1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الیکشن سے مربوط مسائل کا شرعی حل

'انتخابی سیاست' میں موضوعات آغاز کردہ از عابدالرحمٰن, ‏مارچ 14، 2013۔

  1. ‏مارچ 27، 2013 #41
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    بھائی جان سارے جوابات الیکشن کے بعد ہی دینا؟
    فی الحال تو اعتراضات قائم کرتے چلے جائیں
     
  2. ‏مارچ 27، 2013 #42
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240


    السلام علیکم
    محترم عاصم بھائی
    پہلے تو یہ عرض کردوں اس جمہوری یا کفریہ نظام سے جتنی نفرت آپ کو ہے ہوسکتا ہے کہ اس سے زیادہ مجھے ہو
    دوم : یہ مقالہ میں نے ہندوستانی تناظر میں لکھا تھا
    یہ بات مان سکتا ہوں یہ اوپن فورم ہے تو مضمون سبھی کے لیے اوپن دعوت ہے اسی لیے میں تسلیم کررہاہوں کہ یہ نظام باطل ہے اور اصل قانون شرعی قانون ہے
    اور جہاں تک تعلق ہے جاہ طلبی عہدہ طلبی چاہے وہ (جیسا آپ فرمارہے ہیں)عہدہ قضا ہو ،امارت ہو ،یا خلافت ہو، تو اس بارے میں میری گزارش یہ ہے کہ اور اس کا جواب آپ کو مؤخر نہیں کرنا چاہیے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے سے جو جنگ و قتال کا سلسلہ شروع ہوا وہ کس وجہ سے ہوا ؟
    کیا وہ حب جاہ کے لیے۔ عہدہ کے لیے ، طلب خلافت کے لیے اور دوسرے کو ناحق اور خود کو اہل ثابت کرنے کے لیے نہیں ہواتھا ؟
    اور کیااس وقت شریعت اسلامی نافذ نہیں تھی ؟
    اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ خیر القرون تھا تقریباً صحابہ ؓ کی جماعت ہی تھی (اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے کہ مجھے مجبوراً یہ ذکر کرنا پڑا یقیناً وہ تما م برگزیدہ ہستیاں تھیں اللہ ان تمام کے درجات کو بلند فرمائے)
    اب رہی حضرت یوسف علیہ السلام کی بات
    تو عرض کردوں حضرت والا قرآن پاک کوئی قصہ کہانی کی کتاب نہیں ہے یہ قانون اور دستور اسلامی کی کتاب ہے واقعات تو ضمناً بیان کیے گئے ہیں اصل تو اظہار قانون ہے
    اس لیے آپ جانتے ہیں اگر کوئی نہ اہل کسی چیز کا خواہش مند ہو تو اہل کو از خود اس کو حاصل کرنا پڑے گا نہیں تو وہ اہل گنہگار ہوگا اس کی مثال پیش کررہاہوں
    موجودہ کفریہ قانون نا اہل ہے اور اسلامی قانون اہل ہے اس کو ہی نافذ ہونا چاہئے آپ کہیں گے کیسی مثال دی تو بھائی جان یہ مثال ذہن بنانے کے لیے دی، اگلی مثال سنئے
    اس وقت مسلمانوں کے علاوہ باقی سب نا اہل ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ شاید اسی وجہ سے یہ ساری جدو جہد بھی ہورہی ہیں۔اس لیے اگر آپ کی بات کو تسلیم کرلیا جائے کہ از خود کسی عہدے وغیرہ کو طلب نہیں کرنا چاہئے تو پھر تو یہ تمام تحریکیں لغو ہیں بس دنیا جیسے چلی جارہی ہے اس کو چلنے دیا جائے
    یہ جنگیں قتال یہ سب جاہ طلبی عہدہ کے لیے ہی تو ہے۔اور جب کہ آپ کے نزدیک یہ سب باطل ہے۔ تو پھر کیوں بچوں بوڑھوں ضعیفوں عورتوں اور خود کو بھی اورمسلمانوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔جتنی بھی تحریکیں چل رہی ہیں وہ شریعت اسلامی کو نافذ کرنے کے لیے نہیں بلکہ جاہ طلبی کے لیے چلائی جارہی ہیں: خیریہ میرا موضوع نہیں ہے بات کہیں کی کہیں نکل گئی
    میرا سیدھا سا سوال ہے جب یہ کفریہ نظام ہماری غلطیوں سے ہمارے سروں پر تھوپ دیا گیا تو اس متبادل کیا ہے
    کیا اس کا بائیکاٹ کرنا چاہئے ؟
    کیا بایئکاٹ کرنے سے ہمارے مطالبات تسلیم کر لیے جائیں گے ۔یا اس بایئکاٹ کی وجہ سے شرعی قانون کی مخالفت کرنے والوں کے مقاصد پورے ہوں گےاور یہ باطل نظام اور بھی پھلے پھولے گا اور جو کچھ تھوڑا بہت اسلام نظرآرہا ہے وہ بھی اس بایئکاٹ کی نذرہوجائے گا ۔میرے بھائی حکمت اور دانائی سے کام لینا چاہئے وقت کا تقاضا کیا ہے اس کو سمجھنا چاہئے
    میں اپنے یہاں کی مثال دیتا ہوں جب سے ہندوستان آزاد ہوا ہے اس وقت سے ہی جن سنگھ کی یہ کوشش رہی ہے کہ ہندو راشٹر قائم ہونا چاہئے ۔اس کے لیے انہوں نے ایک لمبا سفر طے کیا اور دھیرے دھیرے حکومت میں اہم عہدوں پر اپنے ہم خیال لوگوں کو داخل کراتے گئے ۔اس کی بعد ذیلی عہدوں پر بھی یہ لوگ قابض ہوگئے اور بڑی ہوشیاری سے مسلمانوں کو بے دخل کرتے چلے گئے آج حکومت میں مسلمانوں کی تعداد صفر کے درجہ میں ہے۔اب دیکھئے اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے
    تعلیمی نظام بھگوا ہو ہی گیا ہے وغیرہ وغیرہ لیکن اب مسلمانوں کا کچھ شعور بیدار ہوا ہے صوبائی سطح پر مسلمان وزراء کی تعداد بڑھی ہے۔ تو عرض گزار ہوں میرے بھائی عقل کے پیچھے گھوڑے نہیں دوڑانے چاہئے بلکہ حکمت اور دانائی سے کام لینا چاہئے فقط واللہ اعلم بالصواب
     
  3. ‏مارچ 28، 2013 #43
    محمد عاصم

    محمد عاصم مشہور رکن
    جگہ:
    گجرات
    شمولیت:
    ‏مئی 10، 2011
    پیغامات:
    236
    موصول شکریہ جات:
    999
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    والسلام علیکم
    میں زیادہ باتیں نہیں کرنا چاہتا مطلب کی اور صاف بات
    دیکھیں بھائی آپ خود اب کہہ رہے ہیں کہ یہ نظام باطل ہے مگر ہم مجبور ہیں اس میں شامل ہونے کے لیئے کیونکہ اگر اس میں شامل نہ ہوں تو ہندو مسلمانوں پر چھا جائیں گے
    آپ کو معلوم ہی ہے کہ جب مشرکین مکہ نے نبی ﷺ کو دعوت اسلام سے روکنا چاہا تو آپ ﷺ کو ہر طرح کی لالچ دی حتیٰ کہ اپنا بادشاہ بھی بنانا چاہا تو کیا نبی ﷺ نے ان کی یہ دعوت قبول کر لی تھی؟؟؟
    نہیں کی کیونکہ یہ مقصد ہی تھا کہ میں بادشاہ بنوں، دوسرا اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حکومت ہمارے پاس آ جائے تو ہم اسلامی قانون نافذ کر دیں گے ہم جمہوریت کے کفر میں اس لیئے داخل ہوئے ہیں کہ جب پارلیمنٹ میں ہماری اکثریت ہو جائے گی تو ہم اسلامی قوانین نافذ العمل بنادیں گیں ان کا طریق باطل ہوا، اسلام یہ نہیں چاہتا کہ آپ لوگوں کو زبردستی مسلمان بناؤ بلکہ آپ ان کو دعوت، اپنے اخلاق سے اور اسلام کے پاکیزہ قوانین کا بتا کر ان کے دلوں کو اس پر مطمئین کریں تاکہ وہ دل سے اسلام قبول کریں اور دوسرا اگر ہم قرآن اور سنت کے دعویدار ہیں تو ہم کو وہی رستہ اپنانا چاہیئے جو قرآن اور سنت سے ملے چاہے وہ رستہ پُر خطر اور جان جوکھوں والا ہی کیوں نہ ہو ،
    تیسرا یہ کہ اللہ ہماری کامیابی یا ناکامی پر اجر نہیں دے گا بلکہ اجر تو دین پر ثابت قدمی سے ملے گا اور دین پر ثابت قدمی کیا ہے؟؟ کیا صرف نما ز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کی ادائیگی ہی دین ہے؟؟ نہیں بلکہ اصل دین پر کامل عمل تب بنے گا جب ہم اسلام کے نظام حیات کو باقی باطل نظاموں پر قائم کرنے کی کوشش کریں گیں۔ کافروں کو ہماری صوم و صلوۃ سے خطرہ نہیں ہے بلکہ اسلام کے نظام سے خطرہ ہے جس کا وہ اظہار بھی کرتے ہیں جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم دنیا میں کہیں بھی خلافت کے قیام کی کوشش کو طاقت سے کچل کر رکھ دیں گے، مگر یہی بات آپ بھائی لوگ نہیں سمجھ رہے کہ ایک مسلم پر جمہوریت کو قائم کرنے کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ اسلام کے نظام کو قائم کرنے کی ذمہ داری ہے اور اس کا طریقہ بھی وہی اپنانا ہے جو ہم کو سنت رسول ﷺ سے ملتا ہے کیونکہ صرف وہی طریقہ ہی ہم کو کامیابی سے ہمکنار کرسکتا ہے نئے نئے طریق اور نظام ہم کو اصل دین اور نظامِ خلافت سے دور لے جا رہے ہیں۔
    اور رہا معاملہ کہ خود کو امارت کے لیے پیش کرنے کا تو اس پر میں نبی ﷺ کی بات سے آگے نہیں بڑ سکتا ہے جیسا آپ کا ارشاد ہے بس وہیں رہونگا کیونکہ آپ ﷺ نے ایک دفعہ اس امر کا اظہار نہیں کیا بلکہ 2،3 بار اس کا حکم لگایا ہے، رہا معاملہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا تو میں ان برگزیدہ لوگوں بارے اچھی اور صاف رائے رکھتا ہوں کیونکہ نبی ﷺ کا حکم ہے میرے بعد میرے اصحاب کو تحتہء مشق نہ بنانا اس لیئے ہم وہ اصول لیں گے جو ہم کو نبی ﷺ نے دیئے ہیں، باقی اس مسئلے پر اختلاف ہو بھی جائے تو کوئی مزائقہ نہیں ہے مگر اصل معاملہ تو ہے جو آپ نے ایک حرام امر کو حلال ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے اور اب آپ خود اس بات کو کہہ رہے ہیں کہ میں اس جمہوری نظام کو باطل سمجھتا ہوں مگر پہلے آپ یہ بھی لکھ چکے ہیں کہ جو ووٹ کا استعمال نہ کرئے وہ گناہگار ہے!!!
    مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ آپ اپنے نظریہ پر ڈٹے نہیں بلکہ رجوع کیا ہے یہی ایک مسلم کی نشانی ہوتی ہے جب غلطی کر بیٹھے تو شیطان کی طرح اس پر ڈٹ نہ جائے بلکہ اللہ کی طرف رجوع کر ئے تو اللہ کو معاف کرنے والا پائے گا۔
    اب بھائی بات پہنچی ہے کہ مجبوری اور مغلوبیت میں کیا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے ایمان پر بھی حرف نہ آئے اور دنیا میں بھی باعزت طور پر رہا جائے ؟؟؟
    کیا کسی دور میں مغلوبیت میں مسلمانوں نے موجودہ طاغوت کی اطاعت و فرمابرداری کی ہے یا اس کے خلاف دعوت و تبلیغ کا کام کیا ہے؟؟؟
    کفار کی مجلس میں بیٹھنے کا کیا حکم ہے؟ اگر بیٹھا جائے تو اس کے کیا اصول و شرائط ہیں؟؟؟
    نبی ﷺ نے جو دعوت و جہاد کا طریق ہم کو دیا ہے کیا اب نئے دور و زمانہ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس طریقہ کو چھوڑا جاسکتا ہے؟؟؟ :::ہم ذرائے تو اختیار کرسکتے ہیں مگر کیا اصول و شرائط بھی تبدیل کرسکتے ہیں یہ بتایا جائے:::
     
  4. ‏مارچ 28، 2013 #44
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    ﷽​

    السلام علیکم!۔
    عاصم بھائی!۔۔۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں اس پوری تحریر پر کچھ کہہ سکتا ہوں۔۔۔
    لیکن اس شرط پر کہ آپ اس کو قطعا اپنے اس نظریئے کا رد نہیں سمجھیں گے۔۔۔
    شکریہ۔۔۔
     
  5. ‏مارچ 29، 2013 #45
    محمد عاصم

    محمد عاصم مشہور رکن
    جگہ:
    گجرات
    شمولیت:
    ‏مئی 10، 2011
    پیغامات:
    236
    موصول شکریہ جات:
    999
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    حرب بن شداد بھائی میں کون ہوتا ہوں آپ کو یا کسی بھی ممبر کو روکنے والا آپ جو بہتر سمجھتے ہیں وہ بات پیش کریں میری اجات کی ضرورت نہیں ہے۔
     
  6. ‏مارچ 29، 2013 #46
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    ایک سوال کا جواب جانا چاہا ہوں گا۔۔۔
    اس معیار پر آج کا کون سا مسلمان ہے جو پورا اتر سکتاہے؟؟؟۔۔۔
     
  7. ‏مارچ 29، 2013 #47
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    آپ کے لیے خوشی کی بات ہے اور میرے لیے افسوس کی بات ہے۔جب مجھ سے کوئی کہتا ہے ڈٹے رہنا یا رجوع کرنا تو میرے دماغ میں الجھن ہوتی ۔یہ کوئی مقابلہ آرئی تھوڑی ہے
    جہاں تک رجوع کرنے کی بات ہے میں اس نظام کو شروع سے غلط مان کر چل رہاہوں تو اس میں رجوع والی کوئی بات ہیں نہیں پھر اگر رجوع کربھی لیا یا تو اس پر اظہار خوشی کا کیا مطلب اس کا مطلب یہ ہوا نیت میں اخلاص نہیں ہے صرف واہ لوٹنی ہے
    دیگر
    آپ کی ساری باتوں کا جواب یہ ہے کہ جب تک کوئی امیر نہ ہو مصلحت کو سامنے رکھنا چاہئے
    زیادہ اس لیے نہیں لکھ سکتا اس وقت گجرات احمد آباد میں ہوں ’’رومنگ لگتی ہے‘‘
    موقع ملا تو ان شاءاللہ اور لکھ دیا جائے گا
     
  8. ‏مارچ 30، 2013 #48
    محمد عاصم

    محمد عاصم مشہور رکن
    جگہ:
    گجرات
    شمولیت:
    ‏مئی 10، 2011
    پیغامات:
    236
    موصول شکریہ جات:
    999
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    جو ایک سچا مسلم ہو وہ آج بھی دین پر ثابت قدمی دیکھا سکتا ہے۔
    باقی میں علم غیب نہیں رکھتا اس لیے نشان دہی نہیں کرسکتا کہ وہ کون سا مسلمان ہے۔
    بھائی آپ بات کریں کھل کر یہ پہیلیاں نہ بھوجائیں۔
     
  9. ‏مارچ 30، 2013 #49
    محمد عاصم

    محمد عاصم مشہور رکن
    جگہ:
    گجرات
    شمولیت:
    ‏مئی 10، 2011
    پیغامات:
    236
    موصول شکریہ جات:
    999
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    بھائی آپ کو میری بات سے دکھ ہوا اس کی معذرت چاہتا ہوں مگر میں نے جس پوائنٹ آف فیوو سے بات کی تھی وہ یہ ہر گز ہرگز نہیں تھا جو آپ نے محسوس کیا ہے خیر میں پھر معذرت چاہتا ہوں۔
    مجھے ایک بات کی پھر بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ ایک نظام کو کفر کا نظام سمجھتے ہوئے بھی اس میں شامل ہونا چاہتے ہیں بلکہ اس سے بھی بڑ کر جو اس نظام کی مخالفت یا اس میں شرکت نہیں کرتا اس کو گناہگار بھی کہتے ہیں یہ ایسی بات ہے جس کو مجھ جیسا سیدھا سادھا مسلم سمجھ نہیں سکتا، آپ اس کو مجبوری کا نام بھی دیتے ہیں اور آپ کی باتوں میں ڈر کا بھی احساس ہوتا ہے۔
    خیر آپ کی تحریر جمہوریت، مجرم کون کو پڑھا ہے تو اس کا جواب لکھوں گا تو آپ کی اختیار کردہ مصلحتوں پر بات ہوگی ان شاءاللہ۔
    بھائی میرے اگر خلیفہ، امیر، امام نہ ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم غیر شرعی مصلحتوں میں پر کر کفر کے نظام کو مضبوط کریں بلکہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم فورا اپنا کوئی امیر مقرر کرکے اس کے ہاتھ مضبوط کریں تاکہ ہم ایک ایسا علاقہ حاصل کرسکیں جہاں خلافت کا نظام قائم کریں، مگر آپ کی مصلحت اس طرف کیوں نہیں گئی اس کی کیا وجہ ہے؟؟؟
    جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے تین دن بعد تدفین ہوئی اس کی اصل وجہ یہی تھی کہ پہلے ایک خلیفہ مقرر کیا جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک جسم کو دفنایا جائے، اور ایک ہم ہیں کہ ٩٠ سال ہوگے ہیں خلافت کے نظام کو ختم ہوئے اور ہم کافروں کے نظام کو اپنانے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔ یہ کسی مصلحت ہے اس کی سمجھ نہیں آ رہی ہے۔
    اور بھائی جان میں پاکستان کے شہر گجرات کا ہوں اگر بھارت کا ہوتا تو میں بھی آپ سے ملنے کے لیئے یو۔پی چلا جاتا۔
    اگر کبھی بھارت گیا تو ملیں گے ویسے یہ بھارت والے مجھے ویزہ بھی نہیں دینے والے، میرے بہت سے دوست ہیں انڈیا میں کم سے کم بھی٢٥ ہوں گے۔
     
  10. ‏مارچ 30، 2013 #50
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    جہاں تک ہندوستان کا معاملہ ہے یہ آزاد ملک ہے اس کے علاوہ یہاں تمام مذاہب والوں کو پوری مذہبی آزادی ہے اور میں سمجھتا ہوں کافی سکون سے بھی ہیں اب رہی دیگر باتیں تو عرض ہے
    یہ تو کھلی بات ہے کہ اسلام صرف اسلامی قانون کاحمائتی ہے باقی تمام قوانین کی تردید کرتا ہے اور یہ بھی کھلی ہوئی بات ہے کہ اسلام بادشاہت کا مخالف ہے اور امارت کا قائل ہے جس کا مطلب ہے مسلمان جس کو بھی اپنا امیر منتخب کرلیں۔یہاں تک تو کسی حد تک جمہوریت اور امارت میں یکسانیت ہے ۔اب یہ عوام کی سمجھ داری ہے کہ وہ کس طرح کے انسان کو منتخب کرتے ہیں انتخاب میں قانونی طور یہ اجازت ہوتی ہے کہ آپ اپنی پسند کا نمائندہ منتخب کریں تو انتخابی غلطی ہماری غلطی ہے کہ ہم بے دین آدمی کو منتخب کرتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ اسلامی قانون نافذ ہو۔ارے بھائی جان مصلحت سے کام لیجئے ۔پہلے سانچہ بنائے پھر ڈھلائی کیجئے۔ سانچہ بنایا نہیں ڈھلائی شروع کردی ۔
    محترم آپ اپنے ان الفاظ پر توجہ فرمائیں!
    یہ بہت کام کی اور سمجھنے کی بات ہے کہ ابھی مسلمانوں نے کوئی امیر منتخب کیا نہیں ۔ اور کئی طرح کی تحریکیں شروع کردیں ۔تو بھائی حضور ﷺ کی تدفین کو موخر کیا گیا امیر بننے تک ۔ تو بھائی ہمیں بھی تمام تحریکوں کو موخر کرنا پڑے گاامیر بننے تک ۔ امیر کے انتخاب سے پہلے تمام تحریکیں غیر اسلامی کہلائیں گی (شرعی طور پر ) اور فساد فی الارض کے زمرے میں آئیں گی۔ نہیں تو آپ بتائیں کہ اس وقت کون امیر ہے کیا خود ساختہ بھی کوئی امیر ہوتا ہے۔ اور کتنے امیر ہوں گے اور میں سمجھتا ہوں آج کی تاریخ میں مسلمانوں میں اتنے امیر ہیں اتنے کسی بھی دور میں نہیں ہوئے تو کیا یہ شرعاً جائز ہیں؟ فتدبر وا یا اولی الابصار اور کلمۃالحق ضالۃ المؤمن (حکمت کی بات مومن کی گمشدہ میراث ہے) (سنن ابن ماجہ ابواب الزہد باب الحکمۃ :ص ۳۱۷)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں