1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام بخاری کا فیہ نظر کہنا

'اسماء ورجال' میں موضوعات آغاز کردہ از قاضی786, ‏مارچ 28، 2015۔

  1. ‏مارچ 28، 2015 #1
    قاضی786

    قاضی786 رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2014
    پیغامات:
    142
    موصول شکریہ جات:
    70
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    السلام علیکم

    امید ہے سب خیریت سے ہوں گے

    سوال یہ پوچھنا تھا کہ جب امام بخاری کسی کے بارے میں فیہ نظر کہیں، اس سے کیا مراد ہے؟

    شکریہ
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 28، 2015 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,220
    موصول شکریہ جات:
    8,204
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
    الحمدللہ ۔۔
    امام ذہبی فرماتے ہیں :
    أما قول البخاري: "سكتوا عنه"، فظاهرها أنهم ما تعرضوا له بجرح ولا تعديل. وعلمنا مقصده بها بالاستقراء، أنها بمعنى: "تركوه". وكذا عادته إذا قال: "فيه نظر"، بمعنى أنه: "متهم"، أو: "ليس بثقة". فهو عنده أسوأ حالا من: "الضعيف". ( الموقظۃ ص 83 )
    امام بخاری ’’ فیہ نظر ‘‘ اس راوی کے بارے کہتے ہیں جو ان کے نزدیک ’’ متہم ‘‘ یا ’’ غیر ثقہ ‘‘ ہو ، گویا یہ عبارت ان کے نزدیک ’’ ضعیف ‘‘ سے زیادہ سخت ہے ۔
     
    • پسند پسند x 3
    • مفید مفید x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏مارچ 28، 2015 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,708
    موصول شکریہ جات:
    2,252
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    قال ابن كثير في "مختصر علوم الحديث":
    ومن ذلك أن البخاري إذا قال، في الرجل: " سكتوا عنه " ، أو " فيه نظر " ، فإنه يكون في أدنى المنازل وأردئها عنده، لكنه لطيف العبارة في التجريح، فليعلم ذلك. ا.هـ

    قال العراقي في "شرح ألفيته":
    وفلانٌ فيه نظرٌ ، وفلانٌ سكتوا عنه - وهاتانِ العبارتانِ يقولهُمُا البخاريُّ فيمَنْ تركوا حديثَهُ ا.هـ
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏مارچ 29، 2015 #4
    قاضی786

    قاضی786 رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2014
    پیغامات:
    142
    موصول شکریہ جات:
    70
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    قال الشيخ الفاضل الشريف حاتم العوني في كتابه ( المرسل الخفي ) (1/440) : ( وأنبه هنا : أن قول البخاري (فيه نظر ) إن كان المقصود به الراوي ، فهي تليين خفيف ، وليست تليينا شديدا كما ادعاه بعض الأئمة المتأخرين كالذهبي وابن كثير وغيرهما . وقد رد على هذا الفهم الخاظئ لتلك العبارة في صدورها من الإمام البخاري ، الأستاذ مسفر بن غرم الله الدميني في دراسة موازنة ، جمع فيها المواطن التي أطلق فيها البخاري تلك البخاري ، ووازنها بأقوال العلماء غيره في الذين قيلت فيهم ، فخرج بأن من قيل فيه ‘إنه( فيه نظر ) فإنه تليين خفيف الضعف ، وأن البخاري في إطلاق هذه العبارة مثل غيره من الأئمة ، لا كما زعم من أن له اصطلاحا خاصا به في إطلاقها . ولم أطلع على هذه الدراسة الموازنة التي قام بها الأستاذ الدميني وفقه الله ، لكنه ذكر القيام بها ولخص نتائجها في دراسة أخرى له ، عمن قال فيه البخاري (سكتوا عنه ) وذلك في رسالة أسماها ( قول البخاري : سكتوا عنه ) .
    والذي ذهب إليه الأستاذ الدميني مسبوق إلى نتيجته ، ولا أدري أأشار إلى من سبقه فيها أم لم يشر ؟! لأني لم أطلع على دراسته حول قول البخاري فيه نظر ، كما ذكرت آنفا . والذي سبقه إلى فهم قول البخاري ( فيه نظر ) هو أعلم الناس بالإمام البخاري ، ألا وهو تلميذه النقاد الجهبذ أبوعيسى الترمذي رحمه الله ! ، فقد نقل الترمذي في العلل الكبير أن البخاري قال عن حكيم بن جبير (لنا فيه نظر ) فأعقبه الترمذي بقوله : (ولم يعزم فيه على شيء ) ، كذا فهم الترمذي عبارة شيخه ، أنه متردد في في حكيم بن جبير أو متوقف فيه ، وهذا التردد هو شأن الرواة خفيفي الضعف ، الذين تردد أحاديثهم بين التحسين والتضعيف .

    http://www.ahlalhdeeth.com/vb/showthread.php?t=212
     
  5. ‏مارچ 29، 2015 #5
    قاضی786

    قاضی786 رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2014
    پیغامات:
    142
    موصول شکریہ جات:
    70
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    ذكر الشيخ حاتم الشريف في كتابه التخريج ودراسة الاسانيد


    في عبارة تجريح البخاري للشخص (فيه نظر )


    بأن كثيراً من ألفاظ الجرح والتعديل غير محررة المعاني ، فمثلاً : قول الإمام البخاري في الراوي "فيه نظر" ، معناه : أنه شديد الضعف ، وذكر ذلك الذهبي وابن كثير وغيرهم ، وأثبتت الدراسة الاستقرائية لأحد الدارسين ، الذي استقصى لفظ البخاري "فيه نظر" ، وخرج بأنه يقصد بها : الضعف الخفيف ، وأيّد هذه الدراسة بأقوال أئمة ثلاثة ، أوّلهم الترمذي ، فقد نقل عن شيخه البخاري قوله في راوٍ "فيه نظر" فقال الترمذي مُعبّراً عن ذلك : "فلم يجزم فيه بشئ" ، ففهم الترمذي من عبارة "فيه نظر" أن البخاري متردد ، والرواة الذين يستحقون التردد هم من كان في آخر مراتب الحسن ، وأعلى مراتب الضعف . والثاني : ابن عدي ، في كتابه (الكامل) -في أكثر من موضع- حيث يفهم من كلام البخاري "فيه نظر" أنه ضعف خفيف . وآخر هؤلاء هو الحافظ ابن حجر ، حيث ذكر هذه القضية عَرَضاً في كتابه (بذل الماعون في فضل الطاعون) ، فقال:"قال البخاري : فيه نظر ، وهذه عبارته فيمن يكون وسطاً" ، أي بين القبول والردّ ، وهذا هو الصحيح .



    http://www.ahlalhdeeth.com/vb/showthread.php?t=234050
     
  6. ‏مارچ 29، 2015 #6
    قاضی786

    قاضی786 رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2014
    پیغامات:
    142
    موصول شکریہ جات:
    70
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    اس کی روشنی میں کیا مطلب ہوا؟
     
  7. ‏مارچ 30، 2015 #7
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,220
    موصول شکریہ جات:
    8,204
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اس کا مطلب یہ ہے کہ علامہ ذہبی اور ابن کثیر رحمہما اللہ نے جو معنی بیان کیا ہے ، استقراء اس کے خلاف ہے ، شیخ حاتم العونی کے نزدیک استقراء سے یہ بات ثابت ہےکہ امام بخار ی کے نزدیک ’’ فیہ نظر ‘‘ جرح شدید نہیں بلکہ جرح خفیف ہے ۔
     
    Last edited: ‏اکتوبر 19، 2015
  8. ‏مارچ 31، 2015 #8
    قاضی786

    قاضی786 رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2014
    پیغامات:
    142
    موصول شکریہ جات:
    70
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    بھائی استقرا کیا ہوتا ہے ؟
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏اپریل 01، 2015 #9
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,220
    موصول شکریہ جات:
    8,204
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    استقراء کے لیے اردو میں میرے ذہن میں کوئی لفظ نہیں آرہا ، شاید ’’ تجربہ ‘‘ کا لفظ کسی حد تک اس کے قریب ہے ۔ اسی طرح ’’ تطبیق ‘‘ کا لفظ بھی شاید اس کے قریب ہے ۔
    مراد سمجھانے کی کوشش کرتاہوں ، مثلا ’’ فیہ نظر ‘‘ کے بارے میں ذہبی و ابن کثیر کے مطابق امام بخاری کی مراد ’’ جرح شدید ‘‘ ہوتی ہے ، لیکن حاتم العونی کا کہنا ہے کہ کچھ علماء نے ان راویوں کو تلاش کیا ہے جن کے بارے میں امام بخاری نے ’’ فیہ نظر ‘‘ کہا ہے ۔ ان تمام جگہوں کو اکٹھا کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ امام صاحب نے ان راویوں پر ’’ سخت جرح ‘‘ نہیں کی بلکہ ان کی مراد ’’ ضعیف خفیف ‘‘ بیان کرنا ہے ۔ واللہ اعلم ۔
    ---------------------------
    استقراء کا معنی سوچ رہا ہوں شاید ’’ سرچ کرنا ‘‘ ہو سکتا ہے ، لیکن پھر الیاس گھمن صاحب کی ’’ سرچ ‘‘ ، ’’ ری سرچ ‘‘ سوچ کر ہنسی آرہی ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    @کفایت اللہ بھائی ! اگر فرصت ہو تو آپ ذرا ’’ استقراء ‘‘ کے معنی و مفہوم پر روشنی ڈال دیں ۔
     
    • علمی علمی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  10. ‏اپریل 01، 2015 #10
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,708
    موصول شکریہ جات:
    2,252
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    الاستقراء (كما هو واضح ) من الفعل قرأ
    ويطلق على من استوعب القراءة فيما كُتِب وأُلف عن موضوع ما أو عِلمٍ ما۔۔۔الخ
    کسی ایک موضوع یا مسئلہ پر سارے اقوال و تحاریر کے مطالعہ کے بعد جو بات سامنے آئے ،،،اس کے متعلق کہیں گے ،،کہ ’’استقراء ‘‘ کے بعد فلاں کے نزدیک صحیح بات یہ ہے
    والاستقراء ينقسم عند العلماء إلى : استقراء تام ، واستقراء ناقص
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں