کو نوٹ کر رہی ہیں کمپیوٹر میں اس کے بارے میں مکمل معلومات موجود ہیں سفید گاون پہنے ڈاکٹر اپنے مقررہ وقت پر آتے ہیں مریض کو چیک کرتے ہیں اور مایوسی میں سر ہلاتے ہوئے چلے جاتے ہیں نرس تھوڑے تھوڑے وقفے کے سے مریض پر نظر رکھے ہوئے ہے مریض کی حالت تسلی بخش نہیں ہے وہ انتہائی نگہداشت کے کمرے میں کئی ماہ سے بے ہوش پڑا ہے.
    ہر روز بلا ناغہ ایک عورت اپنے چودہ سالہ بیٹے کے ساتھ کمرے میں داخل ہوتی ہے ماں بیٹا دونوں مریض کو نہایت شفقت بھری نگاہ سے دیکھتے ہیں اس کے کپڑے تبدیل کرتے ہیں بیڈ کی سلوٹیں درست کرتے ہیں پھر ٹکٹکی لگا کر دیکھتے رہتے ہیں نرس سے سوال کرتے ہیں کیا بہتری کی کوئی صورت نظر آئی؟
    نرس شانے اچکا کر مایوسی میں سر ہلا دیتی ہے مہینوں سے یہ سلسلہ جاری ہے مریض کی حالت بدستور خطرناک ہے وہ مسلسل بے ہوش ہے مریضوں کی تیمارداری کا وقت مقرر ہے ماں بیٹا وقت ختم ہونے پر بےچارگی کے عالم میں ہسپتال سے رخصت ہوتے وقت اپنے ہاتھ آسمانوں کی طرف اٹھا دیتے ہیں ۔
    جب تدبیریں ناکام ہو جائیں ،امیدیں ساتھ چھوڑ دیں زرائع مسدود اور بند ہو جائیں تو پھر ایک ہی دروازہ رہ جاتا ہے اور وہ ہے آسمان والے کا دروازہ ۔یہ ماں بیٹا بھی آنکھوں میں آنسو لیے آسمانوں کی طرف رحم طلب نظروں سے دیکھتے ہیں ۔
    خاتون اپنے خاوند کے لئے اور بیٹا اپنے باپ کے لئے گڑگڑا کر دعا کر رہے ہوتے ہیں مریضوں کی ملاقات دن میں دو مرتبہ ہو سکتی ہے ماں بیٹا شام کے وقت پھر آ جاتے ہیں اس ہسپتال کا تمام عملہ اور مریض اس ماں بیٹا سے خوب واقف ہیں
    دونوں وقتوں میں ایک منٹ کی تاخیر کے بغیر وہ مریض کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور مقررہ وقت پر ہسپتال سے روانہ روانہ ہو جاتے ہیں ڈاکٹروں اور دیگر عملے کو ان پر ترس بھی آتا ہے اور حیرت بھی ہوتی ہے کہ روزانہ دو مرتبہ مریض کی زیارت کے لیے آنے کا بھلا کوئی فائدہ بھی ہے وہ تو مسلسل بے ہوشی میں ہے۔
    ایک دن ڈاکٹر نے کہہ ہی دیا بی بی!
    آپ لوگ لوگ روزانہ دو مرتبہ آنے کی تکلیف کیوں کرتے ہیں
    مریض کی حالت میں کوئی فرق واقع نہیں ہو رہا ۔
    خاتون نے اس کے جواب میں صرف اتنا کہا:
    " _وللہ المستعان وللہ المستعان_ "
    "اللہ ہی سے مدد کی درخواست ہے۔ اللہ ہی سے مدد کی درخواست ہے "

    بالآخر ایک دن ایسا بھی آیا کہ ماں بیٹے کے آنے سے پہلے معجزہ رونما ہو گیا ۔
    ہوا یہ کہ کئی ماہ سے بستر پر بغیر کسی حرکت کے پڑا ہوا مریض کروٹیں بدلنے لگا اس نے اپنی آنکھیں کھولیں، آکسیجن ماسک پرے ہٹایا اور نرس کو آواز دی ۔
    نرس نے دیکھا تو اس پر حیرت و استعجاب کی کیفیت طاری ہو گئی اسے یقین نہ آیا وہ بھاگتی ہوئی آئی ۔
    مریض نے اسے تمام نالیاں ہٹانے کا اشارہ کیا ۔اس نے کہا کہ ڈاکٹر ہی یہ مشینیں ہٹا سکتا ہے اس نے ڈاکٹر کو فوری طور پر بلایا تو وہ بے یقینی کے عالم میں بھاگتا ہوا آیا ۔
    اس نے فوری طور پر مریض کے معائنے کا حکم دیا اور اس نے دیکھا کہ مریض مکمل طور پر صحت مند ہے اس نے مشینوں کو ہٹانے کا حکم دیا اور کہا کہ مریض کے کمرے اور جسم کی صفائی کر دی جائے ۔
    تھوڑی ہی دیر بعد دوسری مرتبہ مریضوں کو دیکھنے کا وقت ہوا چاہتا تھا ۔
    وقت مقررہ پر ماں بیٹا کمرے میں داخل ہوئے تو ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے وہ بے یقینی کی کیفیت میں تھے ۔
    اللہ کی حمد و ثناء اور تعریف اور شکر کے کلمہ ان کی زبانوں پر تھے۔
    اس خاتون کی خوشی کے کیا کہنے کہ کا خاوند موت کے منہ سے واپس آ گیا ہو اور اس کے بچے کو کتنی خوشی ہو رہی ہو گی کا جو یتیم ہوتے ہوتے بچ گیا ۔
    ڈاکٹر نے یہ منظر دیکھا تو خاتون سے کہنے لگا کہ
    : کیا تمھیں امید تھی کہ ایک دن تمھارا خاوند مکمل تندرست
    کہ جس کا خاوند موت کے منہ سے واپس آ گیا ہو اور اس کے بچے کو کتنی خوشی ہو رہی ہو گی کا جو یتیم ہوتے ہوتے بچ گیا ۔
    ڈاکٹر نے یہ منظر دیکھا تو خاتون سے کہنے لگا کہ : کیا تمھیں امید تھی کہ ایک دن تمھارا خاوند مکمل تندرست ہو جائے گا؟
    اس عورت کا جواب ملاحظہ کیجئے
    ہاں کیوں نہیں مجھے اس بات کا مکلمل یقین تھا کہ ایک دن میں اپنے خاوند کو دیکھنے آوں گی تو وہ بالکل صحیح حالت میں بیٹھا میرا انتظار کررہا ہوگا۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر نے اگلا سوال کیا
    آپ کے خاوند کو شفا تو ہوگئی ہے لیکن میں سچ کہتا ہوں کہ اس میں ہسپتال یا ڈاکٹروں کا کوئی کمال نہیں میڈیکل میں کچھ حدود ہیں ۔۔ہم مریض کا علاج کرتے ہیں اپنے علم کی حد تک تمام صلاحتیں بروئے کار لاتے ہیں ۔
    محترم خاتوں آپ روزانہ دو مرتبہ ہسپتال آتی رہی ہیں،میں آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں

    کہ آپ کے معمولات کیا تھے آپ اس دوران کیا کرتے رئیں؟

    اس خاتوں نے جواب دیا :
    ڈاکٹر صاحب آپ نے چونکہ مجھے اللہ کی قسم دے کر پوچھا ہے تو میں آپ کو سچ بتائے دیتی ہوں۔
    میں پہلی مرتبہ جب آتی تو اس بات کا اطیمنان حاصل کرتی کہ میرا خاوند اپنی حالت پر ہے اس کی صحت مزید خراب نہیں ہوئی ۔میں اس کے لیے دعائیں کرتی واپس جاتی اور پھر میں اور میرا بیٹا فقراء مساکین کے محلے میں چلے جاتے ۔
    ہم محتاجوں میں صدقہ اور خیرات تقسیم کرتے ان سے دعائیں کرواتے
    آج اللہ نے میرے صبر اور دعا کا مجھے صلہ عطا کردیا میرا خاوند مجھے واپس مل گیا۔ الحمداللہ

    *ماخوذ:دعاوں کی قبولیت کے سنہرے واقعات*

    سبق آموز پہلو
    اس واقعہ سے جو پہلو
    ایک مومن کے سامنے آتے ہیں
    ان میں نمایاں پہلو اللہ پر توکل اور رب کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا ہے
    ایک مومن بندے کا شیوہ ہے اللہ کی طرف سے جب آزمائش آتی ہے اللہ کا حمد بیان کرتا ہے اور صبر کرتا ہے ساتھ ساتھ اپنے اللہ سے مدد مانگتا ہے ایک دن آتا ہے اللہ تعالی اس کی آزمائش کو دور کردیتے ہیں اور اس کا بہرین اجر دنیا و آخرت مین دیتے ہیں
    اس لیے مایوس نہیں ہونا چائیے بیماری آجائے پریشانی آجائے آسمان پر موجود ذات سے تعلق مضبوط رکھنا چائیے
    دوسرا اہم پہلو صدقہ اور دعا ہے
    تب ہی تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو زیادہ سے زیادہ صدقہ کرنے کی تلقین کرتے تھے آپ فرماتے تھے یہ رب تعالی کے غصہ کو ٹھنڈا کرتا ہے اور آزمائشوں کو دور کرتا ہے۔
    اس لیے عام حالات ہوں یا آمائش صدقہ کو لازم پکڑنا چائیے
    ضروری نہیں کہ صدقہ کی مالیت ہزاروں میں ہو تب ہی اللہ قبول کرے گا بندہ اخلاص کیساتھ ایک کجھور ہی کیو نا دے دئے اللہ قبول کرتے ہیں
    اللہ تعالی کو اخلاص چائیے تقوی کتنا ہے میرے بندے کے اندر کتنے اخلاص سے مانگ رہا ہے
    اخلاص اور خشیت الہی سے اٹھا ہوا ہاتھ کبھی رد نہیں ہوتا

    *اللہ کریم ہم سب کو آمائشوں سے محفوظ رکھے اور ہماری عبادتوں کو قبول کرے*
    آمین یا رب
     
  2. ‏جولائی 14، 2018 #2
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,486
    موصول شکریہ جات:
    6,010
    تمغے کے پوائنٹ:
    407

    جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں