1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام ابو حنیفہ کسی کتاب کے مصنف نہیں ہیں : انور شاہ کاشمیری

'حنفی' میں موضوعات آغاز کردہ از رفیق طاھر, ‏مارچ 15، 2012۔

  1. ‏مارچ 15، 2012 #1
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,974
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    عنوان الكتاب: فيض الباري على صحيح البخاري مع حاشية البدر الساري
    المؤلف: محمد أنور شاه الكشميري - محمد بدر عالم الميرتهي
    الناشر: دار الكتب العلمية
    مجلد : اول
    صفحة : 134


    ««واعلم أن نفي الزيادة والنقصان وإن اشتهر عن الإمام الأعظم، لكني متردد فيه بعد. وذلك لأني لم أجد عليه نقلاً صحيحاً صريحاً، وأما مانسب إليه في «الفقه الأكبر» فالمحدِّثون على أنه ليس من تصنيفه. بل من تصنيف تلميذه أبي مطيع البلخِي، وقد تكلم فيه الذهبي، وقال: أنه جَهْمِيٌّ. أقول: ليس كما قال، ولكنه ليس بحجةٍ في باب الحديث، لكونه غير ناقد. وقد رأيت عدة نُسخ للفقه الأكبر فوجدتُها كلها متغايرة. وهكذا «كتاب العالم والمتعلم» «والوسيطين» الصغير والكبير، كلها منسوبة إلى الإمام، لكن الصواب أنها ليست للإمام. »»
    ««اور جان ليں کہ امام اعظم کي طرف ايمان کے زيادہ اور کم ہونے کےانکارکاقول مشہور ہے، اور بعد ميں اسے ترک کرنے کا، اس کي کوئي صحيح صريح نقل نہيں ملتي۔ گو کہ يہ قول الفقہ الاکبر ميں ان کي طرف منسوب ہے، ليکن وہ (الفقہ الاکبر) ان کي تصنيف نہيں بلکہ ان کےشاگرد ابو مطيع البلخي کي تصنيف ہے۔ اور امام الذھبي نے ان پر کلام کيا ہے اور کہا : وہ جہمي تھا۔
    ميں (انور کاشميري) کہتا ہوں کہ ايسا نہيں ( ايسا نہيں جيسا امام الذھبي نے کہا) ، ليکن وہ حديث کے باب ميں حجت نہيں ،کيونکہ وہ ناقد نہيں۔ ميں نے الفقہ الاکبر کے متعدد نسخے ديکھے تو ان تمام ميں تغير (اضطراب و اختلاف) پايا۔ اور اسي طرح العالم والمتعلم اور الوسيطين الصغير والكبير، يہ تمام کتابيں بھي امام صاحب کي طرف منسوب ہيں، مگر صحيح بات يہ ہے کہ يہ امام صاحب کي تصانيف نہيں ہيں۔»»

    [​IMG]

    [​IMG]
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 15، 2012 #2
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,974
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    یاد رہے کہ یہ رائے ہماری نہیں !
    ہم نے صرف انور شاہ کاشمیری کی رائے نقل کی ہے ۔
    ہماری تحقیق کے مطابق امام صاحب ، صاحب تصنیف ہیں اور بسند صحیح ان سے ایک کتاب " کتاب الحیل" ثابت ہے ۔
    لیکن اللہ کا احسان ہے کہ وہ کتاب آج دنیا میں موجود نہیں ہے اور اللہ نے اسے نیست ونابود کر دیا ہے ۔ والحمد للہ رب العالمین
     
    • شکریہ شکریہ x 9
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏مارچ 16، 2012 #3
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,957
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    ان الباطل کان زھوقا
     
  4. ‏مارچ 16، 2012 #4
    قاسم

    قاسم مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2012
    پیغامات:
    34
    موصول شکریہ جات:
    97
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    رفیق طاہر صاحب میں نے سوچا تھا کہ اس فورم میں جو کم گرجتا ہے وہی برستا ہے لیکن آپ کی بات سے یہ حسن ظن بھی زائل ہوا ، وہ امانت جس کا آپ لوگ دعویدار ہیں شاید اسی کو کہتے ہے یار اس میں صرف عقاید کی بابت تصانیف کی نفی کلی کی گئی ہے نہ کہ مطلقا ہر موضوع میں تصنیف کی نفی کی گئی ہے باقی اگر کتاب الحیل کا حوالہ اور سند مع تصحیح پیش کر دیں تو مہربانی ہو گی
     
  5. ‏مارچ 16، 2012 #5
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,974
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    لیں جناب ثبوت حاضر ہیں :
    أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللّٰہِ الحَنَّائِيُّ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الشَّافِعِيُّ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ السُّلَمِيُّ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبة الرَّبِیعُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الْمُبَارَکِ، قَالَ : مَنْ نَّظَرَ فِي کِتَابِ الْحِیَلِ لِأَبِي حَنِیفَة أَحَلَّ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ، وَحَرَّمَ مَا أَحَلَّ اللّٰہُ . (تاریخ بغداد : 13/426)
    ''ہمیں محمد بن عبیداللہ حنائی نے خبر دی ، وہ کہتے ہیں : ہمیں محمد بن عبد اللہ شافعی نے خبر دی، انہوں نے کہا : ہمیں محمدبن اسماعیل سلمی نے بیان کیا ، وہ بیان کرتے ہیں : ہمیں ابوتوبہ ربیع بن نافع نے خبر دی ، وہ کہتے ہیں : ہمیں امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے یہ بات بتائی کہ: جو شخص امام ابوحنیفہ کی کتاب الحیل کا مطالعہ کرے گا ، وہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کوحلال کہنے لگے گا اور اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے لگے گا۔''
    اس روایت کی سند کے راویوں کے بارے میں ملاحظہ فرمائیے !
    1 امام ابوبکر احمد بن علی، المعروف خطیب بغدادی رحمہ اللہ ثقہ امام ہیں۔ان کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ یوں رقمطراز ہیں :[FONT=Al_Mushaf] أَحَدُ الْحُفَّاظِ الْـأَعْلَامِ، وَمَنْ خَتَمَ بَہِ اتْقَانُ ہٰذَا الشَّأْنِ، وَصَاحِبُ التَّصَانِیفِ الْمُنْتَشِرَۃِ فِي الْبُلْدَانِ .

    ''آپ رحمہ اللہ ان علمائے کرام میں سے تھے جو حافظ الحدیث اور علامہ تھے۔ان پر علم کی پختگی ختم ہو گئی۔آپ کی بہت ساری تصانیف ہیں جو دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔''
    (تاریخ الإسلام للذہبي : 10/175)
    2 محمد بن عبیداللہ بن یوسف حنائی کے بارے میں امام خطیب فرماتے ہیں :
    [FONT=Al_Mushaf]کَتَبْنَا عَنْہُ، وَکَانَ ثِقَۃً مَّأْمُونًا، زَاہِدًا، مُلَازِمًا لِّبَیْتِہٖ .[/FONT]
    ''ہم نے ان سے احادیث لکھی ہیں۔ وہ ثقہ مامون ، عابد و زاہد تھے اور اپنے گھر میں ہی مقیم رہتے تھے۔''(تاریخ بغداد للخطیب البغدادي : 3/336)
    3 امام ابوبکر محمد بن عبد اللہ بن ابراہیم شافعی کے بارے میں ناقد رجال حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اَلْإِمَامُ[FONT=Al_Mushaf]، الْمُحَدِّثُ، الْمُتْقِنُ، الْحُجَّۃُ، الْفَقِیہُ، مُسْنِدُ الْعِرَاقِ .[/FONT] ''آپ امام ، محدث، راسخ فی العلم ، حجت ، فقیہ اور عراق کے محدث تھے۔''(سیر أعلام النبلاء للذہبي : 16/40,39)
    4 محمد بن اسماعیل سلمی ثقہ حافظ ہیں۔(تقریب التہذیب لابن حجر : 5738)
    5 ابو توبہ ربیع بن نافع ثقہ حجت ہیں۔(تقریب التہذیب لابن حجر : 1902)
    6 امام عبد اللہ بن مبارک ثقہ ، ثبت ، فقیہ ، عالم ، جواد اور مجاہد ہیں۔(تقریب التہذیب لابن حجر : 3570)
    [/FONT]
     
    • شکریہ شکریہ x 10
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  6. ‏مارچ 16، 2012 #6
    قاسم

    قاسم مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2012
    پیغامات:
    34
    موصول شکریہ جات:
    97
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    رفیق طاہر صاحب اگلے تھریڈ پہلی بات کا جواب بھی عرض کریں تو مناسب ہوگا ، باقی آپ کے پیش کردہ سند میں ایک پکا امام شافعی رضی اللہ عنہ کا مقلد ابوبکر الشافعی موجود ہے جو کہ آپ کے نزدیک تقلید کی وجہ سے مشرک ہے خود خطیب بھی شافعی ہے کیسا حوالہ پیش کیا ہے یار۔
     
  7. ‏مارچ 16، 2012 #7
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,974
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    ہمار نزدیک ابو بکر الشافعی اور خطیب میں سے کوئی بھی "مقلد" نہیں ہے ۔
    کیونکہ تقلید کا معنى ہمارے نزدیک "قبول قول ینافی الکتاب أو السنۃ" ہے !
     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏مارچ 16، 2012 #8
    قاسم

    قاسم مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2012
    پیغامات:
    34
    موصول شکریہ جات:
    97
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    جمشید بھائی دیکھ لیا رفیق صاحب نے تقلید کی تعریف کیسی بدل لی ، آپ ویسے نہیں مان رہے تھے،
    رفیق صاحب کیا کہہ رہے ہو ذرا سوچئے !!!!!!! یار اگر بات "ہمارے نزدیک" کی ہوتی ، تو پھر امام اعظم رضی اللہ عنہ پر جتنے مطاعن ہیں وہ ہمارے نزدیک چاہے جتنے بھی صحیح ہو قابل قبول نہیں، اور ایک اور بات اس رائے میں ہم اکیلے نہیں اس بارے آپ کے مسلمہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ بھی ہمارے ساتھ ہے چنانچہ حضرت فرماتے ہیں (الفاظ ملاحظہ ہوں) کہ:
    قد احسن شیخنا ابو الحجاج حیث لم یورد شیئا یلزم منہ التضعیف
    تذهیب تھذیب الکمال للحافظ الذہبی جلد ٩ صفحہ ٢٢٥ تحقیق مسعد کامل ، ایمن سلامہ ، مجدی السید امین طبع الفاروق الحدیثہ للطباعۃ والنشر
    نوٹ : بھائی وہ پہلے سوال کا جواب ابھی تک نہیں ملا یار یہ تو آپ موضوع سے باہر جارہے ہیں جیساکہ آپ لوگوں کا وطیرہ ہے کہ جواب نہ ہونے کی صورت میں نیا سوال جھاڑ لیتے ہو
    آپ خود دوسرے تھریڈز میں تلقین کرتے رہتے ہو کہ موضوع سے باہر بات نہیں نکلنی چاہیئے۔
     
  9. ‏مارچ 16، 2012 #9
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,974
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    قاسم صاحب !
    میں نے " ہمارے نزدیک" کا لفظ جان بوجھ کر استعمال کیا تھا ۔ اس اسی رد عمل کی توقع رکھتے ہوئے کیا تھا جو آپ نے فرمایا ہے ۔
    اب واشگاف لفظوں میں سن لیں کہ
    تقلید کی جو تعریف میں نے کی ہے صرف اور صرف یہی تعریف صحیح ہے یا جو اسکے ہم معنى ہو ۔ اور اسکے سوا کوئی بھی تعریف صحیح نہیں ہے !!!
    یاد رہے کہ ہم لفظ تقلید بول کر " تقلید مصطلح " مراد لے رہے ہیں !
    اور اگر ہمارے اس دعوى پر آپکو کچھ تحفظات ہیں تو ایک مستقل تھریڈ کا آغاز فرما کر ہم سے تقلید سمجھ لیں یا ہمیں سمجھا دیں ۔
     
  10. ‏مارچ 17، 2012 #10
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    اگرتقلید کا معنی یہ ہے
    توکتاب وسنت کے خلاف کسی قول کو قبول کرنا عامیوں اورطالب علموں کیلئے جائز کس حدیث کی وجہ سے ہوگیا۔


    کس کے لیے تقلید کرنا جائز ہے اور کس کےلیے نہیں؟:
    ایسے مجتہد کےلیے تقلید کرنا جائز نہیں ہے جو اجتہاد کے ذریعے حکم پر ظن حاصل کرلے یا وہ عملی طور پر اجتہاد نہ کرے لیکن اجتہاد کرنے کی طاقت اور صلاحیت رکھتا ہو۔ عام آدمی کےلیے تقلیدکرنا جائز ہے اور ایسے طالب علم یا عالم کےلیے بھی تقلید کرنا جائز ہے جو ابھی تک مکمل علم میں یا علم کی کسی نوع میں اجتہاد کے درجے تک نہیں پہنچا کیونکہ جو شخص کسی فن میں کامل نہیں ہوتا / یا اس میں ہاتھ ہی نہیں ڈالتا تو وہ اس معاملے میں عام آدمی کی طرح ہوتا ہے۔
    http://deenekhalis.net/play.php?catsmktba=1233

    دوسراحوالہ دیکھیں۔
    http://www.kitabosunnat.com/forum/ا...ئز-ہے-اور-کس-کےلیے-نہیں؟-اصول-3599/#post20864
    یعنی موصوف نے اصول فقہ پر کتاب بھی لکھی۔ تقلید کا اثبات بھی کیااورعامیوں اورطالب علموں کیلئے جائز بھی قراردیا اوراب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں