1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام بخاری کا فیہ نظر کہنا

'اسماء ورجال' میں موضوعات آغاز کردہ از قاضی786, ‏مارچ 28، 2015۔

  1. ‏اپریل 01، 2015 #11
    قاضی786

    قاضی786 رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2014
    پیغامات:
    146
    موصول شکریہ جات:
    70
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

  2. ‏اپریل 01، 2015 #12
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436


    السیوطی کتاب تدريب الراوي میں وضاحت کرتے ہیں

    تنبيهات الأول البخاري يطلق فيه نظر وسكتوا عنه فيمن تركوا حديثه


    پہلی تنبیہ بخاری اگرکسی راوی پر فیه نظر کا اطلاق کریں اور سكتوا عنه کہیں تو مراد حدیث ترک کرنا ہے


    کتاب التنكيل از الشيخ المعلمي کے مطابق

    وكلمة فيه نظر معدودة من أشد الجرح في اصطلاح البخاري


    اور کلمہ فیہ نظر بخاری کی شدید جرح کی چند اصطلاح میں سے ہے


    اللكنوي کتاب الرفع والتكميل في الجرح والتعديل میں اس پر کہتے ہیں

    فيه نظر: يدل على أنه متهم عنده ولا كذلك عند غيره


    فیہ نظر دلالت کرتا ہے کہ راوی بخاری کے نزدیک متہم ہے


    لیکن دوسروں کے نزدیک نہیں


    ہمارے نزدیک آخری قول زیادہ صحیح ہے
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 01، 2015 #13
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    (فيه نظر ) کی وہی تعبیر صحیح اور معتبر ہے ، جو ابن کثیر اور علامہ عراقی نے کی ہے ،کہ جب بخاری ؒ کسی راوی کے متعلق " سكتوا عنه " ، أو " فيه نظر " کہیں ،،،تو وہ راوی ان کے نزدیک ناکارہ اور کم تر رتبہ کا حامل ہوگا ۔بلکہ بقول عراقی متروک الحدیث ہوگا ۔
    اور حاتم صاحب کا قول صحیح نہیں

    70509.jpg
     
  4. ‏اپریل 01، 2015 #14
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    @محترم خضر حیات بھائی
    جزاک اللہ تعالی احسن الجزاء
     
  5. ‏اپریل 01، 2015 #15
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ خود ’’ صاحب استقراء تام ‘‘ کہلائے جاتے ہیں ۔
     
  6. ‏اپریل 01، 2015 #16
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و ایاکم ۔ اللہ آپ کے علم و فضل اور ہمت میں برکت دے ۔
     
  7. ‏نومبر 29، 2015 #17
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    امام بخاری کے قول’’فیہ نظر‘‘ کامفہوم

    شیخ کفایت اللہ سنابلی​
    رواۃ پر جرح کرنے کے سلسلے محدثین میں بعض تشدد کے شکارہوجاتے ہیں اور بعض سے تساہل ہوجاتاہے ۔جب کہ بعض محدثین معتدل ہوتے ہیں ایسے محدثین کے اقوال انتہائی اہم ہوتے ۔
    امام بخاری رحمہ اللہ بھی معتدلین میں سے ہیں ۔دیکھئے:[الموقظۃ فی علم مصطلح الحدیث للذھبی: ص۸۳] امام بخاری رحمہ اللہ کے اقوال میں اعتدال کے ساتھ ساتھ ایک خاص بات یہ ہے کہ آپ شدید جرح کرتے ہیں تو بھی بہت سخت الفاظ استعمال نہیں کرتے ہیں ۔اس لئے اہل علم نے تتبع اور استقراء سے ان کے اقوال جرح کا مفہوم بیان کیا ہے تاکہ واضح ہوجائے کہ ان کی کون سی جرح کس درجہ میں ہے۔
    امام بخاری کے اقوال جرح میں ایک قول ’’فیہ نظر‘‘ بھی ہے بہت سے رواۃ پر امام بخاری نے اس صیغہ سے جرح کی ہے ۔اورمحدثین نے واضح کیا ہے کہ امام بخاری جس کے بارے میں یہ جرح کریں وہ امام بخاری کے نزدیک سخت ضعیف ومتروک ہوتاہے۔
    عصرحاضر میں بعض حضرات نے بغیرکسی قوی بنیاد کے اس بات سے اختلاف کیا ہے لیکن صحیح بات وہی ہے جسے مستند محدثین نے واضح کیا ہے ۔ ذیل میں ہم چند محدثین کے حوالے پیش کرتے ہیں جنہوں نے امام بخاری کی جرح ’’فیہ نظر‘‘ کا مفہوم بیان کیا ہے ملاحظہ ہو:
    *امام ذہبی رحمہ اللہ (المتوفی:۷۴۸)نے کہا:
    وقد قال البخاری: فیہ نظر، ولا یقول ہذا إلا فیمن یتہمہ غالبا۔
    امام بخاری نے کہا: ’’فیہ نظر۔‘‘ اورامام بخاری عام طورسے ایسااسی راوی کو کہتے ہیں جو ان کے نزدیک متہم ہوتا ہے۔[الکاشف للذہبی:۱؍۶۸]۔
    *امام ابن کثیر رحمہ اللہ (المتوفی:۷۷۴)نے کہا:
    أن البخاری إذا قال، فی الرجل:’’ سکتوا عنہ‘‘ ، أو’’ فیہ نظر‘‘ ، فإنہ یکون فی أدنی المنازل وأردۂا عندہ۔
    امام بخاری جب کسی راوی کے بارے میں’’ سکتواعنہ‘‘ یا ’’ فیہ نظر‘‘ کہتے ہیں تو وہ ان کے نزدیک سب سے کم تراورسب سے بدتردرجہ کا ہوتا ہے۔[الباعث الحثیث إلی اختصار علوم الحدیث : ص:۱۰۶]۔
    *امام زین الدین العراقی رحمہ اللہ (المتوفی:۸۰۶)نے کہا:
    وفیہ نظر وسکتوا عنہ وہاتان العبارتان یقولہما البخاری فیمن ترکوا حدیثہ۔
    ’’فیہ نظر اور سکتواعنہ‘‘ یہ دونوں عبارتیں امام بخاری اس راوی کے بارے میں کہتے ہیں جو متروک ہوتا ہے۔[التقیید والإیضاح :ص:۱۶۳]۔
    *حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفی:۸۵۲)نے کہا:
    قال البخاری فیہ نظر وہذہ العبارۃ یقولہا البخاری فی من ہو متروک۔
    اس کے بارے میں امام بخاری نے کہا:’’فیہ نظر‘‘اوریہ عبارت امام بخاری اس راوی کے بارے میں کہتے ہیں جو متروک ہوتا ہے۔[القول المسدد :ص:۱۰]۔
    *امام سیوطی رحمہ اللہ (المتوفی:۹۱۱)نے کہا:
    البخاری یطلق فیہ نظر وسکتوا عنہ فیمن ترکوا حدیثہ۔
    امام بخاری’’ فیہ نظر‘‘اور ’’سکتواعنہ ‘‘ کا اطلاق اس راوی پر کرتے ہیں جو متروک ہوتا ہے۔[تدریب الراوی:۱؍۳۴۹]۔
    *مولانا عبد الحئی لکھنوی (المتوفی:۱۳۰۴)نے کہا:
    قول البخاری فی حق احد من الرواۃ فیہ نظر یدل علی انہ متہم عندہ۔
    امام بخاری کاکسی راوی کے بارے میں ’’فیہ نظر‘‘ کہنا اس با ت کی دلیل ہے کہ وہ ان کے نزدیک متہم ہے۔[الرفع والتکمیل :ص:۳۸۸]۔
    *علامہ المعلمی الیمانی (المتوفی:۱۳۸۶)نے کہا:
    وقال البخاری’’ فیہ نظر‘‘ معدودۃ من أشد الجرح فی اصطلاح البخاری۔
    اور امام بخاری نے کہا: ’’فیہ نظر‘‘ اور یہ امام بخاری کی اصطلاح میں شدید جرح شمارہوتی ہے۔[التنکیل بما فی تأنیب الکوثری من الأباطیل :۲؍۴۹۵]۔
    *مولانا ظفر أحمد التہانوی حنفی (المتوفی:۱۳۹۴)نے کہا:
    البخاری یطلق فیہ نظر وسکتوا عنہ فیمن ترکوا حدیثہ۔
    امام بخاری’’ فیہ نظر‘‘ اور’’ سکتواعنہ ‘‘ کااطلاق اس راوی پر کرتے ہیں جو متروک ہوتا ہے۔[قواعد فی علوم الحدیث :ص:۲۵۴]۔
    ان محدثین اور اہل علم کے خلاف عصر حاضر کے بعض لوگوں کا امام بخاری کی اس جرح کی کوئی اورتفسیر پیش کرنا غیر مقبول ہے ۔
     
  8. ‏نومبر 29، 2015 #18
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,388
    موصول شکریہ جات:
    715
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    جزاكم الله خير
     
  9. ‏نومبر 07، 2018 #19
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    پروفائل پیغام میں محترم بھائی @Talha Salafi صاحب نے سوال کیا ہے کہ
    عرض ہے کہ :
    امام بخاریؒ کا کسی راوی کے متعلق " فیہ نظر " کہنا شدید جرح ہے ،جیسا کہ اس تھریڈ میں اس کی تفصیل اور وضاحت موجود ہے ،
    *علامہ المعلمی الیمانی (المتوفی:۱۳۸۶)نے کہا:
    وقال البخاری’’ فیہ نظر‘‘ معدودۃ من أشد الجرح فی اصطلاح البخاری۔
    اور امام بخاری نے کہا: ’’فیہ نظر‘‘ اور یہ امام بخاری کی اصطلاح میں شدید جرح شمارہوتی ہے۔[التنکیل بما فی تأنیب الکوثری من الأباطیل :2/495]

    اور" فیہ نظر " مفسر جرح ہے ،جیسا کہ
    یمن کے مشہور سلفی ثقہ عالم مقبل بن ھادی الوداعیؒ مستدرک حاکم کی تعلیق میں ایک جگہ لکھتے ہیں :
    لأن البخاري قال : فيه نظر، وهذا جرح مفسر، بل هو من أردى عبارات التجريح عند البخاري "
    المستدرک علی الصحیحین (تحقیق الشیخ الوداعی ) جلد اول صفحہ 459 )
    https://archive.org/stream/FP34882/mstdrk1#page/n457/mode/2up
    یعنی

    امام بخاریؒ کا ’’فیہ نظر‘‘ کہنا "جرح مفسر " ہے ،
    ــــــــــــــــــــــــــــــ
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  10. ‏نومبر 07، 2018 #20
    Talha Salafi

    Talha Salafi مبتدی
    جگہ:
    مرادآباد، یو پی، انڈیا،
    شمولیت:
    ‏ستمبر 19، 2018
    پیغامات:
    48
    موصول شکریہ جات:
    7
    تمغے کے پوائنٹ:
    28

    محترم کیا شیخ مقبل بن ھادی الوادعی کے علاوہ کسی محدّث نے اس جرح کو "جرح مفسر" کہا ہے؟؟؟

    کیوں کہ مقبل بن ھادی الوادعی کی تحقیق تو میرے پاس موجود ہے، لیکن مقلد کہتا ہے کہ مقبل بن ھادی تو متشدد تھے، اور عصر حاضر کے ہیں
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں