1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام ابن حجر رحمہ اللہ کی اصطلاح "مقبول" کا کیا مطلب ہے ؟

'اسماء ورجال' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏اپریل 22، 2019۔

  1. ‏اپریل 22، 2019 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    818
    موصول شکریہ جات:
    236
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    بعض رواۃ کے متعلق امام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں "مقبول"
    اس اصطلاح کا کیا مطلب ہے ؟
    کیا اس کا مطلب "مجہول" ہے ؟
    محترم شیوخ توجہ دیں۔
    جزاکم اللہ خیرا
     
  2. ‏اپریل 22، 2019 #2
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,513
    موصول شکریہ جات:
    395
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    حافظ ابن حجر العسقلانیؒ مقدمہ تقریب میں فرماتے ہیں:

    من ليس له من الحديث إلا القليل، ولم يثبت فيه ما يترك حديثه من أجله، وإليه الاشارة بلفظ " مقبول " حيث يتابع، وإلا فلين الحديث.

    جرح و تعدیل میں رواة کا چھٹا طبقہ وہ ہے جس میں راوی کی کم احادیث ہوں، اور اس پر ایسی جرح نہ ہو جس سے اس کی حدیث متروک ہو، ایسے راوی کی طرف "مقبول" کے لفظ سے اشارہ ہے جب کہ اس کا کوئی متابع ہو ورنہ وہ لین الحدیث ہے۔

    عنوان الكتاب: تقريب التهذيب (ت: شاغف)
    المؤلف: أحمد بن علي بن حجر العسقلاني أبو الفضل شهاب الدين
    المحقق: أبو الأشبال صغير أحمد شاغف الباكستاني
    حالة الفهرسة: مفهرس على العناوين الرئيسية
    الناشر: دار العاصمة
    سنة النشر: 1421
    عدد المجلدات: 1
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 22، 2019 #3
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    818
    موصول شکریہ جات:
    236
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    مجھے دراصل اس متعلق پوچھنا ہے کہ ایک راوی
    ۱- آبو ابراهيم الأشهلي ہے ۔
    امام ذہبی اس کے متعلق فرماتے ہیں مجھول ۔ (الکاشف و میزان)
    لیکن ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ اسی راوی کے متعلق فرماتے ہیں "مقبول" (تقریب)

    ۲-
    ابو اسحاق القرشی
    امام ذہبی فرماتے ہیں مجھول (میزان و دیوان)
    لیکن ابن حجر فرماتے ہیں "مقبول" (تقریب)

    ۳-
    أبو حفصة مولي عائشة رضي الله عنها
    امام دارقطنی فرماتے ہیں مجہول (سؤالات برقانی)
    امام ذھبی فرماتے ہیں لا یعرف (میزان)
    لیکن امام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں "مقبول" (تقریب)

    ۴- ثمامة بن كلاب
    امام بیھقی فرماتے ہیں مجھول (سنن الکبری)
    لیکن امام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں "مقبول" (تقریب)

    میرا سوال یہ ہے کہ کیا امام ابن حجر رحمہ اللہ مجھول راویوں کو بھی "مقبول" بول دیتے ہیں ؟

    @خضر حیات
    @اسحاق سلفی
    @عدیل سلفی
     
  4. ‏اپریل 22، 2019 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,685
    موصول شکریہ جات:
    8,305
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    حافظ ابن حجر یہ جملہ عموما مجہول الحال راویوں کے متعلق بولتے ہیں، اور اس کی وضاحت وہ مقدمہ میں کر چکے ہیں، کہ مقبول حیث یتابع وإلا فلین الحدیث کہ وہ مقبول اسی صورت میں ہوگا، جب اس کی متابعت ملے گی۔
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں