1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام ابو حنیفہ

'سیرت سلف الصالحین رحمہم اللہ' میں موضوعات آغاز کردہ از سدرہ منتہا, ‏جنوری 14، 2013۔

  1. ‏جنوری 14، 2013 #1
    سدرہ منتہا

    سدرہ منتہا رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 14، 2011
    پیغامات:
    114
    موصول شکریہ جات:
    576
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    ایک مرتبہ امام ابو حنیفہ کہیں جا رہے تھے‘ راستے میں زبردست کیچڑ تھا‘ ایک جگہ آپ کے پاؤں کی ٹھوکر سے کیچڑ اڑکر ایک شخص کے مکان کی دیوار پر جالگا‘ یہ دیکھ کر آپ بہت پریشان ہوگئے کہ کیچڑ اکھاڑ کر دیوار صاف کی جائے تو خدشہ ہے کہ دیوار کی کچھ مٹی اتر جائے گی اور اگر یوں ہی چھوڑ دیا تو دیوار خراب رہتی ہے۔

    آپ اسی پریشانی میں تھے کہ صاحب خانہ کو بلایا گیا‘ اتفاق سے وہ شخص مجوسی تھا اور آپ کا مقروض بھی‘ آپ کو دیکھ کر سمجھا کہ شاید قرض مانگنے آئے ہیں‘ پریشان ہوکر عذر اور معذرت پیش کرنے لگا‘ آپ نے فرمایا: قرض کی بات چھوڑو‘میں اس فکر وپریشانی میں ہوں کہ تمہاری دیوار کو کیسے صاف کروں‘اگر کیچڑ کھرچوں تو خطرہ ہے کہ دیوار سے کچھ مٹی بھی اتر آئے گی اور اگر یوں ہی رہنے دوں تو تمہاری دیوار گندی ہوتی ہے‘

    یہ بات سن کر وہ مجوسی بے ساختہ کہنے لگا حضور! دیوار کو بعد میں صاف کیجئے گا پہلے مجھے کلمہ طیبہ پڑھا کر میرا دل صاف کردیں‘ چنانچہ وہ مجوسی آپ کے عظیم اخلاق وکردار کی بدولت مشرف بہ اسلام ہوگیا۔

    امام ابو حنیفہ جس طرح علم وفضل اور فقہ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے اسی طرح اخلاق وکردار کے لحاظ سے بھی آپ یکتائے روزگار تھے- آپ کے اخلاق اور کردار کی یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس پر عمل پیرا ہو کر نا صرف آئمہ کرام بلکہ عالم اسلام کا ہر شخص اخلاق و کردار میں آپ اپنی مثال بن سکتا ہے- اللہ رب العزت ہم سب میں ایسے اوصاف پیدا فرماۓ- آمین

    بحوالہ گلستانِ اولیا
     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  2. ‏جنوری 14، 2013 #2
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    کیا یہ واقعہ صحیح ہے؟
     
  3. ‏جنوری 14، 2013 #3
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    مجھے نہیں لگتا کہ یہ واقعہ درست ہو۔واللہ اعلم خیر محققین رہنمائی فرمادیں تو بہتر رہے گا۔
     
  4. ‏جنوری 14، 2013 #4
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    اگر صحیح بھی ہوتو کوئی تعجب نہیں ہونا چا ہئے کوئی بڑا جب ہی بنتا ہے جب کردار گفتار اخلاق معاملات میں بھی اعلیٰ اور لاثانی ہو۔ اب یہ روایت کہاں تک صحیح ہے تویہ امام فخرالدین رازیؒ کی ذمہ داری ہے وہی اس کے راوی ہیں ملاحظہ فرمائیں
    امام فخر الدین رازی ‘ امام اعظم ابوحنیفہ کی سیرت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    ایک مرتبہ امام اعظم کہیں جا رہے تھے‘ راستے میں زبردست کیچڑ تھا‘ ایک جگہ آپ کے پاؤں کی ٹھوکر سے کیچڑ اڑکر ایک شخص کے مکان کی دیوار پر جالگا‘ یہ دیکھ کر آپ بہت پریشان ہوگئے کہ کیچڑ اکھاڑ کر دیوار صاف کی جائے تو خدشہ ہے کہ دیوار کی کچھ مٹی اتر جائے گی اور اگر یوں ہی چھوڑ دیا تو دیوار خراب رہتی ہے۔ آپ اسی پریشانی میں تھے کہ صاحب خانہ کو بلایا گیا‘ اتفاق سے وہ شخص مجوسی تھا اور آپ کا مقروض بھی‘ آپ کو دیکھ کر سمجھا کہ شاید قرض مانگنے آئے ہیں‘ پریشان ہوکر عذر اور معذرت پیش کرنے لگا‘ آپ نے فرمایا: قرض کی بات چھوڑو‘میں اس فکر وپریشانی میں ہوں کہ تمہاری دیوار کو کیسے صاف کروں‘اگر کیچڑ کھرچوں تو خطرہ ہے کہ دیوار سے کچھ مٹی بھی اتر آئے گی اور اگر یوں ہی رہنے دوں تو تمہاری دیوار گندی ہوتی ہے‘ یہ بات سن کر وہ مجوسی بے ساختہ کہنے لگا حضور! دیوار کو بعد میں صاف کیجئے گا پہلے مجھے کلمہ طیبہ پڑھا کر میرا دل صاف کردیں‘ چنانچہ وہ مجوسی آپ کے عظیم اخلاق وکردار کی بدولت مشرف بہ اسلام ہوگیا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 8
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏جنوری 14، 2013 #5
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    مجھے بھی یہ واقعہ درست نہیں لگتا، بہن نے جس کتاب کا حوالہ لکھا ہے یہ کوئی مستند کتاب نہیں ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 8
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏جنوری 14، 2013 #6
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    مستند ہونے کا کیا معیار ہونا چاہئے اتنی تنگ نظری مناسب نہیں مسلکی اختلاف اپنی جگہ اچھے کردار کے حاملین تو غیر مسلم بھی ہوتے ہیں( مگر میں امام صاحبؒ کو غیر مسلم نہیں کہہ رہا ہوں کبھی اسی پر کمنٹ ہوجائے)
     
  7. ‏جنوری 15، 2013 #7
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    درست فرمایا۔۔۔
    اللہ نے یتیم کو کھانا کھلانے کا حکم دیا ہے۔۔۔ ہم یہ نہیں پوچھ سکتے کہ اللہ نے اسے یتیم ہی کیوں کیا؟؟؟۔۔۔
    شکوک وشبہات کی دنیا میں ہمیشہ سے سوال اُٹھتے ہیں۔۔۔اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کے ہم اللہ پر اعتراض کررہے ہیں۔۔۔ کیونکہ حکم دینے والا ہی ہمارے لئے دلیل ہے۔۔۔ جس میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔۔۔ اور اگر ارسلان بھائی نے اپنے رائے کا اظہار کیا تو وہ جانتے ہیں کے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو لیکر شکوک وشبہات پیدا کئے جاتے رہے ہیں۔۔۔ یہ آپ اور ہم سب جانتے ہیں۔۔۔ لہذا شک تو موجود ہے ہی نا؟؟؟۔۔۔ یاد رکھیں کےیقین سے محرومی ہی سوال کا پیش خیمہ ہے۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے امام صاحب کی شخصیت کو متنازعہ کس نے بنایا؟؟؟۔۔۔ ہم نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  8. ‏جنوری 15، 2013 #8
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    سوال یہ ہے امام صاحب کی شخصیت کو متنازعہ کس نے بنایا؟؟؟۔۔۔ ہم نے۔
    جی آپ نے بنایا ہمارے یہاں متنازعہ نہیں ہے؟
    اتنے دنوں کے بعد تو کوئی اچھی بات پڑھنے کو ملی۔ بھائی دوسروں کا بھی خیال رکھا کرو(ابتسامہ)
     
  9. ‏جنوری 15، 2013 #9
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    حرب بھائی
    الحمد للہ ہم سب مسلمان ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہمیں بھی مستشرقین نے متنازعہ بنا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہوا ۔۔۔۔۔۔۔
    کہ ہم میں بھی کہیں نہ کہیں کھوٹ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
    جب کہ اسلام کا اس میں کوئی دخل نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایک باپ کی کئی اولاد ہوتی ہیں اب اگر کوئی ۔۔۔۔۔۔۔
    بے دین ہوجائے یا بد اعمال ہوجائے تو برائی باپ کے حصہ میں آتی ہے ۔۔۔۔۔۔
    اسی طرح اب اگر کوئی بریلوی ہوجاے یا یا دیوبندی ہوجائے اور الٹے سیدھے بیانات یا مسئلہ مسائل بیان کرنے لگے تو بیچارےامام ابو حنیفہؒ کی کیا خطا جب کہ اسلاف نے ان کی تعریف و توصیف کی ہے ۔۔۔۔۔۔
    بھائی اتنی دوری مناسب نہیں اعتدال والا معاملہ رہنا چاہئے ۔
    فقط والسلام
     
  10. ‏جنوری 15، 2013 #10
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    وعلیکم السلام
    اس میں تنگ نظری کی کوئی بات نہیں ہے عابد بھائی، ہم تو بس یہ کہہ رہے تھے کہ یہ واقعہ کسی مستندکتاب سے نہیں لیا گیا، اگر ہر ایرے غیرے کی کتاب کو ہم مستند مانتے جائیں تو بس پھر۔۔۔۔۔۔۔ پہلے تھوڑا اس تقلید شخصی سے گمراہی پھیلی ہے۔

    سبحان اللہ
    اتنے دنوں سے کتاب و سنت کی روشنی میں لکھی گئی تحاریر پوسٹ ہوتی رہیں ہیں لیکن عابد بھائی کو مزہ نہیں آیا، لیکن ابوحنیفہ کا ایک غیر مستند واقعہ پوسٹ ہوا تو عابد بھائی کو اتنی خوشی محسوس ہوئی کہ گویا وہ کئی دن کے پیاسے تھے آج انہیں پانی پینے کا موقع ملا ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. اسحاق سلفی
    جوابات:
    8
    مناظر:
    239
  2. Israr Hussain Niyargar
    جوابات:
    6
    مناظر:
    746
  3. عامر عدنان
    جوابات:
    0
    مناظر:
    412
  4. عامر عدنان
    جوابات:
    5
    مناظر:
    1,067
  5. ابو زہران شاہ
    جوابات:
    1
    مناظر:
    1,107

اس صفحے کو مشتہر کریں