1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الیکشن سے مربوط مسائل کا شرعی حل

'انتخابی سیاست' میں موضوعات آغاز کردہ از عابدالرحمٰن, ‏مارچ 14، 2013۔

  1. ‏مارچ 15، 2013 #21
    عکرمہ

    عکرمہ مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 27، 2012
    پیغامات:
    658
    موصول شکریہ جات:
    1,835
    تمغے کے پوائنٹ:
    157

    شیخ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
     
  2. ‏مارچ 15، 2013 #22
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بھائی ساتھ حوالہ دیا کریں
     
  3. ‏مارچ 15، 2013 #23
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    محمد اقبال کیلانی حفظہ اللہ اپنی کتاب "توحید کے مسائل" میں لکھتے ہیں:
    اگر ایک کافرانہ نظام ،سوشلزم کے ساتھ اسلام کا لفظ لگانے سے وہ نظام کفر ہی رہتا ہے تو پھر ایک دوسرے کافرانہ نظام جمہوریت کے ساتھ اسلامی کا لفظ لگانے سے کیسے وہ مشرف بہ اسلام ہو جائے گا؟یہ فلسفہ ہماری ناقص عقل سے بالاتر ہے ہمارے نزدیک اسلامی جمہوریت کے غیر اسلامی ہونے کے دلائل صد فیصد وہی ہیں جو اسلامی سوشلزم کے غیر اسلامی ہونے کے ہیں۔کل کلاں اگر کوئی شاطر اسلامی سرمایہ داری یا اسلامی یہودیت یا اسلامی عیسائیت وغیرہ کا فلسفہ ایجاد کر ڈالے تو کیا اسے بھی قبول کر لیا جائے گا؟آخر اسلامی تاریخ میں پہلے سے استعمال کی گئی کتاب و سنت سے ثابت شدہ اصطلاحات نظام خلافت ،نظام شورائیت سے پہلو تہی کرنے کی وجہ کیا ہے؟کیا ہمارے مسلم دانشور اور مفکرین اس نکتہ پر سنجیدگی سے غور کرنا پسند فرمائیں گے؟
    جمہوریت بھی کفر کا نظام ہے
     
  4. ‏مارچ 15، 2013 #24
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

  5. ‏مارچ 15، 2013 #25
    عکرمہ

    عکرمہ مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 27، 2012
    پیغامات:
    658
    موصول شکریہ جات:
    1,835
    تمغے کے پوائنٹ:
    157

    شیخ کے اس کلام کو’’ڈاکڑ شفیق الرحمن حفظہ اللہ‘‘نے اپنی کتاب’’جمہوریت دین جدید‘‘میں درج کیا ہے۔۔۔اس کا حوالہ کچھ یوں درج ہے،ان کی کتاب میں ’’فتوی علامہ ناصر الدین البانی‘‘
     
  6. ‏مارچ 15، 2013 #26
    احمد طلال

    احمد طلال مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2012
    پیغامات:
    26
    موصول شکریہ جات:
    78
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    سچ تو یہ ہے جمہوریت کچرہ دان ہے۔ اس طرزحکومت میں پارلیمنٹ کوئی بھی قانون پاس کر سکتی ہے خواہ وہ اسلامی قوانین کے خلاف ہی کیوں نہ ہو ۔ لیکن خلافت میں سپریم آئین قرآن و سنت ہے۔ اور خلافت ہی مسلمانوں کی حکمرانی کا طریقہ کار ہے جو اسلام سکھاتا ہے۔
     
  7. ‏مارچ 25، 2013 #27
    محمد عاصم

    محمد عاصم مشہور رکن
    جگہ:
    گجرات
    شمولیت:
    ‏مئی 10، 2011
    پیغامات:
    236
    موصول شکریہ جات:
    999
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    بھائی آپ نے کافروں کے نظام حیات کو ہی اسلام کا نظام ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جو مجھ جیسے بندے کی برداشت سے باہر ہے، میرے بھائی اسلام کا نظام حیات خلافت اس کفریہ جمہوریت کے متضاد ایک کامل نظام ہے اگر ایک حرام چیز میں کچھ فوائد ہوں تو اس سے وہ چیز حلال نہیں ہو جاتی بالکل اسی طرح اگر جمہوریت کے کچھ اصول اسلام کے اصولوں کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں تو اس سے یہ کفریہ نظام کسی قیمت پر بھی اسلامی نظام کہلانے کا حقدار نہیں بن سکتا!!!
    آپ نے تو جمہوریت کے وہ اصول جو اسلام کے اصولوں کے خلاف ہیں ان کو بھی اسلامی اصول ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے جیسے نبی ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ جو امارت طلب کرئے ہم اس کو امارت نہیں دیتے اور آپ نے اس واضح اصول کو بھی غلط تاویلات سے جائز ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حکومت طلب کی جاسکتی ہے، میں ان شاءاللہ آپ کی باطل تاویلات کا رَد قرآن اور صحیح احادیث سے پیش کرونگا۔
    سب سے پہلے شورائی نظام سے بات شروع کرتے ہیں پھر سٹپ بائی سٹپ آگے بات کرتے جائیں گے جیسے جیسے مجھے وقت ملا میں لکھتا رہوں گا ان شاءاللہ، اللہ جانتا ہے میں آجکل بہت مصروف ہوں مگر اس اہم مسئلے بارے بتانا اور اس باطل کفریہ نظام جمہوریت کا رَد کرنا اور اپنے مسلمان بھائیوں کو بتانا سب سے اہم خیال کرتا ہوں اللہ ہم سب کو حق بات کو قبول کرنے کی توفیق دے آمین۔
    آپ نے لکھا ہے کہ
    سب سے پہلے یہ کہ اسلام میں صرف ایک ہی جماعت ہوتی ہے دوسری جماعت یعنی حزب اختلاف::باغی گروہ::کا کوئی تصور نہیں ہے آپ نے جہاں اس لفظ کا استعمال کیا ہے وہ اصولاً یہاں لگتا بھی نہیں ہے کیونکہ اگر ایک بندہ دس لوگوں میں بیٹھ کر ان سے مشورہ کرتا ہے تو ہر کوئی اپنی سوچ و عقل سے ہی مشورہ ے گا اگر 3 کا ایک جیسا مشورہ ہے اور 7 کا ایک جیسا اور اس بندے کا اپنا ذاتی مشورہ ان دونوں گروہوں سے بھی مختلف ہے تو وہ کیسے ان کو باغی گروہ کہہ سکتا ہے؟؟؟
    کیونکہ نبی ﷺ نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے کئی ایک مواقع پر مشورہ کیا ہے تو آپ ﷺ نے ہمیشہ اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا ہے بلکہ جو زیادہ مناسب سمجھتے تھے اسی کا حکم دیا کرتے تھے جیسا کہ
    نبی ﷺ نے غروہ ِبدر میں ایک صحابی حباب بن منذررضی اللہ عنہ کے مشورے سے لشکر ِ مجاہدین کے پڑاؤ کی جگہ تبدیلی کی، اُحد میں جب بعض صحابہ نے مدینہ سے باہر نکل کرلڑنے کے حوالے سے شدید خواہش اورجوش وخروش کا مظاہرہ کیا تو آپ نے اپنی رائے کے برعکس باہر نکل کر لڑنے کا فیصلہ کرلیا مگربعد میں صحابہ نے محسوس کیا کہ باہر نکل کر لڑنے کی خواہش کے اظہارکے حوالے سے اُن سے زیادتی ہوئی ہے تو انہوں نے تقریباً متفقہ طور پراس سے دستبرداری کا اظہار کردیا مگراب آپﷺ نے باہر نکل کر لڑنے کا اپنا فیصلہ تبدیل نہ کیا اور فرمایا کہ
    کوئی نبی جب اپنا ہتھیار پہن لے تو مناسب نہیں کہ اُسے اتارے تاآنکہ اللہ اس کے درمیان اور اس کے دشمن کے درمیان فیصلہ فرما دے ۔ احمد
    شورائیت میں فیصلہ کرنے والے کے پاس لوگوں کا مشورہ آتا ہے نہ کہ فیصلہ۔ حقیقت یہ ہے کہ مشورہ تب تک ہی مشورہ ہے جب تک چھوڑا بھی جا سکتا ہو، جب وہ چھوڑا نہ جاسکتا ہواوراُسے ماننا لازم ہو تو پھر وہ مشورہ نہیں ہوتا بلکہ فیصلہ ہوتا ہے ۔
    اب میں آیت بھی ساتھ پیش کرتا ہوں اور دیکھتے ہیں کہ آپ نے اتنی بڑی بات کیسے کہہ دی کہ
    وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ
    اور شریک مشورہ رکھو ان کو ایسے (اہم اور اجتماعی) کاموں میں، پھر جب آپ (کسی معاملے میں) پختہ ارادہ کر لو تو اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ آل عمران: 159
    یعنی مشاورت کے بعد جس پر آپ کی رائے پختہ ہو جائے، پھر اللہ پر توکل کرکے اسے کر گزریئے۔ اس سے ایک تو یہ بات معلوم ہوئی کہ مشاورت کے بعد بھی آخری فیصلہ حکمران کا ہی ہوگا نہ کہ ارباب مشاورت یا ان کی اکثریت کا جیسا کہ جمہوریت میں ہے۔ دوسری یہ کہ سارا اعتماد و توکل اللہ کی ذات پر ہو نہ کہ مشورہ دینے والوں کی عقل و فہم پر۔
    اور آپ نے یہ فہم کہاں سے اخذ کیا ہے کہ اکثریت کا خیال رکھا جائے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     
  8. ‏مارچ 25، 2013 #28
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    تو جب ہمارا نظام خلافت ہی ٹھہرا تو بادشاہت کو ہم کیوں تسلیم کرتے ہیں۔۔۔
    حالانکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہت کو ٹھکرا دیا تھا۔۔۔
    جب وفات کا وقت آیا تھا تب اللہ نے جبریل علیہ السلام کے ذریعے پیغام دیا تھا۔۔۔
    کے بادشاہت اور بعد میں جنت۔۔۔ یا اپنے رب سے ملاقات۔۔۔ تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے ملاقات کو ترجیح دی تھی۔۔۔
    تو ہم اس بادشاہت کو نشانے پر نہیں رکھتے؟؟؟۔۔۔ حالانکہ حدیث موجود ہے۔۔۔ جس پر ڈاکٹراسرار کی تقریر موجود ہے۔۔۔ کھاجانے والے ملکویت۔۔۔
    اس پر بھی کچھ روشنی ڈالیں۔۔۔
    [video=youtube;SYvFITQ6U-0]https://www.youtube.com/watch?v=SYvFITQ6U-0[/video]​
     
  9. ‏مارچ 25، 2013 #29
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  10. ‏مارچ 25، 2013 #30
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    لیکن میں ایک بات جاننا چاہ رہا تھا۔۔۔ اپنی معلومات میں اضافے کی نیت سے
    اقتدار بھی اللہ ہی دیتا ہے اور اللہ چاہتا ہے تو چھین لینا ہے۔۔۔
    لیکن انبیاء علیہ السلام کی بادشاہت میں اور موجودہ بادشاہت میں کس حد تک مماثلت ہے؟؟؟۔۔۔
    یہ جتنی بھی بادشاہت پر قرآنی آیات پیش کی گئی ہیں میں یہ جاننا چاہتا ہوں کے کیا اس سے پہلے خلافت کا تصور تھا؟؟؟۔۔۔
    لیکن ہماری شریعت اور باقی انبیاء علیہ السلام کی شریعت میں تو فرق ہے ہمیں حکم ہے كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلٰۗىِٕكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ بس۔۔۔
    لیکن عمل تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی شریعت پر کرنا ہے۔۔۔ کیونکہ اگر معاملہ یہ نہ ہوتا تو حضرت عمررضی اللہ عنہ سے نبیﷺ یہ ارشاد نہ فرماتے کے اگر آج موسٰی علیہ السلام بھی دنیا میں آجائیں تو اُس وقت تک جنت میں نہیں جائیں گے جب تک میری لائی ہوئی شریعت پر عمل نہیں کرتے (واللہ اعلم)۔
    اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو خلافت کا نظام دیا تھا۔۔۔
    اب اگر ہم ان آیات کو بنیاد بنا کر بادشاہت کو صحیح تسلیم کرلیں تو پھر اُن میں سے تھوڑی تھوڑی شریعت بھی ہوجائے۔۔۔ کیا خیال ہے؟؟؟۔۔۔
    تو کیا ہم خود اکملت لکم دینکم کا رد نہیں رہے۔۔۔
    ذرا سوچئے!
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں