1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الیکشن کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

'جمہوریت' میں موضوعات آغاز کردہ از حافظ محمد عمر, ‏مارچ 31، 2013۔

  1. ‏اپریل 16، 2013 #11
    اسلام ڈیفینڈر

    اسلام ڈیفینڈر رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    368
    موصول شکریہ جات:
    1,003
    تمغے کے پوائنٹ:
    97

    الیکشن اور شریعت ۔۔۔۔ایسے الیکشن کہ ہم تو گھر بیٹھے ہوتے ہیں اور جس علاقہ میں جس کا ہولڈ ہوتا ہے وہ لوگ خود ہی ووٹ ڈال دیتے ہیں ہمیں زہمت سے بچا لیتے ہیں ۔۔۔ یہ تو ہے الیکشن ہمارے ۔۔کیا بتا سکتے ہیں کہ اس کا شریعت سے کوئی تعلق ہو سکتا ہے ۔۔۔
    کیا اللہ کا کوئی بھی قانون ہمیں یہ سکھاتا ہے
     
  2. ‏اپریل 16، 2013 #12
    عمران اسلم

    عمران اسلم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    318
    موصول شکریہ جات:
    1,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    150

    بھائی یہ بھی تو کسی نے نہیں کہا کہ ووٹ ڈالنا اللہ کے قانون میں شامل ہے۔
    اگر گھر بیٹھے ہی آپ کا ووٹ کاسٹ ہو جاتا ہے تو یہ تو اچھی بات ہے کم از کم آپ از خود تو اس کفریہ جمہوری نظام کا حصہ ہونے سے بچ جاتے ہیں۔
     
  3. ‏اپریل 17، 2013 #13
    محمد عاصم

    محمد عاصم مشہور رکن
    جگہ:
    گجرات
    شمولیت:
    ‏مئی 10، 2011
    پیغامات:
    236
    موصول شکریہ جات:
    999
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    بھائی ہم بھی کسی عالم صاحب کے مقلد نہیں ہیں ہم دلیل کی بنیاد پر ہر کسی کی بات مان لیتے ہیں تو بھائی آپ دلیل لائیں کہ مجبوری کی حالت میں کفریہ نظام میں شمولیت اختیار کی جاسکتی ہے اور ہاں آپ سے دوسرے تھریڈ میں کچھ سوال پوچھے تھے وہ یہاں بھی پوسٹ کر دیتا ہوں۔
     
  4. ‏اپریل 17، 2013 #14
    کیلانی

    کیلانی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2013
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    1,101
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    اسلام علیکم عاصم صاحب: آپ کا طویل مراسلہ پڑھا۔اسلوب بیان خواہ جیسابھی ہےلیکن چند اساسی مباحث کو اپنےدرد دل سے اٹھایاہے۔سردت آپ نےفرمایاکہ علما کی بات ہم صرف دلیل کےساتھ مانتےہوتےہیں ۔بجاکہامیں نےبھی مولاناحماد کی بات کوئی اصلی دلیل سمجھ کرنہیں پیش کیاتھا۔بس بطور ایک کےتائیدتھی۔اپنےاسلوب تحریر سے بھی میں نےیہ واضح کرنےکی کوشش کی شائدنہ کرسکا۔دوسری اہم بحث میرےاور آپ کےفہم دین کےحوالے سے ہے۔کہ کیا اصلا یا بنیادی طور پردین ایک نظام زندگی ہےیاپھرحصول تزکیہ نفس اور عبادت رب کاطریقہءکار۔میرخیال میں دین حقیقت میں مشین کی طرح کانظام نہیں جیسا کہ کمیونزم اور کیپٹل ازم کی صورت حال ہےکہ ظاہر میں ہی ایسے ایسے قوانین بنادیےجائیں کہ زندگی ایک مشین کی طرح نظر آئے۔بلکہ یہ ایسے الہی احکام کامجموعہ جن کامقصد اصلایہ ہےکہ انسان اس رب کی عبادت وبندگی اس طریقے سےبجالئے جس کریقے اس نے کہاہے۔آپ نےسلف کے فہم دین کاحوالہ دےکراس کی طرف توجہ دلائی جزاک اللہ لیکن سلف کو دیکھیں تو وہ تو یہی کہتےہیں کہ اصل الدین العبودیۃ یعنی دین کی اصل عبادت رب ہے۔میں نےآج تک دین کےمطالعےمیں جوکچہ حاصل کیاہے اس میں سے ایک یہ بھی ہےکہ دینی نصوص کی ہمیشہ ایسی تعبیر کرنی چاہئےجو تمام پہلووں پرشافی وکافی اوراحسن طریقے سے ایڈجسٹ ہو۔اب اگردین کا کامقصدنظام کاہی قیام ہےتوپھر کتنےہی ایسےہی انبیاگزرےہیں جو اس مقصد میں ناکام لوٹےہیں۔اور آپ نےفرمایاکہ قیامت کےروز اللہ کاسامناکیسے کریں گے؟تو میں عرض کرناچاہوں گا کہ اگر اللہ نےیہ پوچھاکہ ائے میر ےبندےتو نےنظام کیوں نہ قائم کیا؟میں کہوں گایااللہ میری بےادبی معاف فرمانا تیرےکئی پیغبربھی نہ کرسکے۔ویسے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مجھےیقین ہےیہ سوال اللہ کسی سے پوچھیں گےبھی نہیں۔بالفاظ دیگرآپ بتائیں کہ اگر کوئی مسلمان ضروریات دین کےاوپر عمل کرتاہوامرگیاتو کیاکہتاہےاسلام کہ اسے حہنم میں پھینک دیا جائےگا؟واضح رہےکہ اسلام کی وہ تعلیمات جو سیاست ومعیشت وغیرہ کےمتعلق ہیں ان پراس وقت عمل کرناچاہئے جب ان کےحالات ہوں۔لیکن ضروریات زندگی سے تو کسی صورت بھی چھٹی نہیں۔قرآنی تعلیمات کےمطابق ہماری توجہ ضروریات پہ ہونی چاہیے۔دوسرےحالات اللہ خود پیداکرتاہے۔مثلاقرآن میں کہیں نہی آیاکہ خلافت حاصل کرو۔بلکہ یہ ہےکہ تم دین پر عمل کرو خلافت اللہ تمہیں خود دےگا۔آپ نے غلبہءدین والی آیات نقل فرمائیں۔اور پھر اس کی تفسیر بھی اپنےمفہوم کےمطابق بیان کردی۔گزارش ہےکہ اس آیت کی تفسیر میں قرطبی کےعلاوہ اکثر مفسرین نےجزیرۃ العرب مرادلیاہے۔یعنی جزیرۃ العرب میں دین کو غالب کردے۔باقی رہی پوری دنیاتو یہ رائے اسلام کی اکثرنصوص کے مفہوم کےمطابق حل نہیں ہوپاتیں۔اورآخر میں یہ عرض کروں کہ اس وقت امت مسلمہ کےجو حالات ہیں ان پہ واقعی درددل رکھنےوالے مسلمان رورہےہیں۔توجناب اس حوالے سے اسلام نےہمیں واضح رہنمائی دی ہےکہ اگر تم پرظلم وزیادتی ہو تو اس کاجواب اسکی مثل دو۔اب اس کےلئے نصوص کے مفاہیم بدلنےکی ہمیں کیاضرورت ہے؟
     
  5. ‏اپریل 17، 2013 #15
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,977
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    بھائی مداخلت کی معذرت -

    انسان کا عمل اورالله کی طرف سے اس کی جزا قرآن کی ٢ آیات کے مابین ہے

    پہلی آیت
    وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ سوره النجم ٣٩
    اور انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی

    دوسری آیت
    لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ سوره البقرہ ٢٨٦
    الله کسی کو اس کی طاقت کے سوا تکلیف نہیں دیتا

    یعنی انسان الله اور اس کا رسول کے بتاے ہوے احکامات اور اصولوں کو مد نظر رکھ کر عمل کرے چاہے وہ انفرادی اصلاح کی کوشش ہو یا اجتمائی اصلاح کی کوشش ہو -اور نتیجہ الله پر چھوڑ دے -تو قیامت کے دن اس کو اس کی کوشش کے مطابق اجر ملے گا -

    لیکن یہاں کوشش تو دور کی بات اس کفریہ نظام کی نفی تک کرنے کو کوئی تیار نہیں -جب اس نظام کی نفی نہیں ہو گی تو الله ہمارے لئے خلافت کی راہ کس طر ح ہموار کرے گا ؟؟ ہمارا حال تو یہ ہے کہ حیلے بہانے سے اس کفریہ جمہوری نظام پر قناعت کرنے کو تیار ہیں اور دوسری طرف الله سے بہتری کی لا یعنی توقع کیے بیٹھے ہیں - کیا یہ طرز عمل ایک صحیح العقیدہ مسلمان کو زیب دیتا ہے - ؟؟

    الله ہی ہماری رہنمائی فرماے (آ مین )
     
  6. ‏اپریل 17، 2013 #16
    کیلانی

    کیلانی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2013
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    1,101
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    اس مییں تو شک والی کوئی بات نہیں کہ خلوص نیت اورشرعی طریقے کےمطابق اگرکوئی انسان انفرادی واجتماعی سطح پرکوشش کرتاہے تو اسے اللہ اجر دےگا۔اس کا تومیرےخیال میں کوئی بھی انکارنہی کرےگا۔
     
  7. ‏اپریل 17، 2013 #17
    محمد عاصم

    محمد عاصم مشہور رکن
    جگہ:
    گجرات
    شمولیت:
    ‏مئی 10، 2011
    پیغامات:
    236
    موصول شکریہ جات:
    999
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    کیلانی بھائی اللہ آپ کو جزا دے کہ اس دفعہ آپ نے اہل علم ہونے کا حق ادا کیا ہے اس دفعہ آپ نے الزامات نہیں لگائے بلکہ دلائل دیے ہیں یہ اچھا اور احسن طریقہ ہے بات کرنے کا۔
    میں نے آپ کا مراسلہ پڑھ لیا ہے ان شاءاللہ وقت ملتے ہی جواب لکھونگا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں