1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام احمد کے ایک قصہ کا حوالہ و صحت درکار ہے

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از abu khuzaima, ‏جون 20، 2018۔

  1. ‏جون 20، 2018 #1
    abu khuzaima

    abu khuzaima رکن
    شمولیت:
    ‏جون 28، 2016
    پیغامات:
    66
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    امام احمد حنبل کو بادشاہ کے دربار میں دو ملزموں کے ساتھ حاضر کیا گیا، بادشاہ کی مجلس لگی تھی، دربار کھچا کھچ بھرا تھا، بادشاہ نے امام پر دباؤ بنانے کے لیے جلاد کو حکم دیا کہ ساتھ آئے ہوئے ایک ملزم کا سر تن سے جدا کیا جائے، جلاد نے حکم کی تعمیل کی، سارے درباریوں کے سامنے بھرے دربار میں ملزم کے گردن پر تلوار چلا دی گئی، بادشاہ کا حکم ہوا دوسرے ملزم کا بھی سر قلم کر دیا جائے، جلاد نے دوسرے ملزم کے سر بھی تن سے جدا کردیا، اب کی بار امام کی باری تھی، دربار میں سناٹا چھایا تھا، اتنے امام احمد کی نگاہ دربار میں موجود ایک عالم پر پڑی، دیکھ کر پہچان گئے کہ وہ تو امام شافعی کے شاگرد ابوداؤد الشافعی ہیں، ان کو پکارا اور اور گویا ہوئے.

    "اے ابو داؤد! تم امام شافعی کے شاگرد ہو، کیا موزوں پر مسح کے بارے میں تمھیں امام شافعی کا کوئی قول پتہ ہے؟"

    Sent from my SM-G920F using Tapatalk
     
  2. ‏جون 21، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    یہ واقعہ پانچویں صدی کے نامور محدث امام ابونعیم بن احمد الأصبهاني (المتوفى: 430هـ)
    نے اپنی کتاب " حلیۃ الاولیاء " میں نقل فرمایا ہے :
    فرماتے ہیں :حدثنا الحسين بن محمد، ثنا أبو الأسود عبد الرحمن بن الفيض، قال: سمعت إبراهيم بن محمد بن الحسن، يقول: أدخل أحمد بن حنبل على الخليفة - وكانوا هولوا عليه، وقد كان ضرب عنق رجلين - فنظر أحمد إلى أبي عبد الرحمن الشافعي، فقال: «أي شيء تحفظ عن الشافعي في المسح؟» فقال ابن أبي دؤاد انظروا رجلا هو ذا يقدم لضرب عنقه يناظر في الفقه " (حلية الأولياء وطبقات الأصفياء 9 -186 )
    ترجمہ :
    امام احمدؒ بن حنبل کو بادشاہ کے دربار میں حاضر کیا گیا، حاضرین ڈرے ہوئے تھے کہ (آج امام صاحب کو کہیں سزا نہ دے دی جائے )،اس موقع پر وہاں دو آدمیوں کی گردن اڑائی گئی (اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ) امام احمدؒ کی نگاہ دربار میں موجود ایک عالم ابو عبدالرحمن الشافعی پر پڑی، ان کو پکارا اور اور گویا ہوئے.
    "اے ابو عبدالرحمن! کیا موزوں پر مسح کے بارے میں تمھیں امام شافعی کا کوئی قول پتہ ہے؟
    وہیں موجود وقت کا چیف جسٹس قاضی احمد بن ابی داود معتزلی حنفی یہ منظر دیکھ کر حیران و متعجب ہوکر کہنے لگا :دیکھو کیسا آدمی ہے ؟ اس کی گردن اڑنے والی ہے اور یہ بے پرواہ ہوکر فقہی مسئلہ میں گفتگو کررہا ہے !
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    یہی واقعہ مشہور محدث امام ابو یعلی ؒ نے " طبقات الحنابلہ " میں بالاسناد نقل فرمایا ہے :

    حَدَّثَنَا أَحْمَد بْن عبيد اللَّه أَخْبَرَنَا أبو عَلِيّ إِسْمَاعِيل بْن أَحْمَدَ البيهقي حَدَّثَنَا أبي حَدَّثَنَا عَلِيّ بْن أبي بكر قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو نعيم حَدَّثَنَا الحسين بن محمد حَدَّثَنَا أبو الأسود عبد الرحمن بْن الفيض قَالَ: سمعت إِبْرَاهِيم بن محمد بْنِ الحسن قَالَ: حضرت أَحْمَد بن حنبل وقد أدخل عَلَى الخليفة وعنده ابن أبي دؤاد وأبو عبد الرحمن أَحْمَد بْن يَحْيَى بْن عبد العزيز الشافعي فأجلس بين يدي الخليفة فقال: لأبي عبد الرحمن أي شيء تحفظ عَنِ الشافعي فِي المسح قَالَ: ابن أبي دؤاد انظروا رجلا هو ذا يقدم لضرب العنق يناظر فِي الفقه هذا أبو عبد الرحمن كان يأخذ عَنِ الشافعي من القديم ثم تغير وذهب إلى الاعتزال.
    ترجمہ :
    امام احمد حنبل کو بادشاہ کے دربار میں پیش کیا گیا، بادشاہ کی مجلس لگی تھی، دربار میں
    چیف جسٹس قاضی احمد بن ابی داود معتزلی اور ایک عالم ابو عبدالرحمن الشافعی بھی موجود تھے
    امام صاحب کو خلیفہ کے سامنے بٹھا دیا گیا، تو بادشاہ کی ھیبت و دہشت میں آئے بغیر امام احمدؒ وہاں موجود ابو عبدالرحمن الشافعی سے گویا ہوئے.
    "اے ابو عبدالرحمن! کیا موزوں پر مسح کے بارے میں تمھیں امام شافعی کا کوئی قول پتہ ہے؟
    یہ منظر دیکھ کر
    چیف جسٹس قاضی احمد بن ابی داود معتزلی حنفی حیران و متعجب ہوکر کہنے لگا :دیکھو کیسا آدمی ہے ؟ اس کی گردن اڑنے والی ہے اور یہ بے پرواہ ہوکر فقہی مسئلہ میں گفتگو کررہا ہے !
    دیکھئے "طبقات الحنابلۃ " جلد اول ص251
    https://archive.org/stream/Tabaqat_Hanabila/01#page/n250/mode/2up
     
    Last edited: ‏جون 21، 2018
    • علمی علمی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں