1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام بخاری ہمارے ایمان کا حصہ نہیں

'دفاع حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏نومبر 24، 2017۔

  1. ‏نومبر 24، 2017 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,951
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    امام بخاری ہمارے ایمان کا حصہ نہیں :


    ...ابوبکر قدوسی
    .
    لیکن صحیح بخاری ضرور ہے - صحیح بخاری اک استعارہ ہے ، حدیث کی کسی کتاب میں درج ہر صحیح حدیث ہمارے ایمان کا حصہ ہے - ایک درست اور صحیح حدیث کا انکار بندے کو ایمان سے محروم کر دیتا ہے -

    بحث چل رہی ہے کہ فلاں منکر حدیث ہے یا نہیں ؟

    میں آپ کے سامنے کچھ سوال رکھتا ہوں ، پھر میں آپ سے ان صاحب کے ایمان کی گواہی مانگوں گا - مجھے بتایے کہ اگر کوئی صاحب تشکیک میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ موذی مرض ہے ، مگر لاحق ہو گیا - شک کہ قران کی جمع و تدوین انسانوں نے کی ، کیا عجب کہ کسی مقام پر کوئی خطاء کوئی غلطی ہو گئی ہو - دیکھئے امکانات کے در تو ہر دم کھلے رہتے ہیں اور جہاں انسانی کوشش شریک حال ہو جائے وہاں تو ہر وقت - اور جو صاحبان چند منافقین کو منافقین کی فوج بنا کے پیش کرتے ہیں ان کے لیے اس اعتراض سے مفر کی کیا راہ ہو گی - یہ کہہ کے کہ قران کی تدوین دور نبوی میں ہو چکی تھی ، حقائق سے فرار ممکن نہیں - ایسے ہی اگر آپ ہر تاریخی حقیقت کو اپنے عقائد کی محبت تلے جھٹلاتے رہیں گے تو کچھ بھی نہ بچ پائے گا - تو سوال یہ ہے کہ تشکیک کے اس عمل میں سب سے پہلا حملہ قران پر ہو جائے گا ، کہیں تو ٹھہرنا ہو گا - جی تو ایسے صاحب کو آپ کیا جواب دیں گے کہ جو قران پر شک کریں اس کی تدوین میں انسانی خطا کا امکان محسوس کریں ، اور پھر آگے بڑھ کر کے اس کی کسی ایک آیت پر کہ جو ان کی عقل اور درایت کے اصولوں پر پوری نہ اترتی ہو - عقل کے اور گاہے سائنس کے غلام ہو کر کے کھلا انکار کر دیں ، تو کیا آپ ان کو منکر قران کہیں گے ؟ -

    دیکھئے ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں قرآن پر مکمل ایمان رکھتا ہوں مگر یہ جو "خضر " نے معصوم بچہ قتل کر دیا تھا یہ کسی کی "مہم جوئی" ہے ، جو شامل قران ہوئی ، نہیں مانتا -

    دوسرے صاحب اٹھتے ہیں کہتے ہیں دماغ مفلوج ہے کہ مان لے ابراہیم کے لیے آگ یوں ٹھنڈی ہوئی کہ گل ہو گئی ، گلزار بن گئی -
    تیسرے کہتے ہیں کہ یہ کیا لاٹھی کی اک ضرب اور سمندر تقسیم در تقسیم ہو گیا -

    اب ہر ایک صرف اسی آئیت کو ماننے سے انکاری باقی قرآن پر مکمل ایمان -

    دیکھئے فتوی جڑنے میں جلدی نہ کیجئے ، یہی تقاضا ہوتا ہے نا ہم سے جب ہم کسی صاحب کو منکر حدیث کہتے ہیں - آج ہم یہی فرمائش لیے عرض گزار ہیں کہ فتوی جڑنے میں جلدی نہ کیجیے ، کہ "مشکوک صاحب " کا ان دو چار آیات کے سوا باقی تمام قران پر مکمل یقین ہے -

    لیکن ہو گا کیا کہ آپ ان کو منکر قرآن ہی کہیں گے ، اور اس بنا پر اہل ایمان سے خارج - تب آپ فتوے میں نرمی کیوں نہیں کرتے ؟

    امام بخاری ہمارے ایمان کا حصہ نہیں ، بجا کہ وہ نجیب تھے ، ثقہ تھے ، سچے تھے لیکن ایمان ان کی ذات پر نہیں لانا نہ کسی اور امام پر - ایمان کا تقاضا ان احادیث کو ماننے کا ہے جو درست طور پر روایت ہویں -امت جن پر اکٹھی ہو گئی - جن کی اسناد کو سلسلہ الذھب قرار دیا گیا ، کہ سونے کی لڑی -

    ایک ایک راوی کے حالات درج ہیں - سچا تھا جھوٹا تھا ، بھولتا تھا ، خلط مبحث کرتا تھا ، جوانی کیسی گذری اور بڑھاپا کیسا - صادق تھا ، کذاب تھا - سب کچھ لکھ دیا گیا اور ہر ایک کا لکھ دیا گیا - اگر کسی کے حالات نہ ملے تو مجھول گردان کے اس روایت کو ترک کر دیا گیا بھلے وہ کیسے ہی عالی شان مفاہیم اپنے دامن میں لیے ہووے تھی -جب یہ ذخیرہ مدون ہو گیا تب امت کا ان پر اجماع بھی ہو گیا ، یعنی امت یک سو ہو گئی کہ یہی فرامین عالی شان ہیں کہ جن کی حفاظت کا " وعدہ " کیا گیا -

    جی ہاں اللہ نے وعدہ کیا محفوظ رکھنے کا - کیا آپ قران میں یہ آیت نہیں پاتے کہ :

    إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ

    کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اتنا بڑا دعوی اور پاؤں تلے زمین بھی نہیں ، ناممکن ہے نا ؟

    تو پھر کیسے ممکن تھا کہ اللہ نے قران اتارا اور اس کو محفوظ کر دیا ، لیکن اس کے مفاہیم کو غیر محفوظ رکھا ، کہ جس کا جی چاہے من مانی تشریح کرے - بات ایسے سمجھ نہیں آئے گی ، قرآن کی طرف ہی چلتے ہیں - قران میں جابجا احکامات بکھرے پڑے ہیں ، ان کی تشریح کے لیے آپ حدیث کے محتاج ہیں - کوئی ایک مثال لیجئے نماز ہو یا زکات ، حج ہو یا روزہ - آپ کے لیے دو ہی راستے ہیں کہ یا حدیث پر انحصار کیجئے یا قران کا بھی انکار کیجئے - آپ حدیث کے بغیر ایک نماز بھی ادا نہیں کر سکتے - سوال یہ ہے کہ جس حدیث کی ایسی ضرورت تھی کہ اس کے بنا ایک بنیادی حکم ہی مفلوج ہو کے رہ جائے اس کی حفاظت کا کیا بندوبست کیا گیا ؟

    کیا اس کو کسی ایسے انتظام کے بنا ہی چھوڑ دیا گیا ؟

    کا رب کی یہ مرضی تھی کہ ہر کوئی اپنی مرضی کی ڈگڈگی بجائے؟

    یقینا ایسا نہیں تھا تو کیا یہ دعوی عبث ہو گا ، بودا اور کمزور ہو گا ؟
    اس "نازل کردہ ذکر" کی حفاظت کا دعوی تکمیل کو پا ہی نہیں سکتا جب تک حدیث کی حفاظت نہ ہو - سو میں کہتا ہوں کہ یہ ائمہ حدیث کی محنتیں ، جمع و تدوین حدیث ، ائمہ رجال کی جانچ پھٹک ، اسماء و رجال کا فن ، جرح وہ تعدیل کی پرخار وادیاں اور یہ دقیق علوم اصل میں اللہ کی طرف سے حفاظت کا ہی سامان تھا -
    اور جب یہ سب سامان ہو گیا تب ایمان کا امتحان شروع ہوا ، کہ کون انکار کرتا ہے اور عقل کا غلام رہتا ہے - اور کون عقل کو محبت کے دربار میں پابجولاں لا کھڑا کرتا ہے -

    یہ آئمہ حدیث ہمارے ایمان کا حصہ نہیں لیکن ان کی جمع شدہ روایات ایمان ہیں - کسی ایک کا انکار آپ کو اسی زمرے میں لا کھڑا کرے گا جس میں قران کی کسی ایک آیت کا انکار کرنے والا ہو گا -
     
    Last edited: ‏نومبر 24، 2017
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں