1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام جلال الدین سیوطی﷫ اور علم قراء ات میں اِن کی خدمات

'علم القراءات' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد, ‏اپریل 04، 2012۔

  1. ‏اپریل 04، 2012 #11
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    آپ کے مشہور اَساتذۂ کرام
    (١)سراج الدین البلقیني﷫ (٢) علم الدین﷫
    (٣) شہاب الدین الشارمساحی ﷫ (٤) الشرف المناوی ابوزکریا یحییٰ بن محمد﷫
    (٥)تقی الدین الشمي﷫ (٦) شیخ محی الدین محمد بن سلیمان رومی حنفی﷫
    (٧) سیف الدین حنفی﷫ (٨) جلال الدین المحلي﷫
    (٩) احمد بن ابراہیم حنبلی﷫ (١٠) الزین العقبي﷫
    (١١) البرہان ابراہیم بن عمر البقاعی﷫ (١٢) الشمس السیرامی ﷫
     
  2. ‏اپریل 04، 2012 #12
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    علم قراء ات میں اِمام موصوف کی خدمات
    امام سیوطی﷫ نے قراء ات کے موضوع پر بہت سی کتب تصنیف کیں۔ اُنہوں نے اپنی زندگی کی پہلی کتاب قراء ا ت کے موضوع پر لکھی۔ جس کا نام ’ شرح الاستعاذۃ والبسملۃ‘ تھا۔
    اِمام سیوطی﷫ اس کے متعلق فرماتے ہیں:
    زندگی میں سب سے پہلے میں نے جو کتاب تالیف کی اس کا نام ’شرح الإستعاذۃ والبسملۃ‘ ہے۔ کتاب مکمل کر کے میں نے علم الدین البقینی کے سامنے پیش کی تو اُنہوں نے اس پر تقریظ تحریر کی۔ (شذرات الذہب:۸؍۵۳)
    اِمام سیوطی﷫ نے علوم قرآن، تفسیر اور قراء ات کے موضوع پر درجنوں کتب تحریر کیں اُن میں سے مشہور اور چنیدہ کتب تصنیفات یہ ہیں:
    (١) شرح الاستعاذۃ والبسملۃ (٢) الإنصاف في تمییز الأوقاف
    (٣) الدر النثیر في قرائۃ ابن کثیر (٤) شرح حرز الأماني ووجہ التہاني
    (٥) الإتقان في علوم القرآن (٦) لباب النقول في أسباب النزول
    (٧) الدرّ المنثور في التفسیر بالمأثور (٨) أسرار التأویل
    (٩) الإکلیل في إسنتباط التنزیل (١٠)تناسق الدرر في تناسب الآیات والسور
    (١١) ترجمان القرآن (١٢) حجاز الفرسان إلی مجاز القرآن
    (١٣) متشابہ القرآن (١٤) مفحمات في مبہمات القرآن
    (١٥) مراصد المطالع في تناسب المقاطع والمطالع
    (١٦) معترک الأقران في إعجاز القرآن (١٧) الجواہر في علم التفسیر
    (١٨) تناسب الدرر في تناسب السور (١٩) تکملۃ تفسیر الجلالین
    (٢٠) النموذج اللبیب في خصائص الحبیب (٢١) الألفیۃ في القراء ات العشر
    اِمام صاحب نے قراء ات کے موضوع پر اس کے علاوہ بھی بہت سی کتب تالیف کیں۔ مذکو رہ کتب میں سے چند کا تعارف پیش خدمت ہے:
     
  3. ‏اپریل 04، 2012 #13
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (١) شرح الإستعاذۃ والبسملۃ
    یہ کتاب آپ نے نوعمری میں لکھ ڈالی تھی۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے امام صاحب نے اس میں ’تعوذ‘ اور ’بسملہ‘ کے الفاظ و اَحکام پر تفصیلی بحث کی ہے۔ علاوہ اَزیں’ تعوذ‘ اور ’بسملہ‘ میں قراء کا اختلاف بیان کرتے ہوئے قراء ت میں ان کی چار کیفیات کی وضاحت کی گئی ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏اپریل 04، 2012 #14
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٢) الإنصاف في تمییز الأوقاف
    یہ کتاب بھی قراء ت سے متعلقہ ہے جس میں امام سیوطی﷫ نے وقف کے اَحکام اور وجوہ کا تذکرہ کرتے ہوئے وقف کے وقت بعض کلماتِ قرآنیہ میں قراء کا اختلاف نقل کیا ہے۔ اس کے علاوہ وقف کی کیفیت اور وقف کے بعد اِبتداء کا تذکرہ کرنے کے ساتھ ساتھ اِبتداء اور اِعادۃ کے اَحکام کو زِیر بحث لایا گیا ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  5. ‏اپریل 04، 2012 #15
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٣) الدر النثیر في قراء ۃ ابن کثیر
    علم قراء ات پر امام صاحب کی یہ ایک مستقل کتاب ہے۔ جس میں آپ قراء سبعہ میں سے دوسرے امام، ابن کثیر﷫ کی قراء ت کو زِیر بحث لائے ہیں۔ امام ابن کثیر﷫ کی دیگر قراء سے مختلف ایک مستقل قراء ت موجود ہے۔ مثلاً قراء میں سے آپ اکیلے اِدغام کبیر کے قائل ہیں اور ورش کی طرح آپ نے بعض کلمات میں تقلیل بیان کی ہے۔ کتاب میں ورش کی قراء ت کی بھی تفصیلی وضاحت موجود ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏اپریل 04، 2012 #16
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٤) شرح حرز الأمانی ووجہ التہاني (شرح شاطبیہ)
    ’حرز الأماني ووجہ التہاني‘ امام شاطبی﷫ کی مشہور کتاب ہے جو در اصل ابوعمرو عثمان بن سعید الدانی﷫ کی کتاب ’التیسیر‘ کی منظوم شکل ہے۔ ’حرز الأماني ووجہ التہاني ‘اور ’تیسیر‘ پر بہت سے علماء کبار کی جانب سے بسیط شروحات لکھی گئی ہیں۔ اِمام سیوطی﷫ نے بھی ’قصیدۃ لامیۃ للشاطبي‘ کے نام سے شاطبیہ کی انتہائی شاندار شرح لکھی ہے۔ اِفادے کے اعتبار سے یہ کتاب نمایاں مقام کی حامل ہے۔یہ کتاب مخطوط ہے جس کے تین نسخے مل سکے ہیں۔ پہلا نسخہ ۱۲۰، دوسرا ۹۰ اور تیسرا ۱۲۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ (کشف الظنون: ۱؍۵۲۰)
     
  7. ‏اپریل 04، 2012 #17
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٥) الإتقان فی علوم القرآن
    اس کتاب کو علوم قرآن پر مشتمل ایک دستاویز کا نام دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس میں امام صاحب نے علوم قرآن کی اسی(۸۰)اَقسام کا تفصیلی تذکرہ قلمبند کیاہے جن میں سے ۲۰؍ اَقسام علم قراء ات کا اِحاطہ کیے ہوئے ہیں۔ بطور مثال ان میں سے چند پیش خدمت ہیں:
    (١) ۲۲ تا ۲۷ویں قسم تک متواتر، مشہور، آحاد، شاذ، موضوع اور مدرج پر مشتمل ہیں۔
    (٢) ۲۸ویں قسم وقف وابتدا کی معرفت پر مبنی ہے۔
    (٣) ۳۰ویں قسم اِمالہ اور فتح کی وضاحت میں ہے۔
    (٤) ۳۱ویں قسم اِدغام، اِظہار، اِخفاء اور اقلاب پر مشتمل ہے۔
    (٥) ۳۳ویں قسم تخفیف ہمزہ کے بارے میں ہے۔
    (٦) ۳۴ویں قسم کیفیات قراء ت کی وضاحت میں ہے۔
    (٧) فصل سادس مختلف افراد سے قراء ت اَخذ کرنے کی کیفیت اور اس کے جمع کرنے پر مشتمل ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  8. ‏اپریل 04، 2012 #18
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ۲۲ تا ۲۷ویں قسم کی مختصر وضاحت
    علامہ سیوطی﷫ اس بحث میں رقمطراز ہیں کہ قاضی جلال الدین البلقیني﷫ نے فرمایا:
    قراء ت، متواتر، آحاد اور شاذ میں منقسم ہے۔ متواتر سے مشہور سات قراء ات مراد ہیں، جبکہ آحاد میں بقیہ تین قراء اور صحابہ کرام کی قراء ت ملحق ہے۔اور شاذ سے مراد تابعین یعنی اعمش﷫، یحییٰ بن وثاب﷫، ابن جبیر﷫ اور دیگر کی قراء ت ہے۔ امام صاحب کی یہ رائے نظر ثانی کے قابل ہے۔ اس حوالے سے علامہ جزری﷫ کا مؤقف زیادہ صحیح اور واضح ہے جو کہتے ہیں:
    ہر وہ قراء ت جو لغت عرب کی کسی بھی وجہ سے موافق ہو، مصاحفِ عثمانیہ سے مطابقت رکھتی ہو اگرچہ احتمالاً ہی اور اس کی سند بھی صحیح ہو تو وہ قراء ت صحیح ہے۔ جس کو نہ تو رد کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کا اِنکار کیا جا سکتا ہے۔یہ حروف سبعہ میں سے ہے جو بطورِ قرآن نازل ہوا اور لوگوں پر اُن کا قبول کرنا واجب ہے، برابر ہے کہ چاہے یہ آئمہ سبعہ سے منقول ہو، عشرہ سے ہو یا پھر دیگر مقبول آئمہ سے۔ (الإتقان في علوم القرآن: ۱؍۱۹۹)
     
  9. ‏اپریل 04، 2012 #19
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    تینتیسویں قسم کی مختصر وضاحت
    اِمام موصوف اس بحث میں فرماتے ہیں:
    ہمزہ کے اَحکام اس قدر زیادہ ہیں کہ اُن کے اِحاطے کے لیے مستقل جلد کی ضرورت ہے۔ البتہ مختصراً اہل فن نے فن قراء ت میں اِن کی چار اقسام بیان کی ہیں:
    (١) نقل حرکت : یعنی حرکت ہمزہ کو ماقبل ساکن حرف کی طرف نقل کر دینا اور ہمزہ کو گرا دینا۔جیسے ’قَدْ أَفْلَحَ‘ سے ’قَدَ افْلَحَ‘ یہ امام نافع﷫ کی ورش کے طریق سے قراء ت ہے۔اس کے لیے شرط یہ ہے کہ صحیح ساکن پہلے کلمہ کے آخر میں ہو اور ہمزہ دوسرے کلمہ کے شروع میں۔ امام ورش نے پورے قرآن میں ایسی مثالوں کو نقل کے ساتھ بھی پڑھا ہے سوائے’کِتَابِیَہْ إِنِّی ظَنَنْتُ‘ کے۔ اسے وہ تحقیق کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ جبکہ دیگر جمیع قراء پورے قرآن میں اس جیسی تمام مثالوں کو تحقیق کے ساتھ ہی پڑھتے ہیں۔
    (٢) اِبدال : ہمزہ ساکنہ کوماقبل حرف کی حرکت کے موافق حروف مدہ سے بدل دینا۔ ما قبل حرف پر اگر زبر ہوگی تو الف سے، زِیر ہو گی تو یا سے اور پیش ہو گی تو واؤ سے ابدال ہوگا۔ جیسے’وَأْمُرْ أَہْلَکَ‘ سے ’وَامُرْ أَہْلَکَ‘، ’یُؤْمِنُونَ‘ سے ’یُومِنُونَ‘ اور ’جِئْتَ‘ سے ’جِیتَ‘ یہ امام ابو عمرو﷫ کے شاگر د سوسی کی روایت ہے۔
     
  10. ‏اپریل 04، 2012 #20
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (٣) تسہیل بین بین: یہ اس صورت میں ہوتی ہے جب ایک ہی کلمہ میں دو ہمزہ آجائیں۔ جب دونوں ہمزہ مفتوح ہوں توامام نافع﷫، امام ابن کثیر مکی﷫، امام ابو عمرو﷫ اور ہشام﷫ دوسرے ہمزے کی تسہیل کرتے ہیں اور امام ورشa دوسرے ہمزہ کا الف سے اِبدال کرتے ہیں۔ ابن کثیر﷫ دو ہمزوں کے درمیان اِدخال نہیں کرتے جبکہ قالون﷫، ہشام﷫، ابوعمرو﷫ اِدخال کرتے ہیں۔ باقی جمیع قراء دونوں ہمزوں میں تحقیق کرتے ہیں۔ اگر ایک ہمزہ مفتوح اور دوسرا مکسور ہو تو نافع، مکی اور بصری تسہیل کرتے ہیں، قالون اور ابو عمرو اِدخال بھی کرتے ہیں باقی جمیع قراء تحقیق کرتے ہیں۔پہلا مفتوح اور دوسرا مضموم ہو جیسے ’أَؤُنَبِّئُکُمْ‘ اس میں نافع، مکی اور بصری تسہیل کرتے ہیں۔ قالون اِدخال بھی کرتے ہیں جبکہ باقی جمیع قراء تحقیق کے قائل ہیں۔ امام دانی﷫ فرماتے ہیں کہ دوسرے ہمزہ کو جو واؤ کی شکل میں لکھا گیا ہے اس سے صحابہ کا یہ اِشارہ کرنا مقصود تھا کہ تسہیل بالواؤ ہوگی۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں