1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام ابو حنیفہؒ

'فقہ اہل الرائے' میں موضوعات آغاز کردہ از حرب بن شداد, ‏نومبر 28، 2013۔

  1. ‏فروری 03، 2014 #11
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    اس بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ امام سیوطی اس بارے میں متساہل ہیں ایسے کئی مسائل میں ان سے غلطی سر زد ہوئی ہے ، اس معاملے میں اہل علم کی آرا مختلف ہیں اور یاد رہے اس بارے میں متقدمین میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ اس سے مراد ابو حنیفہ ہیں بلکہ اس کا مصداق اہل فارس کے تمام محدثین ہیں جیسا کہ علما نے اس کی وضاحت فرما دی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت ساری روایا ت میں جمع کا صیغہ بولا گیا ہے:
    عن أبي هريرة أن رسول الله صلي الله عليه وسلم تلا هذه الآية: (وإن تتولوا يستبدل قوماً غيركم ثم لا يكونوا أمثالكم) قالوا: يا رسول الله من هؤلاء الذين إن تولينا استبدلوا بنا ثم لا يكونوا أمثالنا؟ فضرب علي فخذ سلمان الفارسي ثم قال: «هذا وقومه، ولو كان الدين عند الثريا لتناله رجال من الفرس (مصابيح السنة: ج 2، ص 289
    عن أبي هريرة قال: كنا جلوساً عند النبي صلي الله عليه وسلم إذ نزلت سورة الجمعة فما نزلت هذه: (وآخرين منهم لما يلحقو ابهم) قالوا: من هؤلاء يا رسول الله؟ قال وفينا سلمان الفارسي، ثم قال: فوضع النبي صلي الله عليه وسلم يده علي سلمان ثم قال: لو كان الإيمان بالثريا لناله رجال من هؤلاء (أسد الغايه: ج 4، ص 216
    عن أبي هريرة قال: كنا جلوساً عند النبي صلي الله عليه وسلم فأنزلت عليه سورة الجمعة: (وآخرين منهم لما يلحقوا بهم) قال: قلت من هم يا رسول الله؟ فلم يراجعه حتي سأل ثلاثاً، وفينا سلمان الفارسي، وضع رسول الله صلي الله عليه وسلم يده علي سلمان، ثم قال: لو كان الإيمان عند الثريا لناله رجال أو رجل من هؤلاء(صحيح البخاري: كتاب «تفسير القران».
    ان احادیث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس حدیث کا مصداق صرف فرد واحد نہیں ہے بلکہ پوری ایک جماعت اس حدیث کی مراد ہے اگر احناف اس حدیث کا مصداق امام ابو حنیفہ کو بنانا چاہتے ہیں تو ان کو یہ ثابت کرنا چاہیے کہ امام صاحب فارسی ہیں؟؟؟
     
    • پسند پسند x 5
    • زبردست زبردست x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 03، 2014 #12
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!

    اگر بالفرض محال ابوحنیفہ کو فارسی بھی ثابت کردیا جائے پھر بھی ابوحنیفہ اس حدیث کا مصداق نہیں بن سکتے کیونکہ مذکورہ حدیث میں ایمان پانے کی بات ہے اور ایمان سے جو مفہوم اور مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی تھی ابوحنیفہ کی مراد اس سے قطعا مختلف ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک ایمان، زبان سے اقرار، دل سے تصدیق اور عمل سے اظہار کا نام ہے۔جبکہ ابوحنیفہ کے نزدیک ایمان میں عمل شامل نہیں یعنی ابوحنیفہ کا ایمان اور ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ اور مسلمانوں کا ایمان کچھ اور ہے۔ لہٰذا جو چیز ابوحنیفہ کے نزدیک ایمان ہی نہیں تو وہ اسے پانے کی کوشش کیونکر کرے گا؟ اس حدیث کا مصداق بننے والی مبارک ہستیوں کی فہرست سے ابوحنیفہ کا نام ہمیشہ کے لئے خارج ہے۔
     
  3. ‏فروری 03، 2014 #13
    ابو حمزہ

    ابو حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2013
    پیغامات:
    383
    موصول شکریہ جات:
    139
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    ان احادیث میں اہل فارس کے محدیثین و اہل علم شامل ہیں ، امام بخاری فارس کے نہیں تھے وہ بخارہ کے تھے ۔۔۔۔ اس لئے وہ شامل نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔
     
  4. ‏فروری 03، 2014 #14
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    شاہد نذیر بھائی! آپ نے پوائنٹ کی بات کی ہے، ساتھ میں جو اس حدیث کا مصداق ہیں ان کا نام بھی بتا دیجئے، میرا اپنا یہی خیال ہے کہ ابوحنیفہ صاحب اس حدیث کے مصداق نہیں ہیں۔ اللہ بہتر جانتا ہے۔
     
  5. ‏فروری 03، 2014 #15
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,987
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    پہلی بات تو یہ ہے کہ اس حدیث میں الله کے نبی نے ایمان کا ذکر کیا ہے علم کا نہیں -لوکان الا یمان عند الثریا لاتنالہ العرب لتناولہ رجل من ابناء فارس۔

    اس دو باتیں سامنے آتی ہیں - ایک یہ کہ اہل فارس میں بھی ایسے لوگ ہونگے جو ایمان کی بلندیوں پر پہنچے گے - اور حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ اس کی ایک روشں مثال ہو سکتے ہیں-

    دوسرے یہ کہ ایمان کو مضبوط کرنے کے لئے جو بھی ان کی اتباع کرے گا (بشرط ہے کہ وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں ہو) تو وہ اس کا نفع اٹھاے گا -

    ایمان اور علم دو الگ الگ چیزیں ہیں - مثال کے طور پر حضرت بلال رضی الله عنہ کے ایمان بہت مضبوط تھا لیکن علم کے معاملے میں وہ باقی اصحاب رضی الله عنہ سے کم درجے پر تھے -

    جہاں تک امام ابو حنیفہ رح کا تعلق ہے تو وہ کسی حد تک ایک علمی شخصیت تھے - لیکن ان کا علم و فہم ہر دور میں کافی متنازع رہا ہے - جہاں تک ایمان (یعنی عقائد) کا تعلق ہے تو ان کے اقوال سے یہ بات اخذ کی جا سکتی ہے کہ وہ ایک توحید پرست انسان تھے-بعد میں ان کے نفس پرست متبعین نے بہت سے باطل نظریات ان سے منسوب کر دیے -صرف اس لئے کہ امام صاحب کا نام استمعال کر کے اپنی شہوت پرستی اور گندے نظریات کو جلا بخشی جا سکے -

    یہ بات بھی ہے کہ اگر امام صاحب علم کی بلندیوں پر ہوتے اور ثریا ستارے سے اس کو حاصل کر لیتے تب بھی ان کی تقلید کسی بھی طرح ثابت نہیں ہوتی -صحابہ کرام رضوان الله اجمعین ان امام ابو حنیفہ رح سے علم و حکمت میں ہزار درجہ آگے تھے لیکن جب ان کی تقلید جائز نہیں ہوئی تو امام صاحب تو کسی کھیت کی مولی نہیں -

    ویسے بھی وہ احادیث جن میں کسی معین شخص کی پیروی یا فضیلت بیان نہ کی گئی ہو بلکہ بات عام فہم انداز پر ہو- تو ہم کسی بھی طرح کسی کا نام لے کر یہ نہیں که سکتے کہ یہی وہ شخص ہے جس کے بارے میں نبی کریم صل الله علیہ و آ لہ وسلم نے پیشنگوئی فرمائی تھی - یعنی یقینی طور پر یہ کہنا صحیح نہیں کہ فلاں شخص ہی اس حدیث کے مطابق عالم فاضل یا فاسق و فاجر ہے - جیسے ابو ھریرہ رضی الله عنہ الله سے یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ "میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں سن ساٹھ ہجری اوراس میں نوجوان لڑکوں کی حکمرانی سے" اب اگر اس سے کوئی یہ مطلب اخذ کر لیتا ہے کہ سن ساٹھ ہجری کے لگ بھگ یزید بن معاویہ رح سرزمین حجاز و شام پر حکمران تھے اور حضرت ابو ھریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کا مطلب یزید بن معاویہ رح کی خلافت سے پناہ مانگنا تھا تو یہ سراسر ایک نا انصافی اور گمراہی کی بات ہے - کیوں کہ اس میں کسی معین شخص کا ذکر نہیں کہ وہ کون سا حکمران تھا جس سے ابوھریرہ رضی الله عنہ نے الله کی پناہ مانگی تھی - کیوں کہ اس دور میں اور دوسرے فاسق حکمرانوں نے بھی سر زمین حجاز پر حکمرنی کی جیسے مختار ابن ثقفی وغیرہ -(واللہ عالم)
     
    • پسند پسند x 5
    • شکریہ شکریہ x 3
    • زبردست زبردست x 3
    • لسٹ
  6. ‏فروری 03، 2014 #16
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    ہوسکتے ہیں کیوں؟ بلکہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اس حدیث کا مصداق وہ پہلے شخص ہیں جن کے بارے میں یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے یہ بشارت ان کے لئے ہے۔ کیونکہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی قبول اسلام کی کہانی سنی تو ارشاد فرمایا: اگر ایمان ثریا ستارہ کے پاس بھی ہو اور عرب ا س کو نہ پاسکتے ہوں تو بھی اس کو ایک فارسی آدمی پالے گا۔ چونکہ دوسری روایت میں ایک آدمی کے بجائے کئی لوگوں کا ذکر بھی آیا ہے اس لئے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے بعد دوسرے فارسی محدیثین بھی اسکا مصداق ہوسکتے ہیں۔
     
    • پسند پسند x 5
    • متفق متفق x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  7. ‏فروری 03، 2014 #17
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    تمام روایات ملاحظہ فرمائیں۔ بعض میں سلمان رض کی طرف اشارہ کر کے ان کے علاقے لوگوں کو بتایا گیا ہے۔
    یہ مراد ہو سکتے ہیں لیکن قطعی نہیں کیوں کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم واضح فرما دیتے۔
     
  8. ‏مئی 17، 2014 #18
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,565
    موصول شکریہ جات:
    412
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    جزاک اللہ خیرا
     
  9. ‏مئی 18، 2014 #19
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    كنا جُلوسًا عِندَ النبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم فأُنزِلَتْ عليه سورةُ الجمُعةِ : { وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ} . قال : قلتُ : مَن هم يا رسولَ اللهِ ؟ فلم يُراجِعْه حتى سأَل ثلاثًا، وفينا سَلمانُ الفارسِيُّ، وضَع رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم يدَه على سَلمانَ، ثم قال : ( لو كان الإيمانُ عِندَ الثُّرَيَّا، لنالَه رجالٌ، أو رجلٌ، من هؤلاءِ ) . حدَّثَنا عبدُ اللهِ بنُ عبدِ الوهَّابِ : حدَّثَنا عبدُ العزيزِ : أخبَرني ثَورٌ، عن أبي الغَيثِ، عن أبي هُريرةَ، عن النبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم : ( لنالَه رجالٌ من هؤلاءِ ) .
    الراوي: أبو هريرة المحدث: البخاري - المصدر: صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 4897
    خلاصة حكم المحدث: [صحيح]

    مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَهَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ.
    ترجمہ شیخ الاسلام ڈاکٹرمحمد طاہر القادری

    ''حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرسورہ جمعہ (کی یہ آیت) نازل ہوئی ''اور اِن میں سے دوسرے لوگوں میں بھی (اِس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تزکیہ و تعلیم کے لئے بھیجا ہے) جو ابھی اِن لوگوں سے نہیں ملے۔ '' حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یارسول اﷲ! وہ کون حضرات ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب ارشاد نہ فرمایا تو میں نے تین مرتبہ دریافت کیا اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی ہمارے درمیان موجود تھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دستِ اقدس حضرت سلمان رضی اللہ عنہ (کے کندھوں) پر رکھ کر فرمایا : اگر ایمان ثریا (یعنی آسمان دنیا کے سب سے اونچے مقام) کے قریب بھی ہوا تو ان (فارسیوں) میں سے کچھ لوگ یا ایک آدمی (راوی کو شک ہے) اسے وہاں سے بھی حاصل کر لے گا۔ ''

    لو كان الدينُ عند الثريا لذهب به رجلٌ من فارسٍ - أو قال - من أبناءِ فارسٍ . حتى يتناولَه
    الراوي: أبو هريرة المحدث: مسلم - المصدر: صحيح مسلم - الصفحة أو الرقم: 2546
    خلاصة حكم المحدث: صحيح

    ترجمہ شیخ الاسلام ڈاکٹرمحمد طاہر القادری
    ''حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر دین ثریا پر بھی ہوتا تب بھی فارس کا ایک شخص اسے حاصل کرلیتا۔ یا فرمایا : فارس (والوں) کی اولاد میں سے ایک شخص اسے حاصل کرلیتا۔ ''

    ان احادیث کے اصل مصداق اہل فارس ہیں
    کیا ان احادیث کا یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ ایمان کو پانے کے لئے اہل فارس کی طرف رجوع کرنا چاہئے ؟؟؟؟
     
  10. ‏مئی 18، 2014 #20
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. اسحاق سلفی
    جوابات:
    8
    مناظر:
    243
  2. Israr Hussain Niyargar
    جوابات:
    6
    مناظر:
    750
  3. عامر عدنان
    جوابات:
    0
    مناظر:
    413
  4. عامر عدنان
    جوابات:
    5
    مناظر:
    1,068
  5. ابو زہران شاہ
    جوابات:
    1
    مناظر:
    1,110

اس صفحے کو مشتہر کریں