1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام ابو حنیفہ

'سیرت سلف الصالحین رحمہم اللہ' میں موضوعات آغاز کردہ از سدرہ منتہا, ‏جنوری 14، 2013۔

  1. ‏جنوری 15، 2013 #11
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    اتنے دنوں سے کتاب و سنت کی روشنی میں لکھی گئی تحاریر پوسٹ ہوتی رہیں ہیں لیکن عابد بھائی کو مزہ نہیں آیا،
    ارسلان بھائی تعلیمات مزہ لینے کی چیزیں نہیں ہوتیں یہ تو ایمان کو فرحت بخشنے اور تازگی دینے کی چیزیں ہیں ۔اکابر کے واقعات سبق آموز ہوتے ہیں اور عمل کی ترغیب دیتے ہیں
    فورم کی تمام تحاریر سے الحمد للہ ثم الحمد اس احقرنے بھر پور استفادہ کیا ہے اور واقعی میرے علم میں اضافہ ہوا اللہ تعالیٰ فورم کے تمام اراکین کو اوران تمام افراد کوجن کی کاوشوں اور محنت سے یہ فورم کامیابی کی منازل طے کررہا ہے ان سب کو ثواب دارین عطا فرمائے اور دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور نظر بد سے محفوظ رکھے( دیکھو یہ ہے نہیں اچھی بات میرے بھائی خوش رہو اللہ آپ کی عمر لگائے اور دونوں جہان کی زندگی میں خوشیاں شامل فرمائے اللہ تعالیٰ آپ کے گھر کوپھولے پھلائے اٰمین ثم اٰمین)
     
  2. ‏جنوری 15، 2013 #12
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    وعلیکم السلام
    آمین
    ماشاءاللہ
     
  3. ‏جنوری 15، 2013 #13
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    عابد بھائی!۔
    حضرت مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کی بخاری میں موجود روایت پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔۔۔

    ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نھٰی عن ثمن الکلب ومھر البغی وحلو ان الکاھن
    کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کاہن کی شیرینی زانیہ عورت کی اجرت (زنا کی کمائی) اور کتے کی قیمت سے منع فرمایا ہے۔۔۔
    (بخاری جلد ١ صفحہ٩٨ کتاب البیوع باب ثمن البغی مسلم جلد ٢ صفحہ ١٩)۔۔۔

    اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زانیہ عورت کی کمائی سے منع فرمایا ہے جو وہ پیسے لے کر زنا کا کاروبار کرتی ہے مگر فقہ حنفی کہتی ہے۔۔۔

    ان ما اخذتہ الزانیہ ان کان بعقد الاجارۃ فحلال عند الامام الاعظم لان اجر المثل طیب وان کان السبب حراما
    یعنی اگر کوئی زانیہ زنا کے بدلے مقرر کردہ اجرت لے تو وہ (اجرت) امام اعظم (نعمان بن ثابت ابوحنیفہ) کے نزدیک حلال ہے اس لئے کہ مثل کی مزدوری لینا پاک ہے اگرچہ سبب حرام ہو۔۔۔(چلپی حاشیہ شرع وقایہ صفحہ ٢٩٤، باب الاجارۃ الفاسدۃ الظفر المبین صفحہ ٢١٤)۔۔۔

    اب عابد بھائی! دیانتداری سے اس پر کیا تبصرہ فرمائیں گے؟؟؟۔۔۔
    حدیث بھی آپ کے سامنے ہے اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ سے منسوب فقہ حنفی کا فتوٰی بھی۔۔۔

    فیصلہ آپ پر حدیث پر عمل یا فقہ حنفی پر؟؟؟۔۔۔
     
  4. ‏جنوری 16، 2013 #14
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    امام ابو حنیفہ نے ہی تو کہا ہے کہ میرا جو فتویٰ قرآن و حدیث سے ٹکرائے اسے دیوار پر دے مارو. ہو سکتا ہے کچھ فتووں میں غلطی کے امکان ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جب بھی امام صاحب کی کوئی بات سنے تو منہ بگاڑ لے، مجھے کبھی کبھی بہت دکھ ہوتا ہے کہ اتنی عظیم شخصیت پر ہم اس طرح تنقید کرتے ہیں، تنقید تو ان تقلید پرست مسلمان پر ہونا چاہیے جو ان فتووں کو اب تک سینے سے لگائے بیٹھے ہیں،

    میں اس طرح کی حرکت سے خود کو اہل حدیث کہنا پسند نہیں کرتا.
     
  5. ‏جنوری 16، 2013 #15
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    السلام علیکم!۔
    عامر بھائی اس قول میں بھی دو رائے ہیں۔۔۔ ایک تو یہ کے اس قول کی سند امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے ثابت نہیں۔۔۔ دوسری بات اگر فرض کیجئے ہم اس قول کو درست تسلیم کر بھی لیں تو یہاں سوال یہ ہے جن کتابوں میں یہ اقوال آج بھی موجود ہیں اُن تمام کتُب سے وہ تمام روایتیں جو امام رحمہ اللہ علیہ کی طرف منسوب ہیں اور حدیث کے صریح مخالفت میں ہیں اُن کو حذف کردیا جائے دیکھیں اس سے فائدہ احناف کو کہ وہ اس طرح کی تنقید کا نشانہ نہیں بنیں گے اور اس کی وجہ سے جو اہل دیوبند اور اہل سلف کے درمیان یہ چیدہ چیدہ اختلافات ہیں وہ خود ختم ہوجائیں گے۔۔۔

    اچھا یہاں تیسری سب سے اہم بات وہ یہ ہے کہ امام صاحب کو اہل رائے کے امام کہا جاتا ہے۔۔۔ امام صاحب کی طرف کوئی بھی اچھا واقعہ یا کوئی بھی اچھی بات ان کی شان کو بیان کرنے کے حوالے سے کی جائے اس پر اعتراض کی وجہ نہیں بنتی کیونکہ اُن کا نیک عمل آخرت میں ان کے لئے ہی کام آئے گا اور ہمارا نیک عمل ہمارے لئے لیکن جب امام کی رائے کو حدیث پر اس طرح سے غالب کردیا جائے یہاں سے شکوک وشبہات کا دروازہ کھلتا ہے۔۔۔ تو اس دروازے کو کھولنے کے ذمہ دار کون ہیں۔۔۔ حدیث بیان کرنے والے؟؟؟۔۔۔ صداقت کے سرفراز کا وقت کب آئے گا؟؟؟۔۔۔ آئے گا بھی کے نہیں؟؟؟۔۔۔

    ایک مثال دیتا ہوں!۔
    میں مسجد میں جاتا ہوں جماعت نکل جاتی ہے۔۔۔ تو میں دوسری جماعت کروانے کے لئے اقامت کی اذان دیتا ہوں اور میرے ساتھ میرا کوئی دوست ہے جو میرے ہی ساتھ نماز باجماعت ادا کرتا ہے نماز ختم ہوتے ہی سب سے پہلی بات جو مجھے کہی جائے گی مسجد میں دو جماعتیں نہیں ہوتیں۔۔۔ پوچھا کوئی دلیل پیش کیجئے۔۔۔ تو جواب ملتا ہے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔۔۔ یعنی جو دوسری نماز مسجد میں ادا کررہا ہے وہ غلط ہوگیا۔۔۔ اچھا اگر کوئی مجھ جیسا ہو تو مرچ مثالے لگانے والا تو لازمی یہ سوال ضرور پوچھے گا کے ابوحنیفہ کون ہیں؟؟؟۔۔۔ تو خود سوچیں سامنے والا کس حد تک جائے گا۔۔۔ امام صاحب کے کسی قول پر اگر حدیث پیش کردی جائے تو اس مقصد یہ نہیں سمجھنا چاہئے کے ہم اُن لوگوں کی تذلیل کررہے ہیں جو خود کو حنفی کہتے ہیں۔۔۔ حالانکہ احناف کو خود سوچنا چاہئے جن روایات کی وجہ سے ہم اس طرح کے رویوں کا نشانہ بنتے ہیں ان کی تحیق کریں اور اس طرح کی روایات کو اپنی تعلیمات سے علیحدہ کریں۔۔۔

    اگر یہ ایسا نہیں کریں گے تو پھر بتائیں۔۔۔ رافضیوں کا لٹریچر آپ نے بھی پڑھا ہے۔۔۔ اور قادیانیوں کا بھی۔۔۔ اب نیت یہ سمجھی جائے کے میں ان کو ان فرقوں کے ساتھ ملا رہا ہوں قطعی نہیں۔۔۔ ہمارا ان دونوں فرقوں سے اختلاف کس بنیاد پر ہے۔۔۔ دونوں نے خود ساختہ مذاہب کو اختیارکرلیا ہے۔۔۔ اب اس ہی اختیار کو ہم اہل دیوبند پر رکھیں تو کریڈیبیلٹی تو مشکوک ہو گی۔۔۔ لہذا ہمیں امام صاحب سے اختلاف قطعی نہیں ہے۔۔۔ بلکہ اگر آپ دیکھیں تو میں یہ لفظ لکھا ہے کے ان سے منسوب فقہ حنفی کا فتوٰی۔۔۔ یعنی دعوٰی میں نے بھی کیا اس لئے لفظ منسوب لکھا۔۔۔

    اور یہ وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے یا یوں کہہ لیں کے ان ہی منسوب اقوال اور رائے کی وجہ سے ہمیشہ امام موصوف رحمہ اللہ شخصیت متنازعہ بنی رہتی ہے۔۔۔ ان بارہ اماموں کی جگہ۔۔۔ ہماری لڑائی سے فائدہ دیکھیں کس کو پہنچ رہا ہے۔۔۔ ہزارہ برادری پر دو حملے ہوئے۔۔۔ وزیرستان میں ہزاروں نہیں کہتے سیکڑوں کی تعداد میں بوڑھے، بچے، خواتین، ناحق قتل ہورہے ہیں۔۔۔ ان کے لئے کہیں بھی کوئی دھرنا نہیں دیا جارہا؟؟؟۔۔۔ ہزارہ کمونٹی کے لئے ہر چینل ہر اینکر غموں سے نڈھال ہے لیکن اُن بےگناہوں کے لئے؟؟؟۔۔۔ یہ ہے ہمارا نقصان اور یہ ہے ان کا فائدہ۔۔۔

    عقیدت سے زیادہ عقیدہ محبوب ہونا چاہئے۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏جنوری 16، 2013 #16
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    کوئی بھی بات اگر کسی کے متعلق کہی جائے تو بہتر ہے کہ پہلے ذاتی طور پور پر تحقیق کرلی جائے کہ اس کی حقیقت کیا ہے کہ کسی نے ایسا کیوں کہا ہے یا کسی بات کی نسبت کسی کی طرف کیوں ہے امام صاحب بڑے آدمی ہیں خطا کا امکان ہر ایک سے ہے لیکن ایسا نہیں کہ کوئی کسی کو گمراہ کرے گا من حیث المسلم جتنا فکر ہمیں اپنے ایمان کا ہے اس سے زیادہ یقینا ثم یقیناً ان کو اپنے ایمان کا بھی ہوگا کوئی بھی متقی مسلمان گمراہ ہونا پسند نہیں کرے گا چہ جائے کہ ایک امام ایک استاذ جس کے شاگردوں کے شاگر محدثین کبار ہیں ۔
    حرب بن شداد بھائی
    تفقیہ(تفقہ فی الدین) اور تحدیث( حدیث بیان کرنا) میں فرق ہے قرآن پاک کے بعداحا دیث بھی دین کی اہم ا ثاث ہیں لیکن ان کو سمجھنا یہ ایک فقیہ کا کام ہے جس کا اسلام میں ایک اہم مقام ہے۔ اس کے کچھ اصول اور ضوابط ہیں جن کی روشنی میں کوئی فیصلہ کیا جاتا ۔آپ نے آدھی بات بیان کی لیکن اس کی پوری تشریح نہیں کی، بس یہی وہ بات ہے جس کو میں نے کہا تھا کہ امام صاحب کو متنازعہ آپ نے ( جماعت) بنایا ہے وگرنہ ایسا نہیں ۔قارئین کے سامنے آدھی بات رکھی جاتی جس کو دیکھ کر وہ پہلی نظر میں یہ سمجھ لیتا ہے کہ واقعی احناف غلط ہیں جب کہ ایسا نہیں ہے عوام کو پوری بات سے اندھیرے میں رکھا جاتا ہے جوکہ تنازعہ اور تنفر والے عوامل ہیں ،اس لیے کھلا دماغ ہونا چاہے ۔ مریض ڈاکٹر کی بات پر اعتماد کرتا ہے اگر اعتماد نہ کرے اور الٹا ڈاکٹر کو ہی مشورہ دنے لگے تو بات غلط ہوجائے گی ( آج میرے سر میں تکلیف تھی اس لیےسردست تو میں اتنا ہی جواب پیش کررہا ہوں باقی انشا ءاللہ مضمون کی شکل میں اسی تھریڈ کا جوب دوں گا)۔لیجیے پیش خدمت ہے۔
    ’’مجبوری ناجائز کومباح کردیتی ہے‘‘ یہ ایک فقہی اصول ہے
    اضطرای اور مجبوری والی کیفیات میں ناجائز اور حرام چیزیں،حلال ہوجاتی ہے
    ’’الضرورات تیبح المحذورات(الاشباہ والنظائر :صفحہ ۸۵)‘‘
    ’’ضرورتیں حرام اشیاء کو مباح کردیتی ہیں‘‘
    ’’اور قرآنشریف سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے‘‘
    اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُہِلَّ بِہٖ لِغَيْرِ اللہِ۝۰ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَآ اِثْمَ عَلَيْہِ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۱۷۳ [٢:١٧٣]
    اس نے تم پر مرا ہوا جانور اور لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کردیا ہے ہاں جو ناچار ہوجائے (بشرطیکہ ) خدا کی نافرمانی نہ کرے اور حد (ضرورت) سے باہر نہ نکل جائے اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بےشک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے
    فقہ حنفی میں اور بھی بہت ساری مثالیں اسی قاعدہ پر مبنی ہیں
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  7. ‏جنوری 16، 2013 #17
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    حرب بن شداد بھائی
    یہاں بھی آپ غلط چل رہے
    یہ مسئلہ احناف کے یہاں جواز یا عدم جوز کا نہیں ہے اولیٰ اور غیر اولیٰ کا ہے
    صرف اس وجہ سے کہ جماعت ثانی سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید دو گروپ ہیں
    اور یہ بھی معلوم رہنا چاہے کہ پہلی جماعت، ثانی کے مقابلہ زیادہ افضل ہے
    بس یہ مسئلہ لوگوں کی ذہن کی اصلاح کے لیے ہے
    حرب بھائی ہر ایک کا وسعت قلبی سے مطالعہ کرنا چاہے اور بد گمانی ست احتراز کرنا چاہئے
    ہم تو سب کا مطالعہ کرتے ہیں یہی میرے والد کی نصیحت ہے
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏جنوری 16، 2013 #18
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى
    وَالَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ
    يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ مَنْ يَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ ۭ وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرًا
    يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَاۗءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ عَلٰٓي اَنْ لَّا يُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَـيْـــــًٔــا وَّلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِيْنَ وَلَا يَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَاْتِيْنَ بِبُهْتَانٍ يَّفْتَرِيْنَهٗ بَيْنَ اَيْدِيْهِنَّ وَاَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِيْ مَعْرُوْفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ


    مجھے بس اس کی وضاحت پیش کردیجئے۔۔۔
     
  9. ‏جنوری 16، 2013 #19
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    یہاں بھی آپ غلط چل رہے ہیں؟؟؟۔۔۔
    اولٰی اور غیراولٰی؟؟؟۔۔۔
    تاثر کیوں لیا جاتا ہے کے دو گروپ ہیں؟؟؟۔۔۔
    افضل ہے تو اس کی کوئی دلیل پیش کردیجئے۔۔۔

    اب جہاں تک بات ہے لوگوں کے ذہن کی اصلاح کی تو اس معیار پر کب اور کس پر پرکھا جائے اس کا فیصلہ کون کرے گا؟؟؟۔۔۔

    عابد بھائی!۔
    دیکھئے بھائی بدگمانی وہاں ہوتی ہے جہاں پر گمان موجود ہو۔۔۔ اگر ہم ہر کام کو مباح قرار دے کر جائز قرار دینا شروع کردیں پھر اللہ کا فرمان کے مجبوری اور رزق کی تنگی کے خوف سے اپنی اولاد کا قتل نہ کرو، کا حکم کس معنی میں لیا جائے گا؟؟؟۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  10. ‏جنوری 16، 2013 #20
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    حرب بھائی
    شاید آپ مسئلہ کی کیفیت سمجھنے کی کوشش نہیں فرمارہے ہیں میرے بھائی زناکی حرمت سے انکار نہیں ،صورت مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی عورت زنا جیسا فعل( پیشہ) شنیع اختیار کرتی ہے (صرف مسلمانوں کی بات کررہا ہوں) تو اس کے سامنے کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں تو اس کی وجہ سےاجرت لے سکتی ہے اگرچہ یہ حرام ہے ۔ اوراس کی سزا اسلام نے مقرر کی ہے۔ زنا بھی کرے اور اجرت بھی نہ لے تو یہ شو قیہ فعل ہوا اور فعل عبث ہے جس کو بھونڈے الفاظ میں گناہ بے لذت کہا جاتا ہے۔ ابھی تو یہیں تک رہنے دیں میں اس کو پوری طرح سمجھاؤں گا ان شاء اللہ
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. اسحاق سلفی
    جوابات:
    8
    مناظر:
    132
  2. Israr Hussain Niyargar
    جوابات:
    6
    مناظر:
    594
  3. عامر عدنان
    جوابات:
    0
    مناظر:
    348
  4. عامر عدنان
    جوابات:
    5
    مناظر:
    972
  5. ابو زہران شاہ
    جوابات:
    1
    مناظر:
    937

اس صفحے کو مشتہر کریں